6

اگر ہم حقیقت آشنا ہوجائیں!

زندگی کتنی مشکل ہے اس کا تصور بھی محال ہے اور ایک انسان کی تخلیقکے عوامل و مراحل سے لے کر اس کی زندگی کے بقا تک کس طرح پوری کائنات اس کی خدمت میں لگی رہتی ہے۔ اس کا اندازہ بھی کم ہی لوگوں کو ہوتا ہے۔ چند ہی لوگ ہیں جو ان حقائق پر غوروفکر کرنے کے لیے وقت نکالتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خاص طور پر اس طرف متوجہ کرتا ہے۔ ہُوَالَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَا فِیْ الاَرْضِ جَمِیْعاً۔ (وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے پیدا کیا۔) انسان اگر اس عظیم حقیقت کا ادراک کرلے کہ اس کی زندگی بے مقصد نہیں اور یہ کہ اس کی تخلیق ایک عظیم منصوبہ ساز کے منصوبہ کا حصہ ہے تو اس کی زندگی میں انقلاب برپا ہوجاتا ہے اور اس انقلاب کی لہریں اس کے ذہن و فکر کے سمندر کو بے چین، متحرک، متلاطم اور مستقل مزاج بنادیتی ہیں۔ بالکل ا س سمندر کے مانند جو اپنی تخلیق کے روز اول سے آج تک ساحل سے جنگ کررہا ہے اور اس وقت تک لڑتا رہے گا جب تک اس کا پیدا کرنے والا اسے روک نہیں دیتا یا ساحل پر وہ غالب نہیں آجاتا۔
مقصد حیات سے آشنا فرد کی زندگی بھی اسی طرح جذبہ عمل سے ہمکنار ہوجاتی ہے جس طرح سمندر کی لہریں۔ وہ بھی بے مقصدیت، باطل افکار و نظریات، گمرہی کی تاریکی اور باطل نظریہ حکومت و سیاست سے اسی طرح برسرپیکار ہوجاتا ہے جس طرح سمندر کی بے قرار موجیں ہر وقت ساحل سے ٹکرلیتی رہتی ہیں۔ اس کے اندر بھی اچھل کر دنیا پر چھا جانے اور خس و خاشاک کو بہا لے جانے کے وہی جذبات متلاطم رہتے ہیں جو سمندر اپنے سینے میں لے کر ہزاروں ہزار سال سے زندہ ہے۔
اگر سمندر اپنی لہروں سے کنارہ کرلے، ساحل سے ٹکر لینے کا عزم ترک کردے اور خشکی پر چھا جانے کے جذبہ کو چھوڑ دے تو اس کی زندگی فنا ہوجائے گی اور وہ آلائشوں سے بھرا تالاب بن جائے گا۔ بالکل یہی معاملہ قوموں اور انسانوں کی زندگیوں کا ہے۔ وہ جب مقصد حیات اور اس کے لیے جذبہ جدوجہد سے آشنا نہ ہوں، تاریکیوں پر چھا جانے اور باطل کے خلاف جنگ کرنے کا حوصلہ نہ ہو اور پوری دنیا کو روشن کرنے اور تمام انسانوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کا جذبہ نہ ہو تو بہ ظاہر زندہ نظر آنے کے باوجود وہ روح حیات سے محروم رہیں گے۔ علامہ اقبال نے اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا ؎
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب
یہ کشمکش انقلاب امتوں اور قوموں کو زندگی بھی بخشتی ہے اور زندگی کو قائم رکھنے میں مدد بھی دیتی ہے۔ اقوام اور ملتیں اسی وقت تک زندہ اور قائم رہتی ہیں جب تک وہ اس روح سے آشنا رہیں۔ ورنہ پھر یا تو تباہ ہوجاتی ہیں یا مغلوب بنادی جاتی ہیں جہاں سخت گیر حکمراں ان پر ظلم و جبر کی تاریخیں رقم کرتے ہیں۔
آج امت مسلمہ کا عالم بھی یہی ہے کہ وہ اس کشمکش انقلاب کی روح سے خالی ہوگئی، اس کا جذبۂ انقلاب جاتا رہا اور حق کو غالب کرنے اور باطل پر چھا جانے کا عزم و حوصلہ ختم ہوگیا جس نے اس کی زندگی اور اس کے وجود کو بے معنی، باطل اور بے کار بنادیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر حصہ میں امت مسلمہ مجبور، مظلوم، مغلوب اور بے آواز ہوکر رہ گئی۔ اس کا اندازہ آج امت کے ہر خاص و عام کو خوب اچھی طرح ہوچکا ہے۔
مگر … مگر کیا ہم اپنی زندگی کے رشتہ کو روح حیات سے جوڑنے پر آمادہ ہیں۔ کیا ہم کشمکش انقلاب کے لیے تیار ہیں اور کیا ہم خود اپنے اندر اور پھر اس دنیا میں کسی تبدیلی کا عزم و حوصلہ رکھتے ہیں؟ یہ سوال ہر مسلمان کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔ اگر ہم خود کو اس مقام تک لے آئے اور ان سوالوں کے جوابات ہم نے تلاش کرلیے تو زندگی کروٹ لے گی اور حالات ایک نئے رخ پر تبدیل ہونا شروع ہوجائیں گے۔ اور یہ مظلوم و مجبور ملت وقت کے ہاتھوں میں ایک شمشیر بے نیام ہوگی جس سے باطل خوفزدہ ہوگا اور اسے کہیں پناہ نہ مل سکے گی۔ ضرورت غوروفکر اور خود احتسابی کی ہے ؎
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا احتساب
اجتماعی خود احتسابی کا یہ عمل بڑا دشوار عمل ہے اور اس کی انجام دہی کے لیے ایک طرف تو بڑے دل گردے کی ضرورت ہے دوسری طرف بصیرت و دانشمندی، وسیع الظرفی و بے لوثی اور ایثار و قربانی درکار ہوتی ہے۔ اگر یہ چیزیں افراد ملت کے اندر نہ ہوں تو وہ ہر غلطی اور ہر کمزوری کو دوسروں کے سر تھوپتے چلے جائیں گے اور خود کو صاف ستھرا بناکر الگ ہولیں گے۔ ہاں اگر وسعت قلب و نظر ہو تو انسان حقیقت پسند ہوتا ہے۔ ہر عمل سے سیکھتا ہے اور ہر کمزوری کا احساس اس کے لیے مہمیز اور قوت عمل دینے کا کام کرتا ہے۔
اجتماعی خود احتسابی کی شروعات اپنی ذات کے احتساب سے ہوتی ہے۔ اگر انسان اجتماعی زندگی اور اجتماعیت کے مقاصد کے حصول میں اپنے رول اور اپنے کردار کا حقیقت پسندی سے تجزیہ کرنے کے بعد کسی نئے اور فعال رول کے لیے خود کو تیار کرلیتا ہے تو سمجھئے اجتماعی احتساب کا عمل جاری ہے۔ ورنہ پوری ملت بے عملی، جمود، تعطل اور مایوسی کے کھڈ میں پڑی رہے گی اور اس صورتحال سے نکالنے والا کوئی نہ ہوگا۔ نہ قائدین کی تقریریں، نہ غیروں کی ملامتیں اور نہ ڈھائے جانے والے ظلم و ستم۔
آئیے جائزہ لیتے ہیں خود اپنی ذات کا اور عہد کرتے ہیں ایک ایسے رول کی ادائیگی کا جو ہماری اور ملک و ملت کی تقدیر بدل دے۔ اس لیے کہ ہم بنیادی طور پر انقلاب کے نقیب، روشنی کے پیامبر اور حق کے داعی ہیں۔

 

 

 

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے