6

غموں کے سائے میں

میرے گرد چہروں کا ہجوم ہے۔ اپنے اور پرائے چہرے۔ کہیں دکھ کے گہرے سائے ہیں اور کہیں صرف ’شریک غم ‘ کا لیبل چسپاں ہے۔ اداس چہروں میں ایک چہرہ تمہارا بھی ہے۔ شاید تم مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہو، کوئی معذرت سی، تمہارے ہونٹوں پہ لرز رہی ہے۔ تمہاری آنکھوں میں ان کہی کا غبار سا سمٹ آیا ہے۔ میں نے مگر، تمہارے چہرے سے نظریں ہٹالی ہیں۔ تم ہی تو میرے قاتل ہو اور قاتلوں کو معاف کردینے کی ڈپلومیسی مجھے نہیں آتی۔ ان ہی چہروں کے بیچ میرے قتل کا دوسرا سبب بھی موجود ہے۔ ’’رجیہ‘‘ تم نے اور رجیہ نے مل کر مجھے مار ڈالا۔ رجیہ – ماتھے پر سرخ بندیا، مانگ میں سیندورکی سرخی، رنگ برنگے پھولوں والی موٹی سی ململ کی ساری، کالے کالے، سرسوں کے تیل سے، سر پر چپکے ہوئے بال، اور چہرے پر یقین کا اجالا، یہی تو ہے۔ رجیہ اور تم، دونوں نے مل کر مجھے اتنی جلدی مار ڈالا کہ میں خود کو اس طویل سفر کے لیے آمادہ بھی نہ کرسکی۔ وہ سفر، جو پہلے بہت خوفناک اور دہلا دینے والا لگتا تھا۔ مگر جیسے زندگی کا لمحہ لمحہ، صدیوں کا بوجھ بنتا گیا، یہ سفر بھی ایک خوش آئند خواب کی طرح میرے ذہن میں پلنے لگا۔ اور یہ خواب — یہ تو بڑے جان لیوا ہوتے ہیں۔ لیکن تم یہ نہیں سمجھ سکتے۔ تم نے کبھی خواب دیکھے ہی کہاں ہیں۔ خوابوں کی نعمت ہر ایک کے لیے نہیں ہوتی۔ میں تمہیں بتاؤں، ابدی لمحوں کے ابدی احساس کے ابدی خواب کیا ہوتے ہیں؟

جب وہ اچانک،برسوں کا پہچانا ہوا لگا تھا، وہ ایک غیر فانی لمحہ تھا، دل کی گہرائیوں سے اس کی پرستش کا احساس آج بھی باقی ہے۔ میں نے بھی ایک خواب دیکھا تھا، اپنی اور اس کی زندگی کی ہم آہنگی کا پیارا سا خواب۔ مگر خوابوں کا کشکول لے کر، اپنا تعارف دینا، میرے نزدیک مرجانے سے بھی اذیت ناک تھا۔ ان دنوں میں موت کو، جزا اور سزا کو بہت خوفناک سمجھا کرتی تھی بہت آئیڈیل تھی نا۔ آئیڈیلزم کے حصار کن کن قربانیوں سے بنتے ہیں، یہ میں ہی جانتی ہوں۔ اور جب یہ حصار بہت مضبوط اور فلک بوس ہوجاتا ہے تو اپنا ہی دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور معمار خود ان دیواروں سے سر ٹکرا ٹکرا کر مرجاتا ہے مگر تازہ ہوا نہیں ملتی۔

بس یہی تو ہوا تھا۔ زندگی کی بھول بھلیوں کا ایک موڑ آیا اور وہ نہ جانے کہاں کھوگیا۔ نہ نام، نہ پتہ، نہ سمت نہ منزل۔ میں بس اپنی تمناؤں کے مرجھائے ہوئے پھولوں کو لیے دم بخود سوچتی رہ گئی تھی۔ پھر لوگوں نے بہت سوچ کر سمجھ کر، بڑی چھان پھٹک کے بعد، مجھے تمہارے حوالے کردیا۔ تم میرے لیے ان دنوں اجنبی تھے۔ مگر یہ اجنبیت آہنی دیوار تو نہ تھی۔ کیوں کہ میں جانتی تھی، جب شب و روز کا ساتھ ہوگا، دکھ اور سکھ کی تخصیص ختم ہوگی تو شاید تم اجنبی نہیں رہو گے۔ اور میں اپنے خوابوں کی منتشر پنکھڑیوں کو چن کر، ایک نئی سی، میکانیکی ہی سہی تربیت دے لوں گی۔ میں نے کہا نا، خواب نہیں مرتے، کبھی نہیں، صرف احساس کی ہر کروٹ کے ساتھ ان کا روپ بدل جاتا ہے۔ خوابوں کے چہرے یقینا مسخ ہوجاتے ہیں۔ مگر ان کا وجود باقی رہتا ہے۔ میرے خوابوں کا یہ بدلا ہوا روپ تم ہی سے وابستہ تھا۔ تم اپنی زندگی کا سب کچھ نہ سہی منتخب حصہ مجھے سونپ دو گے اور میں تمہاری راہوں سے کانٹے چن چن کر کلیاں بکھیرتی ہوئی، جلتی دھوپ کا یہ سفر ختم کردوں گی۔ میں یہ بھی جانتی تھی، تم بہت پڑھے لکھے، ایک بڑے آدمی ہو، یقینا تمہارے اندر وہ پہچان بھی ہوگی جو انسان کو انسان سے تعارف کراتی ہے اور آدمی آدمی کو سمجھ لیتا ہے۔ مگر تم وہ نہیں تھے، میرے خوابوں کی پرچھائیوں کی طرح تم ہمیشہ کچھ پرے، کچھ فاصلے پر محسوس ہوئے۔ میں تمہاری طرف بڑھنا چاہتی تھی، اس قدر پیارا اور اتنا یقین دینا چاہتی تھی کہ تمہاری کامیاب شخصیت کامیاب ترین ہوجاتی، اگر تم اسی پہلو کو زندگی کا سب کچھ سمجھتے تو سچ بتادوں وہ شخصیتیں جن کے اندر ناکامی کا درد، نارسائی کا ناسور اور خلوص کی پیاس ہوتی ہے، بڑی فراخ دل اور مرمٹنے والی ہوتی ہیں۔ اگر تم مجھے پہچان پاتے تو تمہارا دامن ہیرے موتیوں سے بھر جاتا۔ مگر تم ہمیشہ اجنبی کے اجنبی رہے۔ میرا تمہارا ساتھ صرف مشینی تھا۔ تم اندر اندر وحشت میں سانس لے رہے تھے، اور بظاہربہت بڑے کامیاب بزنس مین تھے۔ مجھ میں اور تم میں، عورت اور مرد میں یہی تو فرق ہوتا ہے۔ تمہارے اندر بھوک کی اہمیت تھی، طلب کا ’ایم‘ تھا، حصول کی اکڑ تھی، اور ایسے لمحے عورت کے لیے جان کنی کے لمحے ہوتے ہیں۔ وہ صرف تن سے قبول کرلینے کو ’بازاری پن‘ سمجھتی ہے۔ اگر وہ خود کو کسی کے سپرد کردیتی ہے تو اس سپردگی میں روح کی بے پایاں گہرائیاں شریک ہوتی ہیں۔ تم ان لمحوں کو کبھی پہچان نہ سکے۔ کیا تم نے کبھی شمع بجھ جانے کے بعد کی معدوم ہوتی ہوئی دھویں کی لکیر دیکھی ہے۔ وہ لکیر کیا ہوتی ہے؟ مگر تم سمجھ نہیں سکو گے۔ کبھی سمجھا بھی نہیں۔ اور میں سمجھا بھی نہیں سکتی۔ کیوں کہ خود وضاحتی کا عذاب جھیلنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔

ہر صبح تم مجھے اجنبی سے محسوس ہوتے، اجنبی لوگوں کے بیچ گھر جاتے، لوگ سویرے سے ہی مہمان خانے میں موجود ہوتے۔ تم تیار ہوکر چلے جاتے۔ اور نوکر تمہاری فرمائشوں کے مطابق، چائے کی ٹرے، اسکواش کے گلاس اور کھانے کی ٹرالی لے جایا کرتا۔ کاش تم نے کبھی پکار کے کہا ہوتا ’’ذار چائے بنادوگی، پلیز۔ میرے دوست تمہارے ہاتھوں کی چائے پینا چاہتے ہیں بھئی۔‘‘

میں خاموش سی، اخبار، رسالے اور کتابیں پڑھا کرتی۔ اکثر مجھے پتہ بھی نہ چلتا کہ کب تمہاری محفل برخاست ہوئی اور کب تم کام پر چلے گئے۔

میں جھلاہٹ کے مارے اکثر کئی وقت کے کھانے گول کردیتی۔ کبھی روپڑتی، کبھی کٹنگ اورسلائی وغیرہ لے کر بیٹھ جاتی۔ مگر کیا اندر کا اکیلاپن ان بہلاوں سے بہلا ہے؟ محلے کی، ادھر ادھر کی، اور کبھی رشتے کی عورتیں ملنے آتیں تو میں ان سے ڈھنگ سے باتیں بھی نہ کرپاتی۔ حالانکہ سبھوں سے ان کی سطح کی دلچسپ گفتگو کرنا میری عادت تھی۔ مجھے یاد ہے، امتحان کے دنوں میں پڑھنے کے کمرے سے میں نے اکثر سنا تھا۔ ’’آپ کے یہاں آج کل کیا آئیں۔ بٹیا تو مصروف ہیں، ’’میں تو باجی سے باتیں کرنے آئی تھی۔ ان کو ڈسٹرب کرنا ٹھیک نہیں اس لیے اجازت دیجیے۔‘‘

’’اب اٹھو بھی، کتنا پڑھوگی، دیکھو یہ کتنا اچھا آرٹیکل ہے۔ آؤ ڈسکس کریں۔‘‘

وہ بھی میں ہی تھی، اور یہ بھی میں ہی ہوں۔ خالی الذہن احساس کمتری میں جکڑی ہوئی، خوف زدہ، نڈھال اور یہ متوحش ایکسپریشن، تم ہی بتاؤ کیوں؟ کس کی وجہ سے؟

پھر وہ وحشت ناک موڑ بھی آیا۔ جب اردلی گاؤں شادی کرنے گیا تھا۔ اور اپنے ساتھ اپنی نئی نویلی بیوی رجیہ کو لایا تھا۔ رجیہ بھی میری قاتل ہے نا! اس لیے اس کے متعلق تفصیل سے بتادوں تاکہ تم سمجھ سکو۔ وار کے کتنے طریقے ہوتے ہیں۔

رجیہ بھی میری ہی ہم عمر تھی۔دیکھنے میں بھی اچھی خاصی صحت مند تھی۔ اور بھی ایک چیز ہوتی ہے۔ یہ بھی مشترک تھی۔ مجھے رجیہ کے آجانے سے خوشی ہوئی۔ شاید کبھی تنہائی کا بوجھ بے حد وزنی ہوکر مجھے توڑنے لگے تو پل بھر کے لیے رجیہ سے باتیں کرکے میں اپنی اکھڑی سانسیں ہموار کرسکوں گی۔

میں عورت ہوں نا! اور عورتوں کے اندر کسی کے لیے سجنے سنورنے کی بے پناہ خواہش ہوتی ہے میرا بھی جی چاہتا، تم کبھی میری جگ مگ کلائی کو بے اختیار ہو کے چوم لو۔ کبھی میری بندیا میں اپنا عکس دیکھتے دیکھتے بے خود ہوجاؤ۔ اور کبھی کسی’آؤٹی‘ کے لیے تیار ہوتے ہوئے مجھے کئی کئی بار لپسٹک لگانی پڑے۔ کبھی تم اپنی پسند کے رنگ کی ساری لے کر آؤ اور ضد کرنے لگو۔ ’’اسے ابھی پہن کے دکھاؤ تو۔‘‘ اور میں فخر اور خوشی سے سرشار اور بے اعتنائی کے ملے جلے لہجے میں کہوں:

’’اچھی تو ہے مگر بہت قیمتی ہوگی۔‘‘

اور تم کہو

’’اس کی قیمت صرف یہی ہے کہ تم پہن لو۔ ورنہ کاغذی ٹکڑے کا وجود کیا ہے؟‘‘

مگر ایسا کبھی بھی نہیں ہوا۔ میرے وارڈروب کپڑے سے ٹھسے ہوئے ہیں۔ ڈریسنگ ٹیبل چھوٹی بڑی شیشیوں اور ڈبوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ سب تمہارا خریدا ہوا ہے۔ تم ہی لائے ہو۔ اور میرے ہی لیے۔ مگر ویسے ہی جیسے تمہاری گاڑی کا پٹرول جب ختم ہوجاتا ہے تو کسی بھی پٹرول پمپ کے پاس پارک کردیتے ہو، جیسے، جب باورچی تم سے آکے کہتا ہے:

’’چاول ہفتے بھر کا کم پڑگیا ہے۔‘‘

اور تم ہفتے کی جگہ مہینے بھر کی رقم پکڑا دیتے ہو۔ یہ فرعونیت ہے، بے اعتنائی ہے۔ احساس برتری ہے۔ اس میں ان چیزوں کے سوا، اور بھی کچھ ہے۔ اور وہ ہے خریدلینے کا احساس!

مجھے بہت سوچنے کی عادت ہے نا، اس لیے تمہاری قلع بندی میں آجانے کے بعد، چند مہینے میں ہی میں نے محسوس کیا جیسے میرے اندر سفوکیشن سا ہے۔ جیسے میں سانس نہیں لے پاتی۔ بڑی بڑی کھلی ہوئی کھڑکیاں، کشادہ ہال نما کمرے، چلتے ہوئے تیز رفتار پنکھے اور برسات کی خنک ہواؤں کے لمس کے باوجود مجھے لگتا جیسے میرا دم گھٹ رہا ہو۔ ہوا مجھ تک پہنچ نہیں پاتی ہو۔ اور پھر یہی احساس جب ذرا سنٹرلائزڈ ہوا تو میں نے محسوس کیا جیسے میرے اندر، دل کے پاس ایک شمع سی کسی نے جلا کر رکھ دی ہو۔ وہی سوزش اور بے چینی اور جیسے موم کا قطرہ ایک جگہ ٹپک کر جم جاتا ہے، مجھے لگتا جیسے میرے اندر پل پل بڑھنے والا کانسٹینٹ بوجھ ہو۔ جیسے میرے دل کو نشتر لگادیا ہو۔ دن بہ دن یہ احساس واضح ہوکر مجھے اپنی پہچان کا یقین دلانے لگتا اور میں متحیر سی سوچتی رہ جاتی۔ پتہ نہیں، اب زندگی کے کھنڈر کا کون سا ستون گرنا باقی رہ گیا ہے؟

رجیہ بہت سج دھج کے میرے فرش پر پالتی مارے بیٹھی تھی، ہونٹوں پہ پان کی سیاہی مائل پپڑی، آنکھوں میں موٹے موٹے بھدے کاجل۔ خوبصورت سے پرکشش بالوں کو اس نے تیل سے چپڑ کے گوندھ رکھا تھا۔ موٹے ململ کی سبز ساری سے جھانکتے ہوئے پیروں میں پانچ روپے والی آلتا کی شیشی سے نقش و نگار بنے تھے۔ وہ مجھے اپنے گھر کی باتیں بتا رہی تھی۔ اپنے ماضی کی باتیں کرکے سبھی خوش ہوتے ہیں۔ میں بھی اس کی خوشی کی خاطر دلچسپی سے سن رہی تھی پھر میں نے دیکھا، وہ قصداً اپنا آنچل بار بار سنوار رہی ہے، جیسے وہ مجھ سے کسی سوال کی متقاضی ہو، عورت کا فطری تقاضا، اسی لیے میں نے پوچھا:

’’رجیہ نئی ساری ہے؟‘‘

’’ہاں دیدی، ماں کنے سے ساونی نا آئی تو مارے غسا کے لائے دہن۔ ای التا، چوڑی سب اوہی لائن، کہت ہیں: گڑیا بنائے کے رکھیں گے، سو ان کر کھاتر!‘‘

وہ کہتے کہتے شرما گئی اور اپنے پیروں کے بچھوؤں کو چھونے لگی۔ مجھے اس کا یہ انداز کتنا پیارا لگا۔ اس قدر دلچسپ کے میں نے ڈریسنگ ٹیبل سے’ سویس مس‘ کے نئے شیڈ، ایک خوبصورت سے ہیر کلپ، اور دھل کر آئی ہوئی، صرف ایک بار کی پہنی ہوئی رین پرنٹ کی ساری اسے جلدی سے اٹھا کر دے دی اور کہا:

’’رجیہ اسے پہن کر، یہ سب لگانا، وہ خوش ہوگا۔‘‘ وہ تشکرانہ نظروں سے میری طرف دیکھ کر لپسٹک کو انگلیوں سے چھوتی رہی۔ پھر تھوڑی دیر بعد اٹھ کر چلی گئی اور میں وحشت زدہ سی خالی خالی دیواروں کو دیکھتی رہی۔ شمع کی لو جیسے کچھ اور بڑھ گئی۔ جیسے دل کو کسی نے مٹھیوں میں لے کر مل ڈالا ہو۔ وہی گھٹن اور وہی بڑھتی ہوئی بے چینی!

مجھے شام کے بعد اکیلے باغیچے کی روشوں پر ٹہلنے کی عادت ہے۔ پتہ نہیں نفسیات اسے کیا معنی دے۔ مگر نیچر کی طرف میری کشش بچپن سے ہی تھی۔ جب ٹوٹ کر بارش ہوتی، میں سب سے چھپ کر، بیماری کی پروا کیے بغیر پانی میں بھیگا کرتی۔ جب لو چلتی اور ماں سارے دروازوں اور کھڑکیوں پر کالے پردے کھینچ کر بھائی بہنوں کو سلانے کی کوشش کرتیں، میں چپ چاپ دم سادھے سب کے جانے کا انتظار کرتی اور پھر چپکے سے دوسرے کمرے میں جاکر کھڑکی کے پٹ کھول کر اڑتے ہوئے بگولوں کو دیکھا کرتی۔ کٹکٹاتی سردیوں میں اکثر کارڈیگن اتار کر، ہڈیوں میں اتر آنے والی ٹھنڈک کو محسوس کرتی۔ اور گرمی کی راتوں میں جہاں سارے افراد کولر کا لطف لیتے، میں روشوں پر ٹہلا کرتی۔ مجھے قطار میں کھلے ہوئے بیلے کے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو، جھلسا دینے والی گرمی کے بعد ، رات کو پروا کے جھونکے اور جھومتے ہوئے آم کے درخت بہت اچھے لگتے۔ ممکن ہے پیڑ پودوں کو تنہا تنہا، خاموش خاموش دیکھ کر میرے اکیلے پن کو لاشعوری سکون ملتا ہو، مگر یہ تو میری بچپن کی عادت تھی۔

اس دن بھی میں خاموشی سے چہل قدمی کررہی تھی کہ میرے قدم منجمد ہوگئے۔ سرونٹز کواٹرز سے آنے والی پندرہ پاور کی مٹیالی روشنی میں، میں نے دیکھا، باہر ٹاٹ کے ٹکڑے پھیلا کر رجیہ اپنے شوہر کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی۔ اور وہ بار بار لقمہ رجیہ کے منھ کی طرف لے جا کر کہتا ’’ارے لے نا ، ایک نوالہ، ہمری قسم، تو ہار ہاتھ میں جادو ہے ری، ایسن مجا ہے کی صاب لوگ کے بڑے بڑے ہوٹل فیل ہوجائیں۔‘‘ اور رجیہ شرمائی سی کبھی اس کا ہاتھ پرے کردیتی، کبھی اس کے اور قریب سرک کر ایک ادا سے منھ کھول دیتی!

شاید تمہیں پتہ ہو، یا کہ تم بھول گئے، وہ ہماری شادی کی پہلی سالگرہ تھی۔ میں تمہیں سرپرائز دینا چاہتی تھی، میں نے تمہارے لائے ہوئے کپڑوں کے انبار سے چن کر ایک خوبصورت سی ساری پہنی تھی۔ تمہارے لیے دلہنوں والا سنگار کیا تھا۔ اور باورچی خانے میں خود جاکر تمہاری پسند کی چیزیں تیار کی تھیں۔ اپنے کمرے کو کتنا کتنا سنوارا تھا۔ اور پھر تمہیں فون کرکے جلدی آجانے کو کہنا چاہ رہی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا، جب میں نے تمہیں فون کرنے کی جسارت کی تھی۔ مگر ریسیور تمہارے بجائے سکریٹری نے اٹھایا تھا۔ میں تمہارے اور اپنے اندر کے فاصلے کو بھول کر کہہ رہی تھی۔‘‘ صاحب کو ریسور دو۔ کہنا، ایک ضروری بات ہے۔‘‘

دو سکنڈ کی خاموشی تھی۔ اس نے یقینا تمہیں کہا ہوگا۔ مگر تیسرے سکنڈ ، تمہارے بدلے اسی کی آواز آئی تھی۔ ’’سر بہت بزی ہیں، کوئی ضروری میسج ہو تو نوٹ کروا دیجیے۔‘‘

اور میں نے جھلا کر ریسیور رکھ دیا تھا۔ شاید تمہیں معلوم نہ ہو کہ میں پہلے بھی فون کااستعمال بہت کم کرتی تھی۔ اور پھر اگر کوئی فوراً نہ مل جائے، ایزلی اویلبل نہ ہو، لائن انگیج ہو تو میرا دل چاہتا کہ ریسیورکو پٹخ دوں۔ اور پھر یہ تو تم، وہیں موجود، میں گھنٹوں روتی رہی تھی، کمرے کی بتی تک نہیں جلا سکی۔ مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ کب شام ڈوب گئی، کہ تم آگئے آتے ہی ٹیوب لائٹ آن کی، اور میری طرف متوجہ ہوئے بغیر بولے:

’’آج دوستوں نے مون لائٹ میں پارٹی مانگی ہے، اینی ورسری کے موقع پر۔ چلو، تیار ہوجاؤ۔‘‘

پہلی بار تمہارا دوستانہ لہجہ سن کر میں گہری تاریکی میں اڑتے ہوئے جگنوؤں کو آنچل میں پکڑ لینے کی تمنا لیے ہوئے تمہارے سامنے آگئی۔

’’تیار تو کب سے ہوں، آج آپ کے لیے کتنا کچھ بنایا تھا۔‘‘ اور تم نے بیزاری سے کہا تھا۔

’’یہ کیا، جاہلوں والا اہلیہ بنا ڈالا ہے، وہ نیلی میکسی پہن لو، جو میں پچھلی مرتبہ لایا تھا۔‘‘

اور میں پھٹی پھٹی نظروں سے تمہاری طرف دیکھتی رہ گئی۔ یہ تم کہہ رہے ہو، میرے محافظ، مجھے شو پیس بنا کر خود کو اپ ٹوڈیٹ ثابت کرنا چاہتے ہو، جب کہ مجھے جسم کے پیچ و خم نمایاں کردینے والے لباس سخت ناپسند ہیں۔ فیزیک کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ یہ تو ہے، مگر اہمیت ہے بھی اور کوئی خود کو اشتہار نہیںبنانا چاہتا۔ وہ تو جذبۂ سپردگی ہوتا ہے، عبادت کی طرح مقدس احساس، کہ کوئی اپنا آپ بھول جاتا ہے، کاش تم نے کبھی محسوس کیا ہوتا، عورت کیا ہوتی ہے؟ میری اپنی بھی کوئی طلب ہے جو صرف اور صرف تمہاری ذات سے وابستہ ہے۔ مگر تم ہجوم کے آدمی تھے۔ تم نے اپنی حیثیت ہنگاموں میں گم کردی تھی۔ اور جب میں تمہاری پارٹی سے واپس آئی، میرے سارے احساسات سو چکے تھے تھکن اور اندرونی درد کی ٹھیس نے مجھے نڈھال کر ڈالا تھا۔

اچانک میری کراہ سن کر تمہاری نیند ٹوٹ گئی تھی۔

تم نے پوچھا تھا!

’’کیا طبیعت خراب ہے۔ ابھی ڈاکٹر کو فون کرتا ہوں۔‘‘

میرے لبوں پر سردسی ایک پراسرار مسکراہٹ تھی۔

وہ کون ہوسکتا تھا، جو ہر ایسے لمحے، میرے سر ہانے آکر بیٹھ جاتا، میرے بالوں کو دھیرے دھیرے سہلاتا، اور بڑے پیار سے کہتا۔

’’ارے تم یوں گھبرا گئیں، بالکل بچی ہو تم، میں جو ہوں، میرے ہوتے ہوئے تمہیں کیا ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر کیا کرے گا، صبح چلیں گے، اور صبح یوں باتیں کرتے کرتے آجائے گی کہ تمہیں پتہ بھی نہ چلے سکے گا۔‘‘

تم اس طرح مجھ سے سوال کررہے تھے جیسے ڈاکٹر کا اسسٹنٹ، ڈاکٹر کے آنے سے قبل پرسکرپشن کی خانہ پری کرتا ہے۔ تھوڑی دیر میں ڈاکٹر آیا۔ اس کے الٹے سیدھے سوالات پر بھی میں خاموش رہی۔ وہ تمہیں فرنگی زبان میں کہہ رہا تھا کہ میرا نروس سسٹم، میرا ہارٹ، سب کچھ افیکٹڈ ہے۔ تم اپنا زیادہ وقت میرے پاس گزارو۔ مجھے خوش رکھو، اس عمر میں یہ سب نہیں ہوتا، مگر جب ہوتا ہے، بہت ہی سیریس ٹرن لیتا ہے۔

’’یس آئی ڈو مائی بسٹ‘‘ تمہارے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا۔ تم نے یوں جواب دیا جیسے عام سی بات ہو، نہ گھبراہٹ، نہ ندامت اور نہ بے چینی۔

اور میں بس تمہیں دیکھتی رہ گئی تھی!

دو ایک دن تو تم واقعی جلدی آگئے۔ مگر بس یونہی بیٹھے خبریں سنتے رہے۔ بیچ بیچ میں کوئی ایک جملہ کہہ جاتے۔ خبروں سے متعلق، پھر تم نے کہا۔

’’کیسٹ سنو گی، جب تک میں چند ضروری فائلیں دیکھ لوں۔‘‘ اور تم نے ٹیپ ریکارڈ لگا دیا۔ کیسٹ بجتا رہا۔ اور میں ویران آنکھوں سے دیواروں کو تکتی رہی۔ تم بہت مطمئن تھے کہ میں کتنے دھیان سے سن رہی ہوں۔ پھر تم نے دوسرا لگادیا۔ پھر تیسرا، یونہی ایک ایک کرکے سارے کیسٹ ختم ہوگئے۔ پھر میں باغیچے میں ٹہلنے لگی اور تم اپنا کام کرتے رہے۔ جب بہت تھک گئی تو جاکر سوگئی۔ چنددنوں بعد تم نے اردلی کو کہہ دیا کہ وہ رجیہ کو میرے پاس بھیج دیا کرے تاکہ مجھے تنہائی کا احساس نہ ہو۔ اور تم اپنے معمول پر آگئے۔ اب میں تمہیں کیسے بتاتی کہ رجیہ میری تنہائی نہیں بانٹ سکتی بلکہ اس کا وجود میری تنہائی کے احساس کو اور بھی شدید کردیتا ہے۔ اس طبقے کی عورتوں کے پاس، جن کی نئی شادی ہوئی ہو، موضوع کیا ہوتا ہے؟ یہ تم نہیں جانتے کیا؟ شوہر، اس کے بعد بچہ، یا اگر جوائنٹ فیملی ہو تو سسرال والوں کے شکوے، رجیہ صرف اپنے شوہر ہی کی باتیں کرسکتی تھی۔ اب کیا میں اتنی خود غرض تھی کہ اس سے اس کی پسند کا موضوع چھین لیتی۔ اور پھر رجیہ میں اور مجھ میں کچھ طبقاتی زینے بھی تھے۔ میں اس کے سامنے اپنی تہی دامنی کا اعلان کرنا نہیں چاہتی۔ شاید تمہیں پتہ ہو کہ شکست خوردہ دل ایک ٹھیس لگا ہوا آبگینہ ہوتا ہے۔ کیا پتہ اس کا کون سا لفظ مجھے چکنا چور کردے۔ اور میں جینے کا یہ بھرم بھی کھودوں۔ اسی لیے میں نے رجیہ کو نظر انداز کردیا۔ بلکہ قصداً کچھ پڑھنے لکھنے بیٹھ جاتی۔ اور اس سے کہہ دیتی:

’’جاؤ رجیہ، میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اور وہ خوش خوش ’’سلام بی بی‘‘ کہہ کے چل دیتی۔ بعض غم ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی شریک نہیں ہوتا۔ آج تم سے بہت ساری باتیں کرنے کی خواہش ہے۔ شاید اس لیے کہ جب میں نہیں ہوں گی، تب بھی یہ باتیں تمہیں یاد رہیں۔ اور میرے ہی لہو سے جل گیا یہ چراغ، یہ احساس نارسائی، تمہیں وہی خلش وہی ٹوٹے ہوئے کانٹے کی ٹھیس اور وہی بے چینی دے جسے میں برسوں جھیلتی رہی۔ آج اس پل میں نے جانا، موت کتنی پیاری، کتنی خوش آئند، کتنی سکون بخش ہوتی ہے۔ لوگ فضول ہی اس نعمت سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔ ہاں میں تمہیں بتادوں، اگر واقعی کوئی تمہیں ناپسند ہو تو اسے بے دریغ قتل کردینا۔ آج کل، اور آج کل ہی نہیں، ہر زمانے میں تمہارے جیسے لوگ قانون کی گرفت سے بچ ہی جاتے ہیں۔ مگر یوں کسی کو قسطوں میں، پل پل رلا رلا کر مت مارنا، یہ موت واقعی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ میں اس کی گواہ ہوں۔ مجھ سے پوچھو، یہ گھٹی گھٹی زندگی، اور یہ موت کی پیہم آہٹ کیا ہوتی ہے؟ واقعی، جب کبھی سینے میں ٹیس اٹھتی تھی، تو میں یا تو رو پڑتی تھی، یا نفل نمازیں پڑھنے لگتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی ناکردہ گناہ کا میرے سر بہت بڑا الزام عائد کردیا گیا ہو۔ اور میں اسی ڈراؤنے خواب سے سہم سہم کر زندگی کے بدلتے ہوئے چہرے کے نقش پڑھنے کی کوشش کیا کرتی تھی۔ یونہی ایک عرصہ بیت گیا۔

آج یہ چہروں کا ہجوم، یہ رسم غم میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ میرا مرنا آج جن کے لیے حادثہ ہے، وہ کیا جانیں، یہ حادثہ کب اور کیسے ہوا۔ میں تو صرف گنی ہوئی چند سانسوں کی قرض دار تھی۔ اور کوئی بھی خوددار آدمی قرض کو اتاردینے میں کتنی جلدی کرتا ہے، یہ کسے پتہ نہیں۔ اس کے لیے میں رجیہ کی ہی احسان مند ہوں کہ یکبارگی وہ اسی کی آواز تو تھی جس نے مجھے ہر ایک آواز سے بیگانہ کردیا تھا۔

اس رات دس بجے کے قریب وہ جھلا کر، بہت ہی تیز اور تلخ لہجے میں کہہ رہی تھی۔

’’سب صفا، صفا سن لیو۔ تم یار دوست کے سنگ موج کریہو، اور میں باٹ جویت جویت بھور کروں گی، ای ناہیں ہوگا۔‘‘

اور یہی آواز ایک پیشہ ور قاتل کی طرح میرا کام تمام کرگئی تھی۔ حالانکہ اس آواز میں ایسا کچھ نہ تھا۔ جو پہلے نہ رہا ہو۔ پھر بھی، مجھے لگا جیسے کسی تیز آندھی نے اس درخت کو یکبارگی اکھاڑ دیا ہوجو بہت پہلے دھرتی کی نمی سے ناطہ توڑچکا ہو۔ شاید اسی لیے میں گھبرا کر بستر سے اٹھ گئی۔ ایک عجیب سے بے چینی اور تھکن جیسے یکبارگی کچھ چھن گیا ہو، اور جو منظر نظروںکے سامنے ہو، وہ بہت ہی ڈراؤنا، اجنبی اجنبی سا، اور معنی خیزی کی وحشت لیے ہو۔‘‘

کبھی تم نے سوچا، اپنی ہی شخصیت کے بکھرے ذروں کو تو بڑے سے بڑا فنکار بھی پھر سے جوڑ نہیں سکتا بلکہ جو جتنا اداس ہوتا ہے، اسی قدر تیزی سے ٹوٹتا اور بکھرتا ہے۔ تم بھی تو ہر رات، نصف شب گزار کے آتے، بغیر میرے پوچھے ہی نئے نئے جواز دینے لگتے، مگر میں آج تک رجیہ کے پُریقین لہجے میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکی۔ نہ کوئی دعوا، نہ کوئی دھمکی، بلکہ مجھے تمہاری باتوں سے ایسی کوفت ہوتی کہ میں چپ رہ جاتی۔ معذرت کرلینا کبھی رسماً ہوتا ہے اور کبھی آدمی ندامت کے تمام تر احساسات کے ساتھ صلح کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ مگر تمہاری معذرت کیا تھی، یہ میں آج تک نہ سمجھ سکی۔ شاید تم رسماً ہی کہا کرتے تھے۔ مگر تمہاری دنیا میں یہ رسم ان لوگوں کے ساتھ برتی جاتی ہے، جن سے کاروباری رشتہ ہوتا ہے۔ میرے ساتھ تمہارے رشتے کا نام کیا ہے؟

اور رجیہ کہہ رہی تھی

’’مار ہمرے گھر کی ڈیوڑھی ایک کردئے رہو، ای ہی کھاتر! ایکا سے ایک بات آوت رہے اور لا کے سینت دیو۔‘‘

اف، یہ عورت چپ کیوں نہیں ہوجاتی۔ اس کی شوخ سی یقین بھری جنگ مجھے چکنا چور کرگئی ہے۔ معاً مجھے لگا تھا جیسے میرے کمرے میں دھواں بھر گیا ہو۔ عجیب سے گھٹن ہو، میرا دم گھٹ رہا ہو۔ جیسے میرے اندر کی جلتی ہوئی شمع کی لو بہت بڑھ گئی ہو۔ کاش میں بھی رجیہ کی طرح چیخ کر تمہیں مخاطب کرسکتی، مگر نہیں۔ تم اجنبی راہوں کے مسافر تھے۔ تمہارے پیش نظر شاہراہیں تھیں، اور میں بیتے ہوئے کل کی خواب ناک سی پگڈنڈی۔ پھر تم ایک نیا ماسک پہن کر میرے سامنے کیوں آئے ہو۔

میری پلکوں پہ آنسو کے قطرے لرز رہے ہیں، کوئی بھی تو نہیں جسے میں وقت سفر الوداع کہہ سکوں؟ یہ کیسا سفر ہے؟ کہ دور دور تک کوئی نقش پا بھی نہیں اور نہ رخصت کرنے کے لیے اکھڑتی سانسوں کو ہموار کرنے کی کوئی ٹیس، کوئی چبھن، کوئی یاد، کچھ بھی تو نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ میرے احساسات کی آگ بھی تمہارے بس کی نہیں۔

یہ پتہ نہیں مجھے کیا ہوتا جارہا ہے۔ بالکل انجانی، اور سراسیمہ سی بے کلی، میری ویران ویران، بے چین بے چین نظریں اجلی دیواروں سے پیوست ہوکے رہ گئی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں، اگر کوئی کسی کو قتل کردے تو قاتل کی تصویر مرنے والی شخصیت کی آنکھوں میں منجمد ہوجاتی ہے۔!

اجلی پیشانی پر بڑے قرینے سے بکھرے ہوئے بال، زخم کا ایک نمایاں سا نشان، شوخ نظروں میں سمٹی ہوئی بچوں کی سی معصومیت اور ایک بے ساختہ بہا لے جانے والی قاتل ہنسی!

اب تم اپنا ماسک اتار ہی دو۔ میں نے تمہیں واقعی معاف کردیا ہے۔ کہ وہ تم نہ تھے جسے میں تمہارے اندر تلاش کرکے لہو لہان ہوئی تھی۔

اس آخری لمحے شعور نے میری پلکوں کے کانٹے نکال دئے اور میں محسوس کررہی ہوں جیسے برسوں کا تھکا ہوا دل و دماغ غنودگی کے سمندر میں ڈوبتا جارہا ہو! گہرا!! اور گہرا!!

شیئر کیجیے
Default image
شمیم صادقہ

تبصرہ کیجیے