6

بھٹکا راہی

طوفانی بارش تھی اور گھر میں کھانے کو بھی کچھ نہیں تھا، رحمت سوچ رہا تھا کہ اب کیا کرے آخرکار اٹھا اور اپنا تانگہ لے کر بس اسٹینڈ کی طرف چل دیا لیکن یہاں بھی کسی مسافر کا نام و نشان نہیں تھا۔ رحمت نے تانگہ ایک درخت کے نیچے کھڑا کیا اور خود ایک طرف بیٹھ کر سستانے لگا۔ تھوڑی ہی دیر بعد اسے ایک جاندار کے رونے کی آواز سنائی دی جسے رحمت نے پہلے تو نظر انداز کردیا اس نے سوچا کہ کوئی بلی یا کتا سردی سے کانپ رہا ہوگا لیکن مسلسل آواز آنے اور صحیح نشاندہی نہ ہونے سے رحمت اٹھا اور ارد گرد متجسس نگاہوں سے دیکھنے لگا آخر قریب ہی اسے کپڑے کی گٹھری دکھائی دی اور آواز بھی اسی میں سے آرہی تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر گٹھری کو کھولا تو یہ دیکھ کر اس کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ چند ہی گھنٹوں پہلے اس دنیا میں آئی ہوئی خوبصورت سی بچی سردی اور بھوک سے کراہ رہی تھی۔ سردی سے بچی کی رنگت نیلی پڑتی جارہی تھی رحمت کسی انجانے خوف سے بھاگتا ہوا واپس تانگے میں جا بیٹھا کہ کہیں کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہی بچی کو رکھنے آیا ہے۔ لیکن انسانی ہمدردی اور بچی سے پیار کا جذبہ اسے چین لینے نہیں دے رہا تھا۔ کبھی وہ سوچتا کہ کہیں کوئی جانور ہی بچی کو نہ چپا ڈالے اور کبھی یہ کہ کہیں وہ مر ہی نہ جائے۔ آخر وہ تانگے سے اترا، بچی کو اٹھایا اور گھر لے گیا۔

گھر جاکر اس نے اپنی بیوی طاہرہ کو بچی دکھائی اور سب قصہ سنادیا۔ بچی کو دیکھتے ہی طاہرہ کی ممتا جاگ اٹھی کیونکہ وہ دونوں ہی گزشتہ پندرہ سالوں سے اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔ طاہرہ نے فوری طور پر بچی کو گرم بستر میں ڈالا اور اسے شہد کھلا کر اس کی بھوک کی شدت کو کم کرنے لگی۔ اس نے رحمت سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بچی کو خود ہی پالیں گے۔ رحمت بھی مان گیا اور یوں وہ بچی ان کے گھر کا حصہ بن گئی۔ وہ دونوں بچی سے جنون کی حد تک محبت کرنے لگے۔ اس کا ہر طرح سے خیال رکھتے۔ وہ سوئی بھی ہوتی تو اس کے پاس ہی بیٹھے رہتے اور پیار بھری نظروں سے اس کا چہرہ دیکھتے رہتے۔ بچی بھی دن بدن اتنی جاذب نظر ہوتی جارہی تھی کہ ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کرلیتی۔ رحمت نے تانگہ چھوڑ کر رکشہ اور پھر رکشہ سے ٹیکسی خرید لی اور وہ یہ سب اپنی بچی کی برکت کا کرشمہ ہی سمجھتا۔ جو لوگ رحمت اور طاہرہ کو سمیرا سے اتنی محبت کرتا دیکھتے تو کہتے کہ ’’دیکھوپرائی بچی کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔‘‘ سمیرا نادان تھی ابھی ’’پرائی‘‘ کا لفظ اس کے ذہن پر اثر نہیں کرتا تھا لیکن جوں ہی وہ لڑکپن میں پہنچی تو لفظ ’’پرائی‘‘ اسے کھٹکنے لگا اور پھر ایک دن جب طاہرہ گھر نہیں تھی تو ساتھ والی ہمسائی نے سمیرا کے کان بھرنے شروع کردئیے۔

’’اصل میں سمیرا تم ان کی اولاد تو نہیں ہو رحمت تمہیں کہیں سے اٹھایا لایاتھا اب علم نہیں کہ تمہیں چوری کرکے لایا یا پھر کسی اور لالچ میں۔ تم خود سوچو تمہارا حسین رنگ و روپ، خوبصورت بال اور پرکشش آنکھیں تم تو کسی طرح سے ان سانولے اور کالے کلوٹوں کی بیٹی نہیں لگتی ہو اور انھوں نے اتنی محبت جو تم پر کی ہے وہ کل کو تم سے خدمت کروا کر وصول کریں گے۔ اسی وجہ سے تو تم پر اتنی پابندیاں لگائی جاتی ہیں کہ یہ نہ کرو وہ نہ کرو۔ انہیں ڈر ہے کہ کہیں تمہیں کوئی ان کی اصل حقیقت نہ بتادے دیکھو میری بیٹی ہے نا! میں تو اس پر اتنی روک ٹوک نہیں کرتی۔‘‘

اس دن سے سمیرا اکھڑی اکھڑی سی رہنے لگی۔ وہ طاہرہ اور رحمت کی محبت کو نظر انداز کرنے لگی حتی کہ بدتمیزی تک نوبت آگئی آخر ایک دن طاہرہ رو پڑی ’’رحمت دیکھو نا ہماری بیٹی ایسے کیوں رہنے لگی ہے۔‘‘

’’ارے اس عمر میں اتنی روک ٹوک اچھی نہیں ہوتی ذرا بڑی ہوگی تو خود ہی سمجھدار ہوجائے گی۔‘‘

میٹرک کے بعد سمیرا نے کالج جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو رحمت انکار نہ کرسکا اب سمیرا ہر روز کبھی کپڑوں کبھی جوتوں اور کبھی جیولری کی فرمائش کردیتی بغیر یہ سوچے سمجھے کہ شاید اتنا بہت کچھ رحمت کی استطاعت سے باہر ہو لیکن وہ دونوں ہی اندھی محبت میں اس کا کہنا مانتے رہے۔ ایک دن طاہرہ نے بڑے پیار سے سمیرا سے کہا۔

’’دیکھو بیٹی تمہارے لیے ایک رشتہ آیا ہے لڑکا بی اے پاس ہے فرنیچر کا اپنا کام کرتا ہے گھر کے حالات بھی ہم سے بہتر ہیں اور تمہارے ابو چاہ رہے ہیں کہ تمہاری شادی اس سے کردی جائے۔‘‘

’’ہرگز نہیں، میں ساری عمر غربت کے چکروں میں پڑنا نہیں چاہتی۔ میں تو چند ہزار کمانے والوں کو اپنی نگاہ میں ہی نہیں رکھتی اور خبردار میری طرف سے اقرار مت کیجیے گا اور ویسے بھی آپ تو مجھے اندھے کنوئیں میں ہی دھکا دیں گے میں آپ کی اپنی اولاد تو نہیں ہوں، ہوں تو میں آخر پرائی۔‘‘

آج براہ راست سمیرا کے منہ سے ’’پرائی‘‘ کا لفظ سن کر طاہرہ بہت روئی اور اگلے کئی دن وہ بستر سے نہ اٹھ سکی۔ اس غم کو اس نے اپنے سینے سے لگالیا۔ سمیرا نے اپنی دوست نوشابہ کے بھائی سے شادی کی ہر ممکن کی کوشش کی اور آخر ایک دن چند گواہوں کی موجودگی میں سمیرا کا نکاح ارشد سے پڑھا دیا گیا۔ رحمت اور طاہرہ خاموش تماشائی بنے رہے۔ کتنے ہی ارمان تھے ان کے دل میں کہ وہ اپنی پیاری بیٹی کی شادی اپنی استطاعت سے بڑھ کر کس قدر دھوم دھام سے کرتے۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ ولیمہ کے دن شاندار فنکشن میں کسی نے دلہن کے والدین کو کسی تعارف کے قابل نہیں سمجھا اور وہ دونوں ایک طرف بیٹھے اپنی بے بسی اور لاچاری پہ آنسو بہاتے رہے۔

ارشد نے سمیرا کو بہت خوش رکھا۔ بے انتہا شاپنگ اور پھر اتنا بڑاگھر لیکن شرط یہ تھی کہ وہ ان تنگ و تاریک گلیوں میں اپنے نام نہاد والدین سے ملنے نہیں جائے گی اور سمیرا کو بھی اس شرط پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔

شادی کے کچھ ماہ بعد ہی سمیرا پر ارشد کی زندگی کے راز کھلنے لگے۔ وہ اس کی تیسری بیوی تھی، پہلی بیوی کو سیڑھیوں سے گرا کر ماردیا گیا۔ دوسری کو ابنارمل ظاہر کرکے میکے بھجوا دیا گیا اور اب سمیرا اس کے نشانے پہ تھی۔ ارشد رات گئے جب شراب کے نشے میں لوٹتا تو سمیرا کو بے انتہا پیٹتا۔ اب سمیرا کو احسا س ہوا کہ چھوٹے گھر میں محبت تو تھی کیا ہوا جو دولت نہ تھی۔ اب ہر طرف دولت تھی لیکن سکون نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔

شادی کے سوا سال بعد سمیرا کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جو ذہنی اور جسمانی طور پر معذور تھی۔ بچی کی پیدائش کی خبر سنتے ہی ارشد نے نے سمیرا کو بہت مارا اور ساتھ ہی طلاق نامے کا کاغذ تھما دیا۔ اب سمیرا کو اپنی کم عقلی اور بے وقوفی پہ بہت رونا آرہا تھا۔ جاتی تو کہاں جاتی، اب اسے اپنے والدین کی شدت سے یاد آنے لگی، اس نے بچی اٹھائی اور پھر سے ان تنگ و تاریک گلیوں کی طرف چل دی۔

دروازہ کھلتے ہی رحمت سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

’’ابو مجھے معاف کردیں میں بہت شرمندہ ہوں۔ میں پھر سے اب تنہا ہوچکی ہوں۔ کئی سال پہلے آپ اپنی اس بیٹی کو کچرے سے اٹھا لائے تھے آج خود چل کر آپ کی بیٹی آپ کے پاس آئی ہے، مجھے معاف کردیجیے، اور مجھے پھر سے اپنا لیجیے۔‘‘

رحمت اور طاہرہ نے آگے بڑھ کر بیٹی کو چوم لیا۔ ’’کوئی بات نہیں بیٹی تم پہلے بھی ہماری جان تھیں اور اب بھی ہو۔‘‘

اور سمیرا کا دل ایک طویل عرصے کے بعد ایک بار پھر خوشی سے جھوم اٹھا۔ اطمینان سے بھر گیا۔

شیئر کیجیے
Default image
نازیہ یوسف

تبصرہ کیجیے