6

قدرتی چیزوں سے حسن

میں نے اپنی دادی کو تو دیکھا نہیں البتہ اپنی ماں اورتائی امی کو ضرور دیکھا۔ بڑھاپے میں بھی سفید بال بڑے لمبے لمبے تھے۔ شاید اس لیے کہ انہیں کبھی شمپو میسر نہ تھا۔ تبھی تو وہ ملتانی مٹی سے سر دھوتی تھیں اور سر میں اکثر دیسی گھی کی مالش کیا کرتی تھیں۔ آج کی طرح قسم قسم کی کریم اور فیس ماسک بھی انہیں دستیاب نہ تھے پھر بھی ان کا چہرہ ہر قسم کے داغ دھبوں سے پاک اور چمکدار تھا۔ اور اس کا راز صرف یہ تھا کہ وہ مصنوعی چیزوں کے بجائے نیچرل چیزیں ہی استعمال کرتی تھیں۔
آئیے آپ کو کچھ ایسی بیوٹی ٹپس بتاتے ہیں جن کے ذریعہ نہ صرف حسن کو برقرار رکھا جاسکتا ہے بلکہ مزید نکھارا بھی جاسکتا ہے۔ اور پھر اس میں نہ کریموں کی قیمت کے برابر خرچ ہے اور نہ کوئی خاص زحمت، بس ذرا فرصت کے وقت چند منٹ نکال لیجیے اور نکھارئیے قدرتی حسن کو۔
خشک جلد کے لیے
¿ دہی، شہد، دودھ پاؤڈر، انڈا، گاجر، مسلا ہوا کیلا، بادام، آملہ ان میں سے جو بھی چیز دستیاب ہو مسل کر یا پیس کر چہرے پر لگائیں۔ بیس منٹ بعد چہرہ دھولیں۔
¿ ایک چمچہ دودھ اور دو چمچہ شہد کو ملاکر چہرے پر لگائیں اور پندرہ بیس منٹ بعد دھو دیں۔
¿ پکے ہوئے کیلے کو اچھی طرح مسل کر پیسٹ بنالیں پھر اس میں تھوڑا سا شہد ملا لیں اور جلد پر مساج کریں بیس منٹ بعد دھو ڈالیں۔
¿ ایک انڈے کی زردی، آدھا چمچہ شہد، دو بوند لیموں کا رس، چند قطرے بادام کا تیل اور گلسرین ملا کر جلد پر مالش کریں، بالکل نرم اور چمکدار ہوجائے گی۔
روکھی جلد کے لیے
¿ انڈے کی سفیدی، چندن پاؤڈر، ملتانی مٹی، تازہ گلاب کی مسلی ہوئی پنکھڑیاں، پپیتہ، آملہ، لیموں کا رس، سنترے کا رس، پودینہ اور ٹماٹر ان میں جو بھی چیزیں دستیاب ہوں ان سب کو ملا کر پیسٹ بنالیں اور چہرے پر لگائیں، بیس منٹ بعد دھو ڈالیں۔
¿ بیسن، ٹماٹر کا رس، کپور کاچی، عرق گلاب اور ہلدی کا پاؤڈر تمام کو ملا کر چہرے پر لگائیں اور پندرہ بیس منٹ بعد دھو دیں۔
¿ ایک انڈے کی سفیدی میں دس بوند لیموں کا رس ملا کر چہرے اور گردن پر لگا کر پندرہ بیس منٹ بعد دھو دیں اس سے جلد میں کساؤ آجاتا ہے جھریاں ختم ہوجاتی ہیں اور وہ نرم بھی ہوجاتی ہے۔
عام جلد کے لیے
¿ ملتانی مٹی، لال چندن، سفیدچندن، خس، کپور کاچی، شہد، لیموں کا رس اور عرق گلاب تمام چیزوں کو ملا کر چہرے پر لگایا جائے۔ دھیرے دھیرے نکھار آتا ہے، یہاں تک کہ دھیما رنگ بھی چمکدار اور گورا ہوجائے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے