5

بورڈ امتحان ۲۰۰۴ء کے نتائج

سی بی ایس ای(CBSE) دسویں اور بارہویں سال ۲۰۰۴ کے نتائج آچکے ہیں۔ اور ایک بار پھر طالبات نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے میدان جیت لیا ہے۔ بارہویں کے امتحان میں جہاں 69.43فیصد طلبہ نے کامیابی حاصل کی ہے وہیں طالبات نے طلبہ کو 13.15فیصد کے بڑے فرق سے پیچھے چھوڑتے ہوئے مات دے دی اور اپنی کامیابی کی شرح 82.58فیصددرج کرائی۔ یہ نتائج نہایت ہی خوش آئند ہونے کے ساتھ تمام لوگوں کو غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں۔ دہلی کی ایک طالبہ’’جیوتی‘‘ نے بورڈ امتحانات کے دوران شدید قسم کے یرقان کا شکار تھی اپنے اسکول سین تھامس (St. Thomas) میں ٹاپ کرکے یہ ثابت کردیا کہ :
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
اس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے مجھے صاف طور پر پڑھنے کو منع کردیا تھا۔ والدین نے بھی بورڈ کے امتحانات نہ دینے کی صلاح دی تھی۔ لیکن مجھے امید تھی کہ میں ضرور کامیاب ہوؤں گی۔ ایک سوال کے جواب میں کہ وہ کوئی پیغام یا رہنمائی اپنے آنے والے دوستوں کو دینا چاہیں گی، کہتی ہیں: ’’جو بھی کریں، اس میں سنجیدگی اختیار کریں، آپ کتنے گھنٹے پڑھتی ہیں یہ اہمیت نہیں رکھتا، اہم یہ ہے کہ آپ نے کیا پڑھا ہے۔ مختصراً یہ کہ کم پڑھیں مگر اچھا پڑھیں اور اچھی طرح پڑھیں۔‘‘
یہ سارے نتائج قابل تعریف ہیں۔ اور اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ محنت اور صحیح رخ پر کوشش کی جائے تو بڑے سے بڑا میدان جیتا جاسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ جیوتی، انجلی، نیہا اور ریکھا ہی کیوں؟ بشرا، زیبا اور نازیا کیوں نہیں؟ کیا ہمارے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟ ہماری بہنیں اور بیٹیاں تو اس فہرست میں نظر نہیں آتیں۔ اگر ہم جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سبقت لے جانے کی بات تو دور، وہ تو خواندگی کے گراف پر بھی ابھی سب سے پیچھے نظر آتی ہیں۔ کیا یہ بات ان لوگوں کو زیب دیتی ہے جن کی مثالی خواتین آئی اے ایس ٹاپرشہلا نگار نہیں، بلکہ حضرت عائشہؓ جیسی عورتیں ہیں جو علم کا منبع اوررہنمائی کا مرکز ہیں۔ اور جنھوں نے دین و دنیا کے علوم ومعارف میں سب سے اونچا مقام حاصل کررکھا ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ ہماری نسلوں کی اعلیٰ کامیابی اور تعلیم کے میدان میں ان کی نمایاں کارکردگی میں ہمارے والدین اور بڑوں کا رول غیر معمولی ہوتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی طالب علم کی کامیابی اور وہ بھی نہایت اعلیٰ درجہ کی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتی جب تک والدین کی جانب سے مسلسل حوصلہ افزائی، درست رہنمائی اور ان کے حوصلوں اور جذبوں کی لو کو تیز تر نہ کیا جائے۔ ہمارے بچوں کے امتحانات جہاں بچوں کے امتحانات ہیں وہیں ان کے والدین کا بھی امتحان ہے کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے کیا ہدف پیش کرتے ہیں اور کس درجہ کی کامیابی اپنا مطمح نظر بناکر ان کا ٹارگیٹ بنادیتے ہیں۔
ملت کے ایک طالب علم کی اعلیٰ کامیابی صرف اسی کی کامیابی نہیں ہے اسی طرح کسی طالب علم کی ناکامی صرف اسی کی ناکامی نہیں بلکہ پوری امت کا مستقبل اس سے وابستہ ہوتا ہے۔ ملت میں زندگی کی رفتار کیا ہے اور وہ کس رخ پر سفر کررہی ہے اس کا اندازہ انھی نتائج سے لگایا جاتا ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ علم کا راستہ دکھانے والی وہ امت جس کی ابتدا ہی اقرا سے ہوتی ہے اپنی حیثیت اور اپنا مقام فراموش کربیٹھی ہے۔
ملت کی یہ حالت زار کیوں ہے اس کا جائزہ ہم میں سے ہر فرد اپنے گریبان کو ٹٹول کر لے سکتا ہے۔ تبصرے اور جائزے تو ہوتے ہی رہتے ہیں اور مستقبل میں بھی جاری رہیں مگر صرف ان پر تبصرہ کرنے اور رو لینے سے کچھ نہیں ہونے والا!
آج ضرورت عملی اقدام کی ہے۔ آخر ہم کب تک ماضی کے سہارے جیتے رہیں گے اور اپنے اسلاف کے کارناموں پر فخر کرتے رہیں گے۔ کیا انھوں نے یہ مثالیں صرف اس لیے قائم کی تھیں کہ ہم ان پر فخر کرتے رہیں؟ نہیں بالکل نہیں! انھوںنے تو یہ مثالیں اس لیے قائم کی تھیں کہ ہم ان سے سبق لیں اور یہ ثابت کردیں کہ مسلمان صرف ماضی کے سہارے نہیں جیتا بلکہ حال اور مستقبل دونوں کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر گھر سے جیوتی، انجلی اور ریکھا سے بھی زیادہ اچھی کارکردگی اور بلند اخلاق بیٹیاں اور بہنیں معاشرہ کو دیں اور ان کو یہ فکر بھی فراہم کریں کہ وہ اپنی جدوجہد اور محنت کے ذریعہ ملت اسلامیہ کی تقدیر بدلنے میں اپنا کردار نبھاہنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے رہنمائی فراہم کریں۔

شیئر کیجیے
Default image
مہتاب عالم