4

بچہ کے رونے کا سبب جانئے

نوزائیدہ بچہ کے رونے کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ ایک حد کے اندر رونا اس کی صحت اور اس کے جسمانی اعضا کے نشو نما کا ذریعہ ہے۔ یہ اسی وقت تک مفید ہے جب بچہ اپنی فطری ضرورتوں کے مطابق ہی روئے۔ لیکن بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ غیر فطری طریقہ سے اور بہت زیادہ روتا ہے۔ ایسے میں ماں کو معلوم نہیں ہوپاتا کہ بچہ کیوں رو رہا ہے اور وہ پریشان ہوجاتی ہے۔ ایسا اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب کہ ماں کا پہلا بچہ ہو۔ اس سلسلے میں چند باتیں پیش کی جاتی ہیں:
کم از کم عمر کے ابتدائی چھ مہینوں میں بچہ کی زبان اس کا رونا ہوتی ہے۔ اسی کے ذریعہ وہ اپنی مختلف ضروریات کا اظہار کرتا ہے۔ اس عمر میں ماں کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ بچہ کے مختلف اوقات میں رونے کے طریقوں اور آواز پر دھیان دے۔ اس طرح وہ اس بات کو سمجھنے لگے گی کہ اس کا بچہ کس انداز میں رونے سے کیا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بچے کے رونے کے بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں جن کا علم آپ کی زحمتوں اور الجھنوں کو کم کردے گا اور آپ خواہ مخواہ پریشان ہونے اور ڈاکٹر کے پاس دوڑ کر جانے سے بچ جائیں گی۔
بھوک
عمر کے ابتدائی مہینوں میں بچے کو چھوٹے چھوٹے وقفوں سے دودھ پلانے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ وقفہ بعض اوقات دو گھنٹہ سے بھی کم ہوسکتا ہے۔ اس لیے دیکھئے کہ اس کا رونا بھوک کی وجہ سے تو نہیں ہے۔
پیاس
عام طور پر ابتدائی مہینوںمیںان بچوں کو پیاس نہیں محسوس ہوتی جو ماں کے دودھ پر پرورش پاتے ہیں۔ لیکن ان بچوں کو جنھیں بوتل کا دودھ دیا جاتا ہے پانی پلانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ گرمی کے موسم میں خاص طور پر ایسا ہوسکتا ہے۔ اس لیے بچہ کے روتے وقت دیکھئے کہ وہ پانی کا طلبگار تو نہیں ہے۔
گرمی یا سردی کی شدت
بچے کیوں کہ خود کو موسم کی شدت سے بچانے پر قادر نہیں ہوتے اس لیے رو کر اس کا اظہا رکرتے ہیں۔ ایسے میں اگر موسم شدید گرمی یا سردی کا ہو تو ان کے لیے مناسب ہوا یا مناسب گرم کپڑوں کا استعمال کیجیے۔ کبھی کبھی زیادہ گرم کپڑے ڈال دینا گرمی کا سبب بنتا ہے ایسے میں ہیٹر بند کردیجیے یا ہلکا گرم کپڑا اڑھا دیجیے۔
غیر آرام دہ کپڑا یا پوزیشن
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچہ جس کروٹ لیٹا ہے وہاں اس کے اپنے لباس کی والکرو یا کوئی اور چیز چبھ رہی ہوتی ہے کبھی کبھی بستر کی شکن یا اس کے نیچے دبی کوئی چیز اس کے لیے پریشانی کا سبب ہوتی ہے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بچہ غیر آرام دہ طریقہ سے لیٹا ہو اور اس کے جسم کا کوئی حصہ تکلیف میں ہو۔ ایسے میں اس کی کروٹ بدل دیجیے اور دیکھئے کپڑے یا بستر کی کوئی چیز تو نہیں چبھ رہی۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے بستر میںباریک کیڑا یا چیونٹی وغیرہ پہنچ کربچہ کو کاٹ لیتی ہے۔ اس سے بچہ عجیب و غریب قسم کی چیخ مارتا ہے۔ ایسے میں فوراً کپڑے اتار کر اور بستر جھاڑ کر جائزہ لیجیے۔
حوائج ضروریہ کا اظہار
بعض بچے پیشاب کرنے کی ضرورت کے وقت بھی شدت سے روتے ہیں ایسے میں اٹھا کر پیشاب کرادیا جائے تو وہ سکون محسوس کرتے ہیں۔
خوف اور الجھن
نو زائیدہ بچہ بعض وقت اچانک زور زور سے رونے لگتا ہے۔ اس کا سبب کوئی زور دار اور بھیانک اور غیر مانوس آواز بھی ہوسکتی ہے اور شور و ہنگامہ بھی۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کچن میں برتن زور سے گرے اور بچہ چیخ چیخ کر رونے لگے۔ ایسے میں اس کے پاس جاکر پیار سے تسلی دینا اسے خاموش کردے گا۔
تھکن اور بوریت
بعض اوقات بچہ بستر پر پڑے پڑے بوریت اور لیٹے لیٹے تھکن محسوس کرنے لگتا ہے اور روکر اس کا اظہار کرتا ہے۔ ایسے میں آپ دیکھیں اگر بچہ مسلسل کئی گھنٹوں سے سویا ہے یا تنہا لیٹا ہے تو اٹھا کر ادھر ادھر ٹہلائیے۔ وہ پرسکون ہوجائے گا۔
لباس کی تبدیلی
بستر پر یا کپڑوں میں پیشاب کرنے کے بعد بھیگ جانے پر بھی بچہ الجھن محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں اس کے کپڑے بدل دیں اور اگر ڈائپر لگا ہے تو اسے بھی تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کراسکتا ہے۔
یہ وہ اسباب ہیں جو عام طور پر بچے کے رونے کے پیچھے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی دیگر کئی اسباب ہوسکتے ہیں جس کو آپ بغور مشاہدہ اور اپنے تجربہ کی بنیاد پر جان سکتی ہیں۔ ان میں سے اگر کوئی سبب نظر نہ آئے اور بچہ مسلسل روتا رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ اکثر ماؤں کو بچے کے زیادہ اور مسلسل رونے سے اس بات کا شبہ ہونے لگتا ہے کہ اس کے پیٹ میں درد تو نہیں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ لیکن اس صورت میں بچہ کا پیٹ رونے کے ساتھ ساتھ عجیب طرح کی اینٹھن اور اکڑ کا بھی مظاہرہ کرے گا۔ اور بچہ کروٹ بدلنے کی کوشش کرے گا۔ اور رونے کا انداز یہ بتائے گا کہ پیٹ میں تکلیف ہے۔ ایسے میں فوری طور پر آپ ڈاکٹر سے رجوع کرسکتی ہیں۔ اور اگر گھر میں ہومیو پیتھک دوا کیموملا ۲۰۰ موجود ہو تو اس کے چار قطرے ایک چمچہ پانی میں دے سکتی ہیں انشاء اللہ آرام ہوجائے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ثمینہ انجم