3

اخلاصِ عمل

اللہ تعالیٰ نے بے شمار نبیوں کو بھیج کر اور اپنی کتابیں نازل فرماکر انسانوں کو حق و باطل کا فرق سمجھایا اور اپنی رضا اور اپنے غضب دونوں ہی قسم کے اعمال واضح طور پر انسانوں کو بتادئے۔ اس نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ہر عمل صرف اس کے لیے اس کی رضا و خوشنودی کے لیے کریں۔ اور دکھاوے، نام ونمود اور شہرت کے ہر جذبے سے اپنے دل کو پاک رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا پروردگار ہے وہ ہمارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ اور ہماری نیتوں اور ارادوں کو خوب جانتا ہے۔ وہ ارشاد فرماتا ہے:
إِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ أَوْ تُبْدُوْہُ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ۔ (آل عمران: ۲۹)
’’تمہارے سینوں میں جو کچھ ہے، اسے تم چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ کو بہرحال اس کا علم ہوتا ہے۔‘‘
اعمال کا دارومدار نیت پر ہے قرآن مجید میں اللہ کی عبادت کے حکم کے ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ بندگی اور اطاعت پرخلوص و للہیت ہی کا رنگ ہونا چاہیے۔ ارشاد ربانی ہے:
وَمَا اُمِرُوْا اِلَّا لِیَعْبُدُوْا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ۔ (البینۃ: ۵)
’’اور ان کو صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں اس حال میں کہ وہ دین اور اطاعت کو اس کے لیے خالص کرنے والے ہوں۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے:
لَنْ یَنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہٗ التَّقْویٰ مِنْکُمْ۔ (الحج:۳۷)
’’اللہ تعالیٰ کوان (قربانیوں) کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا (مطلوب نہیں) البتہ تمہارا تقویٰ اس کو پہنچتا ہے (مطلوب ہے)۔‘‘
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگ قیامت کے دن صرف اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے۔‘‘ (ابن ماجہ) مطلب یہ ہے کہ آخرت میں انسان کا ظاہرنہیں دیکھا جائے گا بلکہ صرف یہ دیکھا جائے گا کہ اس نے جو نیک عمل کیے ہیں کس نیت سے کیے ہیں۔ کیا اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے یا دنیاوی شہرت اور نام و نمود کے لیے۔ اسی لحاظ سے اس کے اعمال کو قبول یا رد کیا جائے گا۔
نیک اعمال میں سب سے بڑا عمل اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔ جہاد کی نیت میں بھی اگر رضائے الٰہی اور اعلائے کلمۃ اللہ کے ساتھ دنیا کی ملاوٹ ہوجائے، دنیاوی نفع ، مال، جاہ و منصب اور شہرت کی خواہش شامل ہوجائے تو جہاد کا سارا اجر ضائع ہوجاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا: ’’اے اللہ کے رسولؐ! مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتائیے؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عبداللہ! اگر تم نے اجر آخرت کی نیت سے جہاد کیا اور آخر تک جمے رہے تو خدا کے یہاں تمہارے عمل کا اجر ملے گا اور صابروں کی فہرست میں تمہارا نام لکھا جائے گاأ اور اگر تم نے لوگوں کو دکھانے کے لیے اور فخر جتانے کے لیے جنگ کی تو قیامت کے دن اللہ تمہیں اسی حال میں اٹھائے گا۔ اے عبداللہ! جس نیت سے تم لڑوگے اور جس حال میں تم قتل کیے جاؤگے اسی حالت پر اللہ قیامت کے دن تمہیں اٹھائے گا۔‘‘ (ابوداؤد)
سرورکونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے دشمنی کی اور اللہ کے لیے دیا اور اللہ ہی کے لیے دینے سے رکا تو اس نے اپنے ایمان کو کامل کرلیا۔ ‘‘ (ابوداؤد)
مطلب یہ ہے کہ جس نے اپنے تعلقات اور معاملات کو اپنی ذاتی خواہش اور دوسرے اغراض کے بجائے صرف رضائے الٰہی کے ماتحت کردیا، وہی اللہ کے نزدیک کامل مومن ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘ (مسلم) تمہارے اعمال کے پیچھے جس قدر خلوص ہوگا تمہاری کوششوں میں جس قدر للہیت ہوگی اتنے ہی زیادہ تمہارے اعمال مقبول ہوں گے اور اتنے ہی اچھے اجر سے تمہارا خدا تمہیں نوازے گا۔
جو دل اخلاص سے خالی ہو اسے مقبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ جیسے چٹان جس پر مٹی پڑی ہو، بارش سے فصل نہیں اگا سکتی۔ لیکن اگر نفس اخلاص سے معمور ہو اس کی برکتوں کا اس پر سایہ ہو تو یہ معمولی چیز کو پہاڑ کے برابر وزنی بنادیتا ہے۔ اور اگر اخلاص سے خالی ہو تو بھُس کا ڈھیر اللہ کے نزدیک کیا مقام حاصل کرسکتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنے دین کو خالص کرلو تو تھوڑا سا عمل جہنم سے بچانے کے لیے کافی ہوگا۔‘‘ (الحاکم)
حضرت شداد بیان کرتے ہیں’’ایک اعرابی نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر ایمان قبول کیا اور آپؐ کے ساتھ ہولیا۔ اس نے حضور ؐ سے کہا: میں آپ کے ساتھ مہاجر بنوں گا، آپ ؐ نے بعض اصحاب کی اس کو خبر گیری کرنے کی ہدایت فرمائی۔ جب غزوہ خیبر میں آپؐ کو مال غنیمت ملا اور آپؐ نے تقسیم کیا تو آپؐ نے اس کا بھی حصہ لگایا اور وہ حصہ اس کے ساتھیوں کے سپرد کیا وہ اپنے ان ساتھیوں کے جانور چَرایا کرتا تھا جب شام کو وہ واپس آیا تو ساتھیوں نے اسے اس کا حصہ دیا۔ اس نے پوچھا : یہ کیا ہے؟ ساتھیوں نے کہا: یہ تمہارا حصہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے تقسیم میں تمہیں دیا ہے۔ اس نے کہا: میں نے اس کی خاطر تو آپؐکی اتباع نہیں کی۔ میں نے تو آپؐ کی اتباع اس لیے کی کہ میرے یہاں تیر لگے (اور اس نے اپنے حلق کی طرف تیر سے اشارہ کیا) تاکہ میں مرجاؤں اور جنت میں داخل ہوجاؤں۔ ساتھی نے اس سے کہا اگر تو نے سچ کہا ہے تو اللہ تجھے سچا کردکھائے گا۔ پھر ان لوگوں نے دشمنوں کے ساتھ جہاد کیا اور وہ شہید ہوا۔ اس کو لاد کر حضورؐ کے پاس لایا گیا تیر اس کے حلق میں اسی جگہ پیوست تھا جہاں اس نے اشارہ کیا تھا۔ حضورؐ نے پوچھا یہ وہی شخص ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: جی ہاں! حضورؐ نے فرمایا: اس نے اللہ کے ساتھ اپنا معاملہ سچا رکھا، پھر اللہ نے اس کی بات کو سچ کر دکھایا۔ پھر آپؐ نے اس کو اپنے جبہ مبارک میں کفن دیا، آگے بڑھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنازے کی نماز میں جو الفاظ فرمائے وہ یہ تھے : اے اللہ یہ تیرا بندہ ہے ہجرت کرکے تیرے راستے میں نکلا اور شہید کیا گیا ہے میں اس پر گواہ ہوں۔‘‘ (البیہقی، نسائی)
ہمیں چاہیے کہ ہر عمل اخلاص و للہیت کے ساتھ صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے کریں۔ ریا و نمود اور شہرت کے تمام جذبوں سے اپنے دل کو پاک رکھیں۔ ہر وقت اپنے اعمال اور نیتوں کا جائزہ لیتے رہیں، اور اللہ سے دعا کرتے رہیں کہ وہ اخلاص کے ساتھ ہمیں عمل کرنے کی توفیق دے اور ریا کاری سے ہماری حفاظت فرمائے۔ (آمین

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ فرزانہ صادق

تبصرہ کیجیے