5

صحیح غذا ہمیں چست رکھتی ہے

شام کو آپ کی ایک اہم میٹنگ ہے۔ اس میں بڑے بڑے افسر شرکت کررہے ہیں اور آپ کو بھی اہم ذمے داریاں سپرد کی گئی ہیں۔ آپ یہ چاہتے ہیں کہ اس موقع پر آپ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ چند روز سے آپ کچھ پریشان پریشان سے ہیں اور دن ڈھلتا ہے تو آپ کی طبیعت سست ہوجاتی ہے۔
لیجیے سائنس نے اس مسئلے کا حل تلاش کرلیا ہے اور یہ حل بڑا آسان ہے۔ وہ یہ کہ آپ غذا میں احتیاط سے کام لیجیے اور صحیح غذا کا اپنے لیے انتخاب کیجیے پھر دیکھئے آپ کس قدر چست رہتے ہیں۔ اس کے برعکس آپ اگر یہ انتخاب غلط کریں گے تو پھر طبیعت اور بھی سست ہوجائے گی اور پریشانی میں اضافہ ہوجائے گا۔
’’آپ کے روز مرہ کے کام اور معمول کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اپنے لیے کیسی غذا کا انتخاب کرتے ہیں۔‘‘ یہ بات ایک ایسی خاتون نے کہی جو زندگی کے معمول پر غذا کے اثرات کی ماہر ہیں اور پچھلے پندرہ سال سے یہ جائزہ لے رہی ہیں کہ مختلف غذائیں دماغ پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔
یہ خاتون اس نظرئیے کی حامی ہیں کہ ناشتا اور دوپہر کے کھانے میں لمحیات (پروٹین) زیادہ ہونا چاہیے اور شام میں کاربوہائڈریٹ والی غذا زیادہ کھائی جائے۔ مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے جسم کی خصوصی ضروریات، دن اور رات دونوں وقت پوری کرسکیں۔
لمحیات یا پروٹین ذہنی کارکردگی کو تیز کرتی ہے۔ چنانچہ صبح اور دوپہر کو اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ خصوصاً کام کے سلسلے میں۔ تاہم دن کے آخری حصے میں لوگوں کو آرام اور ذہنی سکون کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ نیند کے لیے تیار ہوجائے لہٰذا شام کے کھانے میں انھیں پروٹین کم کردینا چاہیے۔
خاتوبن ماہر ڈاکٹر جوڈتھ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو ناشتے میں کافی پروٹین نہیں ملتا اور نہ دوپہر کے کھانے میں اس کی کافی مقدار ملتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پروٹین کی بہت بڑی مقدار نہ سہی، لیکن کچھ نہ کچھ تو ضرور ہونا چاہیے۔ پروٹین سے دماغ میں ایک ایسا کیمیائی مادہ پیدا ہوتا ہے جو بہت سی جسمانی اور ذہنی سرگرمیوں کے لیے بہت اہم ہے۔ اگر کوئی شخص شدید ذہنی دباؤ میں ہو تو وہ اس کیمیائی مادے کے بغیر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔
تاہم سہ پہر تک انسان کی ضروریات بدل جاتی ہیں۔ خصوصاً دوپہر کے کھانے کے چند گھٹنے کے بعد سستی کا احساس بڑھ جاتا ہے، اس لیے کھانے میں تبدیلی کی ضرورت پڑتی ہے۔ ڈاکٹر جوڈتھ کا کہنا ہے کہ اگر روزانہ مناسب اوقات میں کاربوہائڈریٹ دوا کی شکل میں کھایا جائے تو اس کے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے جو کام کی زیادتی کی وجہ سے تھک گئے ہوں اور چڑچڑے بن گئے ہوں۔ اس خاتون ماہر نے بتایا کہ یہ طریق علاج ان کے تجربات کے مطابق اس بسیار خوری کو بھی روکتا ہے جو بھوک نہ لگنے کے باوجود کی جاتی ہے۔ اس کا تعلق سیروٹونن (Serotonin) سے ہے جو جذبات کو کم زیادہ کرنے والا ایک قدرتی مرکب ہے۔ یہ دماغ میں پیدا ہوتا ہے۔ بعض خارجی اور بعض جسمانی دباؤ ایسے ہوتے ہیں جو دماغ میں سیروٹونن کی سطح میں کمی بیشی کرتے ہیں۔ اس کی سطح میں کمی کی علامت کم خوابی اور سونے جاگنے میں دشواری ہے۔ اس صورت میں یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان کسی چیز پر توجہ مرکوز نہیں کرپاتا، چڑچڑابن جاتا ہے اور اضمحلال کا شکار ہوجاتا ہے۔
جب انسان اس طرح کے کام کرتا ہے جن میں تھکن اور دباؤ زیادہ ہو تو سیروٹونن جلد صرف ہوجاتی ہے اور سہ پہر تک نفسیاتی اور جسمانی طور پر اضمحلال محسوس ہونے لگتا ہے۔ بعض لوگوں کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا وہ بالکل ٹوٹ پھوٹ رہے ہوں۔ اس صورت میں بعض لوگوں کو کھانے کی خواہش ہوتی ہے۔
اس حالت میں کاربوہائڈریٹس ہماری مدد کرسکتے ہیں۔ اگر ہم متوازن اور صحیح طرح غذا کھائیں تو دماغ کو بعض امینوایسڈ حاصل ہوتے ہیں جو سیروٹونن پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس عمل سے لوگ پھر بہتر محسوس کرنے لگتے ہیں، ان کی تھکن کم ہوجاتی ہے اور ذہن بھی صاف ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر جوڈتھ کے مطابق اہم نکتہ یہ ہے کہ اپنی غذا میں کاربوہائڈریٹس کی قسم اور اس کی مقدار کا خیال رکھا جائے۔ اگر زیادہ کھالیا جائے یا غذا میں چکنائی زیادہ ہو تو اس سے سستی پیدا ہوتی ہے اور اعصاب پر بھی اثر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس زیادہ کاربوہائڈریٹس والی غذا سے ایک پرسکون چستی کا احساس رہتا ہے۔
کم چکنائی اور زیادہ کاربوہائڈریٹس والی ہلکی غذا بہترین مانی جاتی ہے۔ نہ صرف اس لیے کہ اس میں حرارے کم ہوتے ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ چکنائی والی غذا دماغ میں ایک ایسا کیمیائی مادہ پیدا کرتی ہے جو سیروٹونن پر غالب آجاتا ہے اور اس سے جسم کی تھکن اور دباؤ کو قابو میں رکھنے والا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ (ہندی سے ترجمہ

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer