BOOST

تو کون میں خواہ مخواہ!

’’تو کون میں خواہ مخواہ‘‘ ایک محاورہ ہے۔ یہ محاورہ کس نے ایجاد کیا، کب ایجاد ہوا، کن حالات میں اس کی پیدائش ہوئی اس کے بارے میں بہت سراغ لگایا گیا مگر کچھ پتہ نہ چل سکا۔ سب سے بڑی سے لے کر سب سے چھوٹی لغات دیکھیں۔ کہیں ذکر نہ ملا۔ علماء سے پتہ کیا گیا مگر لاحاصل۔ مدبرین کو خط لکھے گئے مگر سب بے کار گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ محاورہ کسی منچلے کے دماغ کی اختراح ہے۔ وہ منچلا کون تھا، کس ملک یا شہر کا باشندہ تھا یہ بھی پتہ نہیں لگ سکا۔ امید تو نہیں کہ پتہ چلے مگر ہماری کھوج جاری ہے۔

آئیے، آپ کو اپنے ایک دوست سے ملا ئیں۔ ان کا نام تجویز کرنے سے پہلے ان کے والدین نے مختلف شہروں کے مختلف اسکولوں سے طلبا کے ناموں کی فہرستیں منگائیں۔ دانشوروں کی ایک کمیٹی نے آٹھ نام چھانٹے۔ ایک نام کا فیصلہ کرنے میں ممبران کا اختلاف تھا۔ آخر قرعہ ڈالا گیا۔ پرچہ ہمارے دوست سے ہی اٹھوایا گیا۔ چنانچہ جو نام نکلا وہ ان کا نام تجویز ہوا۔ اسکول پہنچے۔ پڑھنے میں ہوشیار تھے۔ استاد سوال اردو میں پوچھتے تو یہ جواب انگریزی میں دیتے اور انگریزی میں پوچھتے تو جواب ہندی میں دیتے۔ ان کی عادات اور حرکات کو دیکھ کر ان کا نام علاّمہ پڑگیا۔ اصل نام لوگ بھول ہی گئے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں بھی یاد نہیں آرہا۔ کالج پہنچتے، تعلیم حاصل کرنے میں جٹے رہتے، دوستوں کو بتاتے تھے کہ اب وہ ہمہ داں ہوگئے ہیں۔ چنانچہ فرمایا کرتے کہ شاعری ہو یا نثر نگاری، ظرافت ہو یا مزاح نگاری، انشائیہ ہو یا غنائیہ، فقہ ہو یا کرشمہ، ادب ہو یا فلسفہ، سائنس ہو یا تصوف، تحقیق ہو یا تدقیق اصل ہو یا ترجمہ، تالیف ہو یا تصنیف، تفسیر ہو یا تشریح، حکمت ہو یا تدبر، تقریر ہو یا تحریر، نقاشی ہو یا مصوری وہ سب پر حاوی ہوچکے ہیں۔ ایک وقت ایسا آیا کہ دو دانشور بات کررہے ہوتے یہ ٹھٹک جاتے، ان کی بات چپکے سے سنتے اور اچانک ان کے پاس پہنچ کر اپنا نظریہ بتادیتے بلکہ فیصلہ سنادیتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کو لوگ ’’تو کون میں خواہ مخواہ‘‘ کہنے لگ گئے اور یہ لقب ان کو ایسا ملا کہ لوگ ان کا نام تو بھول ہی چکے تھے۔ انھیں علامہ کہنا بھی چھوڑگئے اور یہ لقب ہی ان کا نام بن گیا۔

بڑی بڑی محفلوں میں پہنچ جاتے، حالاں کہ منتظمین کی یہی خواہش ہوتی اور کوشش رہتی کہ وہ محفل میں تشریف نہ لائیں۔ اور جب سوالات کا سلسلہ شروع ہوتا تو ایسے سوال کرتے جن کا مضمون سے کوئی تعلق نہ ہوتا اور جب محفل میں ہنسی کا فوارہ پھوٹتا تو فرماتے ایسے سوال وہی شخص کرسکتا ہے جس کا مطالعہ وسیع ہو، جس نے دنیا کا علم جانا ہو اور سمجھا ہو۔ جس طرح سوال کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں اسی طرح سوال سمجھنا بھی ہر شخص کے بس کا روگ نہیں۔ محفل کے اختتام پر چائے کے وقت پہنچتے تو چائے کے فوائد ونقصانات پر ایک تقریر کرتے۔ چائے کے ساتھ دوسری منشیات بھی زیر بحث آجاتیں اور بات شراب کی قسموں پر ختم ہوتی۔ غرض یہ کہ بن بلائے جاتے، بغیر اجازت لیے سوال کرتے اور خود ہی جواب دیتے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ سننے والا کوئی بھی موجود نہ ہوتا اور ان کی تقریر چل رہی ہوتی۔

ہمارے بچپن کے دوست تھے۔ گھر پر عموماً آجاتے۔ ہمیں اپنی طرف متوجہ نہ پاکر بچوں سے دل بہلاتے۔ بچوں کو ٹافیاں مل جاتیں اور وہ بے صبری سے انتظار کرتے۔ ہمارے گھریلو مسائل میں دخل دیتے، حل بتاتے اور جب تک ہم سے منوا نہ لیتے کہ ان ہی کی تجویز معقول تھی پیچھا نہ چھوڑتے۔ ہم اپنے مسائل کو بہت چھپاتے مگر بچوں کو بہلا پھسلا کر کچھ نہ کچھ پتہ لے لیتے۔ ہم نے بھی اپنی عادت بدل ڈالی۔ وہ جو کچھ کہتے ہم ہاں کہہ دیتے۔ بہت خوش ہوتے کہ ان کی ہر بات مانی جاتی ہے۔

ایک روز ہم اپنے گھر میں سوکر اٹھے ہی تھے کہ حضرت تشریف لے آئے، کہنے لگے پچھلی رات نیند نہیں آئی۔ شعر دماغ میں کلبلا رہے تھے۔ کاغذ قلم اٹھایا پوری آٹھ غزلیں لکھی گئیں۔ طبیعت ایک مقالہ لکھنے پر آئی تو مقالہ لکھ ڈالا۔ دن چڑھا تو تمہاری طرف چلا آیا۔ سوچا غزلیں اب سنا آتا ہوں، مقالہ شام کو سہی۔ ہم اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی سوچ ہی رہے تھے اور وہ ہمارا موڈ بنانے کی تیاری میں لگے ہوئے تھے کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ ہم بہت خوش ہوئے کہ اب ان کی غزلوں سے جان بچے گی۔ دروازہ کھولا تو ہمارے بڑے بھائی اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ سامان سے لدے کھڑے ہیں۔ ہم حیران کہ یہ تو کینیڈا میں مقیم تھے۔ اچانک یہاں کیسے۔ ہم نے پوچھا کہ بھائی جان خبر دی ہوتی تو ہم ہوائی اڈے پر پہنچ جاتے۔ کہنے لگے سرپرائز دینا چاہتا تھا۔ ان کی بات ہمارے دوست نے بھی سن لی۔ ہمارے بھائی سے اپنا تعارف خود ہی کرایا اور ان کا تعارف کتنا طویل ہوگا اس کا اندازہ آپ کرہی سکتے ہیں۔ تعارف ختم ہوا تو لفظ سرپرائز پر بات شروع کردی۔ ہم نے مجبور ہوکر ٹوکا تو کہنے لگے۔ اچھا شام کو آؤں گا، غزلیں بھی سناؤں گا مقالہ بھی پڑھوں گا اور مہمان کو سرپرائز بھی دوں گا۔ ہم خوش کہ وہ تشریف لے گئے، شام کو ان کی تشریف آوری سے پہلے ہم رفو چکر ہوگئے۔

جب ہم بہت لیٹ گھوم پھر کر اور شاپنگ وغیرہ کرکے لوٹے تو دیکھا حضرت لان میں ٹہل رہے ہیں۔ کہنے لگے بھائی صاحب تمہارا چلے جانا اور پھر دیر سے آنا بہت سود مند رہا۔ کچھ قطعات تو میں نے یہیں کہہ دئیے ہیں۔ رباعیات دن میں لکھ لی تھیں اب آپ کھانے وغیرہ سے فارغ ہوجائیے تو کلام پیش کروں۔ کھانے میں انھوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ ہم تھکے ماندے آئے تھے اور پھر دیر بھی ہوگئی تھی۔ آنکھوں میں غنودگی چھانے لگی۔ عین اس وقت حضرت نے اپنا پٹارہ نکالا۔ ہم تو خاموش رہے لیکن ہمارے بڑے بھائی نے کہہ ہی دیا کہ آپ ڈرائنگ روم میں بیٹھئے اور خود کو ہی سنائیے ہمیں تو نیند نے آدبوچا ہے۔ جب ہم صبح اٹھے تو دیکھا کہ حضرت شیشہ سامنے رکھے غزلیں سنارہے ہیں، شعروں کو داد دے رہے ہیں اور خود ہی داد لے رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں۔ جو لکھ چکے ہیں انھیں پھر سے سنا رہے ہیں اور جو سنا چکے ہیں انھیں پھر سے لکھ رہے ہیں۔ ہم نے اٹھایا، چائے پلائی اور وہ چلے گئے، بھائی صاحب نے ہم سے ان کا نام پوچھا۔ میں نے کہا نام تو ان کا یاد نہیں لوگ انھیں ’’تو کون میں خواہ مخواہ‘‘ ہی کہتے ہیں۔ پھر ہنسی کا ایک فوارہ چھوٹا۔

میری نظر میں ابھی تک یہ محاورہ ریسرچ کا موضوع نہیں بنا۔ علم دوست حضرات، ریسرچ اسکالروں اور یونیورسٹیوں میں ممتحنوں کو چاہیے کہ وہ ادھر توجہ دیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے یہ دوست اُن کی پوری مدد کریں گے۔

شیئر کیجیے
Default image
رام لال نابھوی

تبصرہ کیجیے