BOOST

مشورہ حاضر ہے!

آدھے سر کا درد

٭ تازہ شمارہ میں ’’آدھے سر کے درد‘‘ کے بارے میں پڑھا۔ میں خود اس درد میں اکثر و بیشتر مبتلا رہتی ہوں۔ اس میں ہومیو پیتھک ادویہ کے بارے میں نہیں لکھا، سردرد میں وہ بڑی موثر ثابت ہوتی ہیں۔ آپ مجھے تفصیل سے گھریلو ٹوٹکے اور ہومیو پیتھک دوا کے بارے میں بتائیے۔

نادیہ بی بی! عموما وہ لوگ جو دماغی کام زیادہ کرتے ہیں، وہ اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ خواتین اس مرض کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ مخصوص ایام کے دوران ہارمونز کی افزائش اور ڈائٹنگ، خون کی کمی، جسمانی کمزوری، قبض، گردے کے امراض، نظر کی کمزوری اس کے اسباب میں شامل ہیں۔ کبھی نزلہ زکام کے باعث یا دوا کھانے سے بلغم خشک ہوکر نکلنا بند ہو جاتا ہے اور آدھے سر کا درد آلیتا ہے۔

جن لوگوں کو یہ تکلیف ہو، انہیں باقاعدگی سے نوٹ کرنا چاہیے کہ درد سے پہلے انھوں نے کیا کھایا پیا، کہاں گئے تاکہ پتہ چل سکے کہ غذا سے، کام سے یا تھکن سے یہ تکلیف ہوئی ہے۔ گھریلو ٹوٹکوں میں گرم گرم جلیبیاں شیرے کے ساتھ کھانی چاہئیں۔ صبح صبح اگر چند روز کھالی جائیں تو فائدہ ہوتا ہے۔ ریٹھے کو گھس کر پانی میں ملا کر ناک میں ڈالنے سے دورہ رک جاتا ہے۔ دو تین قطرے ڈالنے چاہئیں۔

میری بھابی کو شادی سے پہلے آدھے سر کے درد کی شکایت تھی۔ انھوں نے امریکہ میں سارے ٹیسٹ کرائے، دوا استعمال کیا، مگر درد اسی طرح رہا۔ آخر کار ڈاکٹروں نے ایک انجکشن لکھ کر دیا کہ جب درد ہو یہ لگوالیا جائے۔ جب بھی سر کا درد ہوتا وہ کمرہ بند کرکے لیٹ جاتیں۔ دو تین دن سخت اذیت ہوتی، پھر خود ہی ٹھیک ہوجاتا۔ وطن آئیں تو انھوں نے ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر سے تذکرہ کیا۔ اس نے چند باتیں پوچھیں اور دوا کی پڑیاں تھما دیں۔ بے یقینی اور بے اعتمادی کے ساتھ انھوں نے دوا کھائی کیوں کہ ان کے نزدیک یہ ایک فضول علاج تھا۔امریکہ کے بہترین ڈاکٹر بھی اس کا علاج نہیں کرسکے تھے۔ دن اور ہفتے گزرے، وہ سر درد کے انتظار میں رہیں، مگر درد نہیں ہوا۔ دوا ختم ہوگئی تو وہ دوبارہ ڈاکٹر کے پاس گئیں۔ ڈاکٹر نے ان کو اور دوا دے دی۔ زیادہ کام کاج کرلیں تو پھر ان کو کبھی سر درد ہو جاتا ہے مگر دورے والی کیفیت نہیں ہوتی۔ ہومیو پیتھی طریقہ علاج سب سے زیادہ محفوظ ہے، بشرطے کہ دوا صحیح تجویز کی جائے۔

دماغی کام کرنے، ٹھنڈ لگنے، سر کھلا رکھنے، سر پر دباؤ یا بوجھ کی وجہ سے گرمی یا لو لگنے سے درد ہو تو ہومیو پیتھک دوا گلونائین ۳۰ ہر دو تین گھنٹے بعد دینے سے آرام آجاتا ہے۔

گرم مسالے، تمباکو یا کافی استعمال کرنے سے درد ہو، ذہنی تھکاوٹ، کاروباری پریشانی اور تفکرات کے شکار، تنہائی پسند اور زیادہ بیٹھ کر کام کرنے والے لوگوں کے لیے دوا ’’نکس وامیکا ۳۰‘‘ ہے۔ اسے ضرورت کے مطابق ۲۰۰ پوٹینسی میں دن میں چار بار لے سکتے ہیں۔ بائیں آنکھ کے اوپر درد ٹھہر جائے، تیز ہو، صفراوی قے ہوجائے، سورج کے چڑھنے کے ساتھ درد بھی بڑھتا جائے، سورج ڈوبنے کے ساتھ کم ہوتا جائے تو سپائی جلیا ۲۰۰ دوا ہے۔

دائیں آنکھ کے اوپر درد ہو۔ اعصابی، چیرنے والا درد یا سر میں شدید قسم کی گھٹن اور درد کا احساس ہو تو سینگوریا ۲۰۰ دوا ہے۔

سونے کے دوران یا آنکھ کھلنے کے بعد درد شدید ہو، بائیں جانب کے آدھے سر کا درد ہو تو لیکے سس ۳۰ کام آتی ہے۔ ہومیو پیتھک ادویہ بے شمار ہیں۔ ایک لائق ڈاکٹر مریض کو دیکھ کر اس کے چہرے مہرے سے، درد کی شدت سے اور دوسری علامات سے بہتر دوا تجویز کرسکتا ہے۔

آپ کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھا کر علامات کی روشنی میں دوا لیجیے، وہ بے شمار دواؤں میں سے ایک دوا منتخب کرکے آپ کو دے گا، انشاء اللہ آرام ہوگا۔ میرے اپنے تجربے میں اسطو خودوس ہے۔ اسے دماغ کی جھاڑو کہا جاتا ہے۔ ۵۰ گرام یہ خرید لیں۔ پرانی نہ ہو، صاف کیا ہوا خشک دھنیا، چالیس گرام اور اتنی ہی کالی مرچ پیس کر رکھ لیجیے۔ چالیس دن کھانے سے انشاء اللہ یہ تکلیف دور ہوجائے گی۔

ایک چمچہ کلونجی، دس چمچے زیتون کے تیل میں ہلکی آنچ پر پانچ منٹ پکا اور چھان کر رکھ لیجیے۔ دو تین قطرے تیل کے ناک کے دونوں نتھنوں میں رات کو ڈالیے۔ اس سے بھی بہت فرق پڑتا ہے۔ سر درد ہوتے وقت یہ دیکھئے کہ ناک کا کونسا نتھنا چل رہا ہے۔ اگر سیدھا نتھنا بند ہو اور الٹے سے سانس آرہا ہو تو آپ الٹے نتھنے کو انگلی رکھ کر بند کیجیے۔ چند منٹ کے بعد آپ کو محسوس ہوگا کہ سیدھے نتھنے سے سانس آرہا ہے۔ پھر انگلی ہٹا لیجیے۔ آپ کو محسوس ہوگا کہ درد میں کمی آئی ہے۔ آج بھی پہاڑوں کی ترائی پر ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو صرف سانس کے ذریعے علاج کرتے ہیں۔ کوئی دوا استعمال نہیں کرتے۔ یہ بھی ایک طریقہ علاج ہے۔ بکرے کا بھیجا صاف کر کے تھوڑے سے گھی میں ڈال کر نمک، مرچ، ہری مرچ اور دھنیا ڈال کر آملیٹ کی طرح بھون کر نہار نہ توس کے ساتھ سات دن کھائیے۔ درد میں مفید ہے۔

لیموں اور پیاز کا اچار

٭ پچھلے دنوں میری ایک عزیزہ نے دو قسم کا اچار بھیجا ہے۔ ایک چھوٹے چھوٹے ثابت پیازوں کا ہے دوسرالیموں کا۔ یہ بھی پانی کا ہے۔ آپ مجھے بتائیے یہ اچار کیسے ڈالا جاتا ہے۔

آپ یہ اچار جیم کی خالی شیشیوں میںڈال سکتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی پیاز چھیل لیں، انہیں کاٹئے نہیں۔ ثابت پیازوں پر نمک چھڑک کر آدھ گھنٹے کے لیے رکھ دیجیے۔ پھر چھلنی میں ڈال کر دھوکر رکھئے۔ جب پانی بالکل خشک ہوجائے تو پیاز کے بیچ میں چھری سے شگاف دیجیے اس طرح کہ پیاز ثابت رہے۔ اگر بالکل چھوٹی پیاز ہے تو اسے کٹ لگانے کی ضرورت نہیں۔ جیم کی خالی شیشی میں پیاز ڈالیے۔ دس بارہ چھوٹی پیازیں آجائیں گی۔ اب اس میں اچھی قسم کا سفید سرکہ بھر دیجیے۔ آدھی چمچی سے کم نمک ملائیے۔ بوتل بند کر کے رکھ دیجیے۔ پانچ دن میں اچار تیار ہے۔

اسی طرح آپ لیموں کا اچار بنا سکتی ہیں۔ لیموں دھوکر خشک کر کے کاٹ لیجیے۔ آدھ کلو لیموں ہوں تو آدھے کاٹ کر بقایا آدھے لیموں کا رس ان میں نچور دیجیے۔ رس اتنا ہونا چاہیے کہ لیموں سے اوپر رہے۔ آدھ پاؤ ہری مرچ دھوکر بیچ میں چیرادے کر ڈال دیجیے۔ دو چمچے نمک اور چوتھائی چمچہ کالی مرچ ملائیے۔ ادرک کا ایک ٹکڑا کاٹ کر ملائیے۔ ایک انچ کا ٹکڑا بہت ہے۔ اسے دھوپ میں رکھیے۔ روزانہ چمچ سے ہلا دیا کیجیے۔ لیموں کا رس کم ہو تو اس میں مزید لیموں نچوڑ دیجیے۔ آٹھ دس دن میں اچار تیار ہوجائے گا۔ دھوپ میں ضرور رکھیے۔ اچار میں جھوٹا چمچہ نہ ڈالیے ورنہ خراب ہوجائے گا۔ لیموں کا اچار ہاضم ہوتا ہے، اس میں جراثیم کش اثرات ہونے کی وجہ سے یہ وبائی امراض میں کام آتا ہے۔ بدہضمی کی وجہ سے پیٹ درد ہو تو لیموں کا اچار کھانے سے ٹھیک ہوجاتا ہے۔

لاہوری نمک،سہاگہ، نوشادر، کالی مرچ ملا کر باریک پیس کر رکھ لیں۔ لیموں پر لگا کر دن میں دو بار چوس لیں تو بڑھی ہوئی تلی ٹھیک ہوجائے گی۔ کچھ خواتین دس پندرہ لیموں کاٹ کر ان پر یہ سفوف چھڑک کر رکھ دیتی ہیں۔ لیموں کا رس نکالنے کے بعد جو چھلکے بچ جائیں انہیں ضائع نہ کیجیے بلکہ ان پر نمک چھڑک کر پلیٹ میں رکھ کر سوکھا لیجیے۔ جب سوکھ جائیں تو پیس کر شیشی میں رکھیے۔ بدہضمی، پیٹ درد یا قے کا عارضہ ہو تو دو تین چٹکی یہ سفوف پانی کے ساتھ کھانے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔

حاملہ خواتین کو حمل کے دوران قے کی شکایت ہوجاتی ہے۔ لیموں کاٹ کر اس پر شکر یا نمک اور کالی مرچ چھڑک کر کھانے سے فائدہ ہوتا ہے، مگر اس اچار کو اچار کی طرح استعمال کریں غذا کی طرح نہیں۔

چہرے پر رواں

٭ میرے چہرے پر رواں بہت ہے۔ میں نے ایک بار تھریڈنگ کی تھی تو اس سے بال اور زیادہ نکل آئے۔ چہرے پر اب الرجی کی طرح دانے ہیں۔ کوئی بھی کریم لگاؤں یہ دانے زیادہ ہوجاتے ہیں۔ اب تھریڈنگ بھی نہیں کرسکتی۔ دو ماہ بعد میری شادی ہے۔ میں کیا کروں؟‘‘

چہرے پر رواں ہو تو وہ آہستہ آہستہ ابٹن ملنے سے کم ہوجاتا ہے۔ تھریڈنگ کرنے سے بال بہت جلدی نکلتے ہیں اور رواں بالوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ بچیوں کو چاہیے وہ تھریڈنگ کے بجائے ابٹن ملنے پر زور دیں تاکہ آہستہ آہستہ رواں ختم ہوجائے۔ بالوں کا ختم ہونا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اب آپ یوں کیجیے۔ ہمدرد دوا خانہ کی صافی یا کوئی اور مصفی خون دوا لیجیے۔ اپنے شہر کے کسی اچھے حکیم سے مشورہ کریں۔ موسم بدل جائے تو آپ سات دانے عناب اور بیس دانے منڈی لے کر ایک پیالی میں رات کو بھگو دیجیے اور صبح نو دس بجے اسے مل چھان اور تھوڑی سی چینی ملا کر پی لیا کیجیے۔ پندرہ بیس دن پینے سے فرق پڑ جائے گا۔ چہرے پر تازہ دہی کی بالائی صبح شام لگائیے اور کوئی کریم استعمال نہ کیجیے، ورنہ دانے نکل آئیں گے۔ چہرے پر زیادہ بلیچنگ کریم استعمال کرنے سے سرطان کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

ابٹن کے بے شمار نسخے لکھ چکی ہوں، آب بازار سے ابٹن نہ لیجیے گھر میں خود بنائیے۔ چہرے پر الرجی ہو تو بیسن میں تھوڑا سا دودھ ملاکر دھونا مہنگے صابن سے بہتر ہے۔

جو کا طاقت بخش شوربا

٭ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے مجھے رمضان میں پھر عمرے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مکہ مکرمہ میں بہن عذرا درانی کے ہاں رہنے کا اتفاق ہوا۔ پہلے روزے کو میں نے دیکھا، ان کی دونوں نوکرانیاں مصروف ہیں۔ انھوں نے پہلے مرغی کے ٹکڑے کیے اور اس میں لہسن، ادرک، نمک ملا کر یخنی بنانے کے لیے رکھ دیا۔ دوسرے چولھے پر انھوں نے ثابت جو دیگچی میں پانی ڈال کر پکنے کے لیے رکھ دیے جو سعودیہ میں اور یہاں بھی مل جاتے ہیں۔ جب مرغی خوب پک گئی تو انھوں نے گوشت کے ریشے کیے اور ہڈیاں پھینک دیں۔ ایک برتن میں پیاز سرخ کی، اس میں پسی ہوئی ادرک ایک بڑا چمچہ، پسا ہوا لہسن دو چمچے، پسی ہوئی پیاز آدھی پیالی ملائی۔ آدھی چمچی سرخ مرچ اور پسا ہوا دھنیادالا۔ سونٹھ کا ایک ٹکڑا،خولنجاں کا ٹکڑا، ملٹھی کا ٹکڑا، تیز پات کے دو پتے اور گرم مسالا ایک بڑا چمچہ پیسا ہوا ملایا۔ اس میں گوشت کے ریشے بھون کر ابلے ہوئے جو ملادیے اور اس میں تین گلاس پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر پکنے رکھ دیا۔ یہ شوربا افطاری کے وقت تک پکتا رہا۔

اذان کے وقت انھوں نے چولھے سے اتار کر گرم گرم جو کا شوربا گہری ڈش میں نکال کر رکھ دیا۔ گاڑھا گاڑھا جو کا ملغوبہ تھا۔ انھوں نے زبردستی ایک پیالے میں نکال کر شوربہ ہمیں دیا۔ چکھاتو اچھا لگا۔ میرے ساتھ ایک لڑکی عائشہ تھی، اس کو بخار ہو رہا تھا، گلا خراب، آواز نہیں نکل رہی تھی۔ عذرا نے اس کو صرف یہی شوربا پینے کی ہدایت کی۔ عشا کی نماز پڑھ کر آئے جب بھی انھوں نے یہی شوربا دیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سحری کے وقت تک اس کا بخار ٹوٹ چکا تھا، گلا ٹھیک تھا اور وہ بولنے کے قابل تھی۔ سحری کے وقت بھی اس نے یہی شوربا لیا۔ اگلے دن ایک اور جگہ ملنے گئی ان کی میز پر بھی جو کا شوربا رکھا تھا، لیکن انھوں نے تلی پیاز، لیموں کے ٹکڑے، پودینہ، ہری مرچ اور ادرک کے ٹکڑے علیحدہ علیحدہ پیالوں میں رکھے تھے۔

میزبان خاتون نے بتایا کہ افطاری کے بعد جب تک ہم لوگ یہ شوربا نہ کھائیں، لطف نہیں آتا۔ ہر گھر میں تقریبا جوکا شوربا بنتا ہے۔ اس سے کمزوری نہیں ہوتی، کھانسی، نزلہ زکام اور بخار میں شوربا استعال کرتے ہیں۔ پیٹ خراب ہو، جب بھی یہی کھاتے ہیں۔ اس سے معدے کی حدت دور ہوتی ہے، پیشاب کھل کر آتا ہے، معدے میں اگر زخم ہوں تو بھی فائدہ دیتا ہے۔

میزبان نے بتایا کہ ہم دیگچہ بھر کر جوکا شوربا بناتے ہیں۔ تین چار دن بعد پھر تازہ بنانا پڑتا ہے کیوں کہ جو جتنے زیادہ گھل جائیں اتنا ہی فائدہ ہوتا ہے۔ اسے خوب پکاتے ہیں، پکانے سے اس کا ذائقہ بہتر سے بہتر ہوتا جاتا ہے۔ رمضان میں یہ ہمارا خاص کھانا ہوتا ہے۔ جو کے شوربے کی افادیت میں نے بھی دیکھی، میرے ساتھ جو لڑکی تھی وہ دو تین دن میں بالکل ٹھیک ہوگئی۔ فلو کے بعد جو کمزوری ہوتی ہے، بالکل نہیں ہوئی بلکہ وہ میرے ساتھ طواف اور عمرہ کرتی رہی۔ روزے بھی رکھے، ایک اور خاتون ہمراہ تھیں ان کو اینٹی بائیوٹک دواؤں سے منہ میں چھالے ہوگئے تھے۔ بخار اترنے اور ڈرپ لگوانے کے بعد بے انتہا کمزوری تھی۔ ان کو بھی یہی شوربا دیا گیا تو وہ سفر کرنے کے قابل ہوگئیں۔

ہماری خواتین بھی یہ شوربا بنا سکتی ہیں:

مرغی ایک کلو، جو تین پیالی، پیاز درمیانی دو عدد، لہسن پیسا ہوا، دو بڑے چمچے ادرک، ایک ٹکڑا ایک انچ لمبا چوڑا، پیس لیں تیزپات دو پتے، کالی مرچ ایک چھوٹا چمچہ، لونگ آٹھ عدد، دار چینی ایک بڑا ٹکڑا، سفید زیرہ ایک بڑا چمچہ، سارا گرم مسالہ پیس لیجیے۔

بڑی الائچی تین عدد، ملٹھی ایک چھوٹا ٹکڑا چوتھائی انچ، کوکنگ آئل ایک بڑا پکانے والا چمچہ، نمک ایک چمچہ، مرچ ایک چمچی، دھنیا ایک چمچہ۔

ترکیب: مرغی کے ٹکڑے کر کے اس میں پسا ہوا لہسن ایک چمچہ، دھنیا، ایک پیاز، نمک اور ملیٹھی کا ٹکڑا ڈال کر اس میں اتنا پانی ڈالیں کہ مرغی کے ٹکڑے نظر نہ آئیں۔ ہلکی آنچ پر خوب پکاکر اتار لیجیے۔ مرغی کے ریشے کرلیجیے۔ ملیٹھی نکال کر پھینک دیجیے۔ اب ایک پیاز کوکنگ آئل میں سرخ کر کے نکال لیجیے۔ اس میں گوشت کے ریشے ڈالیے اور دو منٹ بھون کر یخنی کا پانی ڈال دیجیے اور مرچ ملا دیجیے۔ باقی لہسن، ادرک نی بھی ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیے۔

تین پیالی جو کو ہلکی آنچ پر پانی ملا کر خوب ابالیے۔ اس میں آپ چھ سات پیالیاں پانی ملا کر پکا سکتی ہیں۔ جو جب گل جائیں تو ان کو یخنی میں ملا کر خوب پکائیے۔ گاڑھا گاڑھا شوربا رکھیے۔ اس میں پسا ہوا گرم مسالا ملائیے۔ نمک مرچ حسب ذائقہ رکھئے، ڈش میں نکال کر تلی پیاز دالیے اور ہرا دھنیا، ہری مچ اور ادرک کاٹ کر ڈال دیجیے۔ کھٹائی پسند ہو تو لیموں علیحدہ سے نچوڑ کر کھاسکتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

تبصرہ کیجیے