5

اور شیر میرا دوست بن گیا

موسم بہار کی ایک صبح فضا کہر آلود اور غیر شفاف تھی لیکن جوں جوں فضا جوان ہوتی گئی، اس کے چہرے پر سرخی چھانے لگی، اس کے معصوم رخساروں پر قرمزی رنگ آنے لگا اور آہستہ آہستہ یہ سرخ رنگت بڑھتی چلی گئی۔ حتی کے چرخ نیلگوں کو یہ مژدہ ملتا ہے کہ نیر اعظم تھوڑی دیر میں جلوہ افرورز ہونے والا ہے۔ آسمان ابھی استقبال کی تیاریاں مکمل کرنے نہیں پایا تھا کہ مشرق سے سفید شہزادی ایک سرخ طشتری اپنے دستِ پُر نور میں اٹھاتی ہے جو بلند ہوتے ہوتے سورج بن جاتی ہے۔
میں برآمدے میں آرام کرسی پر نیم دراز فطرت کے اس حسنِ دلکش سے لطف اٹھا رہا تھا۔ یہ بنگلہ جنگل کے اندر بنا ہوا تھا۔ درخت کاٹ کر ایک فرلانگ تک جگہ صاف کرلی گئی تھی۔ اس میں سورت گڑھ کے جنگلات کا مہتمم رہائش پذیر تھا جو کہ میرا دوست تھا اور میں گذشتہ رات ہی اس کے پاس کچھ روز گزارنے کے لیے آیا تھا۔
صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے نرم نرم جھونکے بدن پر محسوس ہورہے تھے اور میں آنکھیں بند کرکے کرسی پر نیم دراز تھا۔ اچانک شیر کی ایک دھاڑ نے مجھے کرسی سے اچھال دیا۔ مشرقی جانب برآمدے سے قریباً دو سو گز پرے ایک چھوٹی سی پہاڑی پر ایک شیر کھڑا تھا۔ سورج کی روشنی میں اس کا سنہرا جسم چمک رہا تھا۔ میں بھاگ کر کمرے میں گیا اور اپنی ۳۰۳ کی رائفل اٹھا کر اس میں میگزین لگاہی رہا تھا کہ دروازہ کھلا اور میرا دوست شب خوابی کے لباس میں اندر داخل ہوا اور بندوق میرے ہاتھ سے لے کر دوبارہ الماری میں رکھ دی۔ میں نے اشارے سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ مسکراکر باہر برآمدے میں نکل گیا۔ پیچھے پیچھے میں بھی چل دیا۔ وہاں میں نے جو دیکھا وہ میری توقعات کے بالکل برعکس تھا۔ شیر اور میرا دوست جونہی ایک دوسرے کے سامنے آئے شیر نے ایک زور دار گرج سے اس کا استقبال کیا اور جواب میں مہتمم نے ہاتھ ہلایا۔ شیر دو ایک مرتبہ دہاڑا، دم ہلائی اور ایک جست لگا کر پہاڑی سے کود کیا۔ میں ششدر جہاں کھڑا تھا وہیں رکا رہا لیکن میری آنکھیں بدستور اپنے دوست سے استفسار کررہی تھیں کہ یہ سب کچھ آخر کیا ہے۔ شاید اس نے بھی میرا مدعا پالیا تھا۔ مسکرا کر کہنے لگا سب کچھ بتاتا ہوں ذرا ناشتہ تو کرلو خیر ناشتہ سے فراغت پاکر کہنے لگا۔
’’دوست یہ چند ماہ قبل کا واقعہ ہے، نومبر کے ابتدائی دن تھے، دوپہر کے وقت سیاہ گھٹا چھاگئی اور شام تک خوب بادل برسا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے دوش پر ابھی ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی کہ سیر کرنے کو طبیعت اکسانے لگی۔ میں نے جرسی اور پتلون پہنی، پاؤں میں کینوس کے جوتے ڈالے اور احتیاطاً بارہ بور کی دو نالی بندوق کندھے پر رکھ کر چل دیا۔ بارش سے درختوں اور پودوں پر ایک نیا جوبن آگیا تھا۔ طائران خوش گلو ڈالی ڈالی جھوم کر نغمہ سنجیاں کررہے تھے اور میں ان نظاروں میں کھویا ہوا بہت دور تک نکل گیا۔ آفتابِ عالم تاب دن بھر کا سفر طے کرکے اپنی کرنوں کو سمیٹتا ہوا دامنِ مغرب میں پناہ ڈھونڈ رہا تھا۔ جب مجھے احساس ہوا کہ میں جنگل میں بہت دور تک آگیا ہوں اور تاریکی چھانے ہی والی ہے تو فوراً پلٹا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا گھر کی طرف چل پڑا۔ تقریباً ایک میل چلا ہوں گا کہ داہنی طرف سے نہایت مہیب اور خوفناک قسم کی آوازیں سنائی دیں، میں اندازہ لگانے کے لیے رک گیا کہ یہ کونسا جانور ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ مختلف آوازوں کے آہنگ سے پیدا ہونے والا دلدوز شور بن گیا تھا۔ تجسس نے آمادہ کیا کہ چل کر دیکھنا چاہیے، عقل نے منع کیا کہ صرف بارہ بور کی بندوق کے ساتھ آگے بڑھنا خالی از خطرہ نہیں۔ لیکن تجسس اور جذبے نے جلد ہی خطرے کے احساس پر قابو پالیا اور میں اس طرف چل دیا جدھر سے آوازیں آرہی تھیں۔ کچھ دور چل کر میں ایک ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں کچھ قدیم آثار تھے۔ ان کھنڈرات میں ایک کھوہ کے اندر سے یہ ہیبت ناک آوازیں آرہی تھیں۔ میں نے بندوق میں دونوں کارتوسوں کا جائزہ لیا اور جھک کر کھوہ کے اندر نگاہ ڈالی۔ اف خدایا! نیچے کوئی آٹھ فٹ کے فاصلے پر ایک شیر اور جنگلی سور بری طرح الجھے ہوئے تھے شیر ایک ایسی جگہ پھنسا ہوا تھا جہاں سے وہ اپنے بازوؤں کا آزادانہ استعمال نہ کرسکتا تھا، سور اس پر حاوی ہوچکا تھا اور اپنی کانت (ہڈ) سے اسے رگید رہا تھا۔ دونوں کے جسم لہو لہان تھے۔ جوانی کے خون نے جوش مارا اور میں نے دونوں کا شکار کرنے کی ٹھان لی۔ لیکن پہلے کس پر فائر کروں؟ ظاہر ہے شیر کو ختم کرنا چاہیے دل سے آواز آئی۔ لیکن دوسرے لمحے سور سے فطری نفرت نے غلبہ پالیا اور میں نے خطرے سے نڈر ہوکر سور پر فائر کردیا جو کہ شیر پر بری طرح چھا چکا تھا۔ گولی لگتے ہی وہ کھوہ سے اچھلا اور میرے مد مقابل تھا۔ میں نے دوسرا کارتوس بھی اس پر داغ دیا اور وہ ایک زوردار چیخ کے ساتھ دوبارہ کھوہ میں جاگرا۔ میں نے فوراً کارتوس نکالنے کے لیے پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈالا لیکن پیشر اس کے کہ میں ہاتھ بھی باہر نکالتا۔ شیر جست لگا کر کھوہ سے میرے سر پر پہنچ چکا تھا۔ یہ سب کچھ چند لمحوں میں ہی ہوگیا۔ دہشت کے مارے ہاتھ سے بندوں چھوٹ گئی اور میں بیہوش ہوکر زمین پر گرپڑا۔
جب ہوش آیاتو مطلع بالکل صاف تھا اور چاند طلوع ہوچکا تھا۔ میں نے لیٹے ہی لیٹے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو شیر میرے سرہانے بیٹھا تھا۔ اس کی موجودگی کے خیال سے ہی ایک بار پھر غش آگیا۔ اب جو ہوش آیا تو میں آنکھیں بند کرکے اسی طرح پڑا رہا اور صورت حال کا جائزہ لینے لگا۔ خیال آیا کہ اگر ذرا بھی حرکت کی تو یہ پھاڑ کر رکھ دے گا۔ لیکن اتنی دیر سے یہ کس چیز کا منتظر ہے؟ اگر اس کو مارنا ہی ہے تو پھر یہ تاخیر کیوں؟ نہیں یہ مجھے مارے گا نہیں۔ شاید وہ میرا احسان مند ہو کیونکہ میں نے اس کو دشمن سے نجات دلائی ہے۔ لیکن پھر یہ یہاں کیوں بیٹھا ہے؟ ہو نہ ہو یہ میری حفاظت کررہا ہے۔ اپنے محسن کی حفاظت، تاکہ بیہوشی کی حالت میں کوئی دوسرا جانور مجھے گزند نہ پہنچائے۔ یقینا وہ میرا احسان مند ہے۔
اس ذہنی کش مکش نے مجھے یقین دلادیا کہ شیر مجھے نقصان پہنچانا نہیں چاہتا بلکہ اتنے عرصے تک میری رکھوالی کرتا رہا ہے۔ اس خیال سے ہی کچھ دیر بعد حوصلہ پیدا ہوا اور میں اٹھ بیٹھا۔ لیکن اس کی طرف دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ بندوق تقریباً تین فٹ کے فاصلے پر پڑی تھی۔ میں اٹھ کھڑا ہوا لیکن دل اب بھی بری طرح دھڑک رہا تھا کہ ابھی ایک جست لگا کر یہ مجھے دبوچ لے گا۔ لرزتے قدموں کے ساتھ میں نے اپنے اور بندوق کے درمیان کافاصلہ طے کیا۔ بندوق اٹھائی اور دھیرے دھیرے لڑکھڑاتے قدموں سے گھر کو چل دیا۔ چاندنی رات میں راستہ بہ خوبی نظر آرہا تھا اور میں ہولے ہولے بڑھا جا رہا تھا۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ شیر بھی میرے پیچھے پیچھے چلا آرہا ہے میں نے رک کر کنکھیوں سے دیکھا تو وہ بھی مجھ سے قریباً دس قدم پیچھے کھڑا میری جانب دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ اس چمک نے میرے تمام خدشات ختم کردئے اور میں نے سوچا کہ یہ مجھے حفاظت سے گھر تک چھوڑنے کے لیے میرے ساتھ ساتھ آرہا ہے۔ میں نے ٹانگوں میں توانائی محسوس کی اور تقریباً ایک گھنٹہ میں بنگلے کے دروازے پر پہنچ گیا۔ تمام راستہ میں نے پلٹ کر نہ دیکھا تھا۔ اب جو دروازے کے اندر داخل ہوتے ہوئے اسے دیکھا تو وہ قریباً بیس گز کے فاصلے پر کھڑا تھا۔ جونہی ہماری آنکھیں چار ہوئیں اس نے اپنی دم کو سر کے اوپر سے گھمایا، ایک بار دھاڑا اور یہ جا وہ جا۔ شب بھر میں اس واقعے پر غور کرتا اور خدا کا شکر ادا کرتا رہا۔ صبح کاذب کے قریب آنکھ لگ گئی لیکن سورج نکلنے کے ساتھ ہی میں پھر ایک دھاڑ سے بیدار ہوگیا۔ میں برآمدے میں آیا تو شیر اسی جگہ کھڑا تھا جہاں آج رات تھا مجھے دیکھتے ہی اس نے رات کی طرح دم گھمائی ایک دھاڑ لگائی اور پہاڑی پرسے کود گیا۔ اس روز سے یہ اس کا معمول بن چکا ہے۔ وہ ہر روز صبح آتا ہے اور جب تک مجھے دیکھ نہیں لیتا اسے چین نہیں آتا اور مسلسل دھاڑتا رہتا ہے۔ میری اس کی دوستی کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ اس روز سے میری ایک مرغی بھی گم نہیں ہوئی جنھیں پہلے لومڑیاں اور بھیڑئیے پکڑ لے جاتے تھے۔ اور اب چونکہ جنگل کے بادشاہ کا روزانہ دورہ اس طرف ہوتا ہے اس لیے کوئی جانور ادھر آنے کی جرأت نہیں کرتا۔ اور میں بے دھڑک ہوکر سیر کو نکل جاتا ہوں۔
(یہ کہانی میں نے اپنے والد محترم آفتاب احمد خاں کی زبانی سنی تھی جو ان کے دوست مہتمم جنگلات پر بیتی تھی۔

شیئر کیجیے
Default image
جاوید احمد خاں

تبصرہ کیجیے