6

آپا کی سہیلی

 

میں اپنے کمرے میں مطالعہ میں غرق تھا کہ اچانک گھر میں شور ہوا ’’وہ آگئیں‘‘ یہ نجمہ آپا کی آواز تھی جو میرے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ کون؟ میں کچھ دیر نہ سمجھ سکا اور پھر کتاب پر نظریں گاڑ دیں۔ ہوں گی کوئی ان کے یہاں تو ایک نہ ایک سہیلی روز ہی وارد ہوتی رہتی ہیں اور میرے لیے آزمائش بن جاتی ہیں۔ میں ان دونوں کو نظرانداز کردینا چاہتا تھا، مگر پھر ایک بار نجمہ آپا اور ان کی سہیلی کے قہقہوں سے پاس کا کمرہ گونج اٹھا۔ دماغ ماؤف ہوگیا، کیسا مطالعہ کیسی توجہ؟ میں نے جھنجھلا کر کتاب بند کردی۔ عجیب ہستی ہیں نجمہ آپا بھی! کاش مجھ سے بڑی نہ ہوتیں تو بتاتا کہ اس ہنگامہ آرائی کی پاداش میں ان کو کیا ملنا چاہیے۔ سارے کالج کی لڑکیوں سے بے تکلفی ہے آئے دن کی مصیبت ہے۔ مفت میں میرے مطالعہ کا خون ہوتا ہے۔ لیکن دوسروں کو کیا خبر کہ بندہ مغز ماری کے باوجود کیوں کند ذہن ثابت ہوتا ہے۔
’’بیٹے بازار جانا ہے، آج نوکر چھٹی پر گیا ہے۔‘‘ امی کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔
’’کیا محترمہ کی سہیلیوں کے سامنے نوکر کا فرض میں ہی انجام دوں؟ میں نے تلخی سے جواب دیا۔
’’نہیں نہیں بیٹے ایسی بات نہیں کرتے۔ اپنے گھر کے کام سے نوکر کون بن جاتا ہے؟ کیا تمہاری تعلیم تم کو یہی سکھاتی ہے؟‘‘
میں اپنے دل میں کچھ خفیف سا ہوا۔
’’خیر چھوڑئیے، بتائیے کیا لانا ہے بازار سے؟‘‘ میں نے بے دلی سے کہا۔
’’ابھی بتاتی ہوں ذرا نجمہ سے بھی پوچھ لوں۔‘‘
امی نجمہ آپا کے کمرے کی طرف چلی گئیں اور مجھے اس طرح معلق بیٹھے رہنے پر اور بھی کوفت ہوئی۔ میری توجہ اب پوری طرح نجمہ آپا کے کمرے کی طرف ہوگئی۔ ان کی سہیلی انھیں اپنا کارنامہ سنانے میں مشغول تھیں۔ ان کی گفتگو کی آواز میرے کمرے میں صاف سنائی دی رہے تھی۔
’’شدّو آج تم نے اتنی بڑی جرأت کیسے کردی؟ کیا ممی گھر نہیں تھیں؟‘‘ نجمہ آپا نے حیرت سے پوچھا۔
شدّو نے پھر زور کا قہقہہ لگایا۔
’’تھیں کیوں نہیں! لیکن نجمہ پیاری، ممی پاپا کے ڈر سے اس پردے کی حماقت کو ہم کب تک نباہتے رہیں گے؟‘‘
’’کیوں نہیں کیوں نہیں؟‘‘
نجمہ آپا کے لہجے میں مجھے صاف طنز محسوس ہورہا تھا لیکن شائد ان کی سہیلی شدّو کو خبر نہیں تھی۔
’’لوگ تو ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور ہم بڑوں کے احترام میں مرے جاتے ہیں۔‘‘ وہ کہے جارہی تھیں ’’بس ہو گیا اتنے دن احترام!‘‘
’’احترام یا دھوکہ؟‘‘ نجمہ آپا نے لقمہ دیا۔
’’چلو دھوکا ہی سہی!‘‘ شاہدہ نے کھسیانے پن کے ساتھ کہا۔ ’’مگر برقعہ ان ہی دونوں کی وجہ سے سر پر سوار تھا آج بھی گھر سے نکلی تو برقعہ پہن کر ہی نکلی تھی۔ لیکن گلی میں آتے ہی اتار ڈالا۔ ان کو کیا خبر ہوگی اس کی؟‘‘
’’ظاہر ہے ان کو تو تم پر بھروسہ ہے۔ لیکن تم ان سے نظر بچا کر یہ کچھ کرو تو ان کے بھروسے میں کیا فرق آسکتا ہے۔‘‘ نجمہ آپا نے چٹکی لی۔
شاہدہ کے لہجے میں گھبراہٹ پیدا ہوچکی تھی کچھ شکست کا بھی احساس تھا۔
’’خوب چوٹ کرتی ہو تم بھی نجمہ!‘‘ شاہدہ نے سنبھلتے ہوئے کہا ’’لیکن بہن میں تو پردہ سے اپنی بیزاری کا اعلان بھی کرچکی ہوں۔‘‘
’’اچھا؟‘‘ نجمہ آپا کے لہجے میں اب بھی شوخی تھی۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘
مجھے ان دونوں کی گفتگو سے عجیب الجھن ہورہی تھی۔ بھلا نجمہ آپا کو دیکھو۔ شاہدہ تو اپنی بہادری جتانا چاہتی ہیں، اور وہ ہیں کہ انھیں ایک قدم بھی آگے بڑھنے نہیں دیتی ہیں اب ان کو کون بتائے وہ اپنے کارنامے سنانے کس کے پاس جائیں، اگر سہیلی کو نہ سنائیں۔ میں سوچتا چلا جارہا تھا۔ اور آپ ہی آپ پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ مگر میرے کان ان دونوں کی نوک جھونک پر تھے۔جانے کیوں۔ الجھن کے باوجود میری توجہ اسی طرف تھی۔
’’پیاری نجمہ!‘‘ شاہدہ نے کہا ’’ہوا یہ کہ کل بھائی جان کے کچھ دوست آئے ہوئے تھے۔‘‘
’’ہاں تو پھر کیا ہوا؟‘‘ نجمہ آپا نے پھر شوخی کی۔
’’اللہ میری توبہ! طلسم ہوشربا سنا رہی ہوں یا …‘‘
’’ارے رے رے! تم تو ناراض ہوگئیں کہتی کیوں نہیں کہو کہو پیاری شدّو! اچھا لو اب میں کچھ نہ بولوں گی۔‘‘
’’وہ لوگ سب باہر ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ گپیں ہورہی تھیں قہقہے لگ رہے تھے۔اتنے میں میرے کالج جانے کا وقت ہوگیا۔ عجب شش و پنج میں گرفتار ہوگئی۔ اگر برقعہ اوڑھ کر جاؤں گی تو یہ لوگ مذاق اڑائیں گے اور اگر نہیں پہنتی ہوں تو گھر والوں سے کیسے نپٹوں گی۔ غرض جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو برقع ہی پہن کر رکشے میں سوار ہوگئی!‘‘
نجمہ آپا کی لمبی سانس لینے کی آواز آئی۔
’’مگر اس سے پہلے کہ میں رکشے میں سوار ہوں۔ بھائی جان بھی اتفاقاً اپنے دوستوں کے ساتھ باہر آگئے ان کے دوستوں کو یہ تو معلوم نہ ہوسکا کہ میںبھائی جان کی بہن ہوں۔ خوب خوب مذاق اڑایا گیا میرا۔ میں نے مارے خوف کے نقاب بھی نہ الٹی کہ کہیں پہچان نہ لی جاؤں۔‘‘
نجمہ آپا کی دبی دبی ہنسی کی آواز سنائی دی۔ لیکن شاہدہ نے توجہ نہ دی ہوگی کیونکہ وہ اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھی۔’’واپسی پر میں نے ممی پر غصہ اتارا کہ اگر میں بے پردہ ہوتی تو کوئی بول بھی نہیں سکتا تھا۔ بھلا ہے کسی کی ہمت آج کل جو کسی روشن خیال لڑکی کو چھیڑدے۔ اب تو سب برقع والیوں ہی کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑ جاتے ہیں۔ ناطقہ تنگ کردیتے ہیں۔
’’بس بس بس،شدّو پیاری، فل اسٹاپ تو لگالو اپنے جملے میں۔‘‘ نجمہ آپا نے کہا۔
مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔
’’قربان جاؤں تمہارے! اتنی لاجواب تقریر کرتی ہو۔ مگر خیر ہٹاؤ اس وقت فرصت نہیں ہے!‘‘
میں نے اپنا قہقہہ روکنے کے لیے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ کس لیا۔
’’روشن خیال لڑکی کو چھیڑنے کی ہمت تو بہتوں میں ہے بلکہ یہ سنہری موقع حاصل کرنے ہی کے لیے ان سب نے مل کر روشن خیالی کا پروپیگنڈہ کیا ہے۔ اب اسی سائنس کی ٹیچر کا قصہ لے لو۔ آخر سورج غروب ہونے پر اسے پارک میں غنڈوں نے کیوں گھیر لیا؟ کیا وہ برقعہ اوڑھے تھی؟ پھر وہ کالج سے جس الزام میں نکالی گئی تھی وہ بھی حیاداری کا تو نہ تھا؟ اور اللہ رکھے تمہاری سائنس ٹیچر وقیانوسی بھی تو نہ تھی؟‘‘
’’لیکن نجمہ سوال ایک یا دو واقعات کا نہیں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے لیے قابل عمل اور مفید کیا ہے؟‘‘
’’شاباش! شدو یہی تو میں بھی کہنا چاہتی تھی۔‘‘ نجمہ آپا نے بے اختیاری کے ساتھ کہا۔ اس غرض کے لیے تم اخبارات دیکھو۔ ماشاء اللہ پڑھی لکھی ہو، اس لیے مغربی ممالک کے بڑے بڑے شہروں کے بارے میں مختلف تفتیش کرنے والوں کی رپورٹیں پڑھو۔ تم کو خود بخود معلوم ہوجائے گا کہ بے پردگی نے کس قدر بے حیائی، فحاشی اور جرائم کو جنم دیا ہے، کیا یہ سارے انڈے بچے عصمت اور عفت کی پاسداری نے دئے ہیں؟‘‘
’’نجمہ تم سے کوئی پیش نہیں پاسکتا۔ چھوڑ ہٹاؤ، اس قضیے کو!‘‘
ان دونوں کی گفتگو میں مجھے اچھی خاصی دلچسپی محسوس ہورہی تھی کہ امی جان واپس آگئیں۔
’’ساجد بیٹے جلدی ہو آؤ بازار بڑی دیر ہوگئی۔‘‘
’’لیکن امی جان دیر تو آپ ہی کی طرف سے ہوئی ہے۔‘‘ میں نے صفائی پیش کی۔
’’کیا کروں بیٹے، وہ دونوں تو ایسی باتوں میں مگن تھیں کہ ذرا دھیان دینے کا نام نہ لیا۔‘‘
’’خیر لائیے قیمت اور چیزوں کی فہرست!‘‘ میں نے بات کا رخ بدلتے ہوئے کہا۔
امی نے ایک پرچہ اور سو سو کے نوٹ میرے حوالے کردئے۔
’’افوہ! اتنی خاطر مدارات نجمہ آپا کی سہیلی کی؟‘‘ میں نے معصومیت سے منہ بناکر کہا۔
’’چلو جاؤ باتیں نہ بناؤ۔‘‘ امی جان نے میری شرارت بھانپتے ہوئے کہا۔
میں جب بازار سے لوٹا تو اس خیال سے بغیر دستک دئے ہوئے امی کے پاس باورچی خانے میں چلا گیا کہ شاہدہ جب بے پردگی کو اپنا کارنامہ سمجھتی ہیں تو اب پردے کا کیا سوال۔ مگر میرے اندر داخل ہوتے ہی وہ سمٹ کرنجمہ آپا کے پیچھے کھڑی ہوگئیں۔ مجھے ان کی اس حرکت سے بڑی جھجک سی محسوس ہوئی۔ میں اپنی جگہ پر دم بخود کھڑا رہ گیا۔
’’بیٹے تم کو دستک دے کر آنا چاہیے تھا۔‘‘ امی نے مجھے تنبیہ کی۔
’’مگر امی وہ تو پردے کی مخالف…‘‘
’’تو کیا تم بھی ایسا ہی سمجھتے ہو؟‘‘
’’نہیں نہیں! امی… میں نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہنا چاہا۔
’’تو پھر کیا تم دوسروں کے اچھا کہہ دینے سے اس طرف پھسل پڑے؟‘‘
میں فوراً الٹے پاؤں واپس ہوگیا۔ شاہدہ بالکل میرے سامنے تھیں۔ میری چھچھلتی ہوئی نظر ان پر پڑی، وہ عجب سی خجل سی، شرمندہ سی نظر آرہی تھیں۔ میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر چلاگیا۔ امی جان کاآخری فقرہ میرا تعاقب کررہا تھا:
’’بیٹے اپنی سمجھ بوجھ سے بھی تو کام لیا ہوتا!‘‘
میں نے باہر اپنے کمرے میں پہنچ کر ٹھنڈی سانس لی، اور اپنی قمیص کے دامن سے ہوا جھلنے لگا جیسے حبں ہو گیا ہو اور شدید گھٹن سے مجھے پسینے پر پسینہ آرہا ہو۔

شیئر کیجیے
Default image
ام صہیب مرحومہ

تبصرہ کیجیے