3

السلام علیکم

سلام کرنا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’سلام کو خوب پھیلاؤ خدا تم کو سلامت رکھے گا۔‘‘ صبح شام لوگوں سے ہماری کئی بار ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ پس ہم جس مسلمان سے بھی ملیں اسے مسکراتے چہرے کے ساتھ سلام کریں۔ اور جتنی مرتبہ ملیں اتنی مرتبہ سلام کریں۔ اور یہ کوشش کریں کہ ہم سے پہلے کوئی سلام نہ کرسکے۔ کیوںکہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: ’’وہ شخص خدا سے زیادہ قریب ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سلام میں پہل کرنے کا اتنا اہتمام فرماتے کہ کوئی شخص ان سے سلام میں پہل نہیں کرپاتا تھا۔
سلام نیکیاں کمانے کا انتہائی آسان طریقہ ہے اور آپس میں محبت و الفت بڑھانے کا مجرب فارمولہ بھی۔ حضرت محمدؐ نے ارشاد فرمایا: ’’میں تمہیں ایسی تدبیر بتاتا ہوں جس پر عمل کرنے سے تمہارے درمیان دوستی و محبت بڑھ جائے گی، تم آپس میں کثرت سے ایک دوسرے کو سلام کیا کرو۔‘‘ (مسلم)
کبھی ذہن میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ ہم لوگ تو آپس میں ایک دوسرے کو خوب سلام کرتے ہیں مگر دلوں کی کدورت و بغـض کا وہی حال ہے۔ یہ سوال ہمارے ذہن میں بھی ابھرا تھا۔ اور اس کا جواب ہمیں ہمارے ماجد بھائی نے دیا۔ کچن میں ہم باجی سے یہی ڈسکس کررہے تھے کہ بھائی کچن میں چلے آئے۔ اور مسکراتے ہوئے ہم پر دعاؤں کی بارش کردی۔ ’’خدا تم کو ہر قسم کی سلامتی و عافیت سے نوازے۔ اللہ تمہارے جان ومال کو سلامت رکھے۔ گھر بار کو سلامت رکھے۔ تمہاری دنیا بھی سلامت رہے اور آخرت بھی۔ اللہ تمہیں ان سلامتیوں سے بھی نوازے جو میرے علم میں ہیں اور ان سلامتیوں سے بھی نوازے جو میرے علم میں نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
ہم نے اچانک بھائی کے لیے اپنے دل میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر محسوس کیا اور حیرت سے پوچھا: ’’بھائی!اچانک اتنی ساری دعائیں! خیرتو ہے؟‘‘ مسکرانے لگے ’’یہ دعائیں تم شب و روز ہر کسی کو دیتی بھی ہو اور لیتی بھی ہو۔‘‘ بس ہم سمجھ گئے کہ اگر سلام کرتے وقت ہم اس مفہوم کو ذہن میں رکھیں تو ہمارے درمیان محبت اتنی بڑھ جائے کہ شاید ہم ایک دوسرے کے لیے جان دینے سے بھی دریغ نہ کریں۔‘‘ ہم قائل ہوگئے کہ واقعی سلام کا خاطر خواہ اثر شاید اسی لیے نہیں ہوپارہا ہے کہ سلام کرتے وقت ہم اس کے معنی و مفہوم کو یاد نہیں رکھتے۔
سلام انتہائی فراخ دلی سے کریں اور سلام کرنے میں کنجوسی نہ کریں۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ سب سے بڑا بخیل (کنجوس) وہ ہے جو سلام میں بخل کرے۔
سلام اتنی کثرت سے کریں کہ اگر کوئی بغیر سلام کے ہم سے ہم کلام ہو تو ہمیں کوئی کمی محسوس ہو۔ اگر مقابل نے بغیر سلام کیے بات شروع کردی تو ہم اسے سلام کرکے ہی اس کی بات کا جواب دیں۔ سلام کے بغیر نہ بات شروع کریں اور نہ جواب دیں۔ حضرت محمدؐ کا حکم ہے کہ جو بات کرنے سے پہلے سلام نہ کرے اس کی بات کا جواب نہ دیں۔ اور جب کوئی ہمیں سلام کرے تو اس کا جواب نہایت خوشدلی، خندہ پیشانی اور مسرت کے ساتھ دیں۔ کیونکہ یہ اس کا حق ہے اور تاکہ اس کو محسوس ہوکہ آپ کو اس سے مل کر خوشی ہوئی ہے۔ قرآن پاک میں ہے:’’اور جب کوئی تمہیں احترام کے ساتھ سلام کرے تو اسے اس سے بہتر طریقے سے جواب دو یا کم از کم اسی طرح۔‘‘ (النساء: ۸۶)یعنی ہم صرف ’’وعلیکم السلام‘‘ پر اکتفا نہ کریں بلکہ اگر مقابل ہمیں سلامتی و عافیت کی دعا دے رہا ہو تو ہمیں چاہیے کہ اسے اس سے بڑھ کر دعائیں دیں۔ سلامتی و عافیت کے ساتھ رحمت و برکت کی بھی دعا دیں۔ یعنی ’’رحمۃ اللہ و برکاتہ‘‘ کا بھی اضافہ کریں۔
چھوٹے بچوں کو بھی ضرور سلام کریں کہ یہ نبی کریمﷺ کی سنت بھی ہے اور بچوں کو سلام سکھانے کا بہترین طریقہ بھی۔گھر کا ماحول بھی اس طرح کا بنائیں کہ دیگرِ افراد خانہ کی طرح بچے بھی صبح جاگنے کے بعد سب کو سلام کریں تاکہ دن کی شروعات ہی دعاؤں کے سائے میں ہو۔ نیکیاں کمانے کا سلسلہ صبح سے ہی شروع ہوجائے۔
اسکول میں، کالج میں، اجتماعات میں، تقریبات میں، جہاں کہیں کسی مسلم خاتون یا لڑکی سے ملیں اسے سلام ضرور کریں۔ چاہے پہلے سے تعارف ہو یا نہ ہو اور چاہے آپ اس کا نام تک نہ جانتی ہوں۔ یوں بھی تعارف کے لیے صرف اتنی ہی بات کافی ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ حضرت محمدؐ سے پوچھا گیا ’’اسلام کا بہترین عمل کون سا ہے؟‘‘
آپ ؐ نے فرمایا: ’’غریبوں کو کھانا کھلانا اور ہر مسلمان کو سلام کرنا چاہے اس سے تعارف ہو یا نہ ہو۔‘‘ (بخاری، مسلم)
ایک دوسرے سے ملنے پر بھی سلام کریں اور رخصت ہوتے ہوئے بھی ضرور سلام کریں۔ حضرت محمدؐ کا ارشاد ہے:
’’جب تم کسی مجلس و محفل میں پہنچو تو سلام کرو اور جب وہاں سے رخصت ہونے لگو تو پھر سلام کرو اور یاد رکھو کہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ مستحقِ اجر نہیں ہے۔‘‘ (ترمذی)
ہمارا سلام ان الفاظ پر مشتمل ہونا چاہیے جس کی تاکید اللہ اور اس کے رسول ؐ نے فرمائی ہے۔ نہ کہ معاشرے یا سوسائٹی کے رائج کردہ الفاظ پر۔ کتاب و سنت کی واضح ہدایات اور شہادتوں کے ہوتے ہوئے کسی مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے طریقے کو چھوڑ کر اظہارِ محبت کے لیے دوسرے طریقے اختیار کرے۔
غیر مسلم کلاس فیلوز و متعلقین کو ’’ہائے ہیلو‘‘ کے بجائے آداب و تسلیمات کہیں۔ ان کے ’’ہائے‘‘ کو اگنور کردیں اور اگر وہ سلام کریں تو انھیں جواب دیں۔ ’’یھدیکم اللہ‘‘ (اللہ تمہیں ہدایت دے)۔
ٹیلی فون پر بھی ’’ہیلو‘‘ کے بجائے ’’السلام علیکم‘‘ کہیں۔ اگر آپ کے گھر غیر مسلموں کے فون کثرت سے آتے ہوں تو بے شک ریسور اٹھاتے وقت احتیاط برت لیں مگر جب اپنی مسلم سہیلی یا رشتہ دار کے گھر فون لگا رہی ہوں اور دوسری طرف سے کوئی بھی فرد رسیو کررہا ہو تو آپ اسے سیدھے عام سے لہجے میں سلام کرکے اس فرد کا نام بتادیں جس سے بات کرنا ہے۔ اور اس بات کی فکر نہ کریں کہ فون رسیو کرنے والا مرد ہے یا عورت ہے۔ اگر وہ مرد بھی ہو تو سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ نبی ؐ بھی خواتین کو سلام کیا کرتے تھے اور ان کے سلام کے جواب بھی دیا کرتے تھے۔
حضرت اسماء انصاریہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں کچھ عورتوں کے سامنے بیٹھی تھی آپؐ وہاں سے گزرے تو ہمیں سلام کیا۔ (ابوداؤد، الادب المفرد)
سلام کے ساتھ ساتھ مصافحہ کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ بلکہ ہم مصافحہ کو اپنی عادت بنالیں کہ سلام کے ساتھ ہی خود بخود ہاتھ مصافحہ کے لیے آگے بڑھ جائے۔ نبیؐ خود بھی مصافحہ کرتے اور صحابہ بھی آپس میں ملتے تو مصافحہ کرتے۔ آپؐ نے صحابہ کو مصافحہ کرنے کی تاکید فرمائی۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ’’جب صحابہ کرامؓ آپس میں ملتے تو مصافحہ کرتے اور اگر سفر سے آتے تو معانقہ بھی کرتے۔‘‘ (طبرانی)
حضرت حذیفہ بن یمانؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’جب دو مومن ملاقات کے وقت سلام کے بعد مصافحے کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں تو دونوں کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت سے سوکھے پتے۔ ‘‘ (طبرانی)
جنت میں بخیرو خوبی داخل ہونے کے لیے جو چیزیں آپ نے بیان فرمائیں ان میں سلام بھی داخل ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’سلام کو رواج دو، بھوکوں کو کھانا کھلاؤ اور رشتوں کو (کاٹنے کے بجائے) جوڑو۔ اس طرح تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔‘‘
سلام مسلم معاشرہ کی وہ پاکیزہ راویت ہے جس کے استحکام اور رواج سے مسلم سماج بھی مستحکم ہوتا ہے۔ اعلیٰ اخلاقیات، باہمی محبت اور ایک دوسرے کے لیے خلوص کے جذبات پڑوان چڑھتے ہیں۔ اور یہ بابرکت روایت اگر ہمارے معاشرہ میں پورے شعور کے ساتھ رائج ہوجائے تو آپسی نفرت و کدورت کے بادل صاف ہوجائیں گے اور بے شمار برائیاں سماج سے نکل بھاگیں گی۔

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین، آکولہ