2

انتقام کی آگ

جب بھی کسی کام کے سلسلے میں مجھے گاؤں جانا ہوتا تو شب گذاری کے لیے مجھے اسی کا سہارا لینا پڑتا۔ اس تنہا اور ویران گاؤں میں ایک وہی تھا جس سے میری گاڑھی چھنتی تھی۔ وہ قصہ گوئی کا ماہر اور بڑا باتونی تھا۔ قد کاٹھ اور جسم جثہ مضبوط ہونے کی وجہ سے وہ بوڑھا ہونے پر بھی گاؤں میں چوکیداری کے فرائض ادا کرتا تھا۔
پچھلی بار جب میں گاؤں گیا تو کسی چیز کی کمی کو میں نے بہت محسوس کیا۔ دن بھر تو میں یہ یاد نہ کرسکا کہ آخر وہ کیا شے ہے لیکن اچانک رات کے وقت بوڑھے چوکیدار ابراہیم کی محفل میں بیٹھے ہوئے مجھے اس کمی کا احساس ہوا میں نے بڑی بے تابی سے پوچھا:
’’چچا وہ پگلی کہاں گئی؟‘‘
’’پگلی! افسوس اسے اب آپ کبھی نہ دیکھ سکیں گے۔‘‘
’’کیا مرگئی؟‘‘
’’نہیں! جل مری۔ اس نے خود اپنے آپ کو جلا لیا۔ خدا اس کی مغفرت کرے اور ہم سب پر رحم فرمائے۔ وہ ہم سے پہلے ہی چلی گئی۔‘‘
دعائے مغفرت کے بعد ابراہیم نے ہاتھ منھ پر پھیرتے ہوئے آگ کو غور سے دیکھا۔ اپنی لمبی داڑھی کو مٹھی میں پکڑے ہوئے چہرے کی جھریوں کو اور بھی گہرا بناتے ہوئے اس نے طویل سرد آہ بھری اور ہولے سے کہا : ’’دنیا —آہ دنیا۔‘‘
ایک ثانیے کے بعد میں نے بھی محسوس کیا کہ میں بھی آگے کو گھور رہا ہوں۔ میرے تصور میں وہی پگلی تھی۔ اس کی خوفناک اور چمکتی ہوئی آنکھیں۔ بکھرے اور الجھے ہوئے بال۔ گھبرایا ہوا پریشان چہرہ اور ڈھیلے ڈھالے پھٹے پرانے کپڑے۔ وہ چلی آرہی ہے اور بچے اس کے پیچھے لگے ہیں۔ تالیاں پیٹ رہے ہیں، آوازیں لگا رہے ہیں۔ فقرے چھوڑ رہے ہیں اور جب وہ جھنجھلا کر اور غضب ناک ہوکر ان پر پتھر اٹھاتی تو سب ایک زبان ہوکر چلاّتے۔
’’پگلی، اے پگلی۔ آگ سے بچ!‘‘
یہ جملہ سنتے ہی وہ زور سے چیخ مارتی اور اس پر اس قدر خوف چھا جاتا جیسے اسے اٹھا کر دوزخ کی آگ میں پھینکا جارہا ہو اور وہ بچوں کی طرف سے مڑ کر یوں سرپٹ بھاگتی جیسے موت اس کے تعاقب میں آرہی ہو۔ بچے خوشی سے تالیاں بجاتے، ہاؤ ہاؤ کرتے، اس کے پیچھے بھاگتے حتی کہ وہ آنکھوں سے اوجھل ہوکر دور کہیں کھیتوں کو نکل جاتی۔
مجھے معلوم تھا کہ بوڑھے چوکیدار نے اسے اپنے جھونپڑے میں جگہ دے رکھی تھی اور سارے گاؤں سے زیادہ وہی اس کا خیال رکھتا تھا۔ وہی اس کے کھانے پینے کی فکر کرتا اور جب وہ بھوک کی شدت سے مجبور ہوکر واپس گاؤں آتی تو وہ شریر بچوں کا خوف اس کے دل سے زائل کرتا۔
’’بچاری—آگ سے اس قدر ڈرنے اور خوف زدہ ہونے کے باوجود جل کر مرگئی۔میرا خیال ہے اس کی زندگی میں کوئی خاص حادثہ ہوا ہوگا۔ چچا کیا تمہیں اس کے ماضی کے متعلق کچھ معلوم ہے؟‘‘
’’وہ ایک پگلی عورت تھی۔‘‘
’’میرا مطلب پاگل پن سے پہلے کی زندگی سے ہے۔ کیا اس سے پہلے تم اسے نہیں جانتے تھے؟‘‘
’’میں اسے جانتا ہوں۔ اچھی طرح سے جانتا ہوں…… اس وقت سے جب وہ بیشتر عورتوں…… سے زیادہ ذہین، سلیم الطبع اور خوش خلق تھی۔ اس وقت سے جب وہ خوش قسمت ترین عورت تھی۔ وہ اپنے حال میں مگن اور بڑی آسودہ تھی۔ سوائے ایک پریشانی کے اس کی زندگی میں کوئی تکلیف نہ تھی اور وہ تھی اس کی سوکن۔ اس کے شوہر کی پہلی بیوی۔ زہرہ۔ بڑی زبان دراز بدخصلت اور جھگڑالو عورت جو حسینہ سے بری طرح جلتی تھی۔ حسینہ، اسی پگلی کا نام تھا۔ اگرچہ حسینہ نے اسے کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچائی مگر پھر بھی وہ اس سے کشیدہ رہتی تھی۔ اس کے شوہر نے بھی اس کی تند خوئی اور تیز مزاجی کے باعث ہی اسے چھوڑ رکھا تھا اس کے برعکس اسے حسینہ میں شرافت خوش خلقی اور فرماں برداری کے جذبات ملے تو وہ اسی کا ہورہا۔
’’زہرہ سیاہ دل تو تھی ہی، اب وہ اپنے سینے میں بغض اور غصے کی آگ لیے کسی ایسے موقعے کی تلاش میں لگی رہتی جس سے وہ حسینہ کو دکھ پہنچا سکے۔ حسینہ اس کی طرف سے پہنچنے والی ہر تکلیف کو بڑے صبر سے برداشت کرتی اور کبھی اس کی برائی نہ چاہتی۔ اسے وہم تھا کہ اس طرح وہ اسے اپنا لے گی۔‘‘
’’جوں جوں دن گزرتے گئے، شوہر کی طبیعت زہرہ سے متنفر ہوتی گئی، اب وہ اس کے گھر بھولے بھٹکے ہی جاتاتھا۔ اور اب حسینہ کے ہاں بچہ ہونے کے بعد تو وہ اور بھی اس کی طرف جھک گیا تھا۔ اس واقعے نے زہرہ کو جلا کر خاک کر ڈالا۔ وہ سوچتی کہ تقدیر بھی کتنی ستم ظریف ہے کہ اسے تو بانجھ بنادیا اور اس کی سوت کو بچہ دے دیا۔ نفرت اور حقارت اس کی نس نس میں رچ گئی۔ وہ ہر کسی سے الجھتی اور ہر وقت تخریب کی ہی سوچتی رہتی۔ آخر ایک دن تنگ آکر اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی۔‘‘
مجھے معلوم نہیں کہ حسینہ کے دل پر اس طلاق کا کیا اثر ہوا ہوگا۔ بہرحال وہ ایک سلجھی ہوئی اور عقلمند عورت تھی۔ اس نے خوشی کا اظہار کیا نہ غم کا۔ بلکہ بڑے پیار سے اپنے شوہر کو اس ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ مگر اس کے شوہر نے اسے سختی سے روک دیا کہ وہ اس معاملے میں دخل نہ دے۔
حسینہ کے دل میں ہر دم کھٹکا سے رہنے لگا۔ وہ مجروح دل عورت کے انتقام سے ڈرتی تھی وہ جانتی تھی کہ زہرہ کسی انتہائی سخت سے سخت اقدام سے بھی گریز نہ کرے گی۔ لہٰذا وہ چاہتی تھی کہ اپنے شوہر کو لے کر کسی دوسرے قصبے میں چلی جائے۔
طلاق کے بعد جب پہلی بار دونوں عورتوں کا آمنا سامنا ہوا تو زہرہ نے نہایت حسد اور جلاپے سے کہا:
’’اب تو تم اکیلی ہوگئیں نا۔ خوب گلچھڑے اڑاؤ اور موج کرو اب …‘‘
’’میں نے ہمیشہ دل سے تمہارے لیے بھلائی چاہی ہے۔‘‘
’’چل چل آئی بڑی ہمدرد، تو دیکھنا، ایک دن تجھے بتاؤں گی، ابھی تو زمانہ پڑا ہے۔ جیسے تو نے مجھے اس سے محروم کیا ہے۔ میں بھی تجھے اس سے محروم کردوں گی۔ جس طرح اس نے میری زندگی تباہ کردی ہے۔ میں اس کا خون پی لوں گی۔ مجھے اب یہ بتانا ہے کہ ہم میں کون طاقتور ہے۔ میں تیرے بیٹے کو یتیم کردوں گی۔ اور تجھے آنسو نہیں، خون رلاؤں گی خون۔ بڑا وقت پڑا ہے ابھی۔ میں بھی یہیں ہوں اور تو بھی۔‘‘
حسینہ گھر واپس آئی تو اس کا دل خوف سے دھک دھک کررہا تھا۔ زہرہ کی دھمکیوں کی وجہ سے اس کے دماغ میں بڑے خوفناک وہم گھوم رہے تھے۔ سورج غروب ہوگیا۔ شام کے جھٹپٹے رات کی تاریکیوں میں گھل رہے تھے۔ اس کے شوہر کی واپسی کا وقت ہوگیا تھا۔ وہ ایک ایک لمحہ گن رہی تھی۔ دل کی دھڑکن قدموں کی چاپ بن گئی۔ ہر آہٹ پر چونک کر دروازے کی طرف تکتی۔ بڑے بڑے بھیانک خیال اسے ستارہے تھے۔ اس نے تصور ہی تصور میں اپنے خاوند کو قتل ہوا دیکھا اس کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔
آدھی رات ہوگئی تھی اور اس کا شوہر نہیں آیا تھا۔ وہ پاگل ہوگئی بچے کو گھر ہی میں چھوڑ کر وہ جدھر منہ اٹھا چل دی۔ وہ ہانپتی کانپتی اور بھرائی ہوئی آواز سے لوگوں سے دریافت کرتی جاتی۔ رات بھر وہ بھٹکتی رہی۔ دن چڑھنے کے قریب تھا۔ وہ تھک ہار کر گھر واپس آگئی اور آتے ہی زمین پر گر پڑی۔ روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی۔
اس کا شوہر کہاں غائب ہوگیا؟ اس طرح تو وہ کبھی غیر حاضر نہیں ہوا تھا۔ اب تو وہ پہلی بیوی کو طلاق دے چکا تھا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس بدبخت عورت نے جو دھمکیاں دی تھیں ان پر عمل کردیا ہو؟ کیا وہ اتنی نسوانیت سوز حرکت کرسکتی ہے؟ کیوں نہیں۔ کیا وہ اپنے اندر اتنی طاقت پاتی ہے کہ ایسا اقدام کرسکے۔ کینہ، نفرت، جنون اور انتقام انسان کو برے سے برا قدم اٹھانے پر مجبور کردیتے ہیں۔ وہ دل ہی دل میں خود کو اس قاتل عورت سے بدلہ لینے کے لیے تیار کررہی تھی۔ وہ اسے کچا چبا ڈالنا چاہتی تھی۔ اس کی بوٹیاں نوچ لینا چاہتی تھی۔
یہ منحوس اور تاریک دن بھی گزرتا جارہا تھا۔ وہ اپنا دل تھامے بیٹھی تھی۔ قسم قسم کے وسوسے، طرح طرح کے خیال اس کے ذہن کو جکڑے ہوئے تھے پھر بھی اسے ایک موہوم سے امید تھی۔ اپنے شوہر کی واپسی کی امید۔ اس کے بقیدِ حیات ہونے کی امید!
دن چھپنے کے قریب تھا۔ مغرب کے وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ وہ تیزی سے اٹھی، اس شام کے وقت کون ہوگا؟ وہی ہوںگے یقینا وہی……خوشی سے با قابو ہوکر اس نے دروازہ کھولا۔ مگر وہ تو چوکیدار تھا۔ اس کے چہرے پہ ان کہی باتوں کے اثرات دیکھ کر وہ خوف زدہ ہوگئی۔ کچھ پوچھنے اور بات کرنے کا یارا بھی نہ رہا اسے۔ آنے والے نے بتایا کہ نہر سے ایک بہتی ہوئی لاش ملی ہے جس کا چہرہ مسخ ہے اور اعضا ٹوٹے ہونے کی وجہ سے شناخت مشکل ہے لیکن گمان ہے کہ وہ تمہارے شوہر کی ہوسکتی ہے۔
حسینہ پر سکتہ طاری ہوگیا۔ نہ وہ کراہی نہ چیخی چلائی۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ آہستہ سے اس نے اپنا سر ہلایا اور آنے والے کو بتایا کہ وہ جانتی تھی۔ پھر نظریں زمین پر گاڑے ہوئے وہ بڑبڑائی۔
’’یہ اسی کی کرتوت ہے۔ میں اس سے نبٹ لوں گی۔‘‘
’’ اس نے دروازہ بند کردیا۔ اور پہروں پراگندہ خیالی میںبیخود بیٹھی رہی۔ پھر وہ اٹھی۔ دل میں کسی کام کے کرنے کا اس نے تہیہ کرلیا تھا۔ اس نے بچے کو اپنے واپس نہ آنے تک گھر سے نہ نکلنے کا حکم دیا اور بتایا کہ وہ کہیں دور نہیں جارہی، اس کی خالہ زہرہ کے گھر جارہی ہے۔ بس ابھی لوٹ آئے گی۔
گھر سے نکل کر وہ اندھیرے میں داخل ہوگئی۔ اس نے زہرہ کے گھر جانے کی بجائے بازار کارخ کیا۔ ایک دوکان پر رک کر اس نے تیل کا کنستر اور ماچس خریدی، پھر قصبے کے دوسرے کنارے زہرہ کے گھر کو چل پڑی۔
یہ جھونپڑی نما گھر تنہا اور اکیلا ایک کونے میں تھا۔ جس کے ارد گرد جنگلی جھاڑیاں اور کھجور کے پتے پڑے تھے۔ تاریکی پھیلی ہوئی تھی اور ہوا خاموش تھی۔ گھر چپ چاپ تھا، حسینہ نے گردوپیش پر ایک نگاہ ڈالی۔ ٹین کا ڈبہ کندھوں سے اتار کر جھاڑیوں میں رکھا۔ گھر کے ارد گرد لکڑیوں دیواروں اور جھاڑیوں میں اس طرح تیل چھڑک کر آگ لگانی شروع کی کہ اندر والوں کو نکلنے کا کوئی راستہ نہ مل سکے۔
آن کی آن میں پورے گھر کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ حسینہ دل ہی دل میں خوش ہوئی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس آگ نے اس کی روح کو ٹھنڈا کردیا ہے۔ وہ مسکرائی اور پھر جلدی جلدی ڈگ بھرتی ہوئی بچے کے پاس واپس گھر آگئی۔
بوڑھا ابراہیم خاموش ہوگیا۔ میں نے دیکھا وہ چمٹے سے آگ کو ہلا رہا ہے اور چنگاریاں اور شعلے بلند ہورہے ہیں۔ باہر ہوا کی سیٹیاں بج رہی تھیں وہ بالکل چپ اور گم صم تھا۔ میں نے خاموشی کو توڑا اور اسے سلسلہ کلام جاری رکھنے کے لیے کہا۔
’’اس کے بعد کیا ہوا؟‘‘
اس نے اپنے کندھے اچکائے، سرہلایا اور نیچے کی طرف کو زور سے بھینچا۔ مجھے یوں لگا کہ اس کی آواز گھٹ گئی ہے، حلق رندھ گیا ہے اور وہ بات تک نہیں کرسکتا جیسے اسے کوئی اندرونی کرب ہو۔ ایک سرد آہ بھرنے کے بعد وہ جیسے پھر واپس اسی ماحول میں لوٹ آیا۔ اس نے دھیرے دھیرے کہنا شروع کیا۔
’’اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوا۔‘‘
’’مگر ابھی تو تم نے بتایا ہی نہیں کہ وہ دیوانی کیونکر ہوئی؟‘‘
’’آہ—وہ واپس گھر آئی تو بچہ اسے نہ ملا۔‘‘
’’بچہ نہ ملا؟‘‘ میں نے چونک کر کہا ’’وہ کہاں چلا گیا؟‘‘
’’تنہا گھر میں رہنے سے وہ ڈر گیا اور اپنی ماں کے پاس خالہ زہرہ کے گھر کو چلا گیا۔ جب زہرہ کے گھر کو آگ لگ رہی تھی۔ وہ اندر ہی تھا۔ اسے اس کی ماں نے جلادیا تھا۔ اب سمجھے تم۔ وہ کیسے پاگل ہوگئی؟‘‘
عجب اضطراب اور سراسیمگی کے عالم میں میں نے بوڑھے چوکیدار کو دیکھا۔وہ ویسے ہی آگ میں آنکھیں گاڑے ہوئے تھا۔ اس کے چہرے کی سلوٹوں سے مجھے خوف سا لگ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک کر اس کے چہرے کی جھریوں پر بہہ رہے تھے۔ گھٹی ہوئی آواز میں اس نے اپنا سوال دہرایا۔
’’تم سمجھ گئے وہ کیسے پاگل ہوئی؟ اس کے پاگل ہونے میں کوئی حیرت و تعجب کی بات نہیں ہے۔ سب سے زیادہ حیرت اور اچنبھے کی بات تو یہ ہے کہ میں اب تک پاگل کیوں نہیںہوگیا؟‘‘
’’تم؟ تم کیوں پاگل ہوجاؤ گے؟ تمہارا اس پگلی سے تعلق؟‘‘
’’میں اس کا شوہر ہوں۔ جلے ہوئے بچے کا باپ، دیوانی عورت کا شوہر، دو دن غائب رہ کر میں اس لیے واپس نہیں آیا تھا کہ اپنے بچے کی راکھ دیکھوں اور اسے دیوانی۔ وہ تو اب یہ بھی نہیں جانتی تھی میں کون ہوں؟‘‘
’’لیکن وہ لاش کس کی تھی جو نہر سے ملی تھی؟‘‘
’’وہ کسی دوسرے مقتول کی تھی۔‘‘
’’اور تم کہاں غائب رہے تھے؟‘‘
’’میں مقتول کو قتل کررہا تھا۔ میں ایک جرم کرکے اسے ہوشیاری سے چھپانے میں لگا ہوا تھا۔ میں کچھ دیر غائب رہ کر اپنے ایک جانی دشمن کو قتل کرنے کے منصوبے میں تھا میںنے ایک پوشیدہ مقام پر لے جاکر اس کا گلا گھونٹ دیا اور چہرہ بگاڑدیا اور بدن کو ناقابلِ شناخت حد تک کرکے پانی میں بہادیا۔ میں نے پوری تدبیر اور حکمت سے اس کا ارتکاب کیا تھا اور کوئی ایسا نشان نہ چھوڑا تھا جس سے مجرم کا سراغ مل سکتا۔ مجھے پورا یقین تھا کہ کسی کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہوگی۔ قانون کی کوئی طاقت آج تک میرے جرم کا نہ پتہ لگاسکی نہ کوئی ہستی مجھے سزا دے سکی۔ ہاں ایک ذات تھی جو اوپر سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے میرے جرم کو دیکھ لیا تھا اور مجھے اس کی سزا دی۔ اور سزا بھی کیسی؟‘‘ ایسی سزا کہ زمانہ عبرت حاصل کرے۔ اللہ کی پناہ

شیئر کیجیے
Default image
یوسف سباعی

تبصرہ کیجیے