BOOST

ناری واد کے تیور

دیگر خصوصیات کے ساتھ عصر حاضر کی اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس دور میں مذہبی، سیاسی، معاشرتی اور سماجی اعتبار سے پسماندہ، دبی کچلی اور بے آواز عورت کو آواز ملی۔ خواتین کے اندر اپنے حقوق کے سلسلہ میں بیداری اور ان کے حصول کے لیے جدوجہد کا جذبہ پیدا ہوا۔ مختلف میدانوں میں ان کے لیے مردوں کے برابر مواقع فراہم ہوئے۔ تعلیم ، سائنس وٹیکنالوجی، سیاست اور معیشت ہر میدان میں خواتین آگے آئیں اور انھوں نے بہت سے میدانوں میں اپنی شاندار کارکردگی نوٹ کرائی۔ صدور مملکت اور وزرائے اعظم، علمی و تحقیقاتی اداروں کی سربراہ، معیشت اور صنعت کی منتظم اور حکومت کے اعلیٰ افسر کی حیثیت سے آج ہم بے شمار خواتین سے واقف ہیں۔
خواتین کی اپنے حقوق کے لیے بیداری اور ان کے حصول کی خاطر کوششوں نے پھر باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی اور اس میں ہر سطح، ہر ملک اور ہر سماج کی خواتین شامل ہوتی گئیں۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی کے ختم ہونے سے پہلے پہلے یہ چیز ایک مکمل عالمی تحریک بن گئی اور اس کا دائرہ کار کافی وسیع ہوگیا۔ یہ بات قابل ستائش ہے کہ اس نے سماج کی دبی کچلی اور صدیوں سے مظلومیت کا شکار جنس لطیف کو بنیادی انسانی حقوق دلائے، ان کے لیے یکساں مواقع کے دروازے وا کیے، علم و تحقیق اور سماجی خدمت میں ان کے کردار کو یقینی بنایا، انھیں مختلف ناموں سے جاری ظلم وجبر کے پنجوں سے نجات دلائی اور مختلف سماجوں میں جاری مرد کے اس پر مظالم کم یا ختم ہوگئے۔
پھر اس تحریک نے سماجی روایات کے بندھوں کو توڑنا شروع کردیا، معاشرتی اقدار بوگس، مذہبی دائرے بے بنیاد قرار دئے گئے اور مرد کی قوامیت اور اس کی سرپرستی کو چیلنج کیا جانے لگا اور جا بجا بنیادی اخلاقیات اور معاشرتی روایات ان کی تنقید کا ہدف بنیں۔ اسی طرح شخصی آزادی کے جادو کا ایسا اثر ہوا کہ اس نے رہنے سہنے، پہننے اوڑھنے اور کھانے پینے اور ملنے جلنے کے تمام حدود وقیود توڑ ڈالے اور ساری پابندیوں کو باطل اور ساری اقدار کو قدامت پرستی قرار دے دیا۔
اب حقوق نسواں کی اس تحریک نے جو ان کو حقوق دلانے کے لیے اٹھی تھی ایک عجیب و غریب شکل اختیار کرلی۔ اور ایک ذہنیت پیدا ہوتی نظر آئی جو مرد کی قوامیت اور اس کی خاندان کے نگراں کی حیثیت کو قبول کرنے کے بجائے اس کے مدمقابل بن گئی۔ اب عورت قائم بالذات ہوکر خود کفیل بننے کے لیے تیار ہونے لگی اور اس کے پیچھے جو ذہنیت تھی وہ معاشی اعتبار سے مرودں کو سہارا دینا اور گھر کی مضبوطی کے بجائے مرد کی قوامیت کو چیلنج کرنا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گھر کا نظام درہم برہم ہوگیا، خاندان بکھرنے لگے، بچے تنہا رہ گئے اور ماں کی محبت اور باپ کی شفقتوں کا سایہ جیتے جی ہی ان کے سروں سے اٹھ گیا۔ اور اب حالت یہ ہے کہ مرد اپنی مظلومیت کا رونا روتا ہے اور عورت اپنے حقوق کا راگ الاپتی ہے۔ بلکہ مرد اپنی سپرمیسی یا قوامیت کے رخصت ہوجانے سے جھنجھلا کر عورت کو سبق سکھانے کی سوچتا ہے اور عورت جذبۂ انتقام سے آگ بگولہ ہوکر اگلا پچھلا سارا حساب صاف کرنے کے درپے ہے۔ اور اب معاملہ ایں جا رسید کہ مغربی ملکوں میں جس طرح مردوں کے مظالم کے خلاف خواتین کی تحریکیں اٹھی تھیں اسی طرح موجودہ دور کی خواتین کے مردوں پر مظالم کے خلاف مردوں کی تحریکوں نے جنم لینا شروع کردیا ہے جس کی تازہ مثال ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور جنوبی افریقہ کے ممالک میں قائم ہونے والی مردوں کی تحریکیں ہیں۔
خاندانی نظام کی تباہی اور مردو عورت کے درمیان شدید قسم کی باہمی کشمکش کے علاوہ خواتین کی ان تحریکات کا ایک اور بڑا نقصان عالم انسانیت کو ہوا۔ وہ یہ کہ ان کی باگ ڈور ابتدا ہی سے جن ہاتھوں میں تھی وہ مغربی سرمایہ دار تھے جو فی الواقع عورت کی فلاح و نجات سے زیادہ اس کے حسن اور اس کی دلکشی سے لطف اندوز ہونے کا مقصد رکھتے تھے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس تحریک نسواں نے تمام سماجی، معاشرتی اور اخلاقی حدود کو بالائے طاق رکھ کر اپنی آزادی کے زعم میں جس طرح لباس سے اپنے جسموں کو آزاد کیا ہے اسے دیکھ کر اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک بڑی سازش کا شکار ہوگئی۔آزادی کا نعرہ جو بڑا خوبصورت نظر آتا تھا اس کے لیے دام فریب ثابت ہوا اور پورا انسانی معاشرہ بے حیائی اور عریانیت کے زبردست طوفان کی زد میں آگیا۔
آزادی کے اس پہلو نے پوری دنیا کے سماج کو اخلاقی اعتبار سے دیوالیہ کردیا اور دنیا بھر میں خواتین کے خلاف سنگین اور تیز رفتار جرائم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
یہ عجیب و غریب صورتحال ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور دنیا بھر کے دانشوران اس سے پیدا ہونے والے نتائج کی روک تھام کے لیے غوروفکر کررہے ہیں۔ —مگر— ’جڑ کو پانی دینے اور شاخوں کو تراشتے رہنے‘ کے علاوہ انھیں کوئی راہ نظر نہیں آتی۔
دوسری طرف اسلام ہے جو عورت کو ایسی آزادی اور ایسا تشخص فراہم کرتا ہے جس کی مثال تاریخ انسانی پیش نہیں کرسکتی۔ یہ ’’مساوات‘‘ یعنی برابری کہ کھوکھلے نعرے پر مبنی نہیں بلکہ ’’عدل و قسط‘‘ یعنی جس کا جو حق ہے وہ ملے، کی حقیقت پر مبنی ہے۔ وہ عورتوں کو ان کی فطری صلاحیتوں اور قدرتی خوبیوں کی بنیاد پر ذمہ داریاں تقسیم کرتا ہے اور پھر باہمی محبت و مودت اور تعاون کو معاشرہ کی بنیاد بناتا ہے۔
’’اَلْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ اَوْلِیَائُ بَعْضُہُمْ بِبَعْضٍ،یَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ۔‘‘
(مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق کار ہیں۔ وہ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔)
مومن مردوں اور عورتوں کے درمیان ایک دوسرے کے ’ولی‘ ہونے کا جو مضبوط رشتہ ہے وہ کسی کشمکش کا سبب بننے کے بجائے معاشرہ کے استحکام اور دنیا میں خیرو بھلائی کے قیام میں دونوں کے کلیدی کردار کی طرف توجہ دلاتا ہے۔
یہ مناسب وقت ہے کہ دعوت دین سے وابستہ خواتین اپنے معاشرہ کو اس فساد سے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں اور اسلام کے ذریعہ فراہم کروہ تحفظات کو لے کر تعلیم یافتہ خواتین کے پاس جائیں اور یہ ٹھوس حقائق ان کے سامنے رکھیں۔ اگر ہم جدید دور کے ان مفاسد کو واضح کرنے اور اسلام کی تعلیمات کو پیش کرنے کی کوشش کریں تو اس بات کا امکان ہے کہ مغرب کی نام نہاد آزادی کے دامن میں پناہ کی یہ طلبگار اسلام کو اپنے لیے پناہ گاہ بنالیں۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے