4

اکیسویں صدی کا اہم چیلنج

اپنے عہد صدارت میں امریکی صدر بل کلنٹن نے ایک انتہائی اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا۔ جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سابق صدور، اسٹیٹ گورنرس، سٹی میئرس اور امریکہ کی تمام ریاستوں سے سیکڑوں اکابر اور ماہرین شریک ہوئے۔ اس اجلاس کا مقصد امریکہ کو درپیش ایک شدید ترین مسئلہ کا حل تلاش کرنا تھا۔ اور وہ مسئلہ ڈیڑھ کروڑ ایسے نوجوان تھے جو ان پڑھ، بے ہنر اور اس سے بدتر یہ کہ ’’محبتوں سے محروم رہ کر بڑے ہونے کے خطرہ میں تھے۔‘‘ اس اجلاس کی قیادت کے لیے امریکہ کے سابق چیرمین آف دی جوائنٹ چیف آف اسٹاف اور موجودہ وزیر دفاع کولن پاویل کو منتخب کیا گیا اور اسے پریزیڈنٹس سمٹ فار امریکاز فیوچر (امریکی مستقبل کے لیے صدر کی اعلیٰ جماعت) کا نام دیا گیا تھا۔ اجلاس کے صدر نے اپنی تقریر میں اس بڑے خطرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’یہ مسئلہ بڑھ کر کسی بھی وقت ہمارے معاشرہ کو تباہ کردینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘

یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جسے کولن پاویل نے مبالغہ آمیزی کے ساتھ بیان کیا ہو۔ اعداد و شمار کے لحاظ سے امریکہ کے کل چھ کروڑ نوجوانوں میں سے ڈیڑھ کروڑ (۲۵ فیصد) کی تعداد واقعی ایک بڑا خطرہ ہے۔ ان میں سے اکثر و بیشتر کا تعلق ناکام کنبوں سے ہوتا ہے اور اسی کے سبب وہ بے شمار معاشرتی اور اخلاقی آلائشوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہاں ہر سال ۳۴ لاکھ نوجوان ڈرگس کا تجربہ کرتے ہیں اور پانچ لاکھ خود کشی کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں جہاں اسکولی تعلیم مفت ہے یہ لوگ ہائی اسکول تک پہنچنے سے پہلے ہی تعلیم چھوڑ کر حقیقت میں جاہل رہ جاتے ہیں۔

اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کے صدر نے جو تجویز قوم کو پیش کی وہ یہ تھی کہ’’ ایسے با تدبیر مشیر اور بالغ نظر رضا کار تلاش کیے جائیں جو ان نوعمروں کی دیکھ بھال کرسکیں۔‘‘ یہ حالت ہے اس قوم کی جو اس وقت پوری دنیا کی تن تنہا قائد ہے اور نئے عالمی نظام کی موجد اور اس کی مبلغ ہے۔

دوسری طرف دنیا کی دو سپر طاقتوں میں سے ایک سابق سپر طاقت کے رہنما میخائل گوربا چوف نے ۱۹۸۷ء؁ میں شائع ہونے والی اپنی ایک کتاب ’’پیریسٹرائیکا‘‘ میں لکھا کہ ’’سوویت یونین میں ہماری مخلصانہ اور سیاسی نقطہ نظر سے مبنی برحق اس خواہش کا کہ عورتوں کوہر معاملہ میں مردوں کے ہم پلہ بنادیا جائے کیسا تضاد انگیز نتیجہ سامنے آیا ہے۔‘‘ وہ لکھتے ہیں کہ ’’اب عورتوں کے پاس گھر کے کام کاج، بچوں کی پرورش اور خاندان میں اچھا ماحول بنانے جیسی گھریلو ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے اب وقت نہیں رہا۔ تجربات نے ہمیں بتادیا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کے اخلاق و اطوار ہمارے اخلاق اور ہماری ثقافت اور ہماری پیداوار سے متعلق بہت سارے مسائل کی ایک وجہ خاندانی نظام کے بندھنوں کا کمزور پڑجانا اور اس سے متعلق خواتین کا اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بے رغبتی کا جذبہ ہے۔ چنانچہ اب ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی خواتین کو کس طرح اس کردار کی ادائیگی کے لیے واپس لائیں جو قدرت نے ان کے لیے متعین کیا ہے اور جسے اب وہ چھوڑ چکی ہیں۔‘‘

یہ صورتحال وقت کی تنہا سپر طاقت امریکہ اور سابق سپر پاور سوویت روس کی ہے جو اب ختم ہوچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صورت حال صرف ان سپر قوتوں اور ملکوں کی ہی کی نہیں بلکہ پوری مغربی دنیا کی ہے۔ اور اب جیسے جیسے مغربی تہذیب کا فروغ اور سیاست معیشت، معاشرت اور نظام تعلیم میں اس کی اقدار اورمعاشرہ میں اس کی ثقافت فروغ پارہی ہے ویسے ویسے اسی قسم کی صورت حال مشرقی ملکوں میں بھی پیدا ہوتی جارہی ہے۔ اور اس کا پیدا ہونا یقینی اور شدنی امر ہے۔

خود ہمارے ملک ہندوستان میں ایک نئی اور دھماکہ خیز صورتحال پیدا ہوتی نظر آتی ہے۔ جیسے جیسے ملک پر سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت مضبوط اور مغربی تہذیب کو امپورٹ کرنے کا عمل بڑھ رہا ہے جہالت، بے روزگاری، جرائم، حادثات اور غربت کا گراف تیزی سے اوپر اٹھتا جارہا ہے۔ اور سب سے شدید چوٹ ہماری ان اقدار کو پہنچ رہی ہے جن کی ہم صدیوں سے حفاظت کرتے آئے ہیں۔ ہم بھی تیز رفتاری سے عورتوں کو مردوں کے ہم پلہ بنانے کے عمل میں جٹے ہیں اور ہمارے یہاں بھی بڑی تیزی سے بچے ماؤں کی محبتوں سے محروم ہورہے ہیں۔ اشتہاری دنیا کی چمک دمک، معیار زندگی کو اٹھانے کے شوق اور دولت حاصل کرنے کی حرص و ہوس نے جرائم کی رفتار میں جو اضافہ کیا ہے وہ حیرت ناک اور افسوسناک ہے۔

تعلیم کے معاملہ میں ہمارے یہاں ایک طبقہ تو وہ ہے جو غربت و افلاس کے سبب تعلیم سے محروم رہ جاتا ہے اور بعض اوقات ملک اور معاشرہ پر بوجھ ثابت ہوتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے، اور وہ زیادہ خطرناک ہے، جو مغربی زندگی کی رعنائیوں میں گم ہوکر تعلیم ترک کردیتا ہے اور اس کے بجائے جرائم کی دنیا کا ڈون بن کر دولت کمانے کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیتا ہے۔ اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹیں، جرائم کی رپورٹیں اور ان میں بڑھتا ہوا نو عمروں کا تناسب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم بھی معاشرہ کو انہی خطوط پر لے جارہے ہیں جن خطوط پر ان ترقی یافتہ ملکوں نے اپنے سماج کو آگے بڑھایا تھا اور اب پریشان ہیں۔

گذشتہ دنوں دہلی میں پولیس نے کار چوروں کے گروہ کا پردہ فاش کیا جو قیمتی کاریں چراتا تھا۔ اس گروہ میں تمام نوجوان تھے اور اور ان کا تعلق ان اعلیٰ گھرانوں اور حکومت کے سابق اعلیٰ عہدے داروں سے تھا جہاں خود دولت کی ریل پیل ہے۔اور وہ اپنی تعلیم ترک کرکے محض اس لیے اس میدان میں اترے تھے کہ اپنے معیار زندگی کو بڑھانا اور اپنی ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے ضروری اخراجات فراہم کرنا چاہتے تھے۔ واضح رہے کہ یہ سب اعلیٰ حکومتی عہدے داروں کے بیٹے تھے اور ایک ان میں نوئیڈا کے تاجر کا بیٹا تھا۔

موجودہ دور کے تعلیم یافتہ جرائم ان قدیم جرائم سے زیادہ خطرناک، زیادہ مہلک اور زیادہ وسیع اثرات کے حامل ہیں جو قدیم زمانے کے غیر مہذب، غیرتعلیم یافتہ اور غریب ومفلوک الحال لوگ انجام دیتے تھے۔

اکیسویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج دنیا کے سامنے یہ ہے کہ وہ کس طرح تباہی کی جانب تیزی سے بھاگتی ہوئی نئی نسل اور اپنے ٹوٹتے بکھرتے خاندانی نظام کی حفاظت کرے۔ اگر اس صورت حال کا ادراک کرنے اور اس پر پر قابو پانے کی کوشش نہ کی گئی تو پوری دنیا عجیب و غریب بحران اور کرائسس سے دو چار ہوجائے گی اور اس کا سبب خود ہماری کوتاہی اور کوتاہ بینی ہوگا۔ کیونکہ دنیا کے تمام معاشروں اور ملکوں کی صورتحال ظہر الفساد کی تصویر پیش کررہی ہے اور ہم محض اس کے مشاہد کی حیثیت سے کھڑے کسی عملی اقدام کی کوشش کو ضروری نہیں سمجھتے اور اگر اس کی طرف متوجہ بھی ہوتے ہیں تو کولن پاویل کی طرح جو اس پورے مسئلہ کا حل ’’باتدبیر اور بالغ نظر رضا کاروں کی تلاش‘‘ میں ڈھونڈھتے ہیں جو اپنے آپ میں خود ناممکن الحصول عمل ہے۔

اس صورت حال کا مقابلہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک دنیا اپنے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظاموں کی بنیادوں کو بدلنے اور ان کی اصلاح کرنے کی فکر نہ کرے۔ اس کے بغیر جو بھی کوششیں ہوں گی یا تو وہ محض قانونی نوعیت کی ہوں گی یا ان کی مثال جڑوں کی سیرابی اور شاخوں کی تراش خراش کی طرح ہوگی۔

موجودہ صورتحال اور مسلم معاشرہ

تہذیب جدید کے لا محدود فروغ اور اس کے اثرات ملت اسلامیہ پر بھی ہر جگہ مرتب ہورہے ہیں۔ ہر چند کہ وہ اس کے مضر اثرات سے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ محفوظ ہے لیکن حفاظت کا یہ کمزور حصار دیر تک باقی نہیں رہ سکتا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے اثرات مختلف صورتوں میں جگہ جگہ مسلم معاشرہ اور سماج پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ اور اب عرب و عجم کی تمام مسلم ریاستیں اور مسلم ملت براہ راست اس کی زد میں ہے بلکہ اس تہذیب کے نشانہ پر ہے۔ اس کا مشاہدہ ہم جزیرہ نمائے ہند کے مسلمانوں اور مسلم گھرانوں میں کرسکتے ہیں۔ ہمارے یہاں بے شمار خاندان ایسے ہیں جو ’’جدیدیت‘‘ کی اس حد کو پہنچ گئے ہیں جہاں ان کے اور غیر مسلموں کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہ گیا ہے۔ کہیں یہ صورت حال جہالت، غربت اور دین سے لاعلمی کے سبب ہے اور کہیں تعلیم یافتگی اور دولت و ثروت کی ریل پیل کے سبب۔ ان دونوں ہی حالتوں میں مسلم معاشرہ بھی اکیسویں صدی کے اس مسئلہ سے دوچار ہے۔ ہماری نئی نسل اسی تعلیمی نظام کے زیر سایہ تربیت پارہی ہے اور ہم خود بھی اسی معاشرہ میں جی رہے ہیں جو اس چھوت کی بیماری میں شدید طور پر مبتلا ہوگیا ہے۔ اب ہمیں اپنی نئی نسل کو اس اخلاقی اور معاشرتی بحران سے بچانے کے لیے سنجیدگی سے غوروفکر کرنا ہے۔

مگر یہ کام اتنا آسمان عملاً نہیں، جتنی آسانی سے کہہ دیا جاتا ہے۔ یہاں ایک مضبوط فکر، پختہ ارادے اور اسلام کی بنیادوں کے وسیع اور گہرے علم کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ پورا مسلم معاشرہ اس شریعت کی طرف رجوع کرے جو قرآن اور سنت رسول کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اس کے لیے جہاں اسلام کی بنیادوں کا گہرا علم مطلوب ہے وہیں مغربی تہذیب کے نقصانات اور اس کے مضر اثرات کی گہری معرفت بھی ضروری ہے۔ اگر اس کے مضر اثرات کی واقفیت نہ ہوتو نہ ہی اس سے بچا جاسکتا ہے اور نہ اسلامی اقدار کو اپنی زندگی میں نافذ کیا جاسکتا ہے۔

نئی نسل کو اس بحران میں مبتلا کرنے میں کلیدی رول خاندانی نظام کی تباہی کا ہے جو محض اس وجہ سے پیش آئی کہ ماؤں نے اپنے گھروں کو خیرباد کہہ کر دفتروں، فیکٹریوں اور شاپنگ سینٹرس میں اپنی صلاحیتوں کو لگانا شروع کردیا۔ گھر داری اور بچوں کی تعلیم و تربیت کو حقیر گردان کر اسے چلڈرنس ہوم کے حوالہ کردیا جہاں انہیں زندگی جینے کے سلیقے اور ماں باپ کی محبت کے علاوہ سب کچھ حاصل ہو رہا ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تھا:

…المـرأۃ راعیۃ علی بیت زوجھا و ولدہ فکلکم راع وکلم مسئول عن رعیتہٖ

’’ بیوی اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگراں ہے۔ پس تم میں سے ہر ایک نگراں ہے اور زیر نگرانی لوگوں کے سلسلہ میں ہر ایک سے باز پرس ہوگی۔‘‘

یہ حدیث اسلامی شریعت میں مردوں اور عورتوں کے درمیان تقسیم کار کے لیے کلید ہے۔ خاندانی نظام کو خوشگوار بنانا اور قائم رکھنا اور گھر کے جملہ امور کی نگرانی اسلام عورت کے سپرد کرتا ہے۔ اور نئی نسل کی تعمیر اور اس کے سیرت و کردار کو بنانے کا کام بھی اسلام نے عورتوں ہی کے حوالہ کیا ہے۔اسلام صالح اولاد کو صدقۂ جاریہ قرار دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ نیک اولاد کے نیک کاموں اور ان کی تعمیری کوششوں میں نہ صرف والدین کے لیے بھی اجر کا سلسلہ قائم ہوتا ہے بلکہ وہ ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا بھی ذریعہ ہے۔ اسلام کے اس اصول کو اگر ہم موجودہ مغربی نظام کی تباہی کے تناظر میں دیکھیں تو اس کی اہمیت واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے۔

جس طرح پوری دنیا کے لیے اس صدی کا اہم ترین چیلنج اپنی نئی نسل کی حفاظت ہے اسی طرح امت مسلمہ کے لیے بھی یہ وقت کا بڑا چیلنج ہے اور اس کا مقابلہ ہم اسی صورت میں کرسکتے ہیں جب خود کو اس نظام کے چنگل اور اس کی چمک دمک سے دور رکھیں نیز اللہ اور اس کے رسول کے ذریعہ فراہم کردہ مضبوط بنیادوں پر اپنی معاشرتی زندگی کی تعمیر کریں۔

اگر ہم نے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا تو بہت جلد ہم بھی اس تباہی کی زد میں آجائیں گے جو پورے مغربی معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے جاچکی ہے اور بقیہ دنیا کو بھی نگل جانے کے لیے تیز رفتاری سے دوڑی آرہی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے