6

عورت اور اسلام

عورت اعداد و شمار کے لحاظ سے معاشرہ کا نصف ہے لیکن اپنے شوہر، اپنی اولاد اور گرد و پیش پر اثر انگیزی کے اعتبار سے وہ نصف سے بھی زیادہ ہے۔

عظیم لوگوں اور عبقری شخصیتوں کی تعمیر میں عورت کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ اس لیے لوگ کہتے ہیں کہ : ہر عظیم شخص کے پیچھے کسی عورت کا رول ہوا کرتا ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ بڑے بڑے فلاسفہ نے عورت کو دنیا کی تمام فتنہ سامانیوں اور شرانگیزیوں کا ذمہ دار ٹھیرایا ہے بلکہ کچھ لوگوں نے کسی جرم یا واقعہ پیش آنے پر یہی کہا ہے کہ : عورت کو تلاش کرو!

ماضی سے اب تک لوگوں کے دو گروہ رہے ہیں۔ ایک عورت کا حامی و طرف دار اور دوسرا عورت کا دشمن اور مخالف۔

کچھ فلاسفہ تو عورت کے مدح خواں اور اس کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ اور کچھ دوسرے انتہائی بدصورت اور سیاہ عینک لگاکر اس پر نظر ڈالتے ہیں اور اسے دنیا میں شرو برائی کی جڑ سمجھتے ہیں۔حتی کہ علم، جو برگشتہ راہ کو ہدایت یافتہ بناتا ہے اور کج رو کو راست بازی سکھاتا ہے۔ بدخواہوں نے اسے بھی عورت کے لیے ذلت و حقارت قرار دیا ہے اور تعلیم حاصل کرنے والی خاتون کو دیکھ کر کہنے والوں نے کہا ہے : ’’ناگن کو زہر سے آراستہ کیا جارہا ہے۔‘‘

بات یہاں بھی نہ رکی اور تخلیق آدم سے لے کر روز قیامت تک انسانیت کو پیش آنے والی تمام پریشانیوں اور شقاوتوں کی ذمہ داری تنہا عورت کے دوش پر لوگوں نے ڈالی کیونکہ ان کے خیال میں عورت ہی نے حضرت آدم علیہ السلام کو ممنوعہ درخت سے کھانے اور حکم خداوندی سے گریز کرنے پر آمادہ کیا تھا اور بالآخر انھیں اور ان کی اولاد کو جنت سے زمین پر اتار کر مشقت و شقاوت سے دوچار کرایا۔

یہود و نصاریٰ کی ساری مقدس قدیم مذہبی کتابوں نے بھی ان کے الزام کی تائید کی اور عورت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

لیکن اسلام نے عورت کو عزت و عظمت بخشی۔ اسے ایک بیٹی، ایک بیوی، ایک ماں اور معاشرہ کا ایک فرد بلکہ ان سب سے پہلے ایک انسان کے روپ میں پیش کیا۔ عورت بھی مکلف ہے اور مرد بھی۔ اللہ کے احکام اور منہیات کی مخاطب عورت بھی ہے اور مرد بھی۔ جزا اور سزا کا مستحق جس طرح مرد ہے اسی طرح عورت بھی ہے۔ انسان کو جب سب سے پہلا حکم الٰہی ملا تو اس کا مخاطب مرد اور عورت دونوں تھے، دونوں کو جنت میں ٹھہرایا گیا اور حکم ہوا: ’’اور اس میں جہاں سے چاہو خوب کھاؤ، اور اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ تم گنہگاروں میں سے ہوجاؤ گے۔‘‘ (البقرۃ:۳۵)

تورات کی طرح قرآن نے آدم کی غلطی کی ذمہ دار عورت کو نہیں قرار دیا بلکہ پہلی ذمہ داری آدم کی بتائی اور عورت اس کی تابع قرار دی گئی۔

’’اور ہم آدم کو ایک حکم دے چکے تھے، سو ان سے غفلت ہوگئی اور ہم نے ان میں پختگی نہ پائی۔‘‘ (طہ:۱۱۵)

’’اور آدم سے اپنے پروردگار کا قصور ہوگیا، سو وہ غلطی میں پڑگئے پھر انہیں ان کے پروردگار نے مقبول بنایا۔ چنانچہ ان کی توبہ قبول کرلی اور راہ راست دکھائی۔‘‘ (طہ:۱۲۱، ۱۲۲)

عورت اسلام کی نظر میں مرد کی مد مقابل اور فریق ثانی نہیں بلکہ عورت سے مرد کی تکمیل ہوتی ہے اور مرد سے عورت کی۔ عورت مرد کا ایک جزو ہے اور مرد عورت کا ایک جزو۔ اسی مفہوم کو قرآن نے کہا ہے۔

اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ’’عورتیں، مردوں کے ہم مرتبہ ہیں۔‘‘ اسلام میں عورت کی حق تلفی یا مرد کے مقابلے میں عورت پر ظلم کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ اسلام اللہ تعالیٰ کی شریعت ہے اور اللہ تعالیٰ مرد عورت دونوں کا یکساں پروردگار ہے۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عورتوں سے متعلق غلط تصورات و نظریات مسلمانوں کے ایک طبقہ کے ذہن و دماغ میں سرایت کرگئے۔ عورت کی شخصیت اور اس کی کارکردگی سے متعلق غلط تصور کے نتیجہ میں عورتوں کے ساتھ غلط روش اور غلط معاملہ بھی رواج پاگیا اور لوگ اللہ کے حدود سے تجاوز کرگئے۔ انھوں نے خود اپنی ذات پر بھی ظلم کیا اور عورتوں پر بھی ظلم کے پہاڑ توڑے۔ خصوصاً پس ماندگی کی صدیوں میں جب کہ امت مسلمہ معدودے افراد کو چھوڑ کر ہدایت نبوت، اسلام کے اعتدال اور سلف کی اس راہ سے دور ہوگئی تھی، جو اپنے اعتدال و آسانی و سہولت کے لیے ممتاز تھی۔

آج کے دور پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اپنی فکری زندگی کے اندر ایک المیہ نظر آتا ہے اور اہل عقل و دانش جس کا رونا رو رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ ہم اپنے بہت سے مسائل و معاملات بلکہ بیشتر معاملات میں اس معتدلانہ موقف سے دور ہوجاتے ہیں جسے قرآن نے صراط مستقیم کا نام دیا ہے۔ ہم عام طور پر غلو و کوتاہی یا افراط و تفریط کے شکار ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کا یہ قول ہمارے سامنے ہوتا ہے: وکذٰلک جعلناکم امۃ وسطاً۔ (اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا) اور یہ حکیمانہ قول بھی ہمارے پیش نظر ہوتا ہے کہ ’’خیر الامور اواسطہا‘‘ (معتدل چیز سب سے بہتر ہوا کرتی ہے)۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول بھی ہم نقل کرتے ہیں کہ ’’تم درمیانہ روش اختیار کرو۔ غلو کرنے والا تمہاری جانب لوٹ کر آئے گا اور کوتاہ تم تک رسائی حاصل کرے گا۔‘‘

اسلامی معاشرے میں عورت کا مسئلہ ایک نمایاں مثال ہے جس میں غلو اور کوتاہی یا افراط و تفریط دونوں پہلو ابھر کر سامنے آتے ہیں۔

کوتاہ نظر اور تفریط کے شکار لوگ عورت کو حقارت اور تکبر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ عورت اس کے نزدیک شیطان کا پھندا، ابلیس کا جال اور گمراہی و غلط روی کا ذریعہ ہے۔ اس کا دین اور اس کی عقل دونوں ناقص ہیں۔ عورت ایک ناقص اہلیت رکھنے والی مخلوق ہے۔ وہ مرد کی باندی اور خادمہ ہے۔ مرد اپنی لذت و لطف کے لیے اس سے شادی کرتا ہے، اپنا مال دے کر اس سے لطف اندوزی کا مالک ہوجاتا اور جب چاہتا ہے اسے طلاق دے دیتا ہے۔ عورت نہ تو اپنی طرف سے دفاع کا حق رکھتی ہے اور نہ کسی سامان یا عوض کی مستحق ہوتی ہے بلکہ بعض لوگوں نے اسے جوتے کی مانند بتایا ہے جسے مرد جب چاہے پہن لے اور جب چاہے اتارکر پھینک دے۔

اگر عورت کسی مرد کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوجاتی ہے اور مرد اس کے لیے ناقابل پسند ہوجاتا ہے، مرد کی جانب سے اسے نفرت اور بغض ہوجاتا ہے تو وہ صرف گھٹ گھٹ کر صبر ہی کرسکتی ہے اور مجبوراً زندگی کے کڑوے گھونٹ پیتی رہتی ہے، تاآنکہ مرد خود اسے طلاق دینے یا اس کے ساتھ خلع کرنے پر راضی ہوجائے ورنہ مرد کی غلامی کا جوا وہ اپنی گردن سے اتار کر نہیں پھینک سکتی ہے۔

اسی قماش کے کچھ لوگ اسلام سے قبل والے دور جاہلیت کی پیروی کرتے ہوئے میراث کے حق سے اپنی بیٹیوں کو محروم رکھتے ہیں، ان کے ترکہ کے تمام تر حصے نرینہ اولا ہی کے لیے مخصوص ہوتے ہیں، لڑکیوں کاان میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ہے۔

ان لوگوں نے عورت کو گھر کی چہار دیواری میں قید کردیا، نہ وہ علم کے لیے نکل سکتی ہے اور نہ کسی اور کام کے لیے۔ وہ معاشرہ کو نفع پہنچانے والی کسی بھی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتی بلکہ بعض نے تو نیک وصالح عورت کی تعریف ہی یوں کی ہے کہ وہ زندگی میں صرف دو مرتبہ باہر نکلتی ہے۔ ایک مرتبہ اپنے والد کے گھر سے شوہر کی طرف اور دوسری مرتبہ شوہر کے گھر سے آخری آرام گاہ قبر کی طرف۔ حالانکہ قرآن کریم نے زنا کی معروف سزا متعین کرنے سے پہلے ایسی عورت کے لیے گھر کے اندر قید کرنے کی سزا رکھی تھی جس نے زنا کیا ہو اور چار مسلمانوں نے اس کے ارتکاب جرم کی گواہی دی ہو، اس سلسلے کی قرآنی آیت درج ذیل ہے:

’’تو ان (عورتوں) کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کردے یا اللہ ان کے لیے کوئی (اور) راہ نکال دے۔‘‘ (النساء:۱۵)

علم اور دین کا فہم حاصل کرنے کے لیے بھی عورت کا گھر سے نکلنا حرام قرار دے دیا اور کہا کہ والد اور شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورت کو تعلیم دے اور دین کا فہم سکھائے۔ اس طرح انھوں نے عورت کو علم کے نور سے محروم کرکے جہالت کی تاریکی میں بھٹکتے رہنے پر مجبور کردیا۔ نہ اسے والد نے تعلیم دی اور نہ شوہر نے۔ کیونکہ والد اور شوہر تو خود ہی محتاج علم و دانش تھے۔ محتاج دوسرے کو کیا دے سکتا تھا، وہ خود بھی جاہل رہے اور عورت بھی جاہل رہی۔

انھیں پوری واقفیت تھی کہ علم کا حصول ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اور امہات المومنین، صحابیات اور اسلاف میں خواتین کی معتد بہ تعداد علم و تفقہ اور روایت حدیث کے علاوہ شعر و ادب اور دیگر فنون میں با کمال گزری ہے۔

علماء کرام کے یہ جملے کتابوں میں محفوظ ہیں کہ ’’مجھ سے با اعتماد، نیک صفات اور بڑی عالمہ فلاں بنت فلاں نے بیان کیا ہے۔‘‘

بخاری شریف کی روایت کرنے والوں میں ایک راوی کریمہ بنت احمد مروزیہ بھی ہیں اور ان کا نسخہ چند معتمد نسخوں میں شمار ہوتا ہے، جس کی تعریف حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی فتح الباری میں کی ہے۔

لوگوں نے عورت کو نماز یا وعظ و نصیحت سننے کی غرض سے مسجد جانے سے بھی روک دیا حالاں کہ انھیں یہ معلوم ہے کہ عہد نبوی میں خواتین عشاء اور فجر کی نمازوں میں بھی مسجد میں آکر جماعت میں شریک ہوتی تھیں اور نبی کریم ﷺ نے صاف لفظوں میں ارشاد فرمایا تھا کہ: ’’اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے مت روکو۔‘‘ (مسلم شریف)

عجیب بات ہے کہ اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کو ماننے والی خواتین بھی جس حق کو استعمال کرتی ہیں، کچھ خواتین اس حق سے بھی محروم ہیں۔ یہودی عورت اپنی عبادت گاہ میں جاتی ہے،عیسائی عورت کلیسا میں جاتی ہے، بدھسٹ اور ہندو اپنی عبادت گاہ اور مندر میں جاتی ہے، لیکن تنہا مسلم خاتون مسجد میں جانے سے محروم ہے۔

لوگوں نے اسے باپ اور شوہر کے ساتھ زندگی کے ان جائز کاموں میں بھی شریک ہونے سے روک دیا جن میں وہ شرکت کرسکتی تھی، جیسا کہ بعض صحابیات مثلاً حضرت اسماء ذات النطاقین کا واقعہ اپنے شوہر حضرت زبیر بن عوامؓ کے ساتھ منقول ہے۔

اور اس سے بھی زیادہ نمایاں مثال قرآن کریم نے سورئہ قصص کے اندر حضرت شعیبؑ کی دو صاحبزادیوں کے متعلق پیش کی ہے۔ جنھوں نے بکریاں چَرائیں، انھیں پانی پلایا، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے گفتگو کی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے گفتگو کی اور ان میں سے ایک نے اپنے والد سے پوری بے باکی اور وضاحت سے کہا کہ:

’’اے ابا جان ان کو نوکر رکھ لیجیے کیونکہ اچھا نوکر وہی ہے جو قوت والا اور امانت دار ہو۔‘‘ (قصص:۲۶)

اور اپنے ان جامع الفاظ کے ذریعہ کام کرنے والے مردوں کے انتخاب کی بنیادیں طے کردیں۔

عورت کو گھر کے اندر قید کردئے جانے کے لیے لوگوں نے غیر واضح نصوص و ہدایات کا سہارا لیا اور واضح ترین ہدایات و احکام پس پشت ڈال دئے۔ چنانچہ یہ لوگ سورئہ احزاب کی درج ذیل ان آیات سے استدلال کرتے ہیں جو امہات المومنین کی شان میں نازل ہوئی ہیں:

یَا نِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعُ الَّذِی فِیْ قَلْبِہِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَعْرُوْفاً وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ…

’’اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، جب کہ تم تقویٰ اختیار کر رکھو، تو تم بولی میں نزاکت اختیار مت کرو (اس سے) ایسے شخص کو خیال (فاسد) پیدا ہونے لگتا ہے جس کے قلب میں خرابی ہے اور قاعدہ کے موافق بات کہا کرو اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو۔‘‘

اور دوسری آیت:

وَإِذَا سَأَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعاً فا سْئَلُوْہُنَّ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ۔ (احزاب: ۳۲،۳۳)

’’اور جب تم ان (رسولوں کی ازواج) سے کوئی چیز مانگو تو ان سے پردہ کے باہر سے مانگا کرو۔‘‘

انھوں نے عورت کو اپنی رفیق اور شریک منتخب کرنے، بلکہ کم از کم ولی اور ذمہ دار کی پیش کش کے وقت اپنے موافقت یا انکار کا اظہار کرنے کے حق سے بھی بیشتر اوقات محروم کردیا، چنانچہ ایسے بھی والدین ہیں جو اپنی بیٹی کی شادی بغیر اس کی رضا مندی بلکہ اس کے مشورے اور اس کی رائے معلوم کیے کرڈالتے ہیں۔ (جاری)

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر یوسف القرضاوی

تبصرہ کیجیے