5

قرآن پڑھا تو زندگی کی حقیقت پالی

بشریٰ فنچ ایک عیسائی گھرانے میں جوان ہوئی مگر پھر بہت جلد وہ اپنے مذہب سے بغاوت کاراستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئی اس لیے کہ وہ عیسائی عقیدے کی بہت سی باتوں بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا ماننے کو ناقابل قبول گردانتی تھی۔ اس کا پہلی بار اسلام سے رابطہ ایک دوست کے توسط سے ہوا۔ اگرچہ وہ اس پہلے رابطے میں اسلام سے خاصی متاثر ہوئی مگر آگے نہ بڑھ سکی اور اپنے عقائد کے دائرے کے اندر کھڑی رہی۔ اس کی وجہ بھی بہت زیادہ مشکل نہیں ہے کیونکہ اس نے بچپن سے اب تک اسلام دشمنی پر مبنی ذرائع سے تعلیم حاصل کی تھی۔ یوں اس تعلیم کا رنگ اسلام سے پہلی ملاقات میں کیسے اترسکتا تھا؟

اسلام سے پہلے رابطے کے بعد بشریٰ کے اندر کسی معقول شئے کی تلاش کی تڑپ نے جنم لیا۔ یوں تڑپ کے اسی راستے پر دو قدم آگے بڑھ کر وہ ایک مقامی لائبریری میں گئی اور وہاں سے قرآن مجید حاصل کیا۔ وہ اس کی خوبصورت اور واضح بیانی سے بہت متاثر ہوئی۔ اسے وہ چیز ملی گئی جس کی اسے تلاش تھی اور اسلام کی سچائی کا دل سے اعتراف کرلیا۔

بشریٰ اب دوسرے لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا فریضہ ادا کرنے میں مصروف ہے۔ ایک انٹرویو میں بشریٰ نے بتایا:

’’اس ملک میں دوسرے لوگوں کی طرح میری پرورش بھی ایک عیسائی کی طرح ہوئی میں دل و جان سے عیسائی تھی اور روزانہ اسکول میں انجیل بڑے شوق سے پڑھتی تھی۔ لیکن چرچ میں سوائے شادی کے پروگراموں کے نہیں جایا کرتی تھی۔ یہاں تک کہ کرسمس کے موقع پر بھی آدھی رات کے بڑے اجتماع میں شرکت کے لیے کم ہی جایا کرتی تھی۔ اگرچہ میں ان بہت سی باتوں پر یقین رکھتی تھی جو مجھے پڑھائی گئی تھیں مگر میں عقیدہ تثلیث اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنانے والی ساری باتوں کو ناقابل قبول سمجھتی تھی۔ تاہم مجھے اپنے اشرف المخلوقات ہونے اور کائنات کو پیدا کرنے والے پر مکمل یقین تھا۔ میں نے اپنے مبہم خیالات کی صفائی کے لیے مزید کوئی تلاش نہیں کی۔

میں اسلام کے حوالے سے بہت زیادہ علم نہیں رکھتی تھی۔ ذرائع ابلاغ ہی ایک واحد راستہ تھا جس کے توسط سے اسلام کے بارے میں میری معلومات میں اضافہ ہوتا رہتا تھا مگر ذرائع ابلاغ اسلام کی جو تصویر کشی کرتے تھے اس کے مطابق اسلام ایک انتہائی سخت مذہب ہے جس میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس کے پیروکار انتہائی متعصب اور دہشت گرد ہیں۔ اس میں عورتوں کی حیثیت قیدیوں اور لونڈیوں جیسی ہوتی ہے۔ ذرائع ابلاغ نے اسلام کی تصویر دکھاتے ہوئے تمام جھوٹے اور منفی تصورات کو اس میں سمودیا۔ لیکن چند ماہ بعد ایک مسلمان دوست نے مجھے بہت متاثر کیا۔ زندگی کے حوالے سے اس کے نظریات اور دوسرے انسانوں کے لیے اس کے طرز فکر نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ جب بھی اسلام کے بارے میں گفتگو کرتا تو کسی طرح اس کا چہرہ فرط جذبات سے سرخ ہوجاتا تھا۔ یوں میرے خیالات کے اندر تبدیلی کی ایک لہر نے جنم لیا۔

اس کے بعد میں نے اپنی مقامی لائبریری کے مذہب کے سیکشن میں بہت سی کتابوں کا مطالعہ شروع کردیا۔ میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ مجھے ان باتوں کی تصدیق کے لیے اسلام کا مطالعہ کرنا چاہیے جو میں نے اسلام کے بارے میں سن رکھی تھیں۔ لائبریری میں اسلام کے موضوع پر کتابوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ لیکن میں نے صرف ایک قرآن مجید اور دو مزید کتابوں کو اپنے لیے لائبریری سے جاری کروایا۔

یہ بات انتہائی حیران کن تھی کہ میں جو بھی پرھتی جاتی تھی وہ میرے اندر اسلام کی مخالفت کے جذبات کو کم اور حمایت کے جذبات کو زیادہ کرتا جاتا تھا۔ جب میں نے قرآن مجید کا مطالعہ ختم کیا تو میں نے یوں محسوس کیا جیسے میں نے زندگی کی سب سے اہم اور بامعنی چیز کو تلاش کرلیا ہے۔ یوں میں اپنے سابقہ تعصبات سے تائب ہونے لگی۔

یہ ایک خوبصورت راستہ تھا جو میں نے تلاش کرلیا تھا لیکن ایسے لمحات میں میں نے اپنے آپ کو تنہا محسوس کیا یوں مجھے اس راستے پر چلنے میں بڑی مشکلات کا سامنا تھا۔ میرے تمام دوست احباب میرے لیے غیر بن گئے تھے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ وہ میری بات کو سمجھتے ہی نہ تھے۔ جہاں میری رہائش تھی وہاں ارد گرد کوئی مسلمان نہ تھا۔ نتیجتاً میں بے یقینی اور لڑکھڑاہٹ کا شکار ہونے لگی، مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میرا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھی جو اپنے لیے خود راہیں تلاش کرتے ہیں۔ میں نے اسلام کے بارے میں مزید اسٹڈی کا فیصلہ کیا۔ میں اسلام کی حقانیت کی قائل ہوچکی تھی لیکن اسلام کی راہ پر چلنے کے لیے مجھے ایک گائیڈ کی ضرورت تھی۔ یہ گائیڈ کا کردار بھی انہی کتابوں نے ادا کیا۔ ان کتابوں نے ہی میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے وضو سے لے کر نماز اور روزوں کے بارے میں سب کچھ بتادیا۔ میں نے پھر رمضان کے روزے بھی رکھے، شروع شروع میں روزے میرے لیے خاصے مشکل تھے مگر پھر سوچتی کہ روزے رکھنے والے اور بھی ہیں۔ یوں یہ مشکل کم ہونے لگی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے پورا مہینہ روزے رکھنے کی قوت عطا فرمائی۔ رمضان المبارک کے آخر میں، میں نے خود کو بہت مسرور اور خوش و خرم پایا۔

لیکن رمضان کے بعد پھر میرے قدم لڑکھڑانے لگے۔ میں سوچتی کہ قبول اسلام کا اعلان کرکے میں کہاں قیام کروں گی۔ میں ایک عجیب و غریب صورت حال کا شکار تھی کہ گزشتہ عقیدے پر بھی قائم نہیں رہ سکتی تھی اور نئے عقیدے کا اعلان بھی نہیںکرسکتی تھی۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائی یوں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل کردیا۔ میں ایک ادارے میں بطور سکریٹری کام کررہی تھی وہاں میری ملاقات ایک مسلمان خاتون سے ہوئی جب میں نے اسے اپنی کیفیت کے بارے میں بتایا تو وہ بہت حیران اور بہت خوش ہوئی اس نے میرے لیے تمام انتظامات کرلیے۔ یوں اگلے ہفتے کے اندر اندر میں نے باقاعدہ ایک امام صاحب کے پاس اسلام قبول کرلیا اور نئے نام سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ الحمدللہ اب میں باقاعدہ طور پر مسلمان ہوں۔ (ترجمہ: عبیداللہ عابد

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے