3

حجاب کے نام!

بہت بہت دعاؤں اور سلام مسنون کے بعد عرض ہے کہ کافی عرصہ سے آپ سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی اس کا بہت افسوس ہے ۔ مئی کی ۲۵؍یا ۲۶؍تاریخ کو عزیزم مولودی دلشاد حسین صاحب ازراہِ عنات و مہربانی میرے پاس تشریف لائے ان سے کئی گھنٹے تبادلہ خیالات ہوتا رہا معلوم ہوا کہ اب ’’حجاب اسلامی‘‘ کافی ترقی پذیر ہورہا ہے اور دن بدن اشاعت بڑھ رہی ہے۔ یہ سب باتیں معلوم ہوکر خوشی ہوئی۔ عزیزم حجاب کے اندر افسانوں کی تعداد زیادہ لگ رہی ہے۔ فکری اور تربیتی مضامین کی تعداد کم ہے برائے کرم اس پر توجہ دیں۔ بعض افسانے ’’کھلے پن‘‘ کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اس پر نظر رکھیں۔

غزلیات شعروشاعری محض الفاظ کا گورکھ دھندا نہ ہونا چاہیے بلکہ مقصدی شاعری ہونی چاہیے۔ آج کل رسائل میں تک بندی بہت آرہی ہے اس پر بھی نظر ہونی چاہیے۔ ویسے رسالہ کا معیار انشاء اللہ آپ کی ادارت میں بلند ہوا ہے اس پر میںمبارکباد پیش کرتا ہوں ماہ جون ۲۰۰۴ء؁ کا رسالہ ابھی موصول نہیں ہوا ذرا جلد بھجوادیجیے۔

ذرا سنبھل کر میدان صحافت میں قدم رکھیں بڑا پُر خطر اور پُر آزمائش میدان ہے۔ بس اللہ مددگار ہے آپ کام کیے جائیں۔ دعاگو

(حکیم) محمد اشرف علی قاسمی، سیوہارہ، بجنور

صفحات میں اضافہ

ماہنامہ حجاب کی نئی اشاعت اور اس کا نیا آہنگ پسند آیا۔ میں حجاب کی پرانی قاری ہوں۔ دہلی سے اشاعت کے بعد آپ نے جو نئی تبدیلیاں کی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ موجودہ دور کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی حتی المقدور کوشش کررہے ہیں۔ اسے جاری رکھئے اور نئے کالمس شروع کیجیے۔ سوال و جواب کا کالم شروع کرنے پر خوشی ہوئی۔ آج کے ہندوستان میں عورتوں کے بے شمار مسائل ہیں اور ان میں مسلم و غیر مسلم سبھی خواتین شامل ہیں۔ ان مسائل کا ذکر اور ان کے حل پیش کرنے کی تدابیر کی حجاب اسلامی سے توقع کرتی ہوں۔ پہلے حجاب میں نو مسلم خواتین کے واقعات اور انٹرویوز شائع ہوتے تھے۔ وہ سلسلہ بھی جاری رکھیں۔ خواتین اور بچوں کی صحت و تربیت پر مستقل مضامین آتے رہیں تو اچھا ہے۔ کتابوں پر تبصرہ کا کالم بھی مستقل ہونا چاہیے اور ان ہی کتابوں کا انتخاب کیا جائے جو خواتین و طالبات کے اشوز پر بحث کرتی ہوں۔

آپ نے کیرئیر گائڈنس شروع کرکے اچھا اقدام کیا ہے اس کے تحت ایسے مضامین بھی شائع کریں جو غریب اور ذہین طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مالی امداد کے حاصل کرنے میں رہنمائی کریں۔ اور ایک بات یہ محسوس کرتی ہوں کہ صفحات میں اضافہ ہونا چاہیے۔

نادیہ ثمرین، لاتور

]آپ نے جن باتوں کا تذکرہ کیا ہے ہم بھی ان ہی خطوط پر سوچتے ہیں اور کوشش بھی کررہے ہیں۔ ابھی ادارہ مالی خسارہ سے باہر نہیں آسکا ہے اس لیے صفحات میں اضافہ کی ہمت نہیں ہوپارہی ہے۔دعا کیجیے۔[

رسالہ سب کے لیے مفید ہے

میں جھوٹ کیوں بولوں۔ ’’حجاب کو میں نے کئی بار دیکھا اور اس کے بارے میں بہت سنا تھا۔مگر آج پہلی بار اسلام بھائی کے خریدا اور گھر لاکر پڑھا۔ بھئی مجھے تو افسوس ہوا یہ سوچ کر آخر کیوں اور کس بنا پر میںنے اتنا عمدہ رسالہ اب تک نہیں پڑھا۔ یقین مانئے شمشاد بھائی رسالہ بہت مفید ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کو عورتوں ہی کے لیے مخصوص کیوں سمجھا جائے۔ یہ تو سبھی کے لیے اک تحفہ ہے۔

نہال آکاش، دودھ پور، علی گڑھ

]حجاب پسند کرنے کے لیے شکریہ! آپ اسے دیگر افراد تک پہنچانے کی کوشش کیجیے۔ اگر آپ اسے اپنے لیے پسند کرتے ہیں تو دوسروں کے لیے بھی پسند کیجیے۔[

اصلاح معاشرہ کی ضرورت

میں سوچتا ہوں کہ اس وقت مسلم معاشرہ کو اصلاح کی سخت اور فوری ضرورت ہے۔ لیکن ہمارے علماء کو اس کی اہمیت و ضرورت سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔بعض اہل فکر و ہمدردان ملت اسے خوب سمجھتے ہیں اور اس موضوع پر گفتگوئیں اور مقالات بھی شائع ہوتے ہیں مگر اسے ایک تحریک کی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ حجاب کے لیے میرا مشورہ ہے کہ دوسرے جرائد سے مفید مقالے نقل کرکے حجاب میں شائع کیے جائیں۔ مثلاً افکار ملی اپریل ۲۰۰۴ء میں مولانا سید سلیمان حسنی ندوی کی کتاب ’’ہمارا نصاب تعلیم کیا ہو؟‘‘ پر جناب غطریف شہباز ندوی صاحب کا تبصرہ صفحہ ۵۹ مجھے خوب پسند آیا۔ آپ اس کو اپنے رسالہ میں شائع کرسکتے ہیں۔

محمد علاء الدین، ہزاری باغ

عظیم خواتین کا تذکرہ

آپ کے رسالہ کو میں نے پہلی بار دیکھا اور پڑھا۔ بے حد پسند آیا خواہش ہوئی کہ اپنی بچیوں کے لیے بھی اس کو جاری کراؤں تاکہ ان کی ذہنی و فکری تربیت میں مدد مل سکے۔

آپ کو ایک مشورہ یہ دینا چاہتا ہوں کہ تاریخ اسلام میں از ابتداء تا حال جن خواتین نے نمایاں کارنامے انجام دئے ہیں ان کے تذکرے اور خدمات پر مشتمل مضامین کا ایک سلسلہ شروع کریں۔ یہ ہماری نئی نسل کو حوصلہ دے گا اور اسلاف کے کارناموں سے بھی واقف کرائے گا۔

خالد منصور، بنگلور

مسلم معاشرہ کی دو شادیاں

آج مسلمان بھی شادی بیاہ میں غیر مسلموں سے پیچھے نہیں۔ مسلمانوں میں بھی غیر مسلموں کی طرح منگنی، بارات، جوڑے فرمائشیں، لین دین پر جھگڑے ہونے لگتے ہیں۔ شادی دو دلوں کو جوڑنے نئے تعلقات پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے مگر اب نمود و نمائش، فخر اور بڑائی جتانے کا ذریعہ بن گئی ہے۔

۹؍جون ۲۰۰۴ء کو ڈانگ ضلع پیلی بھیت یوپی میں دو شادیاں ہوئی جو سنجیدہ اور سمجھدار افراد کو دعوت فکر و عمل دیتی ہیں۔ ایک شادی جو تحریک اسلامی سے وابستہ ڈاکٹر عبدالجبار کی صاحبزادی شائستہ جمال صالحاتی کی علی گڑھ کے SIOکے ذمہ دار جناب محمد جنید صدیقی کے ساتھ بہت سادگی، ہر قسم کی نمود و نمائش، لین دین، جہیز اور دوسری غیر اسلامی رسموں سے پاک اور ہر کام وقت مقررہ پر، خوشگوار ماحول میں انجام پذیر ہوا۔ اسی تاریخ کو اسی بستی میں ایک اور شادی بھی تھی بارات گانے باجے اور اور ڈانس کی دھوم دھام سے ۳ بجے لڑکی کے گھر پہنچی جہیز لین دین پرجھگڑا ہوگیا اور نوبت مار پیٹ اور پولس تک پہنچی بعد ازاں خرابی بسیار صبح ۳ بجے رخصتی عمل میں آئی۔ دونوں شادیاں موضوع بحث بنی رہیں۔ پہلی کے متعلق لوگو ںکا خیال تھا کہ ایسی شادیاں ہونے لگیں تو مسلمانوں کی بہت سی برائیاں دور ہوسکتی ہیں۔ بعض نے کہا کہ ہم نے تو اس طرح کی شادی میں پہلی بار شرکت کی اور آج ہمیں نکاح کے بارے میں پوری واقفیت حاصل ہوئی کہ حضور ﷺ کس طرح نکاح پڑھاتے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس موقع پر غیر شرعی اور بے ہودہ رسموں کی وجہ سے لڑکیوں کی زندگیاں تباہ ہورہی ہیں۔ کتنی ہی دوشیزائیں ارمانوں کے ساتھ قبروں میں چلی جاتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملت کے اہل علم اور اصحابِ فکر وعظ و نصیحت کے ساتھ اسوئہ رسول اللہ ﷺ کے مطابق شادیوں کی تقریبات منعقد کرانے کی کوشش کریں اور غیر شرعی جاہلانہ طریقے پر ہونے والی شادیوں میں شرکت سے اجتناب کریں۔

عذراء اختر، جامعۃ الصالحات، رامپور

شیئر کیجیے
Default image
اصلاحی مضامین

تبصرہ کیجیے