4

نماز صحت کی ضمانت

نماز اللہ تعالیٰ کی محبوب اور پسندیدہ عبادت ہے۔ یہ تمام فرائض میں سب سے اولیٰ اور اہم ہے۔ چنانچہ جیسے ہی کوئی شخص دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اس پر سب سے پہلا فرض یہی نماز ہوتی ہے۔ اس فرض کی ادائیگی میں دولت، جسمانی صحت اور جنس کی بھی کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی ادائیگی ہر انسان پر چاہے امیر ہو یا غریب، توانا ہو یا اپاہج اور بیمار ہو یا صحت مند لازمی ہے۔ پانچ وقت اللہ تعالیٰ کی یہ شکر گزاری اور رب کی بندہ ہونے کی حیثیت سے فرمانبرداری ہر حال میں فرض ہے۔ اس میں کوتاہی یاتاخیر ناقابل معافی ہے۔ نماز کے ذریعہ بندہ ایک تو رب کائنات کا حق ادا کرتا ہے دوسری طرف انسان اپنی جسمانی اور روحانی صحت اور کامیاب زندگی کے لیے نظم و ڈسپلن کی زبردست تربیت حاصل کرتا ہے۔

جب ایک نمازی نماز کے لیے تیار ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ہر وقت پاک و صاف رکھتا ہے جبکہ پاکیزگی کو ایمان کا نصف قرار دیا گیا ہے اور یہ پاکیزگی انسانی زندگی کی صحت کی ضامن ہے۔ انسان جس قدر پاک اور صاف رہے گا، اپنے ماحول کو بھی اسی قدر پاک و صاف رکھے گا اور یقینا یہ ایسی بہت سی بیماریوں سے حفاظت کا ذریعہ ہوگا جو صرف گندگی کے سبب پیدا ہوتی ہیں۔

پانچ وقت نماز کی ادائیگی کے لیے کیے جانے والے وضو کی حکمت اور اس کے فوائد پر غور کیجیے اور ان لوگوں کا تصور کیجیے جو صبح کو نہا دھوکر اور خوشبو لگاکر نکلتے ہیں اور پھر شام کو تھکے ہارے لوٹتے ہیں۔ کتنی غلاظتوں اور گندگیوں کا ڈھیر ہوتا ہے ان کے جسم پر ناک، کان، سر اور منھ جیسے نازک اعضا کس قدر گندگی جمع رکھتے ہیں اپنے اندر۔ اور دوسری طرف وہ شخص ہے جو دن میں پانچ مرتبہ وضو کرتا ہے۔ کتنی تازگی حاصل ہوتی ہے اسے اور کتنا صاف ستھرا رہتا ہے اس کا جسم اور اس کا پورا نظام تنفس اور منھ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اسے بہت بیماریوں سے محفوظ کرلیتا ہے۔ دیکھئے وضو کا نظام کتنا سائنٹفک ہے۔ لہٰذا کم از کم پانچ وقت وضو دن بھر میں کرنے سے انسان اعصابی نظام پاک بھی رہتے ہیںاور ترو تازہ بھی۔

اس کے علاوہ نماز اندرونی طور پر بھی صحت مندی کی ضمانت ہے۔ زندگی قدرت کا انمول تحفہ ہے اور اس انعام کی حفاظت انسان ہر ممکن طریقے سے کرتا ہے۔ اس حوالے سے کئی تحقیقات کی گئیں کہ انسان کس طرح خود کو بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

خواتین اور نماز سے متعلق حال ہی میں ایک سائنسی تحقیق سامنے آئی ہے جس کی رو سے عورتوں کے لیے نماز بہت مفید ہے اور اگر پابندی سے نماز کی ادائیگی کی جائے تو یہ دل کے امراض کے خطرات کو ختم کردیتی ہے اور یہ ورزش دوسری جسمانی ورزشوں کے برابر مفید ہے۔

یہ تحقیق اپنی نوعیت کی سب سے بڑی ریسرچ ہے جس میں نماز کو عورتوں میں دل کے امراض کے خطرات کو زائل کرنے کے لیے موثر بتایا گیا ہے۔ اس نئی تحقیق کے مطابق وہ عورتیں جو ہر ہفتہ کم از کم پابند وقت سے تین نمازیں ادا کرتی ہیں۔ وہ امراض دل سے خود کو محفوظ کرلیتی ہیں۔ تحقیق سے یہ رہنمائی بھی حاصل ہوتی ہے کہ اگر زیادہ نمازیں ممکن نہ ہوں تو کم از کم پورے دن میں صرف فرض نمازوں کی ادائیگی مناسب جسمانی محنت کا کام ہے۔ نماز ایک آسان فعل ہے اس میں نہ کچھ خرچ ہوتا ہے اور نہ کسی اہتمام کی حاجت ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ اس چیز کی شرط بھی نہیں ہوتی کہ اچھی خوراک اور کشادہ جگہ ہی نماز کے لیے منتخب کی جائے۔ یہ تحقیق اس حوالے سے اہم ہے کہ اس میں اس چیز کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو عورتیں ہفتے میں زیادہ تر نمازیں ادا کرتی ہیں ان کے ۳۰ سے ۴۰ فیصد ہارٹ اٹیک کے خطراب کم ہوجاتے ہیں۔ بہ نسبت ان عورتوں کے جو بیٹھے بٹھائے وقت گزار دیتی ہیں یا کاہلی کا شکار رہتی ہیں اور زیادہ وزن کی حامل ہوتی ہیں۔ اور دل کے امراض کے دوسرے عوامل کا شکار ہیں جیسے خون میں کولیسٹرول کی زیادتی وغیرہ۔

ان فوائد کے علاوہ سب سے بڑا فائدہ اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کا حصول ہے۔ اس کا ایک پہلو نفسیاتی اور روحانی سکون و اطمینان کا حصول بھی ہے جو ساری دنیا کے سونے چاندی کے بدلہ بھی نہیں خریدا جاسکتا۔ جو ان چیزوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ نماز کو اختیار کریں۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد سکندر، بانسبڑیا