6

میں پردہ کیوں کرتی ہوں

زیر نظر عنوان پر مشتمل مذاکرے پر لکھنے کے لیے جب میں نے قلم اٹھایا تو ذہن پر زور دے کر احسا ہوا کہ پردہ میں اس وقت سے کرتی ہوں جب مجھے اس بات کا شعور بھی نہیں تھا کہ میں پردہ کیوں کروں؟

البتہ شعوری زندگی میں قدم رکھنے کے بعد جب اپنے پیدا کرنے والے اور زندگی جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمانے والے کے عطا کردہ نسخہ ہدایت کو غور سے پڑھا تو پردے کے حوالے سے واضح احکامات نظر آئے۔ پس اس یقین اور اس ایمان نے کہ اس ہدایت نامے سے ہٹ کر یا اس سے روگردانی کرکے جو روش بھی اختیار کی جائے گی لازماً تباہی اور بربادی کا پیغام لے کر آئے گی، پردے کو مضبوطی سے تھام لینے کا عزم پیدا کرلیا۔

اور پھر، زندگی کے ایک ایک قدم نے یہ احساس دلایا کہ یہ فیصلہ کس قدر درست اور صحیح تھا۔ اپنے ارد گرد کے ماحول میں پردے کے معاملے میں لغزش کھانے کے برے انجام کا بھی بارہا مشاہدہ ہوا اور خدا کے اس اختیار پر ایمان پختہ تر ہوتا چلاگیا کہ بحیثیت خالق، وہی اپنی تخلیق کے لیے زندگی گزارنے کا لائحہ عمل مرتب کرنے کا سب سے بڑا حقدار ہے۔

بحیثیت عورت مجھے ہمیشہ یہ احساس رہا کہ پردہ میری فطرت کی پکار ہے، جو عورت اپنی فطرت کی اس پکار کو کچلتی ہے وہ سب سے پہلے نسوانیت کے جوہر سے محروم ہوجاتی ہے اور پھر اپنے خالق کی ناراضگی مول لے لیتی ہے۔

خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس معاملے میں اتنی حساس تھیں کہ انھوں نے تاکید کررکھی تھی: ’’میرا جنازہ بھی رات کو اٹھایا جائے مبادہ کسی نامحرم کی نظر میرے جنازے پر نہ پڑجائے۔‘‘ میرے خیال میں یہ احساس ہر عورت کی فطرت میں ودیعت کردیا گیا ہے اور عورت جب کوئی قدم اس کے خلاف اٹھاتی ہے وہ اپنی فطرت سے دور بھاگتی چلی جاتی ہے۔

ایک دفعہ سیدہ فاطمہؓ سے آپ کے والد گرامی سرور کونین ﷺ نے پوچھا: ’’اے فاطمہ! تمہارے خیال میں بہترین عورت کی کیا صفت بیان کی جاسکتی ہے؟‘‘

سیدہ فاطمہؓ نے جواب دیا: ’’ابا جان! میرے خیال میں تو بہترین عورت وہ ہے جس نے نہ خود کسی نامحرم کو دیکھا ہو نہ اسے کوئی نامحرم دیکھ پایا ہو۔‘‘

طاغوتی عناصر جب عرصہ دراز تک اسلام کے خاندانی نظام کی مضبوطی اور اس کی اخلاقی ہیبت اور عظمت سے خائف رہنے اور دبے رہنے کے بعد اس پر نقب لگانے کے لیے سازشیں کرنے لگے تو انھوں نے سب سے پہلا وار مسلمان عورت کے پردہ پر کیا۔ اس وقت بے پردگی اور فحاشی کا جو طوفان مسلم ممالک میں نظر آتا ہے، آج سے چند برس پہلے اس کا تصور بھی محال تھا۔ استعماری طاقتوں نے اپنی پلاننگ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یورپ اور غیر اسلامی ممالک سے اخلاق باختہ خواتین کو لا لا کر اسلامی ممالک میں چلت پھرت کروائی، ترقی اور روشن خیالی کے نام سے ان کے بے پردہ اور بیہودہ فیشن کو اسلامی معاشرے کی خواتین میں رائج کرنے کے لیے استعمار نے کمزور اخلاق کے مسلمانوں کا اچھا خاصا حصہ اپنا ہم سفر بنالیا۔ ترقی پسندی اور روشن خیالی کے نام سے اٹھنے والے ’’ثقافت‘‘ کے ریلے نے ہماری اخلاقی قدروں کا جنازہ نکال دیا۔ اعلیٰ اخلاقی قدروں کا حامل گروہ جو مقابل کے طور پر موجود تھا، بدقسمتی سے جمود کے خول میں بند، نئے تقاضوں اور نئے ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے کے سامان سے تہی تھا لہٰذا پسپا ہوتا چلا گیا اور آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہمیں اپنی اخلاقی قدروں کے جنازے پر آنسو بہانے والے بھی دستیاب نہیں۔

مجھے یاد ہے جس کالج سے میں نے تعلیم حاصل کی، با پردہ لڑکیوں کی تعداد وہاں انگلیوں پر گنے جانے کے قابل بھی نہ تھی اور یہ ہمارے ملک کے ہر تعلیمی ادارے کا حال ہے۔ یہ ساری تبدیلی پچھلی ایک، ڈیڑھ دہائی میں ہی رونما ہوئی۔ ترقی پسندی کا ریلہ ’’ترقی‘‘ جیسی چیز تو دکھا نہ سکا البتہ بے راہ روی، بے اخلاقی، عریانی، فحاشی اور بے مقصدیت کے بے شمار تحفے دے گیا۔

اسلامی تہذیب کا ملک ترکی، جس کے ماتھے پر گذشتہ صدی کے آغاز میں خلافت کا جھومر آویزاں تھا، استعماری ایجنٹ اتاترک کی آمد کے بعد وہاں حالات اس قدر تبدیل ہوگئے کہ صدی کے اختتام پر منتخب شدہ خاتون پارلیمنٹ کو صرف پردے کی وجہ سے رکن پارلیمنٹ تسلیم نہیں کیا گیا۔

’’مسلمان عورت‘‘ حجاب کے تصور کے بغیر، بظاہر یہ ایک انہونی سی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن وائے افسوس! ہر جگہ اس انہونی صورت حال سے واسطہ درپیش ہے۔ ہاں ایک تبدیلی، ایک خاموش انقلاب کی آہٹ ہر جگہ سنائی دیتی ہے اور معلوم یوں ہوتا ہے کہ جس طرح دس سال پہلے موجودہ صورت حال کا تصور ناقابل فہم تھا اسی طرح آنے والے چند برس ایسی تبدیلی لے کر آئیں گے کہ ساری کایا پلٹ جائے گی۔ ہر جگہ، ہر مقام اور ہر محاذ پر اسلامی اقدار، حیاء اور پردہ کی ترویج کے لیے ایک خاموش جدوجہد جاری ہے۔ جو بہت تیزی سے اپنا اثر دکھا رہی ہے۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ مسلمان عورت اپنی فطرت کی طرف تیزی سے پلٹ رہی ہے۔

اسلام کا ’’تصور حجاب‘‘ حدود و قیود کا ایک پورا ضابطہ مسلمان عورت کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے، جس میں نامحرم مرد سے بات کرتے ہوئے آواز کے لوچ تک کو کنٹرول کرنا شامل ہے، مبادا مخاطب کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوجائے۔ باپردہ عورت حجاب کی قیود کے ساتھ گھر سے قدم نکالتی ہے تو ہر قدم پر اسے احساس ہوتا ہے کہ نظروں میں اس کے لیے احترام موجود ہے۔ صرف مسلم معاشرے میں ہی نہیں غیرمسلم معاشرے میں بھی بعض بعض مقامات پر یہ صورت دیکھنے میں آتی ہے۔ چنانچہ ہماری جاننے والی ایک محترم خاتون جنھوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی۔ کی ڈگری حاصل کی ہے، کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کا چانسلر حسب قاعدہ ہر لڑکی سے مصافحہ کرکے ڈگری ہاتھ میں پکڑا رہا تھا، جب میری باری آئی تو میں نے چانسلر سے کہہ دیا کہ ’’ بے شک ڈگری مجھے نہ دی جائے لیکن میرا ہاتھ ہرگز ایک نامحرم کے ہاتھ کو نہ چھوئے گا۔‘‘

چانسلر ان کی خود اعتمادی سے ازحد متاثر ہوا بصد احترام ڈگری پیش کی اور پورے مجمع کے سامنے ان کی اپنے مذہبی اصولوں کے احترام کے لیے روئیے کی تعریف کی۔

شیئر کیجیے
Default image
خدیجہ صہیب، ریاض

تبصرہ کیجیے