2

قصہ ایک تعزیت کا

امی جان سخت بیمار تھیں۔ ہم سب پریشان تھے۔ ایک دن ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ اسی حالت میں کسی نے ان کو بتادیا کہ آپ کی فلاں ملنے والی عورت کے باپ کا انتقال ہوگیا ہے۔ جب انھیں کچھ سکون ہوا تو پہلی بات یہی کہی: ’’سکینہ بہن کے باپ کا رات کو اتنقال ہوگیا۔ میں تو نہیں جاسکتی۔ ذرا تم ہی چلی جاؤ۔ تاکہ وہ لوگ برا نہ مانیں۔ شادی میں نہ جاؤں تو کوئی حرج نہیں لیکن غمی کو نہیں چھوڑا جاسکتا۔ آتے وقت میری طرف سے معذرت بھی کردینا کہ وہ ضرور آتیں مگر بیماری نے مجبور کردیا۔‘‘

میں پہلے تو جھجکی، کیوں کہ آج تک کبھی ایسی جگہ نہ گئی تھی۔ لیکن اس خیال سے کہ انکار کیا تو امی کی صحت پر برا اثر پڑے گا۔ جانے کے لیے تیار ہوگئی۔

جب میں وہاں پہنچی تو جنازہ جاچکا تھا۔ کچھ عورتیں خاموش تھیں اور کچھ رو رہی تھیں۔ میں بھی ایک کونے میں جاکر بیٹھ رہی۔ خیال تھا کہ مرحوم کی مغفرت کے لیے دعا مانگی جائے گی۔ اس کی زندگی یا موت پر کچھ بات چیت ہوگی۔ مگر وہاںاس قسم کے کوئی آثار نہ دیکھے۔ رونے دھونے سے فراغت پاکر سب عورتیں ٹولیوں میں بٹ گئیں اور پھر شادی بیاہ، لڑائی جھگڑے، شکوے شکایت اور غیبت و عیب جوئی کا وہ بازار گرم ہوا کہ توبہ بھلی۔

میں نے پاس بیٹھی ہوئی عورت سے جو اپنی بہو کی سات پشتوں کو گالیاں دے رہی تھی، پوچھا کہ مرحوم کب سے بیمار تھے، کیا بیماری تھی۔ اس نے قہر آلود نظروں سے مجھے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو، میں تو اپنی بات کررہی تھی بھلا ایسے سوال کا کیا موقع تھا۔ پھر روکھے پن سے جواب دیا: ’’کچھ پتہ نہیں، پرسوں ان کا خط گیا تھا کہ سخت بیمار ہیں اور بس۔‘‘ میں ان کا منہ تکتی رہ گئی۔ اور وہ پھر ماتم کی چٹائی پر بیٹھی بہو کے میکے والوں کو کوسنے لگی۔

کمرے میں ہر طرف کھسر پھسر ہورہی تھی، کوئی گھریلو جھگڑے لیے بیٹھی تھی، کوئی خرچ پر بحث کررہی تھی۔ کوئی مہنگائی پر تبصرہ کررہی تھی تو کوئی ہمسائے کا رونا رورہی تھی۔ غرض وہاں سب کچھ ہورہا تھا۔ ہر ایک بات موضوع بحث تھی لیکن اگر کوئی بات نہیں ہورہی تھی تو وہ موت کی بات تھی۔ میں غور سے سب کی طرف دیکھ رہی تھی کہ اچانک کمرے میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ دیکھتی کیا ہوں کہ ایک برقعہ پوش عورت مرحوم کے کسی رشتہ دار سے چمٹی زارو قطار رو رہی ہے۔ سب نے اپنی اپنی داستان بند کردی۔ اور ان دونوں کو دیکھنے لگیں۔ دونوں عورتیں ایک دوسرے کے ساتھ لپٹ کر کچھ دیر زور زور سے روتی رہیں اور پھر آہستہ آہستہ یہاں تک کہ چپ ہوگئیں اور کمرے میں گہرا سکوت چھاگیا۔ آنے والی عورت اسے چھوڑ کر برابر والی عورت کی طرف بڑھی اور اس کے گلے میں باہیں ڈال دیں۔ کمرہ پھر چیخوں سے گونجنے لگا۔ پہلی عورت جو روچکی تھی بڑے اطمینان سے بیٹھ گئی۔ جیسے اس کا فرض ادا ہوچکا ہے۔ دوسری دونوں پہلے زور سے پھر آہستہ روتی رہیں اور پھر خاموش ہوکر ایک دوسرے سے جدا ہوگئیں۔ آنے والی اب تیسری عورت سے چمٹ گئی اور رونے دھونے کا وہ ہنگامہ بپا ہوا کہ خدا کی پناہ۔ پہلی دونوں عورتیں بیٹھی مزے سے باتیں کررہی تھیں۔ اب یہ حال تھا کہ کمرے میں مرحوم کی جتنی رشتہ دار تھیں ان میں سے ہر ایک یہی چاہتی تھی کہ آنے والی پہلے اس سے مل کر روئے تاکہ اس کا کام ختم ہوجائے۔ جب وہ ایک عورت کو چھوڑتی تو مزید دو عورتیں اپنی باہیں آگے بڑھا دیتیں۔ وہ کسی خوش قسمت کے ساتھ چمٹ جاتی اور رونے دھونے کا پروگرام نئے سرے سے شروع ہوجاتا۔ جو عورتیں اس اہم کام سے فارغ ہوجاتیں وہ اطمینان سے اپنی باتوں میں لگ جاتیں تقریباً آدھ گھنٹہ یہ شور جاری رہا۔ کبھی زیادہ کبھی کم آنے والی تھک چکی تھی کیونکہ اسے ہر ایک کے ساتھ علیحدہ چمٹ کر پوری شدت کے ساتھ رونا پڑ رہا تھا۔ آخر وہ تھک ہار کر بہت سی بڑھی ہوئی باہوں کو نظر انداز کرکے بیٹھ گئی۔

خیال تھا کہ وہ اس کے بعد ضرور مرنے والے کی بابت پوچھے گی۔ مگر جوں ہی اس نے آنکھیں پوچھیں، پہلی بات یہ تھی۔ ’’تمہارا گھر عجیب جگہ واقع ہے۔‘‘ ڈھونڈنے میں بڑی دقت ہوئی۔ بجو کے ابا بیمار تھے۔ نہیں تو وہ ساتھ آتے۔ کل ہمسائے کا مقدمہ تھا۔‘‘ جو عورتیں پاس بیٹھی تھیں انھوں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور مکان پر گرما گرم بحث شروع ہوگئی۔

ان باتوں میں میں اتنا کھوگئی کہ امی کی دوا کا وقت بھی گزر گیا۔ جب مجھے وقت کا پتا چلا تو گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ کمرے میں مختلف موضوعات پر باتیں ہورہیں تھیں۔ ہر ٹولی کی گفتگو میں غیبت کا پہلو نمایاں تھا۔ اور وہ دنیا وما فیہا سے بے خبر اس اچانک ملاقات کا پورا پورا فائدہ اٹھانے میں مصروف تھیں۔ میں نے امی جان کی طرف سے معذرت پیش کرتے ہوئے جانے کی اجازت مانگی۔ سارے راستے میں اس پر سوچتی آئی۔

گھر آکر سب حال امی کو کہہ سنایا۔ انھوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’تیرے چہرے پر حیرانی کیسی ہے؟‘‘ مجھے تعجب ہوا کہ ساری بات سننے کے بعد بھی امی جان میری حیرانی پر متعجب نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں تو جوان جوان موتوں پر بھی اس سے زیادہ عجیب عجیب باتیں ہوتی ہیں۔ یہ مرنے والا تو پھر بوڑھا تھا۔

تمام رات مجھے یہ خیال ستاتا رہا کہ ہم لوگ اپنی عاقبت سے کتنے بے خبر ہیں۔ ہمارے سامنے ایک اچھا بھلا انسان باتیں کرتے کرتے ہمیشہ کے لیے خاموش ہوجاتا ہے اور ہم خود اپنے ہاتھوں اسے مٹی میں دبا آتے ہیں۔ مگر ایک لمحہ بھی یہ خیال نہیں آتا کہ نہ جانے اسی طرح ہمارا بھی کس وقت بلاوا آجائے۔ نہ جانے کیوں لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھ کر بھی ہم یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ یہ اور یہی لوگ ہیں جو مرجاتے ہیں۔ ہمیں تو شاید موت آہی نہیں سکتی۔ نصیحت اور عبرت حاصل کرنے کے ان قیمتی لمحات کو رونے پیٹنے اور دنیاوی باتوں، غیبتوں اور دوسروں کی برائی کرنے میں ضائع کردیتے ہیں اور ایسے مواقع سے کچھ حاصل کرنے کے بجائے الٹا کچھ کھوکر ہی آتے ہیں۔ کاش! ہم غور کرتے۔

شیئر کیجیے
Default image
سعیدہ اقبال

تبصرہ کیجیے