2

تمناؤں کا خون

فرحانہ کو یوں لگا جیسے اس کی نگاہوں کے سامنے بجلی کوند گئی ہو۔ پھر … اس کے بعد ہر طرف تاریکی ہی تاریکی پھیل گئی ہو اور کچھ سجھائی ہی نہ دیتا ہو۔ یا پھر قریب بالکل قریب اچانک ٹائم بم پھٹ گیا ہو اس کا نازک سا وجود لرز کر رہ گیا ہو۔ معصوم دل کھنڈر بن گیا ہو ہاں، کھنڈر ہی تو… اس پر اب کبھی کوئی آرزوؤں اور امیدوں کا محل تعمیر نہ ہوگا۔ کھنڈر اب سدا کھنڈر ہی رہے گا۔ اس کی زندگی اب ہمیشہ ہمیشہ یونہی تاریکیوں اور ویرانوں میں بھٹکتی رہے گی۔ یہ اس کا جیسے مقدر ہوچکا ہے۔ اس کی زندگی جو ایک بے آب و گیاہ صحرا کی طرح ویران اور جھلسا دینے والی مسموم ہواؤں سے معمورتھی۔ اس صحرا میں بھلا شبنم کی ٹھنڈک، آرزوؤں کی مہک، امیدوں کی کلیاں کبھی جنم لیں گی؟…… کبھی نہیں۔

اُف وہ سسک پڑی اس کی متوحش ویران آنکھوں سے بے شمار موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے رخساروں پر بہ گئے۔ دماغ بھٹی بن گیا… ہائے یہ زندگی یہ ویرانیاں… موت جانے کہاں جا چھپی ہے۔ فرحانہ مسہری پر پیٹ کے بل لیٹ گئی۔ منہ تکئے میں چھپالیا۔ اس گورے گورے فرنگیوں جیسے خاندان میں جب وہ پیدا ہوئی تو سب کے منہ مارے حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔لال بوٹی… مسز بشیر حسین ترین عورت تھیں۔ بشیر بھی گندمی رنگ کے وجیہ مرد تھے۔ پر یہ کالی کلوٹی بچی۔ جیسے پرائی اولاد گود میں لے لی۔ اس سے پیشتر ہونے والی دونوں لڑکیاں خاصی خوبصورت تھیں۔

مسز بشیر نے کراہت سے منہ پھیر لیا۔ نرس نے نہلا دھلا کر گود میں دی تو صاف انکار کردیا۔

’’پٹک دو سسٹر۔ میری گود انہی کلموہیوں کے لیے وقف ہوگئی۔‘‘

’’اے ہے ریحانہ خدا کی ناشکری نہ کر۔ اگر وہ یہ بھی نہ دیتا تو؟…… پیدا ہوتے ہی ایسے خیالات لائے گی تو بچی سدا دکھی رہے گی۔ خبر ہے تجھے ماں کا پہلا خیال اس کا مقدر ہوتا ہے۔ تجھے بری لگے تو لاؤ میرے ناصر کو دے دو۔‘‘ نعیمہ خالہ نے اسے چھاتی سے لگاتے ہوئے کہا۔

’’ہاں باجی! ابھی سے لے لو۔‘‘ ریحانہ نے جیسے اپنا پنڈ چھڑایا۔

ریحانہ نے متواتر دو دن دودھ نہ پلایا۔ بس رو رو پڑتیں۔ ’’ان بیٹیوں نے میرا ہی گھر دیکھ لیا۔‘‘ یوں فرحانہ کے لیے مامتا کی ٹھنڈک کی جگہ نفرت نے لے لی۔ جو ہر سمے دہکتی رہتی۔

ریحانہ کے وہم و خیال میں بھی نہ تھا کہ اس دفعہ بھی لڑکی ہی پیدا ہوگی۔ ان کے تصورات میں تو نجمہ کے بیٹے ایک ایک کرکیچھئے کے چھئے آکھڑے ہوتے۔ انھیں یوں لگتا کہ نجمہ مئی جون کی گرمی میں کسی برف خانے میں آرام سے بیٹھی ہوں۔ ’’سچ ہے جس کے بیٹے اسے کاہے کا غم۔ مرن تو بیٹیوں والے کا ہے۔ مثل ہے بیٹی پرایا دھن۔ پیٹ بھی خالی گھر بھی خالی۔‘‘ گھر کی آبادی بیٹوں کے دم سے ہے۔ ریحانہ افسردہ سی ہوجاتی۔

البتہ بشیر صاحب نے اس کا بھی اگلی دونوں بیٹیوں کی طرح خیر مقدم کیا۔

’’اجی بیٹی بیٹا کاہے کا، سب اپنے اپنے مقدر لاتے ہیں۔ نصیبہ اچھا ہو۔‘‘ انھوں نے فرحانہ کو بھینچ کر کلیجے سے لگالیا۔

فرحانہ اس نفرت و محبت کے عجیب امتزاجی ماحول میں پرورش پانے لگی۔ ابھی وہ صرف سال بھر کی ہوئی تھی کہ ریحانہ کے تین لڑکیوں پر لڑکا پیدا ہوگیا۔ باپ کی تھوڑی بہت محبت بھی اس سے چھن گئی۔ اور وہ ذہنی طور پر یتیم بن گئی۔

دوسری بہنیں اسے اپنے آپ سے بہت افضل دکھائی دیتیں۔ فرقان… فرقان تو پھوٹی آنکھ کا دیدہ تھا۔ کوئی اس کی طرف دیکھ تو لے۔ اس کی وجہ سے فرحانہ پر تو اکثر پھٹکار پڑتی رہتی۔ ذرا اس نے ہاتھ لگایا۔ ماں کے لال فرقان نے بسورا اور اس پر لتاڑیں پڑیں۔

’’اری کلموہی ہٹ اس کے پاس سے، نہیں تو یہیں سے لکڑی اٹھا کر پھینکوں گی۔‘‘

وہ سہم جاتی، پھر وہ سوچتی۔ جانے میری امی کہاں گئیں۔ یہ تو فرقان کی امی ہیں اور پھر باجی اور آپا کی۔ انھیں جب ہی تو پیار کرتی ہیں۔ ٹافیاں دیتی ہیں، پھر جب ہی تو وہ سب امی کی طرح گورے بھی ہیں۔ مگر وہ اپنے ان خیالات کا کبھی اظہار نہ کرتی۔ بس چپ چاپ گم سم دور خلا میں گھورنے لگتی۔ کبھی کبھی چپکے چپکے اللہ میاں سے دعا مانگنے لگتی۔ اللہ میری امی کو بھیج دو۔

’’امی جی! منا ٹافی بھی کھارہا ہے اور ایک روپیہ بھی لے لیا ہے۔ ہم بھی لیں گے۔‘‘ وہ خوشامدانہ انداز میں کہتی۔

’’چل چل پرے ہٹ۔ تو تو ہر وقت گھر میں مری رہتی ہے۔ وہ پڑھنے جاتا ہے۔‘‘ ریحانے کے لہجہ میں حقارت ہوتی۔

محبت کی بھوکی فرحانہ خود ضد کرکے اسکول جانے لگی۔ ’’باجی رفو میں بھی اسکول جاؤں گی۔‘‘ اس نے بڑی لجاجت سے کہا۔

تب رفو اور نمی اسے اپنے ساتھ اسکول لے جانے لگیں۔

’’اوں… اوں ہم بھی موٹر لیں گے۔ منے کو جو دلائی ہے۔‘‘ فرحانہ ٹھنکنے لگی۔

’’اے کم بخت منحوس! بیٹے کی ذات کی برابری کرے گی۔‘‘ ریحانہ کاٹ کھانے والے انداز میں بولیں۔

ننھی فرحانہ کو یوں لگا جیسے چڑھتی ہوئی موجیں اک دم سنسنا کر بیٹھ گئی ہوں۔ اور اس میں اس کا اپنا وجود بیٹھے بیٹھے تلی میں جا لگا ہو۔ اسے پہلی مرتبہ اپنے آپ سے نفرت پیدا ہوئی۔ اس کا منا سا دماغ اس تفریق پر الجھ کر رہ گیا۔ پھر وہ کھوئی کھوئی رہنے لگی۔ اس کی سوچوں کا سلسلہ لا متناہی تھا۔ رفو اور نمی سے ریحانہ کا یہ سلوک نہ تھا۔ بس اسے تو ازلی بیر تھا تو فرحانہ سے۔ ریحانہ کو اس کے سانولے رنگ پر بھی شدید اعتراض تھا۔ اگر وہ کھیلتی تو اس کے کانوں میں ماں کی چنگھاڑتی ہوئی آواز سنائی دیتی۔

’’اری منحوس کدکڑے پھرتی پھر رہی ہے۔ کچھ کام نہیں کرے گی۔‘‘ پھر وہ روہانسی ہوکر کہتیں: ’’اے اللہ میری لاج رکھ لینا۔ یہ تو ضروری میرا جنم تھکائے گی۔ دن بدن بڑی ہورہی ہے اور میرا خون خشک ہورہا ہے۔ کون بیاہے گا اسے… کچھ بھی تو سلونا پن نہیں۔ بالوں میں گھنگھر، لگتا ہے بھیڑ کے بال ہوں۔ چہرہ دیکھو تو عجیب ہونقوں جیسا۔ چال دیکھو تو بے ڈھنگی۔‘‘

فرحانہ سہم کر مجرموں کی طرح سرجھکاکر کھڑی ہوجاتی۔ رفتہ رفتہ وہ تنہائی پسند ہوتی گئی۔ دوسروں کے چہروں پر اسے درندگی و سفاکی نظر آنے لگی۔ اس کی کوئی ہمجولی نہ تھی۔ نہ کوئی دوست و غمگسار۔ فرحانہ مشینی انداز میں زندگی بسر کررہی تھی۔ اسکول، گھر، کھانا پکانا، پڑھنا… وہ اتنا کم کھاتی کہ دوسرے لامحالہ اس کی طرف متوجہ ہوجاتے… اب… کچھ عرصہ سے گھر میں اس کے لیے متنفرانہ باتیں نہ ہونے کے برابر ہوگئی تھیں۔ بلکہ اس کی ماں اس کے ہر وقت کمرے میں گھسے رہنے پر نکتہ چینی کرتی اور اس کی صحت کی فکر کرتی۔ بلکہ دوسروں سے اس کی تعریفیں کرتی مگر… وہ اب ان سب باتوں سے لا تعلق اور اپنی لامتناہی سوچوں میں گم رہتی جنھیں بسا اوقات وہ خود بھی نہ سمجھ پاتی۔

جانے کیا بات تھی جب وہ زور سے ہنستی تو آنسو نکل آتے۔ کسی سے بات کرتی تو ہکلا ہکلا کر ٹھہر ٹھہر کر۔ ماں کی باتوں میں اسے بناوٹ زیادہ، محبت کم نظر آتی۔ بلکہ اسے یوں لگتا کہ وہ ماں باپ کے اوپر ایک بوجھ ہے۔ جسے وہ کسی صورت اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ فرحانہ کو دکھ ہوتا۔ جی چاہتا اپنے وجود کو اٹھا کر کہیں ایسی جگہ لے جائے جہاں وہ کسی پر بار نہ بنے۔ انہی دنوں اس کی دونوں بڑی بہنوں کی شادی ایک ساتھ ہوگئی۔ اس طرح فرحانہ بالکل اکیلی رہ گئی۔ اس کا احساس تنہائی شدید سے شدید تر ہوگیا۔ البتہ شادی میں آئی ہوئی خالہ نعیمہ اور ان کا نحیف و نزار بیٹا ناصر کچھ عرصے کے لیے یہیں ٹھہر گئے۔ ناصر حال ہی میںتعلیم سے فارغ ہوا تھا اور چاہتا تھا یہیں کوئی اچھی ملازمت مل جائے تو یہیں رہنے لگیں۔ نعیمہ کو اپنے کہے ہوئے الفاظ یاد تھے۔ انھوں نے ریحانہ کو وہ واقعہ یاد کرایا تو وہ مسکرادیں۔ ’’آپا میں بھی کیا پاگل بن گئی تھی۔ اب دیکھو فرقان کون سا مجھے نہال کررہا ہے۔‘‘

مگر وہ دل ہی میں خوش ہوئیں… آپا اپنے وعدے سے پھریں نہیں۔ وہ دن بھر سوچتی رہیں کہ ناصر بڑا نیک لڑکا ہے۔ سنجیدگی، وقار اور علمی گیرائی اس کی شان ہیں۔ انھوں نے سوچا کہ وہ اس کی بلندیٔ اخلاق سے بات شروع کریں گی اور اپنے شوہر کو قائل کرلیں گی۔ اس لیے کہ وہ بھی ناصر کی ان خوبیوں کے معترف ہیں۔ پھر رات کو انھوں نے اپنے شوہر کو بھی چپکے سے یہ خوشخبری سنادی: ’’سنتے ہیں۔ آپا فرحانے کو مانگ رہی ہیں۔‘‘

’’لاحول ولا قوت…‘‘ لیکن یہ کیا بشیر صاحب تو بھنا اٹھے۔ ’’یہ کیا لغویت شروع کردی۔ کمانے کا نہ کھانے کا۔ نکھٹو۔ حالت دیکھو تو مرجھلاّ۔ شکل مریضوں کی سی۔‘‘ بشیر صاحب نے سو عیب نکال دئے۔ حالانکہ کل تک وہ خود اس کی تعریف کرتے تھے۔ ریحانہ دل ہی دل میں کڑھ کر رہ گئیں۔ بھلا اس سے اچھا اور کوئی پیغام آئے گا ان کی چہیتی کے لیے۔ مگر اس وقت وہ چپ ہی رہیں۔ پھر کسی وقت بات کروں گی انھوں نے سوچا۔

ناصر دیکھنے میں دبلا پتلا اور خاموش طبع آدمی تھا۔ گفتگو مختصر کرتا، کیونکہ ابھی ابھی تعلیم مکمل کی تھی اور نوکری کی تلاش میں تھا اس لئے ہمیشہ کتاب کھولے پڑھتا رہتا اور کسی قدر پریشان بھی نظر آتا تھا۔

فرحانہ کو اس سے ہمدردی سی ہوچلی تھی۔ اسے لگتا تھا جیسے وہ بھی اسی کی طرح ایک دکھی انسان ہو۔

اچانک ایک شدید طوفان آیا۔ اور اس طوفان نے گویا فرحانہ کی زندگی اپنی لپیٹ میں لے لی اور اور اس کی بہار نہ دیدہ زندگی میں خزاں کی شروعات ہونے لگی۔

فرید خان کے لڑکے کا پیغام فرحانہ کے لیے اس کے والد کے ایک دوست لے کر آئے تھے۔ وہ فرید خان کو خود تو اچھی طرح نہ جانتے تھے مگر ان کے نام سے واقف تھے۔ ان کا لڑکا کیا تھا بس دیکھتے جائیں۔ صحت مند، تعلیم یافتہ اور بڑا مہذب دکھائی دیتا۔ وہ تھائی لینڈ میں رہتا تھا اور بنکاک میں مقیم تھا۔ بس بشیر صاحب لٹو ہوگئے۔ تعلیم، پرسنالٹی اور اس کی نوکری کو دیکھ کر ان کی نگاہیں خیرہ ہوگئیں کہنے لگے وہ تو فرحانہ کو ساتھ لے جائے گا اور وہ بھی تھائی لینڈ میں رہے گی۔ اور پھر انھوں نے اس کے ذہن فکر اور اخلاق و عادات کے بارے میں کوئی بھی معلومات حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

آخر ایک دن وہ دلہن بن کر شہنائیوں کے درمیان فرید خان کی آبائی حویلی میں وارد ہوگئی۔ خالہ نعیمہ خفا ہوکر اپنے گھر چلی گئیں۔ ناصر کو ملازمت مل گئی۔

کچھ دن اپنے وطن میں گزرانے کے بعد وہ بنکاک جانے کی تیاریاں کرنے لگے۔ وہ خوش تھی کہ بنکاک جائے گی اور تھائی لینڈ دیکھے گی۔ اس کی یہ خواہش پوری ہوئی اور وہ ایک اچھے اور خوبصورت فلیٹ میں فروکش ہوئی۔

اب وہ کام پر جانے لگا۔ اور دوچار دن بعد ہی اس نے لیٹ رات گئے آنا شروع کردیا۔ فرحانہ پوچھتی تو کہہ دیتاکام بہت ہے۔ گھر جانے کے سبب بہت ساری فائلیں پنڈنگ ہیں۔ اس لیے بہت دیر ہوجاتی ہے۔ آج رات اس نے خوب میٹھی میٹھی باتیں کیں اور کل ایک ایسے تحفہ کا وعدہ کیا جس کا بہ قول اس کے وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔

حسب معمول وہ آج بھی تاخیر سے آیا اور کھانے کے بعد جب وہ سونے کی تیاری کرنے لگے تو اس نے گفٹ پیک اسے پیش کیا۔ آج وہ عجیب عجیب باتیں کررہا تھا۔ وہ حیران تھی اور کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔ اس نے وہ پیکٹ اس کے ہاتھ سے لے لیا اور کہا لاؤ میں کھولتا ہوں۔

فرحانہ یہ دیکھ کر بھنا اٹھی کہ اس میں قیمتی شراب کی ایک بوتل تھی۔ جسے وہ اس کے منھ سے لگانے کی کوشش کررہا تھا۔ اس نے اس کے ہاتھ سے بوتل لے لی اور زور سے اسے فرش پر پٹخ دیا۔ شراب فرش پر بہنے لگی اور شیشی کے کرچے فرش پر دورتک بکھر گئے۔

فرش پر پڑی یہ شراب اس کی تمناؤں کا خون تھی اور شیشی کے کرچے اس کے خوابوں کے محل کا ملبہ ۔ وہ گم سم سوچ رہی تھی۔ تمناؤں کے اس خون اور خوابوں کے محل کی اس تباہی کا سبب کون ہے۔ والدین کی جھوٹی ناک اور سطحی سوچ نے اس کی زندگی کو تباہ کردیا تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
عائشہ صدیقہ

تبصرہ کیجیے