3

شہلا کی رخصتی کے موقع پر

شہلا پیاری، خوش آباد رہو، ازدواجی زندگی کی مسرتوں سے مالا مال رہو۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، مہینوں سالوں کی تمنائیں بار آور ہوئیں۔ تمہاری شادی کا پیغام مسرت کا مژدہ لایا۔ ہم سب اس خوشی سے کھل اٹھے۔ اگرچہ تمہاری شادی میں شریک نہ ہوسکنے کا غم ہم سب کو ہے مگر اس سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ یہ تقریب انتہائی سادگی سے منائی جارہی ہے۔ اور تمام فضولیات سے اجتناب کیا جائے گا۔ بہر صورت ہماری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔

پیاری بہن! تمہاری شادی کا پیغام جہاں ہمارے لیے خوشی کا سامان ہے وہیں اشکوں کا طوفان ہے۔ ایک طرف فرط مسرت سے دل نہال ہے۔ دوسری طرف فرط غم سے دل بے قرار ہے۔ ایک طرف غنچہ دل شگفتہ ہوا تو دوسری طرف آنکھوں سے اشکوں کی جھڑی لگ گئی۔ جو روکے نہیں رکتی— آہ— میری بہن تو اب ہم سے اپنی عزیز سہیلیوں سے، اپنے تمام اعزاء سے اور اپنے والدین کی شفقت آمیز سرپرستی سے جدا ہونے جارہی ہے۔ مگر کیا کیا جائے قانون قدرت یہی ہے۔ اللہ کی مشیت یہی ہے۔ ہر لڑکی کو اس منزل سے گذرنا ہے اور اپنا گھر چھوڑ کر دوسرے کے گھر کو نہ صرف بسانا بلکہ اپنانا ہے۔

شہلا بہن! آج تم اس چمن سے نکالی جارہی ہو جہاں پروان چڑھ کر اتنی بڑی ہوئی ہو اور اس چمن میں لے جاکر بٹھائی جاؤگی جس کی آب و ہوا سے اور جس کے ماحول سے تم اب تک ناآشنا تھیں۔ اپنے گھر کی مانوس فضا سے نکل کر ایک نامانوس فضا میں قدم رکھنے جارہی ہوں جس کو یہی نہیں کہ تم نے کبھی دیکھنا نہیں بلکہ تمہارے ذہن میں اس کا قیاس تک نہیں۔ مگر اس تاریک تصور کے بالمقابل دوسرا اجاگر پہلو نہایت حوصلہ افزا ہے۔

اب تمہاری ذمہ دارانہ زندگی کا آغاز ہونے والا ہے، اب زندگی کی گاڑی کو اپنے شریک حیات کے کاندھے سے کاندھا ملاکر کھینچنا ہے دیکھو یہی اجنبی شخص تمہارا شریک حیات ہوگا۔ اس کی خوشحالی سے تمہاری خوشحالی۔ اس کی فلاح سے تمہاری فلاح اس کے غم سے تمہارا غم اور اس کے نقصان سے تمہارا نقصان وابستہ ہوگا۔ لہٰذا اگر تم کو اپنی آئندہ زندگی خوش گوار بنانی ہے تو خدا اور رسول کی تابعداری کے بعد اس کی تابعداری و خدمت کو مقدم رکھنا۔ اپنی رضا کو اس کی رضا پر قربان کردینا اور اس کے ہر جائز حکم کی اطاعت کرنا۔ تکلیف پہنچنے پر صبر اور راحت ملنے پر شکر ادا کرنا۔ اس کے گھر کی، اس کے سامان کی اور اس کے حقوق کی حفاظت کرنا۔ اس کے گھروالوں اور اعزا کی عزت کرنا۔ ان سے محبت کرنا۔ ان کے قلوب کو مسخر کرنا اپنا فرض سمجھنا۔ اپنے حسن اخلاق سے اپنے ماحول کو رام کرنے کی کوشش کرنا۔ یقین جانو اس طرح تم اپنی اس نئی زندگی میں کامیاب ہوگی۔ دین اور دنیا دونوں سنوار لو گی۔

مگر شہلا یہ جو کچھ میں نے تم کو ہدایتیں دی ہیں یہ سب ہی جانتے ہیں۔ مگر نفس ان ہدایات پر چلنے نہیں دیتا۔ شیطان ہر ہر قدم پر ڈگمگادیتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک ہی تدبیر ہے کہ اللہ اور رسول کی تعلیمات کو اپنا رہبر بنالو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بالکل شیطان کی حوالے نہیں کردیتا ہے بلکہ اپنے انبیاء کے ذریعہ ہر موقع پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اپنے آقا کے احسانات کو ذہن سے کسی وقت بھی فروگذاشت نہ کرنا۔ اور ہمیشہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا۔ خصوصاً بدمزگی کے موقعوں پر۔ مختصر یہ کہ حقوق اللہ و حقوق العباد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو سرانجام دینا۔ اور اطاعت و خدمت، تواضع و شفقت، ہمدردی و ایثار و قربانی کے جوہروں سے اپنی سیرت و کردار کو مزین رکھنا۔ اب تمہاری زندگی بالکل ایک نئے موڑ سے شروع ہوگی۔ بچپن سے لے کر اب تک کا زمانہ بے فکری اور غیر ذمہ داری کا تھا۔ تمہاری غلطیوں پر اظہار خفگی کم حوصلہ افزائی زیادہ تھی۔ کوتاہیوں کے اعلان کے بجائے پردہ پوشی کی جاتی تھی۔ اب ایک اجنبی شخص کے تحت پورے گھر کی ذمہ داریاں اس طرح سنبھالنا ہیں کہ جس میں ذی اختیاری کے ساتھ باز پرس زیادہ ہے۔ تم اس گھر کی مالکہ بننے کے ساتھ اس کی ہر امانت کے لیے مسئول ہوگی۔ اس موقع پر بھی تم کو دین کی ہدایات کو اپنے لیے مشعل راہ بنانا ہوگا جب ہی منزل مقصود پر پہنچنے میں کامیابی ہوگی۔

تمہارے والدین اور اعزاء تمہارے لیے کامیابی اور کامرانی کی دعائیں کررہے ہیں۔ تمہارے بار سے سبکدوشی نے ان کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی تمہارے کمزور کندھوں پر ڈال دیا ہے۔ اس بوجھ کے ساتھ ساتھ تمہیں آزادی اور خود مختاری بھی مل رہی ہے۔ لہٰذا کسی موقع پر بھی تم راہ اعتدال سے نہ ہٹنا۔ اور زندگی کے فریضہ کو نظر انداز کرکے جذبات کی راہ میں بہہ نہ جانا۔

شادی کی منظوری کے لیے عموماً چار باتیں پیش نظر رکھی جاتی ہیں۔ مال دولت، صورت شکل، سیرت و کردار، دین داری۔ آج کل لوگ عموماً مال و دولت ہی پر زندگی کو بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ مگر خوشی کی بات ہے کہ تمہارے لیے کئی رشتوں کے بعد جو رشتہ منتخب کیا گیا ہے اس میں سیرت اور کردار ہی کو ترجیح دی گئی ہے۔ ہم سب دست بہ دعا ہیں کہ تمہاری ازدواجی زندگی خوشیوں اور مسرتوں سے ہمکنار ہو اور دین و دنیا دونوں میں فلاح حاصل ہو۔

والسلام

تمہاری بہن

احمدی

شیئر کیجیے
Default image
ام صہیب

تبصرہ کیجیے