BOOST

غیب کی شہادت

قرآن حکیم میں اللہ کا فرمان ہے: ’’جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور راہ خدا میں اس کو خرچ نہیں کرتے، انھیں عذاب الیم کی بشارت دے دو۔ قیامت کے دن وہ سانپ کی شکل میں ان کی گردنوں میں ڈال دیا جائے گا جو ان سے کہے گا کہ ہم وہی خزانہ ہیں جسے تم جمع کرکے رکھتے تھے۔‘‘

اور حدیث نبویؐ ہے کہ یہاں اگر کسی کی بالشت بھر زمین بھی ہتھیالی گئی تو قیامت کے دن سات زمینوں کا بوجھ ہتھیانے والے کی گردن پر ہوگا، یا یہ کہ اونٹ اور بکری قیامت کے روزغاصب کی گردن پر سوار ہوں گے اور کہیں گے کہ ہمارا مالک فلاں ابن فلاں تھا، لیکن اس ظالم نے ہمیں چرا یا ہتھیا لیا تھا۔ ان اقوال مقدسہ کا تعلق بھی ایمان بالغیب اور آخرت سے ہے، لیکن بسا اوقات انسان اس دنیا میں بھی اپنی چشم سر سے ان فرمودات میں پوشیدہ حقیقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔

سرگودھا کی ایک پڑھی لکھی انتہائی حسین و جمیل لڑکی کے والدین وفات پاگئے جبکہ اس کا اکلوتا بھائی کمسن تھا۔ حقیقی خالہ نے نوجوان لڑکی اور کمسن لڑکے کو سنبھال کیا۔ لڑکی بی اے کرنے کے بعد جھنگ کے ایک بڑے زمیندار سے اپنی پسند کانکاح کر بیٹھی جبکہ لڑکا خالہ کے پاس رہ گیا۔ لڑکی خوبصورت اور پڑھی لکھی ہی نہ تھی بلکہ بہت تیز طرار اور ہوشیار بھی تھی۔ اس نے دیکھا کہ چھوٹا بھائی سیدھا سادا اور بدھو سا ہے تو وہ کھل کر کھیلی اور ماں باپ کی کروڑوں کی جائیداد پر قبضہ جماکر بیٹھ گئی۔ جھنگ سیال کے نواح کی جائیداد شوہر کی طرف سے موجود تھی اور سرگودھا کی زرخیز کھیتیاں اور انتہائی قیمتی شہری جائیداد والدین کی طرف سے ہاتھ آگئی، تاہم ہوس زر اور ہل من مزید کا تو کوئی ٹھکانہ نہیں۔ خالہ سمجھاتی رہی، لیکن اس خدا کی بندی نے کسی کی نہ مانی اور سادہ لوح چھوٹے بھائی کے حصہ کی جائیداد بھی عملاً ہتھیالی۔ سیدھا سادہ بھائی اس کے شاطرانہ ہتھکنڈوں کا مقابلہ نہ کرسکا اور قیام پاکستان کے آس پاس بالکل پاگل ہوکر سڑکوں پر نکل گیا اور پھر اسے بے بسی اور کسمپرسی کی موت نے آلیا۔

سرگودھا کی شہزادی نے جھنگ آکر شوہر کے نوابی محلات آباد کیے اور انہیں اپنی اور اپنے مظلوم بھائی کی بے پناہ دولت سے چار چاند لگادئیے۔ اس کی گود میں یکے بعد دیگرے دو لڑکوں اور ایک لڑکی نے جنم لیا۔

امیرانہ ٹھاٹ باٹ اور عیش کے باوجود تن آسانی اور ہوس دنیا سے جنم لینے والی ناآسودگی نے شہزادی کو وقت سے پہلے بوڑھا کردیا۔ وہ ذیابیطس کی مریضہ تھی جبکہ ۱۹۶۷ء میں اس کے گردے بھی جواب دے گئے۔ دونوں لڑکے ایچی سن کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے اور بچی کوئین میری اسکول کی طالبہ تھی۔ اس کے شوہر نامدار، اس کی ڈھلتی جوانی اور دولت کو بھول بھال کر اب ایک کسان کی بیٹی بیاہ لائے اور اسے ہنی مون کے لیے مری لے گئے تھے۔

شہزادی کی خالہ سے ہماری خاندانی جان پہچان تھی۔ یوں شہزادی اور اس کی زندگی کے نشیب و فراز میری نگاہ میں تھے۔ مئی ۱۹۶۷ء کے لگ بھگ میں پی اے ایف ہسپتال سرگودھا کی پرانی بلڈنگ میں اس کی تیمارداری کے لیے گیا تو اس وقت اس کا عالم نزع تھا۔ خالہ بیچاری پلنگ کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔ مجھے اور میری بیوی کو دیکھ کر اس نے ٹھنڈا سانس بھرا۔ میں نے دیکھا کے سکرات موت کے باوجود ادھیڑ عمر شہزادی کے حسین چہرے پر اجڑے حسن کی یادگاریں موجود تھیں۔ موٹی سیاہ آنکھیں، گول چہرہ، انتہائی گورا رنگ، صاف شفاف رخسار، پتلے ہونٹ اور خوبصورت سفید دانت آج بھی دلربائی کے انداز لیے ہوئے تھے، تاہم وہ اس وقت بے پناہ بے چینی میں مبتلا تھی۔ خدا معلوم اس آخری گھڑی میں اس نے سرخ لباس اور بانہوں، کانوں اور گلے میں سونے کے زیوارت کیوں پہن رکھے تھے؟

میرے سامنے وہ نیم بیہوشی میں پلنگ پر اٹھ بیٹھی اور اپنے تینوں بچوں اور شوہر کے نام لے کر انہیں بلانے لگی۔ بوڑھی خالہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ اسے تسلی دینے لگی۔ چند منٹ بعد وہ کرب کی حالت میں لیٹ گئی اور پھر اٹھ بیٹھی۔ اب اس کی آنکھیں پتھرانے لگیں اور اس کے چہرے پر خوف و اضطراب کے آثار نمایاں ہوئے۔ اس کے جسم سے ایئر کنڈیشنڈ کمرے کی سردی کے باوجود پسینہ پھوٹ بہا۔ اس نے چھت کی طرف گھبرائی ہوئی نگاہوں سے دیکھا اور خالہ کو مخاطب کیا: ’’خالہ! وہ دیکھو میرا بیوقوف بھائی مجھے لینے آیا ہے۔ اس کے ساتھ کوئی اور خوفناک شخص بھی ہے۔ خالہ انہیں میری چوڑیاں دے دو، انہیں میرے جھمکے اور گانی بھی دے دو، لیکن ان سے کہو کہ مجھے نہ لے جائیں۔ خالہ! میرے بھائی کو منائیں، وہ غضبناک نظروں سے مجھے دیکھ رہا ہے۔ خالہ! جلدی کریں، میرا زیور اس کے حوالے کرکے میری گلو خلاصی کرادیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پوری قوت سے اپنے جھمکوں اور گانی کو اتارنے کی کوشش کی لیکن خالہ نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔ شہزادی اسی وحشت و اضطراب کی حالت میں بیہوش ہوگئی اور پندرہ منٹ بعد نرس نے اعلان کیا کہ اس کی حرکت قلب بند ہوگئی ہے۔ یوں وہ اپنے ناراض بھائی اور اس کے خوفناک ہمراہی کی معیت میں کسی اور جہاں کی طرف سدھار گئی۔

٭٭٭

دوسرا مشاہدہ ایک اور زمیندار گھرانے کی صاحب حیثیت عورت کے متعلق ہے۔ وہ ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی اور اسے ورثے میں بہت بڑی جائیداد کے علاوہ ڈھیروں سونا اور نقد روپیہ ملا تھا۔ اسے شوہر اور اولاد سے واجبی سے دلچسپی تھی اور اصل محبت اور شغف سونے کے زیورات اور نقد کڑکتے نوٹوں سے تھا۔ روزانہ تین مرتبہ وہ تخلیے میں چلی جاتی اور اندر سے دروازہ بند کرلیتی۔ سمجھا یہ جاتا کہ وہ لباس تبدیل کرتی ہے، تاہم اس متواتر عادت سے شبہات بھی جنم لیتے تھے، چنانچہ ہم لڑکوں بالوں نے روشن دان سے دو تین مرتبہ جائزہ لیا تو یہ منظر دیکھا کہ بڑے صندوق کا ڈھکنا کھول کر وہ سیکڑوں رنگ برنگ نوٹ گن رہی ہے۔ ایک کارندے کی یہ ذمہ داری تھی کہ جو نوٹ گنتے گنتے پرانے اور خستہ ہوجاتے وہ انہیں کہیں سے بدلوالاتا۔ ابھی لوگوں کا بنکوں کی طرف اتنا رجحان نہیں ہوا تھا۔ یہ تقسیم کے وقت کی بات ہے۔ ان دنو ںہمارے علاقے میں چند لوگ ہی لکھ پتی تھی جن میں وہ ایک محترمہ بھی تھیں۔روپے خرچ کرنے سے اس عورت کو سخت کوفت ہوتی تھی۔ کوئی نیک خاتون اسے مشورہ دیتی کہ وہ اپنے نام کی مسجد بنوائے، کنواں کھدوائے یا بیواؤں اور یتیموں کی دیکھ بھال کرے تو یہ سنتے ہی اس کا چہرہ مکدر ہوجاتا اور مشورہ دینے والوں کو مزید کچھ کہنے کی جرأت نہ ہوتی۔

میں نے آخری بار اس کو غالباً ۱۹۶۸ء میں بستر مرگ پر پڑے ہوئے بے ہوشی کی حالت میں سول ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں دیکھا۔ اس کی نبضیں ڈوب چکی تھیں۔ سانس رک رک کر وقفوں سے آرہی تھی۔ آنکھیں پتھرا چکی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب قریب کھڑے تھے، صرف اس لیے کہ چند لمحوں کے بعد اس کی موت کا اعلان کرکے کمرے سے جائیں۔ اچانک اس کے بدن نے حرکت شروع کردی۔ اس کے چہرے پر خوف کے آثار نمودار ہوئے۔ رونگٹے کھڑے ہوگئے، جسم سے پسینہ بہہ نکلا اور اس کے ہونٹ ہلنے لگے۔ سب لوگوں نے سنا وہ تھرا رہی تھی اور ’’سانپ سانپ‘‘ کہہ کر اس موذی سے بچنے کے انداز میں ہاتھ پاؤں ہلا رہی تھی۔ کم از کم میں تو یہ مشاہدہ کرکے خوفزدہ ہوگیا۔ وہ ’’سانپ سانپ‘‘ کہنے کے انداز میں ہونٹوں کو حرکت دیتے ہوئے اور خوف کی حالت میں بچاؤ کا اظہار کرتے کرتے آخر کار دم توڑ گئی۔

میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ طبی نقطہ نظر سے آپ اس کی آخری حرکات کو کیا نام دیں گے؟ ڈاکٹر صاحب نے بھی حیرت کا اظہار کیا اور کہا یہ مشاہدہ ان کی نگاہ میں ایک طبی معجزے سے کم نہیں۔ یہ حرکات اور سانپ سانپ کی آوازیں بلاشبہ ایک میت کے منھ سے نکلی ہیں۔ اس گہری بیہوشی کے عالم میں وہ بول سکتی تھی نہ حرکت کرسکتی تھی۔

میرے یہ دونوں مشاہدے حرف بحرف درست ہیں اور حشر نشر کے منکرین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور عقل کی عدالت میں مجھ پر جرح کرکے ان کی کوئی عقلی توجیہ کریں ورنہ ان مشاہدات کی رونشی میں مان لیں کہ قرآن و حدیث میں جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ سچ ہے اور خسارے میں ہیں وہ لوگ جو ان حقیقتوں کو پس پشت ڈال کر تباہی کی اتھا گہرائیوں کی طرف بگٹٹ بھاگ رہے ہیں۔

حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

(بشکریہ: خواتین کا میگزین، لاہور

شیئر کیجیے
Default image
محمد اکرم

تبصرہ کیجیے