3

دو تھیلیاں

ایک بار خلیفہ ہارون رشید شکار کھیل رہا تھا۔ مصاحب ساتھ تھے اور اس دن خلیفہ بہت خوش تھا اس نے ہنستے ہوئے پوچھا: ’’ابراہیم! کیا زندگی میں کوئی اور مسرت باقی ہے جو ہمیں حاصل نہ ہوئی ہو؟‘‘

ابراہیم نے جواب دیا: ’’نہیں امیر المؤمنین! اللہ نے آپ کو سب کچھ دیا ہے۔ کچھ باقی نہیں رکھا۔‘‘

’’سچ کہتے ہو۔‘‘ ہارون رشید نے کچھ ٹھہر کر کہا۔

’’میں اپنی زندگی میں کوئی کمی محسوس نہیں کرتا۔‘‘

اچانک قریب کی جھاڑی سے ایک آواز آئی۔ ’’یہ بکواس ہے جس نے پوچھا، جس نے جواب دیا، اور جس نے اسے سچ مانا۔ سب احمق اور بیوقوف ہیں۔ حقیقی مسرت سے تم سب نا آشنا ہو۔‘‘

خلیفہ نے گھوڑا روک لیا۔ ابراہیم نے جھاڑی کی طرف دیکھ کر کہا : ’’تو کہاں کا پاگل ہے جو یہاں آکر بیٹھ گیا ہے؟ باہر نکل۔‘‘

’’خوب‘‘ جھاڑی کے اندر سے آواز آئی۔ ’’دیوانے فرزانوں کو دیوانہ کہہ رہے ہیں۔‘‘ اور ایک غریب آدمی جھاڑی سے نکل آیا۔ اس کے کپڑے پرانے تھے۔ جسم کمزور تھا، لیکن پیشانی پر سجدوں کا نشان تھا اور چہرے پر اطمینان و سکون برس رہا تھا۔

’’تم کون ہو؟‘‘ ہارون رشید نے سوال کیا۔

’’بندئہ خدا‘‘ اس نے جواب دیا۔

’’ہماری رعایا میں سے ہو؟‘‘ ہارون نے پوچھا: ’’یا کسی اور ملک کے رہنے والے ہو؟‘‘

اس شخص نے جواب دیا : ’’ہمارا اور تمہارا آقا ایک ہی ہے۔ تم بھی اس کے غلام ہو اور میں بھی۔ حکومت اور رعایا کے لفظ تو تم نے ایجاد کرلیے ہیں۔‘‘

’’تمہارا آقا کون ہے؟‘‘ ہارون رشید نے پوچھا۔

’’محمد رسول اللہ‘‘ اس نے اطمینان کیساتھ جواب دیا۔

ہارون رشید ایک لمحہ خاموش رہ کر بولا: ’’تم نے سچ کہا، ہم سب انہی کے غلام ہیں۔‘‘

لیکن اس جواب پر وہ چیخ اٹھا: ’’مگر ہارون رشید! تو کیسا خلیفہ ہے جو نہ اللہ سے ڈرتا ہے اور نہ اللہ کے رسول سے۔ آخرت کی فکر نہیں کرتا اور دنیا کی مسرتوں کی تلاش میں سرگرداں ہے۔‘‘

ابراہیم نے غصے کے ساتھ کہا:’’گستاخ انسان! تجھے اتنی عقل بھی نہیں کہ امیر المؤمنین سے اس طرح گفتگو نہ کرنی چاہیے۔‘‘

زاہد نے ابراہیم کی طرف دیکھ کر کہا: ’’تم پریشان نہ ہو، چاپلوسی نہ کروگے تب بھی خلیفہ تمہیں اچھی تنخواہ دیتے رہیں گے۔‘‘

ابراہیم کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ لیکن ہارون رشید نے ابراہیم سے کہا:’’خفا نہ ہو ابراہیم! تم سے زیادہ کڑوی بات تو مجھے کہی ہے۔ انہیں لے کر ہمارے محل میں آؤ۔‘‘

خلیفہ نے گھوڑا موڑا اور بغداد کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس کے دل پر بوجھ تھا۔ شکار اور تفریح کی لذت ختم ہوگئی تھی۔

ابراہیم اس مرد زاہد کو لے کر بغداد آیا۔ اور سب کو یقین تھا کہ اس پاگل آدمی کو سزا سے کوئی نہیں بچاسکتا۔

خلیفہ ہارون رشید انتظار کررہا تھا، ایک معمولی آدمی کی لعنت ملامت نے اس پراتنا اثر کیا تھا کہ معلوم ہوتا تھا جیسے زندگی کی سب ہی مسرتیں چھین لی گئی ہوں۔

ابراہیم نے اس شخص کو دربانوں کے حوالے کیا اور خود خلیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

’’وہ کہاں ہے؟‘‘ ہارون رشید نے بے چینی کے ساتھ پوچھا۔

ابراہیم نے جواب دیا: ’’امیر المومنین! ایسا گستاخ آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے قابل نہیں ہے، حکم دیجیے کہ میں اسے ٹھکانے لگادوں۔‘‘

ہارون رشید نے ابراہیم کی طرف دیکھ کر پوچھا: ’’کس جرم میں؟‘‘

’’گستاخی کی سزا میں‘‘ ابراہیم نے جواب دیا۔

لیکن ہارون رشید نے آہستہ آہستہ کہا: ’’نہیں وہ دنیا سے بے نیاز شخص ہے۔ جن لوگوں نے اللہ اور اللہ کے رسولؐ سے اپنا رشتہ قائم کررکھا ہے وہ ہماری شان و شوکت کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتے۔ ہم دنیا دے کر انھیں جھکانے کی کوشش کرتے ہیں اور دین کے نشے میں جھکنے سے انکا رکردیتے ہیں۔ ان کی سزا دوسری ہے۔‘‘

ابراہیم خلیفہ کے سنجیدہ چہرے کی طرف دیکھ کر بولا: ’’آپ میں بڑی برداشت ہے امیر المومینن۔‘‘

’’برداشت نہیں ہے۔‘‘ ہارون رشید بولا ’’اگر برداشت ہوتی تو اسے جنگل ہی میں چھوڑ کر چلا آتا، اسی لیے بلایا ہے کہ معقول سزا دے کر محل سے نکال باہر کروں۔‘‘

ابراہیم کو خوشی ہوئی بولا: ’’پھر امیر المومنین نے اچھی بات سوچی ہے۔ میں نے اسے دربانوں کے حوالے کردیا تھا۔ حکم ہوتا تو وہیں سزا دے دی جاتی۔‘‘

’’ابھی نہیں۔‘‘ ہارون رشید نے جواب دیا۔ ’’اس کا امتحان لے کر دیکھوں گا کہ واقعی زاہد ہے یا دنیادار، اور صرف لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے بھیڑ کی کھال اوڑھ رکھی ہے۔

ابراہیم باہر گیا۔ زاہد دربانوں سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا جیسے اسے خلیفہ سے انعام پانے کی امید ہو۔ سزا کا ذراخیال نہ تھا۔

ابراہیم نے اسے ساتھ لیا اور خلیفہ کی خدمت میں حاـضر ہوا۔ ’’السلام علیکم یا امیر المومنین!‘‘ زاہد نے بے باکی کے ساتھ سلام کیا۔

’’وعلیکم السلام‘‘ خلیفہ نے جواب دیا۔ پھر حکم دیا۔ ’’کھانا لایا جائے۔‘‘

کھانا آیا۔ خلیفہ نے زاہد کو اپنے ساتھ کھانا کھلایا۔ اس نے ہر طرح کا کھانا بڑے شوق سے کھایا اور ہر کھانے کی تعریف کی۔ ’’میرے اللہ نے کیسے کیسے کھانے پیدا کیے ہیں۔ سبحان اللہ سبحان اللہ۔‘‘

یہ سب امیر المومنین کی بخشش و عطیہ ہے۔‘‘ ایک خدمت گار نے آہستہ سے کہا۔

لیکن زاہد نے جواب دیا: ’’امیر المومنین کو میرے اللہ نے یہ سب بخشا ہے۔ وہی تعریف کا مستحق ہے۔‘‘

’’سچ کہتے ہو۔‘‘ خلیفہ نے آہستہ سے کہا۔

پھر جب کھانا ختم ہوگیا تو ہارون رشید نے پوچھا: ’’میں تم سے چند سوال کروں گا۔ انصاف کے ساتھ ان کا جواب دینا۔‘‘‘

’’پوچھئے‘‘ اس شخص نے خلیفہ کی طرف دیکھ کر کہا۔

ہارون رشید نے پوچھا : ’’تمہارے خیال میں میں زیادہ شریر و سرکش ہوں یا فرعون تھا؟‘‘

زاہد نے جواب دیا: ’’فرعون، کیونکہ اس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ میں انسانوں کا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘

ہارون رشید نے دوسرا سوال کیا: ’’حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) تم سے بہتر تھے یا تم ان سے بہتر ہو؟‘‘

زاہد نے جواب : ’’بھلا مجھے ان پیغمبروں سے کیا نسبت؟ وہ اللہ کے رسول ہیں اور میں اللہ کا معمولی بندہ۔‘‘

ہارون رشید نے کچھ ٹھہر کر کہا: ’’جب اللہ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو فرعون کے دربار میں بھیجا تھا تو نصیحت کی تھی کہ اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو کرنا، حالانکہ وہ کافر اور گمراہ تھا لیکن میں تو مسلمان ہوں اور اپنے امکان بھر اسلام پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں، پھر بتاؤ تم نے میرے ساتھ جو سختی برتی اور منصب خلافت کا بھی کچھ پاس و ادب نہ کیا، اس کا کیا سبب ہے؟‘‘

وہ مرد زاہد تھوڑی دیر خاموش رہا۔ پھر بولا: ’’امیر المومنین! مجھے آپ نے قائل کردیا ہے، واقعی میں نے نصیحت کا غلط طریقہ اختیار کیا تھا۔ میں اللہ تعالیٰ سے اپنی غلطی کی معافی چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ امیر المومنین بھی مجھے معاف فرمائیں گے۔‘‘

ہارون رشید نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں نیک ہدایت دے میں نے معاف کیا اور تمہاری جرأت کا انعام بھی تمہیں ملے گا۔‘‘

پھر خادم کو حکم دیا کہ ’’ دس ہزار درہم ان کے لیے حاضر کرو۔‘‘

جب درہم کا ڈھیر لگایا گیا تو مرد زاہد نے کہا: ’’بھلا میں مرد سیاح ان سکوں کا کیا کروں گا؟ یہ کسی حاجت مند کو دے دیا جائے۔‘‘

ایک فوجی سردار ہرثمہ بن یمین بھی موجود تھا۔ اس نے بگڑ کر کہا ’’اے مرد جاہل! تو امیر المومنین کے عطیہ سے انکار کرتا ہے؟‘‘

’’یہ سب تم لوگوں کے لیے ہے۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا اور کھڑا ہوگیا۔

ہارون رشید نے ہرثمہ کو ڈانٹا: ’’چپ رہو، تم اس معاملے میں دخل نہ دو۔‘‘

پھر ہارون رشید نے کہا: ’’میں نے تمہیں محتاج سمجھ کر یہ انعام نہیں دیا تھا،بلکہ میرا طریقہ ہے کہ جو شخص بھی میرے ساتھ بیٹھتا ہے اسے کچھ نہ کچھ تحفہ دیتا ہوں تم بھی اس میں سے جتنا چاہو اٹھالو۔‘‘

اس نے جواب دیا: ’’اگر امیر المومنین کی یہی ضد ہے تو دو تھلیاں لے لیتا ہوں، کیوں کہ تیسرا ہاتھ نہیں۔‘‘

اور پھر اس نے دونوں ہاتھوں میں ایک ایک تھیلی لے لی اور سلام کرکے باہر جانے لگا۔

اب ہارون رشید نے ابراہیم کو حکم دیا: ’’اگر یہ شخص تھلیاں لے کر باہر چلا جائے، اور اپنے صرف میں بھی لائے تو اسے گرفتار کرلینا، تمہارا دل خوش ہوجائے گا۔‘‘

ابراہیم اٹھا، اسے خوشی تھی کہ اب یہ گستاخ آدمی سزا کے بغیر نہ بچ سکے گا۔

ہارون رشید قصرِ خلافت کی چھت پر چلا گیا اور دیکھنے لگا کہ آدمی تھیلیاں لے کر کدھر جاتا ہے۔

مگر خلیفہ نے دیکھا کہ زاہد محل سے نکلا، اس کے ہاتھ خالی تھے۔ ساتھ ہی دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھا، اور پکارتا جاتاتھا۔ ’’مجھے اللہ نے دنیا سے بچالیا۔ مجھے اللہ نے دنیا سے بچالیا۔‘‘

ہارون رشید نیچے اترا۔ ابراہیم کو بلاکر پوچھا کہ ’’زاہد نے تھیلیاں کیا کیں؟‘‘

ابراہیم نے غمگین لہجے میں کہا: ’’امیر المومنین! اس نے تھیلیوں کے منہ کھولے، اور دون تھیلیاں دربانوں کے آگے انڈیل دیں اور بولا: امیر المومنین کا عطیہ ان ہی کے پہرہ داروں کے لیے مناسب ہے پھر ہاتھ جھاڑتا ہوا نکل گیا۔

ہارون رشید ایک لمحہ خاموش رہا۔ پھر بولا: ’’ابراہیم! جنھیں درہم و دینار کی ہوس نہیں ہے وہی اعلان حق کی جرأت کرسکتے ہیں۔ خدا کرے اسلام میں ایسے لوگ کبھی ختم نہ ہوں۔‘‘

اور پھر ہارون رشید کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔

شیئر کیجیے
Default image
مائل ملیح آبادی

تبصرہ کیجیے