3

حضرت شفاءؓ بنتِ عبداللہ

غزوۂ خیبر کے کچھ عرصہ بعد کا ذکر ہے کہ ایک دن ایک باوقار خاتون بارگاہِ رسالتؐ میں حاضر ہوئیں اور اپنی کچھ ضروریات بیان کرکے سرورِ عالم ﷺ سے درخواست کی کہ نقدی یا جنس وغیرہ کی صورت میں انہیں کچھ عطا فرمایا جائے۔ اتفاق سے اس وقت حضور ﷺ پُر نور کے پاس کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ اس لیے آپؐ نے معذرت فرمائی لیکن وہ خاتون اصرار کرتی رہیں کہ ان کی درخواست کو شرفِ پذیرائی بخشا جائے۔ اتنے میں اذان کی آواز آئی اور حضورؐ نماز کے لیے مسجد تشریف لے گئے وہ خاتون بھی اٹھ کر قریب ہی اپنی بیٹی کے گھر چلی گئیں جو جلیل القدر صحابی حضرت شرجیلؓ بن حسنہؓ کی اہلیہ تھیں۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ان کے داماد حضرت شرجیل تہبند باندھے گھر میں ہی بیٹھے ہیں اور نماز کے لیے مسجد نہیں گئے۔ یہ خاتون داماد کو گھر میں بیٹھا دیکھ کر سخت آزردہ خاطر ہوئیں اور غضب آلود لہجے میں انہیں ملامت کرنا شروع کردی کہ نماز کا وقت ہوگیا اور تو گھر ہی میں ہے۔ حضرت شرجیلؓ نے کہا۔ خالہ جان مجھے ملامت نہ کیجیے۔ بات یہ ہے کہ میرے پاس ایک ہی قمیص تھی جس پر میں نے پیوند لگا رکھا تھا۔ حضورؐ نے اسے مجھ سے عاریتاً مانگ لیا ہے، میں نہیں چاہتا کہ ننگے بدن مسجد جاؤں اور جب لوگ مجھ سے اس کا سبب پوچھیں تو میں ان کو بتاؤں کہ میری قمیص حضورؐ نے عاریتاً لے لی ہے۔

وہ خاتون داماد کی بات سن کر سکتے میں آگئیں اور کہنے لگیں، میرے ماں باپ رسول اللہ ﷺ پر قربان مجھے کیا معلوم تھا کہ حضورؐ کا آج کل یہ حال ہے۔ میں نے اپنی درخواست پر اصرار کرکے خواہ مخواہ آپؐ کو اذیت دی۔

یہ خاتون جن کو شریعت کا اس قدر پاس تھا کہ نماز کے وقت اپنے داماد کو گھر میں بیٹھے دیکھ کر غضبناک ہوگئیں اور پھر بے خبری کے عالم میں بارگاہِ رسالت میں اپنی بات پر بے جا اصرار نے جنہیں سخت پشیمان کیا، حضرت شفاءؓ بنتِ عبداللہ تھیں۔

حضرت شفاءؓ بنتِ عبداللہ کا شمار نہایت جلیل القدر صحابیات میں ہوتا ہے ان کا تعلق قریش کے خاندان عدی سے تھا، سلسلہ نسب یہ ہے:

شفاء بنت عبداللہ بن عبدشمس بن خلف بن سداد بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بی لؤی۔

عدی کے دوسرے بھائی مُرّہ تھے جو رسول اکرم ﷺ کے اجداد میں سے ہیں اس لحاظ سے حضرت شفاءؓ کا سلسلۂ نسب آٹھویں پشت میں رسول اللہ ﷺ کے نسب نامہ سے جاکر مل جاتا ہے۔ اسی طرح پانچویں پشت میں (عبداللہ بن قرط پر) حضرت شفاءؓ کا سلسلۂ نسب سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے نسب نامہ سے جاکر مل جاتا ہے۔

والدہ کا تعلق بنو مخزوم سے تھا۔ ان کا نام فاطمہ بنتِ وہب (بن عمروبن عائذ بن عمر بن مخزوم )تھا۔

حضرت شفاء کی شادی ابوحثمہ بن حذیفہ عدوی سے ہوئی۔ ابوحثمہ کے حالات کسی کتاب میں نہیں ملتے۔ کتبِ سِیر میں حضرت شفاءؓ کے قبولِ اسلام کے زمانہ (سال) کی تخصیص نہیں کی گئی لیکن اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ ہجرت سے قبل کسی وقت بڑے ناسازگار حالات میں سعادت اندوزِ اسلام ہوئیں اور پھر جب بارگاہِ رسالت سے صحابہ کرامؓ کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت مرحمت ہوئی تو انھوں نے بھی ہجرت کا شرف حاصل کیا۔ حافظ ابن حجرؒ نے ’’اصابہ‘‘ میں لکھا ہے کہ وہ ان چند خواتین میں سے تھیں جنھوں نے سب سے پہلے ارشادِ نبوی پر لبیک کہا اور ارضِ مکہ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر مدینہ منورہ میں مستقل اقامت اختیار کرلی۔

رحمت عالمﷺ نے مدینہ منورہ میں نزولِ اجلال فرمایا تو کچھ عرصہ بعد آپؐ نے حضرت شفاءؓ کو ایک مکان عنایت فرمایا جس میں وہ اپنے فرزند سلیمانؓ کے ساتھ مدت العمر قیام پذیر رہیں۔

حضرت شفاءؓ قریش کی ان معدودے چند خواتین میں سے تھیں جو لکھنا پڑھنا جانتی تھیں۔ کئی امراض کے مریض ان کے پاس آتے تھے اور وہ جھاڑ پھونک یعنی منتر ٹوٹکے سے ان کا علاج کرتی تھیں۔ اہلِ سیر نے ان کے چیونٹی کانٹے کا منتر کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے۔ علامہ ابنِ اثیر صاحبِ اسد الغابہ لکھتے ہیں کہ جب کسی کو چیونٹی (زہریلی یا سخت قسم کی) کاٹتی تو وہ یہ منتر پڑھ کر کاٹے کی جگہ پر پھونکتیں۔

بسم اللہ صلوصلب جبر تعوذا من افواہہا فلا تضر احدا اللہم اکشف الباس رب الناس۔

سن ۳ ہجری میں سرورِ عالم ﷺ نے حضرت حفصہؓ بنتِ حضرت عمر فاروقؓ سے نکاح کیا تو ایک مرتبہ حضرت شفاءؓ سے فرمایا کہ حفصہ کو بھی لکھنا سکھادو، انھوں نے ارشادِ نبویؐ کی تعمیل کی اور حضرت حفصہؓ کو لکھنا سکھادیا۔

ایک دفعہ حضرت شفاءؓ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی، یا رسول اللہ میں جاہلیت میں جھاڑ پھونک کیا کرتی تھی اور چیونٹی کاٹنے پر یہ منتر پڑھا کرتی تھی۔ کیا مجھے اب بھی ایسا کرنے کی اجازت ہے چونکہ اس منتر میں شرک کی آمیزش نہیں تھی۔ اس لیے حضورؐ نے انہیں اجازت دے دی بلکہ یہ فرمائش بھی کہ یہ منتر حفصہؓ کو بھی سکھادو۔ حافظ ابن حجرؒ کا بیان ہے کہ اس موقع پر حضورؐ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے۔ علمی حفصہ رقیۃ النملۃ کما علمتہا الکتابۃ (حفصہ کو بھی چیونٹی کا منتر سکھا دو جیسا کہ تم نے اسے لکھنا سکھایا۔ چنانچہ انھوں نے حضرت حفصہؓ کو لکھنے کے علاوہ چیونٹی کاٹے کا منتر بھی سکھادیا۔ اس لحاظ سے وہ ام المومنین حضرت حفصہؓ کی استاد ہیں۔ اربابِ سیر نے لکھا ہے کہ حضرت شفاءؓ نہایت عاقلہ اور فاضلہ تھیں اور ان کو رحمتِ عالم ﷺ سے غایت درجہ محبت اور عقیدت تھی۔ حضورؐ بھی ان پر بہت شفقت فرماتے تھے اور گاہے گاہے ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے۔ حافظ ابن حجرؒ کا بیان ہے کہ حضورﷺ کبھی کبھار حضرت شفاءؓ کے گھر آرام فرماتے تھے۔ انھوں نے ایک تہمد اور بستر حضورؐ کے استعمال کے لیے علیحدہ رکھ چھوڑا تھا، چونکہ ان چیزوں سے سرورِ کائنات ﷺ کا جسدِ اقدس مَس ہوا تھا اس لیے حضرت شفاءؓ کے نزدیک یہ بڑے تقدس کی حامل تھیں۔ چنانچہ انھوں نے ان دونوں مقدس چیزوں کو زندگی بھر اپنی جان کے ساتھ رکھا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی اولاد نے بھی ان تبرکات کو بڑی احتیاط سے محفوظ رکھا لیکن اموی حکمران مروان بن الحکم نے یہ دونوں چیزیں ان سے لے لیں۔ اس طرح حضرت شفاءؓ کا خاندان اس برکت سے محروم ہوگیا۔

حضرت شفاءؓ کو بارگاہِ نبوی میں جو تقرب حاصل تھا اس کی بنا پر تمام صحابہ کرامؓ ان کی بڑی تعظیم و تکریم کرتے تھے۔ حضرت عمرؓفاروق کے نزدیک ان کی قدرومنزلت کی یہ کیفیت تھی کہ جب وہ سریر آرائے خلافت ہوئے تو کبھی کبھی بعض اہم مسائل میں ان سے مشورہ لیا کرتے تھے اور ان کی رائے کی بہت تعریف کرتے تھے۔ حافظ ابن حجرؓ نے ابن سعد کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ کو حضرت شفاءؓ کی فضیلت اور رائے کا بڑا پاس تھا اور وہ ان کو بازار کا اہتمام سپرد کرتے تھے۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شفاءؓ صائب الرائے ہونے کے ساتھ انتظامی صلاحیتوں کی مالک بھی تھیں۔ علامہ ابن اثیرؒ نے اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں حضرت شفاءؓ کو بلا بھیجا۔ جب وہ حضرت عمرؓ کے پاس پہنچیں تو اتفاق سے عاتکہؓ بنتِ اسید بھی وہاں آگئیں۔ حضرت عمرؓ نے دونوں کو ایک ایک چادر عنایت فرمائی جو چادر حضرت عاتکہؓ کو عطا ہوئی وہ حضرت شفاءؓ کی چادر سے بہتر تھی۔ حضرت شفاءؓ کو یہ بات ناگوار گزری۔ انھوں نے ناراضی کے لہجے میں حضرت عمرؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا:

’’تمہارے ہاتھوں پر مٹی پڑے، میں عاتکہؓ سے زیادہ قدیم الاسلام ہوں، تمہاری بنتِ عم بھی ہوں اور پھر تم نے مجھے خود بلا بھیجا تھا لیکن ان ساری باتوں کے باوجود تم نے عاتکہ کو مجھ سے بہتر چادر دی حالانکہ وہ بن بلائے محض اتفاق سے یہاں آگئی تھیں۔‘‘

حضرت عمرؓ نے فرمایا:

’’واللہ یہ چادر تمہارے ہی لیے تھی لیکن جب عاتکہ آگئیں تو مجھے ان کی رعایت کرنی پڑی کیوںکہ یہ نسب میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ قریب ہیں۔‘‘

ا س روایت سے جہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ رسول کریمﷺ کے قرابت داروں کو اپنے خاندان بنو عدی کے لوگوں پر ترجیح دیتے تھے وہاں ان کے تحمل اور بردباری کا اعتراف بھی کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے وقت کے سب سے بڑی فرمانروا تھے لیکن اپنے خاندان کی ایک بوڑھی خاتون کی ڈانٹ پر ذرا بھی برا نہ مانا۔ اس روایت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت شفاءؓ نہایت جری اور بیباک تھیں اور دل کی بات، خواہ وہ کتنی ہی سخت ہو برملا کہنے میں کسی رو رعایت نہ کرتی تھیں اگرچہ ان کا مخاطب خلیفہ وقت ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وہ مساوات اور سادہ طرزِ معاشرت تھی جس نے چند سال کے اندر اندر مسلمانوں کو اقبال و فتح مندی کی انتہائی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

حضرت شفاءؓ نے کب وفات پائی؟ اس کے بارے میں تمام کتبِ سیر خاموش ہیں۔ قیاس یہ ہے کہ انھوں نے حضرت عمرؓ کی خلافت کے آخری دور یا حضرت عثمان ذوالنونؓ کے عہدِ خلافت میں کسی وقت داعی اجل کو لبیک کہا۔ حضرت شفاءؓ کی اولاد میں صرف ایک لڑکے سلیمانؓ اور ایک لڑکی کا پتہ چلتا ہے۔ دونوں شرفِ صحابیت سے بہرہ ور تھے۔ لڑکی مشہور صحابی حضرت شرجیل بن حسنہؓ کے نکاح میں تھیں۔

حضرت شفاءؓ نے رسول اکرم ﷺ اور حضرت عمرفاروقؓ سے چند (بقول بعض بارہ) حدیثیں روایت کی ہیں۔ رایوں میں ان کے بیٹے سلیمانؓ اور پوتے ابوبکرؓ اور عثمانؓ، ام المومنین حضرت حفصہؓ، ابو سلمہؒ اور ابواسحاقؒ شامل ہیں۔

رضی اللہ تعالیٰ عنہا

شیئر کیجیے
Default image
طالب الہاشمی

تبصرہ کیجیے