5

نئی تہذیب کے درندے

اس دن فرح بہت خوش تھی ایک تو آخری پرچہ کے بعد اسے امتحان کی ٹینشن سے نجات مل رہی تھی اور دوسرے اس کی بچپن کی دوست نمیرہ سے کافی سالوں کے بعد اس کی ملاقات ہونی تھی۔

پہلے نمیرہ اور فرح ایک ہی مکان میں رہا کرتے تھے اور دونوں کی باہمی محبت و الفت کی مثال دی جاتی تھی۔ فرح کے والد کا تبادلہ ممبئی ہوجانے کے بعد انھوں نے جب اس گھر کو چھوڑا تو دونوں دہاڑیں مار مار کر ایسی رو رہی تھیں کہ دیکھنے والوں کا بھی دل بھر آیا تھا۔

’’فرح تم مجھے کبھی بھولو گی تو نہیں‘‘، ’’خط لکھیں گے‘‘ اور ’’چھٹیوں میں آنا جانا لگا رہے گا‘‘ جیسے وعدے قسمیں رخصت سے پہلے طے پاچکے تھے۔ بالآخر جدائی کا وقت آگیا اور آہوں اور چیخوں کے ساتھ نمیرہ نے اپنے والدین کے ساتھ ممبئی کے لیے روانگی اختیار کی۔ فرح اسی غم میں تین روز تک بیمار رہی۔ بالآخر وقت کے مرہم نے جدائی کا غم مندمل کرنا شروع کردیا۔ کبھی فون کبھی خط کا سلسلہ کچھ دنوں چلا اور پھر بالکل بند ہوگیا۔

نمیرہ سے فرح کی ملاقات نے اسے ماضی کی یادوں میں گم کردیا اور وہ سات سال پہلے کی زندگی میں سیر کرنے لگی جہاں بے لوث محبت، چاہت اور خلوص کے دریا بہا کرتے تھے۔ ’’میڈم! کالج آگیا ہے۔‘‘ رکشہ والے کے کہنے پر وہ اپنی فکر سے چونکی، رکشہ والے کو پیسے دئے اور کالج کے اندر داخل ہوگئی۔

منشاء کو جو اس کی اب سب سے قریبی سہیلی ہے اس نے بڑے شوق سے بتایا کہ آج سات سالوں بعد بچپن کی ’’سگی سہیلی‘‘ سے اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ وہ کسی ضروری کام سے دہلی آئی ہوئی ہے اس نے فون پر بتایا تھا۔ فرح نے بہت چاہا کہ وہ گھر آکر اس سے اور اس کے گھر والوں سے ملاقات کرے، اس نے ممی پاپا کے لیے اس کی محبت کا بھی تذکرہ کیا کہ وہ سب لوگ بھی اس سے ملاقات کے خواہش مند ہیں مگر اس نے وقت کی تنگی اور مصروفیات کا بہانہ بناکر کالج ہی میں ملنا طے کیا تھا۔

وہ پرچہ دے کر جلد ہی باہر آگئی تھی۔ گیٹ کے پاس کھڑی اس کا انتظار کررہی تھی اور جہاں بے شمار خیالات اس کے ذہن میں آ اور جارہے تھے۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اپنی پیاری سہیلی سے وہ کیسے ملے گی۔ سلام کرتے ہی اس سے لپٹ جائے گی۔ اس سے گلے ملے گی اور کالج کے لان میں بیٹھ کر دیر تک اس سے باتیں کرے گی، اس کی موجودہ زندگی اور اپنے بارے میں گفتگو کرے گی اور گھر کے لوگوں کے بارے میں ایک ایک کرکے دریافت کرے گی۔

تھوڑی دیر کے بعد ایک لمبی سے گاڑی کالج کے گیٹ سے کوئی بیس قدم کے فاصلے پر رکی جسے ایک خوبرو نوجوان ڈرائیو کررہا تھا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا اور ایک فیشن زدہ مغربی طرز کی اسمارٹ سی لڑکی گاڑی سے اتری اور تیز قدموں سے گیٹ کی طرف چل دی۔ اس نے اپنی نگاہیں اس لڑکی پر گاڑ دیں اور پہچاننے کی کوشش کرنے لگی۔ ’’ہائے فرح! کیسی ہو؟‘‘ اس نے کہا اور اس کے تصور کے تانے بانے ایسے ٹوٹے کے وہ سلام تک نہ کرسکی۔ بس ٹکر ٹکر اسے دیکھے جارہی تھی۔

یہ نمیرہ تھی۔ اس کی بچپن کی ’’سگی سہیلی‘‘ جس سے ملاقات کی خواہش لیے وہ گذشتہ سات سالوں سے بے قرار تھی اور کل سے تو لمحے اور منٹ گن رہی تھی۔

’’ارے فرح تم تو بالکل ویسی ہی ہو جیسے سات سال پہلے تھیں۔ تم نے تو زمانے کی ترقیوں کو جیسے دیکھا ہی نہ ہو اور یہاں دہلی میں رہ کر بھی تم تو زمانے کی ترقیوں سے بالکل دور نظر آتی ہو۔ اور یہ کالا کالا جبا کیا پہن رکھا ہے تم نے؟‘‘ نمیرہ نے ایک ہی سانس میں سب کہہ ڈالا۔ اور اس کے یہ الفاظ تیر کی طرح اس کے ذہن وخیال اور جذبات کو لہو لہو کرتے ہوئے نکل گئے۔ افکار کے تانے بانے ٹوٹ گئے۔ خیالات کے سمندر میں ٹھہراؤ آگیا اور وہ سوچنے لگی کہ اب اس سے کیا باتیں کرے۔

’’یہ میری کالج کی سہیلی منشا ہیں، انکل اور آنٹی کیسے ہیں؟‘‘ اس نے اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے اور رسم دنیا نبھاہتے ہوئے پوچھا۔

’’بائی دی وے یہ میرے فرینڈ مکیش ہیں۔‘‘ اس نے اس خوبرو نوجوان لڑکے کا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ اور دوسرے ہی لمحے اس نے بلا جھجھک اپنا ہاتھ فرح کی طرف مصافحہ کے لیے بڑھا دیا۔

اس کا دل چاہاکہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے مگر مصافحہ کے لیے نہیں بلکہ اس کے ’’اسمارٹ‘‘ چہرے پر ایک زور دار تھپڑ رسید کرنے کے لیے۔ مگر اپنی بچپن کی سہیلی کے احترام میں ایسا نہ کرسکی۔ اور اس کو نظر انداز کرکے نمیرہ سے گفتگو جاری رکھی۔ ’’آج کل کیا کررہی ہو، تعلیم کا کیا حال ہے؟‘‘ اس نے نمیرہ سے پوچھا۔

’’انٹر کے بعد ریگولر تعلیم میں نے چھوڑ دی۔ پہلے کچھ ماڈلنگ کرتی تھی اب ایک سیریل میں کام کررہی ہوں اور اسی غرض سے دہلی آئی ہوں۔‘‘ نمیرہ نے جواب دیا۔ ’’مگر تم نے ریگولر تعلیم کیوں چھوڑ دی؟‘‘ تم تو اعلیٰ تعلیم کی بڑی خواہش مند تھیں بچپن سے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’کیاکرتی پڑھ کر پیسہ ہی تو کمانا ہوتا ہے نا۔ خوب پیسہ کما رہی ہوں آج کل۔‘‘ نمیرہ نے جواب دیا۔

’’آخر ماڈلنگ ہی کا پیشہ کیوں اختیار کیا؟‘‘ نمیرہ نے سوال کیا ہی تھی کہ ساتھ میں کھڑے نوجوان نے گھڑی پر نظر ڈالی اور اس کا کندھا پکڑ کر چلنے کے لیے کہا۔ ’’ہاں فرح میں لیٹ ہورہی ہوں ، پھر ملیں گے۔‘‘ اور اس نے مڑتے ہوئے بائے بائے کہہ کر ہلکا سا ہاتھ ہلایا اور تیزی سے بڑھتی ہوئی کار میں بیٹھ کر یہ جا وہ جا۔

فرح کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ دور تک گاڑی کو دیکھتی رہی۔ جیسے کوئی چور اس کی دوستی کے سرمائے کو لوٹ کر لے جارہا ہو۔ مگر وہ کیا کرسکتی تھی، کیسے چھین سکتی تھی اپنے سرمایہ کو چور سے۔ وہ تو ایک کمزور سی لڑکی تھی اور اس سے لڑ بھی نہ سکتی تھی۔ بس جاتی ہوئی گاڑی کی سمت بے چینی سے دیکھے جارہی تھی۔ اس کی آنکھیں کچھ تلاش کررہی تھیں اور ذہن میں ایک طوفان تھا۔ وہ اپنی سات سال پہلے کی نمیرہ کو تلاش کررہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ وہ اس نمیرہ سے ملنے تو نہیں آئی تھی۔ اور اس کے انتظار میں تو اس نے یہ چوبیس گھنٹے کے انتظار کی یہ شدت برداشت نہ کی تھی۔

اب اس کے ذہن میں نمیرہ کے الفاظ بار بار گردش کررہے تھے۔ ترقی، کالا کالا جبا، ماڈلنگ اور سیریل، دولت اور پیسہ ان تمام اصطلاحات کو تو اس نے سنا تھا۔ مغربی تہذیب، اعلیٰ تعلیم اور فیشن کے بارے میں اسے کچھ نہ کچھ معلومات تھیں مگرآج کی اس ملاقات کے بعد وہ ان تمام الفاظ کے معنی سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔

تکلیف، مایوسی اور فکر کا بھاری بوجھ لیے آخر کار وہ گھر کی طرف چل دی۔ اب اس کے ذہن میں نئی مشکل گھڑی ہوگئی تھی کہ وہ امی کو گھر جاکر اس کے بارے میں کیا بتائے گی۔ جب امی اشتیاق کے ساتھ متجسسانہ انداز میں نمیرہ کے حال چال پوچھیں گی تو وہ کیا کہے گی۔ اور اگر بتائے گی تو بات اس کے فرینڈ سے شروع کرے گی یا ’’کالے کالے جبے‘‘ کے الفاظ سے۔ وہ اس اجنبی لڑکی کی جانب ہاتھ بڑھانے کا تذکرہ کرے گی یا اسے چھپالے گی اور … کیا وہ یہ بتانے کی جرأت کرسکے گی کہ وہ ایک ایک اجنبی لڑکے کی کار میں بیٹھ کر آئی تھی اور آج کل موڈلنگ اور فلم میں کام کررہی ہے۔

تکلیف سے اس کا دل بیٹھا جارہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کاش وہ نمیرہ سے نہ ملی ہوتی اور کاش اس نے فون کرکے اپنی آمد کی اطلاع نہ دی ہوتی۔ جس طرح اس نے سات سال گزار لیے تھے بقیہ زندگی بھی گزر جاتی۔ اس کا بھرم بھی قائم رہتا اور زمانے کے حالات خود اسے بھلا دینے میں فرح کی مدد کرتے۔

گھر امی اس کا شدت سے انتظار کررہی تھیں۔ پہنچتے ہی امی نے توقع کے مطابق نمیرہ کے بارے میں دریافت کیا۔ وہ چاہتی تھیں کہ اس کے بارے میں ایک ہی سانس میں ساری تفصیلات سن لیں۔ مگر فرح امی کو صرف اتنا بتاسکی کہ امی وہ نمیرہ نہیں تھی جو میری بچپن کی سہیلی ہوا کرتی تھی اس نمیرہ کو تو دولت کے ناگ نے ڈس لیا اور تہذیب کے درندوں نے اس کا گوشت نوچ نوچ کر کھا ڈالا۔ اور پھر وہ بے اختیار رونے لگی۔ اس کا ذہن دولت کی ہوس کا شکار ہزاروں لاکھوں لڑکیوں اور تہذیب کے درندوں کے درمیان پھنسی معصوم جانوں کو اس کیفیت سے نکالنے کے لیے کسی تیز رفتار مشین کی طرح کام کررہا تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
نشاں خاتون سیتھلی

تبصرہ کیجیے