6

غربت کی ماری بیوہ

[مشہور شخصیات، مختلف میدانوں کے ماہرین، سیاسی لیڈران اور دیگر قد آور شخصیات سے انٹرویو لینا اور ان کے حالات زندگی قارئین کے سامنے پیش کرنا عام بات ہے۔ لیکن ہم اس روایت کو توڑتے ہوئے کچھ ایسے افراد سے آپ کی ملاقات کراتے ہیں جنھیں سماج، اور سیاست داں سبھی نے نظر انداز کردیا ہے اور وہ جانوروں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ سلسلہ حجاب اسلامی کے صفحات میں جاری رہے گا۔ قارئین کے تاثرات ہمارے لیے مفید ہوں گے۔]

ابوالفضل انکلیو کی ایک گلی میں ایک بدحال عورت گندے لباس اور بکھرے بالوں کے ساتھ نظر آئی۔ اس کے ایک ہاتھ میں میگنٹ کا ایک گول سا پہیہ ہے جو ایک فٹ لمبے لکڑی کے دستے میں فٹ ہے۔ کمر پر ایک پلاسٹک کا بورا ہے جس میں کوئی پانچ سات کلو کے قریب وزن ہے۔ وہ اپنی کمر جھکا ئے گردوپیش سے بے خبر راستہ کو بہ غور دیکھتی جارہی ہے۔ کمزور جسم اور خراب صحت کے سبب یہ عورت ساٹھ ستر سال کی معلوم ہوتی ہے۔ اس نے ایک میلی اور پھٹی پرانی سوتی ساڑی پہن رکھی ہے اور پیر جوتے چپل کی قید سے آزاد ہیں۔

ساٹھ ستر سال کی نظر آنے والی اس عورت کا نام زرینہ ہے اور کسیدہ ہاٹ، بلیا پاڑہ ضلع مالدہ (مغربی بنگال) کی رہنے والی ہے۔ اس کا خمیدہ جسم اور بکھرے بال اس کی غربت ولاچاری کی تصویر پیش کرتے ہیں اور دل بھر آتا ہے۔ لیکن نہیں اس سے بھی زیادہ قابل رحم ہے اس کی اور اس کے خاندان کی حالت۔ مگر اس کا کہنا ہے کہ وہ تنہا اتنی لاچار نہیں بلکہ ہزاروں ہزار خواتین صرف اسی کے اپنے ضلع میں ہیں جو اس سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ستر سالہ دکھنے والی اس عورت کی حقیقی عمر ۴۵ سال کے قریب ہے۔ ۲ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہیں۔ ایک جواں سال بیٹے کا انتقال ہوگیا۔ بڑی لڑکی کی عمر سترہ سال ہے اور وہ تین بچوں کی ماں ہے۔ دونوں بیٹیاں اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ مزدوری کرتی ہیں اور ایک داماد کے ساتھ وہ دہلی میں جھگی ڈال کر رہتی ہے۔ یہ عورت میگنٹ کے ذریعہ دھول اورکوڑے سے لوہا اکٹھا کرتی ہے اور اسے بیچ کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیجیے آپ خود ان سے ملئے!

س: آپ کا نام کیا ہے؟ اور کہاں کی رہنے والی ہیں؟

ج: ہمارا نام جرینہ (زرینہ) ہے۔ مالدہ ضلع بنگال کسیدہ ہاٹ میں ہمرا گھار (گھر) ہے۔

س: یہ کام کب سے کررہی ہو؟

ج: تین مہینا سے کررہے ہیں۔ اس سے پہلے کام نہیں کرتا تھا۔ لڑکا گجر (انتقال ہوگیا) گیا۔ اب مجبوری ہے، ’’کھٹ کر‘‘ (محنت کرکے) کھانا پڑتا ہے۔

س: شوہر کے انتقال کو کتنے دن ہوگئے؟

ج: بیٹا! گیارہ سال ہوگیا۔

س: دونوں بیٹیوں کی شادی ہوگئی؟

ج: ہاں دونوں بیٹیوں کاشادی ہوگیا۔

س: داماد کیا کرتے ہیں؟

ج: دونوں داماد راج مستری کا کام کرتا ہے۔ دوسرا داماد اوپی (یوپی) میں کام کرتا ہے۔ ہمرا بیٹی بھی اسی کے ساتھ گارا ماٹی کا کام کرتا ہے۔

س: آپ کے رشتہ دار کہاں ہیں؟

ج: ہمرا کوئی رستہ دار نہیں۔ ہمرا مائی باپ اور بھائی بہن کوئی نہیں ہے۔ اکیلا جان ہم ہیں۔

س: دہلی میں کتنے دنوں سے ہیں؟

ج: دو برس سے جادہ ہوگیا ہے۔ ہمرا بیٹا بھی اسی ٹیم کھتم ہوا، بس تین روز کا بکھار تھا اور کوچھ نائی۔

س: کام کیوں شروع کیا؟

ج: ہمرا بیٹا کوچھ کھرچہ پانی نہیں دیتا تھا۔ ہمرا داماد پہلے کھرچہ کرتا تھا ، وہ بولتا تھا کہ آپ ہمرے بچے کا دیکھ بھال کرو ہم کمائے گا۔ ہم سے جو جوٹے (میسر ہوگا) گا وہ کھلائے گا۔ ہم نمک پانی کھائے گا تم بھی نمک پانی کھائے گا ہم بھوکا رہے گا تو تم بھی بھوکا رہے گا۔ ہم سوچا کئی بال بچہ ہے۔ ہمرا من کرتا ہے کوئی چیج کھانے کا، بچہ لوگ کو کھلانے کا تو ہم کرنہیں سکتا ہے۔ اس لیے ہم سوچا کہ دو پیسہ کمائے گا تو اس کو سہارا بھی لگے گا اور ہم کھود بھی اور بچہ لوگ کو بھی جو من کرے گا کھلائے گا۔ باقی ہمرا داماد بہت اچھا ہے۔ کوئی لڑائی جھگڑا نہیں کرتا بس کمانے کھانے کا ہے۔

س: آپ کی بیٹی بھی کام کرتی ہے؟

ج: ہاں کرتا ہے، کبھی کبھی داماد کا کام نہیں لگتا ہے تو کھرچہ پانی میں تنگی ہوجاتا ہے۔ اس لیے لڑکی بھی کام کرتا ہے۔

س: وہ کیا کرتی ہے؟

ج: وہ داماد کے ساتھ اینٹ بالو ڈھوتا ہے۔ مگر سب ٹائم نہیں کرتا۔

س: بنگال میں گھر ہے آپ کا؟

ج: گھر ہے بیٹا مگر گیر گیا ہے۔

س: بنگال جاتے ہیں، کتنے دنوں میں جاتے ہیں؟

ج: لڑکا مرنے کا ٹائم جانے والا تھا، مگر لڑکا مرگیا، ہمرا دیماگ (دماغ) پاگل ہوگیا۔ وہاں جائے گا تو کس کے پاس ٹھہرے گا۔ اب وہاں جائے گا گھر بنائے گا تو رکے گا۔ اب ٹاکا پیسہ ہو تو جائیں، ماٹی سے ہی گھر بنالیں گے مگر ٹاکا پیسہ تو ہے نہیں۔

س: آپ مسلمان ہیں نماز پڑھتی ہیں؟

ج: پہلے پڑھتا تھا، ہمرا بیٹا کھتم ہوگیا تو ہمرا دیماگ پاگل ہوگیا۔ بس اب جوما (جمعہ) کا نماج پڑھتا ہے۔ اس کا نام تو لینا پڑتا ہے۔ اوہی سب دینے والا ہے نا۔

س: آپ کی بیٹی نماز پڑھتی ہے؟

ج: نہیں۔

س: آپ کے یہاں سے لوگ اکثر یہاں آجاتے ہیں؟

ج: ہمرے بنگال میں گجارا (گذارا) نہیں ہے۔ جمیں میں اپجا (زرخیزی) نہیں ہے۔

س: حکومت کچھ نہیں کرتی؟

ج: حکومت سرکار کچھ نہیں کرتا ہے۔ کھالی گیہوں کاٹو، دھان کاٹو، ایک مہینا کام ہوتا ہے، باقی ٹائم میں کیا کرے گا۔ بال بچہ کا کپڑا لتا کہاں سے آئے گا۔ دوا دارو کہاں سے آئے گا۔ اس لیے سوچتا ہے چلو ادھر چلو تو اچھا ہے۔

س: الیکشن میں ووٹ دیتے ہیں آپ لوگ؟

ج: اپنا دیس میں دیتا ہے، وہاں سرکار مہینہ مہینہ دس کلو گیہوں دیتا ہے دس کلو چنا دیتا ہے۔ ای مہینہ گیہوں دیا تو او مہینہ چنا دیگا۔ بدل بدل کر۔ جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کو دیتا ہے۔ کھیتی باڑی والے کو نہیں دیتا ہے۔

س: ایک مہینہ میں دس کلو سے کیا ہوگا؟

ج: کی ہوگا بیٹا؟ تین بچہ ہے اپنا پیٹ ہے۔

س: سرکار بدلی ہے، اٹل جی کی سرکار سے کیا ملا؟

ج: سرکار سے ہمرا کا لینا دینا ہے؟ ہم سی پی ایم پاٹی کو وھوٹ دیتا ہے۔

س: سی پی ایم کیا کرتی ہے؟

ج: کچھ نہیں کرتا ہے اس لیے اب کانگریس کو دیتا ہے۔ وہ بس گھٹنا کے ٹائم دکھائی دیتا ہے۔ پیچھے نہیں آتا۔ اس لیے لوگ ووھوٹ دینا چھوڑ دیا ہے۔

س: کچھ لوگ بہت مالدار ہیں اور کچھ بہت غریب ہیں ایسا کیوں ہے؟

ج: بس اوپر والے کی مایا ہے۔ تکدیر ہے۔

س: دلی میں کوئی پریشانی؟

ج: پرسانی کا ہے بیٹا، دیس میں بھوکا مرتا ہے یہاں بھوکا نہیں مرتا۔

س: کسی سے کوئی شکایت یا کسی سے کچھ کہنا ہے؟

ج: کسی سے کچھ نہیں کہنا۔ کس سے سکایت کرے گا۔ ہمرا پتی تھا گجر گیا، اب کیا؟ اللہ مالک ہے۔

س: اس کام سے کتنی آمدنی ہوجاتی ہے؟

ج: کہاں بیٹا! روج روج نہیں کرتا ہے نا۔ ہم بہت کمجور ہے، مہینہ میں پندرہ روج کام کرتا ہے۔ جب من چاہتا ہے کرلیتا ہے۔

س: کتنا پیسہ ملتا ہے اس سے؟

ج: پانچ کلو چھ کلو سات کلو، پہلے بکتا تھا آٹھ روپیہ کلو اب دس روپیہ ملتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
.....

تبصرہ کیجیے