4

خواتین کی ذمہ داریاں

خواتین جس طرح تہذیب کی نمائندہ ہوتی ہیں اسی طرح اپنے مذہب و دین کی بھی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں اللہ کافروں کے معاملے میں نوحؑ اور لوطؑ کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے اور اہل ایمان کے معاملے میں فرعون کی بیوی اور عمران کی بیٹی مریم ؑ کی مثال دیتا ہے اور یہ اس لیے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ۔

(میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں۔)

یعنی اسلام ظاہر سے لے کر باطن تک انسانی زندگی کو اللہ کی بندگی کے سانچے میں ڈھال دینے کا نام ہے۔ نوع انسانی کی تخلیق سے ہی ہدایت کا سلسلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ خدا کے آخری نبی محمدﷺ اور فائنل شریعت آگئی اور قیامت تک اس سلسلۂ ہدایت کے جاری رہنے کی عملی شکل کے طور پر اللہ نے امت مسلمہ پر دوہری ذمہ داری ڈالی۔ سورہ آل عمران میں خدا نے فرمایا:

کنتم خیر امت ……

(تم ایک بہترین امت ہو جو سارے انسانوں کی بھلائی کے لیے وجود میں لائی گئی ہے۔ تم معروف کا حکم دیتے ہو، منکر سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔)

اور اس ذمہ داری میں امت کی خواتین برابر کی شریک ہیں۔ اس لیے اللہ چاہتا ہے کہ اسلام دین کو اختیار کرنے، قائم کرنے اور اس کی اشاعت کے لیے جدوجہد کرنے میں عورت مردوں سے کسی طرح پیچھے نہ رہیں۔ آج جب کہ اسلام ہر جگہ مغلوب ہے حالات پکار پکار کر آواز دے رہے ہیں کہ دنیا کو معروف کا حکم دینے اور منکر سے روکنے کے لیے دعوت و تبلیغ، وعظ و نصیحت، تعلیم و تربیت اور نشر واشاعت غرض تمام جائز اور پسندیدہ ذرائع اختیار کرنے کی خاطر خواتین پوری آمادگی کے ساتھ آگے آئیں، کیونکہ سورہ التوبہ میں خدا نے صاف فرمادیا ہے:

وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ اَوْلِیَائُ بَعْضِہِمْ بِبَعْضٍ۔

(ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔)

اس آیت سے یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ راہ حق میں استقامت اور معاشرہ کی تعمیر اور اصلاح کی جدوجہد میں خواتین کو اللہ نے برابر کا شریک ٹھیرایا ہے اور اس ذمہ داری سے پہلو تہی کرنا انفرادی طور پر جس طرح مردوں کے لیے مہلک ہے عورتوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اپنے دائرے میں رہ کر بھی خواتین بیش بہا دعوتی اور اصلاحی خدمات انجام دے سکتی ہیں اور انہیں دینا بھی چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہم چند نکات پر غور کرتے ہیں:

فرد اور معاشرہ کی اصلاح

قرآن کریم نے مومنات کے لیے جو اوصاف بیان کیے ہیں اور ازواج مطہرات و صحابیات نے رضائے الٰہی کے حصول کے جو نقوش چھوڑے ہیں ان کاآئینہ ہمیشہ اپنے آگے رکھ کر اپنے کردار کے ایک ایک گوشے کو سنوارنے کی کوشش اگر خواتین کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ اسلام کو ایک بہت بڑی طاقت تربیت یافتہ خواتین کی شکل میں مہیا نہ ہوجائے۔ خواتین کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ زندگی کی تعمیر کا جو نقشہ اسلام نے تیار کیا ہے اس کی بنیاد عورت کے ذریعہ رکھی جاتی ہے۔ یہ بنیاد جتنی پختہ، مضبوط اور درست ہوگی معاشرہ اور پھر اسلام کی عمارت اتنی ہی پائیدار ہوگی۔ ازدواجی زندگی میں خواتین کا اخلاق اور پاکیزہ کردار وسیرت آنے والی نسلوں کی زندگیوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یہاں مومن اور مجاہد نسل بھی اٹھ سکتی ہے اور ملحد اور منکر خدا بھی۔ عورت اگر اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کرے توافراد ہی کا نہیں دین کا بھی نقصان ہوتا ہے اور دوسری صورت میں دین کا غلبہ اور اس کی اشاعت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

حضورؐ نے فرمایا ہے:

’’عورت نگراں ہے اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی اور ان کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا۔‘‘

عورت کی کلیدی حیثیت نگراں کی ہے اور یہ نگرانی صرف یہ نہیں کہ شوہر کے مال کو چوروں سے بچایا جائے اور بچوں پر نگرانی رکھی جائے کہ وہ باہر نہ نکل سکیں اور مشکلوں میں گرفتار نہ ہوجائیں بلکہ ان کے افکار، خیالات، عادات اور اخلاق کی نگرانی بھی ہے تاکہ وہ صالح بندہ اور معاشرہ کے لیے ایک مفید اور کارآمدفرد بن کر ہر طرح کی فکری گمراہی سے محفوظ رہیں۔

بے شمار معاشرتی و سماجی برائیاس ایسی ہیں جن کے خلاف صرف خواتین ہی جنگ جیت سکتی ہیں۔ مردوں کا کردار وہاں بہت زیادہ موثر نہیں ہوسکتا۔ لیکن خواتین اگر فعال اور سمجھدار ہوجائیں تو ان برائیوں کا خاتمہ بہت جلد کیا جاسکتا ہے۔غلط قسم کی سماجی رسوم و رواج، بے پردگی و عریانی، بدعات کی شریعت کا فروغ اور جہالت کا خاتمہ ایسی جہتیں ہیں جہاں خواتین کا فعال رول درکار ہے۔ بالغ عورتوں کے درمیان پڑھنے لکھنے کا فروغ صرف عورتوں کی کوششوں سے ممکن ہے۔ گھر گھر جاکر غلط رسموں اور بدعتوں کے خلاف بیداری پیدا کرنا صرف عورتوں ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ اسی طرح خواتین کے اندر دینی بیداری اور اسلام کی بنیادی تعلیمات سے واقف کرانے کا کام بھی وہی کرسکتی ہیں۔

ان سمتوں میں منصوبہ بند طریقے سے لگاتار کوشش کرنے کے لیے اگر خواتین کمربستہ ہوجائیں تو اسلامی معاشرہ کو وجود میں آنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہ روک سکے گی۔

تعلیم کے میدان میں عورتوں کی ذمہ داری دوہری ہے۔ ایک طرف تو انہیں اپنے بچوں کی بہترین تعلیم اور اچھی تربیت کرنی ہے دوسری طرف سماج کی لاکھوں ناخواندہ اور جاہل عورتوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔

اللہ کا قانون ہے کہ ’’کل نفس بما کسبت رہینۃ‘‘ (ہر نفس اپنے اعمال کا گروی ہے) اور عورتوں کے لیے وہ ہے جو انھوں نے کمایا اور مردوں کے لیے وہ ہے جو انھوں نے کمایا۔ مردوں اور عورتوں کو اپنے اعمال کا حساب الگ الگ دینا ہوگا اور وہ محض مردوں کے کندھوں پر اپنا بوجھ ڈال کر بری نہیں ہوسکتیں۔

ہم خواتین کو ایک نئی جدوجہد اور نئی تحریک کی شروعات کرنی ہے اور وہ تحریک اپنی ذات کی اصلاح سے شروع ہوکر سماج اور معاشرہ کی ہر ہر خاتون کی اصلاح اور علم دین و دنیا سے آراستہ کرکے ایک بڑے سماجی معاشرتی اور اسلامی انقلاب پر ختم ہوتی ہے۔

جائزہ اور احتساب

جو ذمہ داری اللہ نے ہم پر ڈالی ہے اسے ہم کہاں تک پورا کرپارہے ہیں؟ کہاں کہاں کوتاہیاں ہورہی ہیں، ہمارے کردار سے مکمل اسلام کا ظہور ہورہا ہے یا نہیں۔ قول و فعل میں کہیں تضاد تو نہیں۔ اپنے وقت، مال اور صلاحیت کا خاطر خواہ حصہ راہ حق میں صرف ہورہا ہے یا نہیں، اس پر ہماری گہری نظر ہونی چاہیے۔

دعا:

کام چاہے خدمت کا ہو یا تعلیم و تربیت کا یا کسی بھی طرح کی جدوجہد کا اس کا مرکز و محور رضائے الٰہی کے سوا کچھ نہ ہو۔ اور اس کے ساتھ ہی ہم تمام خواتین خدا سے دعا کرتی جائیں کہ ہماری نظر اللہ کی مغفرت اور اس کاانعام حاصل کرلینا ہو۔ اور ہمارے تمام کاموں کے بدلے اللہ اپنے غضب سے بچا کر اپنی جنت کا حقدار ہمیں بنادے۔ یہ دعا ہمیشہ ہماری زبان پر، ہمارے دلوں میں اور فکر میں ہو تو یقینا ہم اشاعت اسلام جیسی بڑی ذمہ داری سے سبک دوش ہوسکیں گے۔ یوں تو اللہ کی نیک بندیوں کی زندگی کے ایک ایک گوشہ سے اسلام چھلکتا ہوا نظر آتا ہے مگر دینی غیرت و حمیت کسی کو بھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ ہمارے دلوں میں اسلام کی محبت کی چنگاری ہو اور اس کی حرارت گردوپیش میں محسوس نہ کی جائے اور وہ ماحول میں منتقل نہ ہو یہ ممکن نہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سعیدہ بانو

تبصرہ کیجیے