2

موجودہ معاشرہ اور ایمانداری

موجودہ معاشرہ میں دیانتدار اور ایماندار لوگوں کو بیوقوف سمجھا جاتا ہے جیسے ایمانداری اور بیوقوفی دو ہم معنی لفظ ہوں۔ بہت سے لوگ اسے صرف سادہ لوحوں کا خاصہ سمجھتے ہیں۔ بڑے بڑے اور باعزت انسان بددیانتی سے نہیں بچتے اور اچھے اچھے اس میں ملوث نظر آتے ہیں۔ عموماً اس کی وجہ ایک تو ہمارے ایمان کی کمزوری ہے۔ وہ یوں کہ اگر ہمارا خدا اور رسول پر پورا ایمان ہے اور ہم قیامت پر یقین رکھتے ہیں تو پھر کیوں ہمیں بے ایمانی کرتے وقت اس معبود حقیقی کا خوف محسوس نہیں ہوتا؟ بہت سے لوگ جو عرف عام میں ایماندر اور نیک کہلاتے ہیں ایک خاص وقت میں ان کی نیت ڈانواںڈول ہوجاتی ہے اور دراصل یہی ان کے امتحان کا وقت ہوتا ہے۔ مثلاً جب کوئی آپ کو بھولے سے یا غلطی سے زائد رقم دے دے، یا پھر کسی سفر کے دوران مثلاً ریل میں آپ کا ہم سفر اسٹیشن پر اترتے وقت اپنا اسباب سمیٹنے کے دوران کوئی قیمتی شے بھول کر اترنے لگے اس وقت آپ کا جان بوجھ کر اس کو یاد نہ دلانا وغیرہ وغیرہ۔ بہت سے غریب لوگوں میں تو بے ایمانی کے ساتھ چوری کی عادت بھی پائی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ ضرورت اور مجبوری ہے اور دوسری وجہ احساس کمتری اور حسد۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اکثر غریب اور نادار طبقے کے لوگوں، خصوصاً بچوں میں احساس کمتری کی بنا پر مجرمانہ ذہنیت پیدا ہوجاتی ہے۔ آج کے دور میں جبکہ ہر طرف تصنع اور بناوٹ کا دور دورہ ہے کسی ہنستے چہرے کو دیکھ کر یا کسی کے چہرے پر خلوص اور ہمدردی دیکھ کر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اس کے دل کی صحیح کیفیت ہے یا اس میں بناوٹ ہے۔ آج جبکہ کوئی کسی کی تعریف کرے تو یہ یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا کہ یہ تعریف ہے یا خوشامد۔

ایک زمانہ وہ تھا کہ مسلمان پر ہر شخص بھروسہ کرتا تھا چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ مسلمان کہہ دینا ہی گویا اس امر کی پوری شہادت ہوتی تھی کہ یہ شخص ایماندار اور دیانتدار ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ چند اونٹ فروخت کیے۔ جب وہ شخص چلا گیا تو آپ کو یاد آیا کہ ان اونٹوں میں ایک اونٹ لنگڑا بھی تھا۔ آپ فوراً ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوئے۔ چند میل چلنے پر اونٹوں کے خریدار سے جاملے اور اسے بتایا کہ فروخت کیے ہوئے اونٹوں میں سے ایک اونٹ لنگڑا ہے اسے واپس دے کر دوسرا لے لو۔ سودا گر اس دیانتداری کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے کہا کچھ بھی ہو ہمیں یہ خریدا ہوا اونٹ منظور ہے۔

ایک دفعہ امام ابوحنیفہؒ کے غلام نے ایک عیب دار ریشمی تھان گاہک کو عیب سے مطلع کیے بغیر فروخت کردیا۔ آپ کو پتہ چلا تو آپ سخت ناراض ہوئے اور اس کپڑے کی قیمت خیرات کردی کیونکہ یہ پتہ نہ چل سکا کہ خریدار کہاں کا رہنے والا تھا اور کہا ںگیا۔ آپ نے غلام کو تاکید کررکھی تھی کہ خریدار کو تھان کا عیب دکھائے بغیر فروخت نہ کرنا مگر وہ بھول گیا۔ جان کر اس نے ایسا نہ کیا تھا مگر پھر بھی آپ نے اس رقم کو لینا گوارا نہ کیا۔

ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے کہیں لوگوں کے سامنے یہ کہہ دیا کہ مجھے سیب بہت پسند ہیں۔ یہ سن کر ایک سردار نے ایک غلام کے ہاتھ کچھ سیب بھیجے۔ آپ نے انہیں دیکھا اور سب سیب اکٹھے کرکے فرمایا:’’کیسے اچھے سیب ہیں، کیا خوشنما ہیں، کیا بھینی بھینی خوشبو ہے۔‘‘ پھر آپ نے فرمایا: ’’انہیں اپنے آقا کے پاس واپس لے جاؤ۔ انہیں ہمارا سلام کہنا اور کہنا کہ ان کے تحفہ بھیجنے سے ہم بہت خوش ہوئے۔‘‘ قریب بیٹھے ہوئے ایک دوست نے عرض کیا: ’’حضرت! یہ تو آپ کے چچازاد بھائی نے بھیجے تھے پھر ان کے قبول کرنے میں کیا حرج ہے؟ سنا ہے کہ رسول خدا ؐ بھی اس قسم کے تحفے قبول فرمایا کرتے تھے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’کہ لوگ جب رسول خدا کو ہدیہ دیتے تھے تو رسول اللہ سمجھ کر دیتے تھے، مگر جب کوئی ہمیں دے تو یہ تحفے نہیں بلکہ رشوت ہوتی ہے۔‘‘

اللہ اللہ کیا زمانہ تھا اور کیسے لوگ تھے۔ ہر چند کے ہم ان بزرگوں کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتے۔ لیکن کیا ہم ان کا نمونہ بھی نہیں بن سکتے؟

شیئر کیجیے
Default image
اقبال احمد

تبصرہ کیجیے