سر دردد

آدھے سر کا درد

سر میں درد کی کبھی کبھار ہونے والی تکلیف تقریباً سبھی کو ہوتی ہے۔ اس کا علاج معمولی تدابیر سے ہو جاتا ہے مثلاً سردیوں میں درد ہو تو دار چینی ادرک کی چائے سے فائدہ ہو جاتا ہے۔ گرمیوں میں ٹھنڈی چیزوں شربت وغیرہ کا استعمال یا ٹھنڈے پانی سے غسل کافی ہوتا ہے، لیکن درد کی اس عام تکلیف اور آدھے سر کے درد میں بڑا فرق ہوتا ہے۔

شقیقہ، جسے آدھے سر کا درد بھی کہتے ہیں، انگریزی میں میگرین کہلاتا ہے اور معمولی تدابیر سے دور نہیں ہوتا۔ درد کی یہ تکلیف بڑی پیچیدہ ہوتی ہے اور اس کے کئی پہلو اور کیفیات و اسبات ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ ابھی تک ایک طبی گتھی بناہوا ہے اور اس سلسلے میں تحقیق ہو رہی ہے۔ اس کی کئی دوائیں تیار ہوچکی ہیں، جن میں سے کوئی بھی اس کا قطعی علاج نہیں، اس لیے ان کی تلاش کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

درد شقیقہ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دو سے بہتّر گھنٹوں تک جاری رہتا ہے اور درمیان میں غائب بھی ہو جاتا ہے اور پھر دوبارہ آگھیرتا ہے۔غالب خیال یہ ہے کہ سر اور گردن کی خون کی رگوں میں گڑبڑ سے یہ تکلیف ہوتی ہے۔ درد کے ابتدائی مرحلے میں یہ رگیں سکڑ جاتی ہیں۔ یہ سب اصل درد کے شروع ہونے سے پہلے واقع ہوتی ہیں۔ اس سکڑن کے بعد یکایک رگیں پھیل جاتی ہیں اور درد اسی وقت سے شروع ہو جاتا ہے۔

شقیقہ کی تکلیف کا مریض کی نفسیاتی کیفیت یا خاندانی عوامل، ڈپریشن اور فکر و تشویش سے بھی تعلق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تکلیف نسبتاً خواتین کو زیادہ ہوتی ہے، جس کا سبب زنانہ ہارمون ہوتے ہیں، جن کی سطح میں درد کے شروع ہونے سے پہلے کمی ہوجاتی ہے۔

فرق کیا ہے؟

میگرین کے مریضوں کے مطابق یہ درد، سر میں درد کی تکلیف سے ایک بالکل جدا تکلیف ہوتی ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کی شدت اور مدت اکثر اوقات عام درد سر کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی شدت، انسان کو مفلوج اور ناکارہ بنا دیتی ہے۔ اس کی وجہ سے کام کے علاوہ سماجی تعلقات متاثر ہوتے ہیں، بیویوں کو شوہروں اور بچوں کو والدین سے بے توجہی کی شکایت ہوجاتی ہے۔

اس کے علاوہ شقیقہ کے درد میں متلی، الٹی اور نظر میں فرق پڑ جاتا ہے، آنکھوں کے سامنے بجلی کے کوندے دکھائی دیتے ہیں، سن پن اور جھنجھلاہٹ تکلیف دہ ہوجاتی ہے۔ بعض مریضوں کی آنکھوں کے سامنے چنگاریاں سی اڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ بعض کو آواز اور روشنی برداشت نہیں ہوتی۔ کانوں میں آوازیں آتی ہیں۔ بعض کو آنکھوں کے سامنے ایک سیاہ دھبا لہر کی طرح دوڑتا نظر آتا ہے جو دھیرے دھیرے بڑا ہوتا جاتا ہے یا پھر چمک دار لہریں سی ٹیڑھی میڑھی چلتی نظر آتی ہیں۔ اکثر صورتوں میں یہ کیفیات درد کا حملہ شروع ہونے سے پہلے کی ہوتی ہیں۔

خطرے کی علامت

درد کے اصل حملے سے پہلے بعض کیفیات طاری ہوتی ہیں، مثلاً مریض خوشی اور مسرت محسوس کرتا ہے، میٹھی چیزیں کھانے کی خواہش بڑھ جاتی ہے اور جمائیاں آتی ہیں۔ یہ گویا شقیقہ کی ابتدائی علامات ہوتی ہیں۔ اس مرض میں خود مریض کو اپنی کیفیت کے علاوہ اس بات کا اندازہ کرنا چاہیے کہ کن چیزوں سے اسے یہ درد ہوتا ہے مثلاً مغربی ملکوں کے بعد خود ہمارے ہاں بھی کافی، چاکلیٹ، کوکو کولا مشروبات اس کا ایک اہم سبب قرار پاتے ہیں۔ اسی طرح دیگر کئی چیزیں اس کا سبب ہوسکتی ہیں۔ اس درد کا سبب ایک سے زائد اشیا اور عوامل بھی ہوسکتے ہیں مثلاً خواتین میں امراض کی کثرت، عرصے تک بچے کو دودھ پلانا، نزلہ زکام کا صحیح اور مکمل علاج نہ ہونا، خون کی خرابی، عام جسمانی کمزوری، بدہضمی، گردے کے بعض امراض اور نیند کی کمی اس کا سبب ہوسکتے ہیں۔

بعض افراد کو وقت پر کھانا نہ کھانے سے بھی یہ تکلیف ہوتی ہے۔ شراب خاص طور پر سرخ شراب، پنیر، ترش پھل، تیز روشنی، شور و غل اور سفر سے بھی یہ تکلیف ہوتی ہے، اس لیے مریض کو خود ان تمام اسباب کا جائزہ لینے کے علاوہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کن اوقات میں یہ تکلیف ہوتی ہے اور کب تک جاری رہتی ہے۔ تکلیف کی شدت اور نوعیت پر بھی غور کرنا چاہیے بلکہ معالج کو ان تفصیلات سے ضرور آگاہ کرنا چاہیے۔

درد شقیقہ کی قسمیں

٭ اس میں درد کی لہریں نہیں اٹھتیں۔ درد کے حملے پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ ۴ سے ۷۲ گھنٹوں تک جاری رہتا ہے۔ درد ایک جگہ تھما ہوا ہوتا ہے اور اس جگہ پھڑپھڑاہٹ سی محسوس ہوتی ہے۔ شدت کی وجہ سے مریض معمول کے کام نہیں کرسکتا، جسمانی سرگرمی سے درد بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ متلی اور قے ہوتی ہے۔ روشنی اور تیز آواز بری لگتی ہے۔

٭ ذہنی دباؤ سے ہونے والے اس درد میں درد کے دس یا زیادہ حملے ہوتے ہیں۔ یہ حملے تیس منٹ یا ایک ہفتے تک جاری رہتے ہیں۔ درد، سر کی دونوں جانب ہوتا ہے۔ اس میں پھڑکن نہیں ہوتی بلکہ دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ اس کی شدت چوں کہ زیادہ نہیں ہوتی، اس لیے روز مرہ کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوتیں۔ کبھی آواز اور روشنی بھی بری لگتی ہے۔ اس میں عام طور پر قے نہیں ہوتی۔

٭ شقیقہ کی اس قسم میں دو یا زیادہ حملے ہوتے ہیں، جن کے بعد لہریں سی اٹھتی محسوس ہوتی ہیں مثلاً نظر دھندلا جاتی ہے۔ آنکھوں کے سامنے چنگاریاں اڑتی محسوس ہوتی ہیں اور سیاہ دھبے نظر آتے ہیں۔ یہ کیفیات پانچ منٹ تک یا زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے تک جاری رہتی ہیں اور پھر اس کے بعد سر میں درد ہونے لگتا ہے۔

٭ درد کی اس قسم میں شدید درد کا سلسلہ پندرہ منٹ سے تین گھنٹوں تک جاری رہتا ہے۔ اس کے حملے دن میں آٹھ مرتبہ تک ہوسکتے ہیں اور ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ درد عام طور پر آنکھوں سے اوپر یا کنپٹیوں میں جم جاتا ہے۔ اس میں آشوب چشم، ڈھلکا، ناک کی بندش، ناک سے رطوبت کا اخراج ہونے کے علاوہ پتلی سکڑ جاتی ہے یا پلکیں لٹک جاتی ہیں۔

علاج

طب جدید کی رو سے اس کا ابھی تک کوئی قطعی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔ ویسے یہ ضرور ہے کہ طرزِ حیات میں مناسب تبدیلی سے یہ مرض قابو میں رہتا ہے مثلاً اعتدال کے ساتھ زندگی بسر کی جائے۔ صحت و صفائی کا خیال رکھا جائے۔ صاف اور کھلی ہوا میں رہیں اور خاص طور پر صبح کے وقت ٹہلنے کے عادی بنیں۔ کام کی کثرت سے بچیں۔ ضرورت سے زیادہ فکر و پریشانی، غصہ اور نفرت سے دور رہیں۔ گرم چیزیں کم کھائیں۔ دیر سے ہضم ہونے والی اور گیس پیدا کرنے والی اشیا کے استعمال سے بچیں۔ قبض نہ ہونے دیں اور ممکن ہو تو دوپہر اور رات کے کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے آرام سے لیٹے رہیں۔

طب جدید درد دور کرنے والی دواؤں کے علاوہ ورم دور کرنے والی دوائیں بھی استعمال کرتی ہے۔ اس کے علاوہ آج کل ’’سماٹرپٹان‘‘ کو اس کی موثر دوا سمجھا جاتا ہے۔

طب میں مریض کی کیفیت کے لحاظ سے علاجی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں مثلاً اگر معدے میں غذا زیادہ ہو تو مریض کو نمک کا پانی پلا کر قے کرائی جاتی ہے، قبض ہوتو اسے دور کرنے کی تدبیر کی جاتی ہے۔

مشاہدہ یہ ہے کہ دور حاضر کی ناقص غذائیں، بازاری کھانے، شہروں کا شور و غل، ماحول کی آلودگی، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اس کے اہم اسباب ہیں۔ چنانچہ ہمدرد کے اطبا اس کے لیے بعد غذا جوارش انارین اور سوتے وقت دودھ میں سومینا ملا کر پینے کی ہدایت کرتے ہیں۔ یہ ایک شافی علاج ہے۔

نزلہ رکا ہوا ہو تو اسطو خودوس چھ گرام، خشک دھنیا چار گرام، کالی مرچ چھ عدد، کا سفوف سورج نکلنے سے پہلے ایک پیالی پانی میں ملاکر پلانے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ دماغ کی کمزوری کی صورت میں اسی کے ساتھ پانچ چھ دانے بادام پیس کر شامل کرلینا چاہیے۔

(بشکریہ ہمدرد صحت)

شیئر کیجیے
Default image
سید رشید الدین احمد

تبصرہ کیجیے