4

داعی کا مطلوب کردار

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’خدا جس شخص کو خیر سے نوازنا چاہتا ہے اسے دین کا فہم اور گہری سوجھ بوجھ عطا فرماتا ہے۔‘‘ (بخاری)

حقیقت یہ ہے کہ دین کا صحیح فہم اور دین کی حکمت ہی تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے جو انسان اس خیر سے محروم ہے وہ دونوں جہاں کی سعادتوں سے محروم ہے۔ وہ نہ صحیح طور پر دین پر چل سکتا ہے نہ زندگی کے کسی میدان میں دین کی صحیح نمائندگی کرسکتا ہے۔

ہم مسلمان اور دعوت دین کا عہد رکھنے والا گروہ ہیں۔ اس لیے پہلے خود ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم پوری طرح دین پر چلیں۔ ہماری انفرادی زندگی، خانگی تعلقات، سماجی معاملات سب کچھ دین کے مطابق ہوں۔ ہمارا کردار، ہمارے اخلاق، ہمارے تعلقات و معاملات سب کچھ لوگوں کے لیے نمونہ بنیں۔

جب ہم اسلام پر پوری طرح عمل پیرا ہوکر دعوت دین دوسروں کے سامنے پیش کریں گے تو یقینا ہماری بات میں اثر ہوگا، اور لوگ توجہ سے سنیں گے۔ ورنہ اگر ہم اپنی اصلاح و تربیت سے غافل ہوکر دوسروں کی تربیت و اصلاح کی فکر کریں گے تو ہماری بے عملی ہماری دعوت کو بے اثر کردے گی۔ جو لوگ خود بے عمل رہ کر دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں انہیں دنیا و آخرت میں عبرتناک سزا بھگتنا پڑے گی اور وہ دنیا و آخرت دونوں جگہ ذلیل و رسوا کیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ دوسروں کو نصیحت کرنے والے خود بے عمل رہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

یٰآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ (الصف: ۲)

(اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔)

رسول اللہ ﷺ نے بے عمل داعیوں کو انتہائی ہولناک عذاب سے ڈرایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’قیامت کے روز ایک آدمی لایا جائے گا اور آگ میں پھینک دیا جائے گا، اس کی انتڑیاں اس آگ میں باہر نکل پڑیں گی پھر وہ آدمی ان انتڑیوں کو اس طرح لیے لیے پھرے گا جس طرح گدھا اپنی چکی میں پھرتا ہے۔ یہ دیکھ کر دوسرے جہنمی لوگ اس کے پاس جمع ہوں گے اور پوچھیں گے : ’’اے فلاں! یہ تمہارا کیا حال ہے؟ کیا تم دنیا میں ہمیں نیکیوں کی تلقین نہیں کرتے تھے؟ اور برائیوں سے نہیں روکتے تھے؟ (ایسے نیکی کے کام کرنے کے باوجود تم یہاں کیسے آئے؟) وہ آدمی کہے گا ، میں تمہیں تو نیکیوں کا سبق دیتا تھا لیکن خود نیکی کے قریب بھی نہیں جاتا تھا، تمہیں تو برائیوں سے روکتا تھا لیکن خود برائیوں پر عمل کرتا تھا۔‘‘ (مسلم، بخاری)

معراج کی شب کے جو عبرت انگیز مناظر نبی کریم ﷺ نے لوگوں کے سامنے رکھے ہیں ان کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ کوتاہ کار لوگوں کو تنبیہ ہو اور وہ اپنی اصلاح حال کی فکر کریں۔ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے معراج کی شب میں کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے، میں نے جبرئیلؑ سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیلؑ نے کہا: ’’یہ آپ کی امت کے مقررین ہیں۔ یہ لوگوں کو نیکی اور تقویٰ کی تلقین کرتے تھے اور خود کو بھولے ہوئے تھے۔‘‘ (مشکوٰۃ)

یہ احادیث پڑھ کر ہمارے دل تڑپ جانے چاہئیں۔ آج لوگ دوسروں کو تو نصیحت کرتے ہیں مگر خود اپنے آپ کو نہیں دیکھتے۔ اپنی اور اپنی اولاد اور گھر والوں کی اصلاح کی فکر نہیں کرتے۔ خود اپنے گھروں میں اندھیرا رکھ کر دوسروں کے گھر روشن کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دے رہا ہے :

یٰآیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَ اَہْلِیْکُمْ نَاراً۔ (التحریم)

(اے ایمان والو! بچاؤ اپنے کو اور گھروالوں کو جہنم کی آگ سے۔)

اور ہمیںمعلوم ہے کہ جہنم کی آگ سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔ وہ سارے کام جو اللہ کو ناراض کرنے والے ہیں، انہیں ہمیں چھوڑدینا ہے۔ تمام کفروشرک کے کام، بدعات، غلط رسم و رواج، اور معاشرتی برائیوں کو جو اکثر ہم میں پائی جاتی ہیں، اللہ کی رضا و خوشنودی اور اس کی جہنم سے بچنے کے لیے چھوڑ دینا ہوگا۔ اور اپنی اولاد اور گھر والوں کی اس طرح تربیت کرنی ہوگی کہ وہ بھی ان تمام برے اعمال سے بچنے والے اور پوری طرح دین اسلام کی پیروی کرتے ہوئے زندگی بسر کرنے والے بنیں۔ برائیوں سے بچنے اور نیکیوں کو اختیار کرنے اور دوسروں کی اصلاح و تربیت کرنے کے لیے ہمیں مسلسل جدوجہد کرنی پڑے گی اور جب تک زندہ رہیں اسی جدوجہد میں مصروف رہنا ہوگا۔

ایک بار حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے ایک شخص نے کہا حضرت میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو نیکی کا حکم دوں اور برائیوں سے روکوں اور دعوت و تبلیغ کا کام کروں، حضرت نے فرمایا، کیا تم اس مرتبے پر پہنچ چکے ہو کہ مبلغ بنو۔ اس نے کہا، ہاں توقع تو ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: اگر تمہیں یہ اندیشہ نہ ہو کہ قرآن پاک کی تین آیتیں تمہیں رسوا کردیں گی تو شوق سے تبلیغ دین کا کام کرو، وہ شخض بولا، حضرت وہ کونسی تین آیتیں ہیں، حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا پہلی آیت یہ ہے:

أَتَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ (البقرہ:۴۴)

(کیا تم لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔)

ابن عباسؓ نے کہا، اس آیت پر اچھی طرح عمل کرلیا ہے؟ اس نے کہا، نہیں! اور دوسری آیت یہ ہے:

لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ (الصف:۲)

(تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔)

تو تم نے اس آیت پر اچھی طرح عمل کرلیا ہے؟ اس نے کہا، نہیں! اور تیسری آیت یہ ہے:

مَا اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَکُمْ إِلٰی مَا اَنْہٰکُمْ عَنْہُ۔ (الہود:۸۸)

’’(حضرت شعیبؑ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا) جن بری باتوں سے تمہیں منع کرتا ہوں، ان کو بڑھ کر خود کرنے لگوں میری یہ خواہش نہیں ہے۔ (بلکہ میں تو ان باتوں سے دور رہوں گا۔)‘‘

بتاؤ تم نے اس آیت پر بخوبی عمل کرلیا ہے؟ وہ شخص بولا: نہیں! تو حضرت نے فرمایا: جاؤ پہلے اپنے آپ کو نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔‘‘

اس حدیث کا مطلب یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم دعوت و تبلیغ کا کام صرف اس وجہ سے نہ کریں کہ یہ تین چیزیں ہم مکمل نہیں کرپارہے ہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ ہر شخص کو ان باتوں کی تکمیل کرتے ہوئے دعوت و تبلیغ کا کام کرنا ہے۔ اس کے بغیر فلاح و کامیابی ممکن نہیں۔

یہ حدیث ہمیں غوروفکر کی دعوت دیتی ہے کہ اس کی روشنی میں ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں جو کچھ کمزوریاں، کوتاہیاں ہم میں موجود ہیں انھیں دور کرنے کی ان تھک کوشش کریں اور اسلام کا چلتا پھرتا نمونہ بن کر دعوت دین کا کام کریں۔ اگر ایسا ہوا تو لوگ ہماری دعوت کو قبول کریں گے، ہماری باتوں کا اثر لیں گے، ہماری دعوت کامیاب ہوگی اور آخرت میں بھی کامیابی ہمیں نصیب ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ فرزانہ صادق

تبصرہ کیجیے