4

ہم نفس

مرے وجود کی پرچھائیوں میں ڈھلتا ہے

یہ کون ہے جو مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے

سحر کی سپیدی ابھی پوری طرح نمودار نہیں ہوئی تھی۔ فضا ملگجی سی اوڑھنی اوڑھے ٹھٹھری ٹھٹھری سی تھی۔ پتھریلی زمین سرد تھی۔ سورج کی کرنوں نے ابھی تک رگ و پے میں حرارت نہیں دوڑائی تھی۔ پودوں کے سر خمیدہ تھے۔ گھاس بھی سکڑی سمٹی سی تھی۔ سرائے کا مالک بڑی سے کیتلی چولہے پر چڑھا چکا تھا۔ دونو ںنے میٹھی چائے اور بند کا ناشتہ کیا اور پیدل ہی بس کے اڈے کی طرف چل پڑے۔

بسوں کا حال بھی پتلا ہی تھا۔ کھڑکھڑ کرتی مڑی تڑی باڈی جن کا رنگ روغن اترچکا تھا۔ افغان کلینر شلوار کے پائنچے چڑھائے دھونے میں لگا ہوا تھا اور ڈرائیور سگریٹ کے کش لگارہا تھا۔ کچھ اور مسافر بھی شانوں پر رومال ڈالے،پگڑیاں پہنے جانے کے منتظر تھے۔ کرنل نے اپنی پگڑی سے اپنا نصف چہرہ ڈھانپ رکھا تھا۔ صرف اس کی نیلی نیلی آنکھیں چوکس اور ہوشیار تھیں۔ ماہ گل سیاہ چادر میں سر سے پیر تک لپٹی ہوئی تھی۔ دونوں اپنی سیٹوں پر جابیٹھے۔

شکستہ سڑک پر پھر سے سفر شروع ہوگیا تھا۔ کیا یہ سفر یوں ہی جارہی نہیں رہ سکتا۔ ابد کی نامعلوم منزل تک۔ افق کے آخری کنارے تک۔ یوں ہی پہلو بہ پہلو اگر زندگی کے کار زار میں نہیں تو موت کی وادیوں ہی میں سہی۔ بدن میں صدیوں کی تھکن تھی۔ آنکھیں بے خواب تھیں۔ پاؤں میں آبلے تھے اور دشت بے کنار تھا۔ پھر بھی اسے یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے چاروں طرف مضبوط فصیلیں کھڑی ہوگئی ہوں۔ ایک حصار کھنچ گیا ہو۔ دل کے اندر کیسی گہری طمانیت اور سکون ہے، نہ زمین سخت لگ رہی ہے نہ آسمان ستم گر۔ یہ کیسا دشمن ہے جو دشمن نہیں لگ رہا۔

’’کیا سوچ رہی ہو‘‘ کرنل نے جھک کر سرگوشی کی۔ ماہ گل ایک دم چونک گئی۔ خون اس کے گالوں میں سنسانے لگا۔ دل نے ایک ڈبکی سی کھائی۔

’’اس طرح چونکو نہیں‘‘ کرنل مسکرایا۔ ’’اب ہم پشتو بولنے والے علاقے کی طرف بڑھ رہے ہیں لہٰذا فارسی میں بات چیت کریں گے۔‘‘

ماہ گل خاموش رہی ’’اچھا اب بتاؤ کیا سوچ رہی تھیں۔ ہماری تباہی کا کوئی نیا منصوبہ۔‘‘

’’آپ کو ان خون آشام ویمپائروں سے بچانے کا طریقہ سوچ رہی تھی۔‘‘

’’میری فکر کیوں ہے۔‘‘

’’پھر آپ نے میری اتنی فکر کیوں کی۔ اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیا۔‘‘ بس کی کھڑ کھڑاہٹ اور شور میں بمشکل وہ ایک دوسرے کی سرگوشیاں سن پارہے تھے۔

’’ہاں یہ سوچنے کی بات ہے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ کیا تم بدلا چکانا چاہتی ہو؟‘‘

’’آپ جانتے ہیں میں کمزور، نہتی اور بے بس لڑکی ہوں۔ میں اتنے بڑے احسان کا بدلہ کس طرح چکاسکتی ہوں۔ مگر میں آپ کی تباہی نہیں دیکھ سکتی۔‘‘

’’پھر یہ کمزور، بے بس، نہتی لڑکی مجھے تباہی سے کیسے بچائے گی؟‘‘

’’آپ تو مضبوط اور طاقتور ہیں۔ آپ خود اپنے آپ کو بچائیں گے۔ یہ آپ کو سوچنا چاہیے کہ کیسے؟ میں آپ کو سرحد کے اس پار چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔ یہ میرا فیصلہ ہے۔‘‘

’’میں نے اتنی تکلیف پھر کیوں اٹھائی۔ اگر سرحد پار نہیں کروگی تو کیا کروگی۔‘‘

’’میں نورستان میں مجاہدوں کے ساتھ مل جاؤں گی۔ جہاد میں حصہ لوں گی اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کردوں گی۔‘‘

’’تم نے مجھے شش و پنج میں ڈال دیا ہے۔ میں تو تمہیں سمجھدار لڑکی سمجھتا تھا۔ یہ تمہارا قطعی جذباتی فیصلہ ہے!‘‘

’’یہ تو آپ کو سوچنا چاہیے تھا۔ جس راستے پر آپ نے قدم رکھا تھا اس کی سمت ایک ہے اس کے علاوہ سب بھول بھلیاں ہیں۔‘‘

’’وہ سمت تمہارے خیال میں وہ ہے جس کی طرف تم جارہی ہو۔‘‘

’’ہم تو دو مخالف سمتوں کے مسافر تھے۔ میں نے آپ کی سمت اختیار نہیں کی تو ظاہر ہے کہ آپ نے جو سمت اختیار کی ہے وہ میری ہے۔ پیچھے مڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور بے سمت مسافر کو منزل نہیں ملتی۔‘‘

’’تم مجھے ورغلارہی ہو، مجھے سوچنے دو۔ کنفیوز مت کرو۔‘‘

بستی میں پہنچ کر وہ بس سے اتر گئے۔ کرنل نے شہر میں نہ ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ یہاں کوئی پتہ نہیں تھا کہ کون خاد کا ایجنٹ ہے اور کون مجاہدین کا آدمی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان کے فرار کی خبر یہاں بھی پہنچ گئی ہو اور تمام ہوٹلوں وغیرہ کو چوکنا کردیا گیا ہو اور ان کا حلیہ بھی بھجوادیا گیا ہو۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا وہ مزید خطرے میں گھرتے جارہے تھے۔

’’میرا خیال ہے کہ ہم بستی سے نکل جائیں اور کہیں ویرانے میں رات گزار لیں۔ پو پھٹنے کے بعد سڑک پر آجائیں گے اور جو سواری بھی ملی لے لیں گے۔ شہر اور بستیوں سے بچ کر ہی چلنا چاہیے۔‘‘

’’ہم اگر کسی طرح بری کوٹ تک پہنچ جائیں تو بہت اچھا ہو۔ وہاں میرے ماموں کا گھر ہے۔ وہ ہمیں سرحد پار کرادیں گے۔ ان کے سرحد کے اس پار کے تاجروں سے بہت تعلقات ہیں۔ ادھر ادھر آتے جاتے رہتے ہیں۔‘‘

’’کیا معلوم کہ وہ بھی زیر نگرانی آچکے ہوں۔‘‘

’’بظاہر تو وہ خلق کے ممبر ہیں۔ ان کے پاس ان کا دیا ہوا سرخ شناختی کارڈ بھی ہے۔ دنیا دکھاوے کو ان کے اور ہمارے تعلقات بھی نہیں تھے مگر اندر خانے وہ مجاہدین کے ساتھ ہیں، وہاں پہنچ کر ہی صحیح صورت حال کا پتہ چلے گا۔‘‘

پیدل سفر پھر شروع ہوگیا۔ اب شاید کچھ عادت ہوچکی تھی۔ اس لیے پیدل چلنا اتنا دشوار بھی نہیں لگ رہا تھا۔ آنکھیں بھی اندھیرے کی عادی ہوگئی تھیں۔ رات کی خنک ہوا جھاڑیوں اور خود رو جنگلی پھولوں کی خوشبو سے بھری اس کے چہرے کو ٹھنڈک بخش رہی تھیں۔ ستارے اپنی ٹمٹماتی آنکھوں سے ان دو مسافروں کو حیرت سے تک رہے تھے۔ جبو وہ آسمان کی طرف دیکھتی تو وہ نیلگوں ستارے اس کی آنکھوں کی جھیلوں میں اتر آتے۔ اکا دکا درخت سایے کی طرح تاریک لگ رہے تھے۔ کرنل اس کے چند قدم آگے چل رہا تھا اس کی سیاہ پگڑی کا شملہ کمر پر پڑا تھا اور پگڑی کے کناروں پر سنہری بالوں کو گوٹ سی لگی ہوئی تھی۔ تھوڑی تھوڑی شیو بڑھ گئی تھی روسی سپاہی کی بجائے وہ شیعہ مجتہد نظر آرہا تھا۔

واقعی تم میرے سچے مونس تھے۔ تم نے مجھے اغیار اور کافروں کے ہتھے نہیں چڑھنے دیا۔ اپنی جان اپنا مستقبل اور اپنی تمام آسائشیں اور عیش و آرام میرے لیے تج دیا۔ مجھ اجنبی لڑکی کے لیے۔ جس سے نہ تمہارا کوئی رشتہ ہے نہ تعلق نہ ہمارا ماضی ایک ہے اور نہ مستقبل ایک ہوگا۔ نہ جانے وقت کی پہنائیوں میں تم کہاں کھو جاؤ گے۔ تمہاری جھلک بھی پھر شاید میں کبھی نہ دیکھ سکوں۔ میں کمزور اور ناتواں لڑکی شاید تمہاری جستجو اور تلاش میں بھی نہ نکل سکوں۔ اے میرے ہم نفس تو مجھ سے دور ہوکر بھی کتنا قریب ہوتا ہے۔ میری یہ کیا کیفیت ہوگئی ہے۔ کبھی اس کا گمان تک نہ تھا۔ تیرے دل کی دھڑکن مجھے اپنے دل میں سنائی دیتی ہے۔ تیرا ہر سانس میری روح کی گہرائی سے ہوکر گزرتا ہے۔ تیرا دل ڈوبتا ہے تو مجھے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ تیرا سانس رکتا ہے تو مجھے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ مجھے یوں نہیں سوچنا چاہیے۔ سائے کے پیچھے بھاگنا، ہوا کے جھونکے کو مٹھی میں پکڑنے کی کوشش کرنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ میں کوئی رومینٹک اور جاگتے میں خواب دیکھنے والی لڑکی نہیں ہوں۔ میں تو ایک سخت کوش اور سخت جان مجاہدہ ہوں۔ جس کا کام دشمن سے لڑنا اور مادر وطن کو آزاد کرانا ہے۔ خوبصورت خواب دیکھنا نہیں۔ میرا وطن آگ کے شعلوں اور خون کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔ مجھے پھولوں اور ستاروں کے بارے میں سوچنا زیب نہیں دیتا۔ اجتماعی کرب کے سامنے ذاتی دکھ بے حد حقیر اور بے وقعت ہے۔

’’تم آج کل سوچوں میں بہت گم رہتی ہو، کھوئی کھوئی سی۔ کیا بات ہے؟ کیا خوف زدہ ہو؟‘‘

ماہ گل ایک دم چونک اٹھی۔ جیسے کوئی اس کے خیالوں میں اتر کر اس کی چوری پکڑ رہا ہو۔’’آپ کو پتہ ہے میں ڈرتی نہیں ہوں۔ جو لکھا ہے وہی ہوتا ہے۔ انسان اپنے ہاتھ کی لکیروں کو مٹا نہیں سکتا۔‘‘

’’تو پھر کیا بات ہے؟ بعض اوقات انسان کو باہر کے علاوہ اپنے وجود کے اندر چھپے ہوئے دشمنوں سے بھی لڑنا پڑجاتا ہے۔‘‘

’’تمہارا ظاہر تمہارے باطن کا آئینہ ہے۔ مجھے تو ایسا کوئی دشمن نظر نہیں آیا۔‘‘

’’اپنے ہم نفس بھی اپنے دشمن بن جاتے ہیں۔‘‘

’’میں سمجھا نہیں۔‘‘

’’سمجھ کر کیا کریں گے؟‘‘

’’تمہاری مدد کروں گا۔‘‘

ماہ گل ہنس پڑی ’’آپ تو خود دشمنِ جان و ایمان ہیں۔ آپ کیسے میری مدد کریں گے۔‘‘

کرنل کچھ برا مان گیا۔ قدرے توقف کے بعد بولا ’’تم اب بھی مجھے اپنا دشمن سمجھتی ہو۔‘‘

’’دشمن دشمن ہی رہتا ہے۔ بھیس بدلنے سے کیا ہوتا ہے؟‘‘

ماہ گل بھی جیسے اسے زچ کرنے پر تل گئی۔

’’یہ خوب رہی۔ سب کچھ لٹا کر بھی دشمن کا دشمن ہی رہا۔ دونوں طرف سے گیا۔ نہ وہ دوست سمجھیں گے اور نہ تم۔‘‘

’’میں تو چاہ رہی ہوں کہ آپ دوستوں کی صف میں آجائیں۔ مگر آپ ابھی تک شک کی وادی میں بھٹک رہے ہیں۔‘‘

’’جب تک یقینِ کامل نہ ہوجائے، انسان شک کے چنگل سے آزاد نہیں ہوتا اور واقعی میں دوراہے پر کھڑا ہوں۔ ماضی کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہوں اور مستقبل لاعلمی کے اندھیرے میں چھپا ہوا ہے۔ فی الحال کچھ بھی تو واضح نہیں ہے۔‘‘

’’چلئے اپنی کہانی ہی سنائیے، وقت اچھا کٹے گا۔‘‘

’’کیا سناؤں تمہیں۔ کچھ ایسی خوبصورت کہانی تو نہیں ہے میری جس سے لطف اندوز ہوا جاسکے۔ گو روسی فطرتاً دکھوں ہی سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اپنے اور دوسروں کے ذکر سے مزہ لیتے ہیں، بندروں کی طرح اپنے ہی زخم نوچنے اور کریدنے میں مزہ آتا ہے۔‘‘

’’آپ تو بہرحال روسی نہیں ہیں۔‘‘

’’ہاں میں نسلی اعتبار سے روسی نہیں ہوں۔ لیکن ان کی طرح کا ہی ہوگیا ہوں۔ ورنہ کاکیشیا کے پہاڑوں پر جو قبائل آباد تھے وہ بڑے جنگ جو، دلیر، نڈر، اور غیرت مند تھے۔ چیچن، انگش اور کبارڈن قبائل شاید تم افغانوں جیسے ہی تھے۔ ان کو نہ روسی زار زیر کرسکے تھے اور نہ کمیونسٹ ان کو کمیونسٹ بناسکے۔ دوسری جنگ عظیم میں انھوں نے ہٹلر کا ساتھ دیا تھا۔ جس کی سزا اسٹالین نے ان کو یہ دی کہ ایک ہی دن میں ہزاروں لاکھوں قبائلیوں کو ٹرکوں میں ٹھونس کر جانوروں کی طرح کازکستان کے گرم اور خشک میدانوں کی طرف ہانک دیا۔ جہاں نہ پانی تھا نہ سرسبز کھیتیاں اور باغ تھے۔‘‘

’’اسٹالین کے بعد یہ لوگ واپس پہاڑوں پر چلے جاتے اور پھر سے اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو جمع کرلیتے۔‘‘

’’جب کسی ہری بھری فصل کو ٹڈی دل اجاڑ دے تو کیا ہوتا ہے۔ اسٹالین نے ان کو بری طرح کچل کر رکھ دیا تھا۔ ان کا نہ کوئی مدد گار تھا اور نہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ۔‘‘

ماہ گل ایک جگہ ٹھوکر کھاکر گرتے گرتے بچی۔ اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔ ابتدائی تاریخوں کا چاند ابھی آسمان کی پیشانی پر موجود تھا۔ مگر اس پر جلہری کا نقاب پڑا تھا۔

’’روسیوں کو غالباً یہی خوف ہے کہ اگر وہ میرے وطن میں ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر کہیں تاشقند، سمرقند، بخارا، فیفا، کوکند اور آرمینیا کے باشندے نہ سر اٹھانے لگیں۔‘‘

’’ہاں یہ تو ہے کیونکہ ازبک، کازک اور دوسری نسلوں کے باشندے کسی حد تک خود کو محروم سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ پارٹی کے ممبر تو بن سکتے ہیں مگر عہدے صرف روسی النسل لوگوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔‘‘

’’ تو گویا یہ مساوات صرف دکھاوے کی چیز ہوئی کیونکہ نسلی تفریق موجود ہے۔‘‘

’’بالکل وہ تو ہے ہی، بلکہ ہزاروں قسم کی نفرتیں بھی ہیں۔ مختلف قبائل کو وہ اسی لیے دربدر کردیتے تھے جس طرح فراعنہ مصر نے اپنے اہرام تعمیر کرنے کے لیے لوگوں کو غلام بنایا تھا۔ انھوں نے سائبیریا کے برف زاروں کو آباد کرنے اور وہاں کارخانے لگانے کے لیے اپنوں کو ہی غلام بنالیا۔ جب وہاں کارکنوں اور ورکروں کی ضرورت ہوتی تھی جس کو چاہتے پکڑ لیتے اور جھوٹے الزامات لگا کر جلاوطن کردیتے۔ اب میں سوچتا ہوں تو روس مجھے بہت بڑے لیبر کیمپ کی مانند نظر آتا ہے۔ جس میں انسان نہیں روبوٹ بس سکتے ہیں۔ اگر کوئی انسان بننے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا سر کچل دیا جاتا ہے۔‘‘

’’آپ گھبرائیے نہیں۔ کارل مارکس نے پیش گوئی کی تھی کہ ایک دن تمام سرمایہ دار ممالک جو صنعتی لحاظ سے روس سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں کمیونسٹ ہوجائیں گے۔ یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی کیونکہ انسانوں کو بہت دیر تک جبر سے غلام اور روبوٹ بناکر نہیں رکھا جاسکتا، ایک نہ ایک دن ظالمانہ نظام کا خاتمہ ہوکر رہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن روسی بھی شخصی آزادی کا مزہ چکھیں گے۔ آزادی رائے، آزادی اظہار اور آزادی فکر کی نعمت سے بہرہ ور ہوں گے۔ ان کے لبوں پر لگے قفل کھل جائیں گے۔ آہنی پردہ پگھل جائے گا، جس نے انسان کو انسان سے جدا کررکھا ہے۔‘‘

’’تم تو تھک گئی ہوگی۔ چلو کہیں مناسب سی جگہ دیکھ کر رات گزارنے کا بندوبست کریں۔‘‘

بری کوٹ کے نواح میں ماہ گل کے ماموں کی قلعہ نما حویلی تھی جس کے چاروں طرف مٹی سے لپی ہوئی کنکروں والی اونچی اونچی دیواریں تھیں۔ دیواروں میں جا بجا چوکور سے سوراخ تھے اور چاروں کونوں پر ستون تھے جہاں کھڑے ہوکر دور دور تک نظر دوڑائی جاسکتی تھی۔

شام ڈھلے جب چاروں طرف تاریکی نے اپنا سائبان تان دیا تب ماہ گل نے صدر دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک گن مین باہر آیا۔

’’کیا بات ہے؟‘‘

’’گھر کی مالکہ سے ملنا ہے۔ انہیں خادمہ کی ضرورت تھی مجھے پیغام بھجوایا تھا، کہنا کہ ماہ گل آئی ہے۔‘‘

نام سنتے ہی اسے فوراً اندر بلالیا گیا۔ سب ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ گالوں پر بوسے دئے گئے حجرے سے ماموں کو بلوایا گیا۔ ماہ گل نے اپنی ساری داستان سنائی۔

’’تمہارے بارے میں پوچھ گچھ کے لیے لوگ یہاں تک پہنچ گئے تھے۔ روسی کتوں کی ناک بڑی تیز ہوتی ہے۔ بو نہ بھی ہو تو انہیں آنے لگتی ہے۔ اس پوچھ گچھ سے مجھے شبہ تو ہوگیا تھا کہ تم ان کی قید سے چھوٹ گئی ہو، مگر اور کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔ گو میں نے انہیں کہہ دیا تھا کہ وطن دشمن بھگوڑوں سے میرا کیا تعلق، میں ایسی رشتہ داری پر لعنت بھیجتا ہوں، پھر بھی مجھے شک ہے کہ میری حویلی کی نگرانی ضرور ہورہی ہوگی۔ تمہارا یہاں زیادہ ٹھہرنا خطرناک ہوگا۔ کرنل کو تو کسی نہ کسی بہانے اندر لاتے ہیں اور میں فوری طور پر کوشش کرتا ہوں کہ تم لوگ سرحد پار کرکے پشاور پہنچ جاؤ۔ وہیں مہاجر کیمپ میں میری بہن اور بھانجے بھی موجود ہیں۔ میرا آدمی تمہیں وہاں تک پہنچا کر آئے گا۔‘‘

ماہ گل کے ماموں احمد شاہ نے کرنل یاکوف کو سمجھایا کہ اسے پاکستان پہنچتے ہی فوراً امریکن ایمبیسی جاکر سیاسی پناہ کی درخواست دے دینی چاہیے۔

’’کیا میں خود کو افغان ظاہر کرکے کیمپ میں نہیں رہ سکتا ۔‘‘

’’افغان تو تم لگتے ہو۔ مگر تمہیں کیا مصیبت ہے کہ تم کیمپ میں مصیبت کے دن کاٹو جبکہ تم بآسانی امریکہ یا جرمنی جاسکتے ہو۔‘‘

اور کیا ماموں ٹھیک تو کہہ رہے ہیں کیمپ میں رہنا تو ہماری مجبوری ہے۔

جانے یہ جنگ کب تک جاری رہے۔ ماہ گل نے کہا۔

’’اور پھر کیمپوں میں جواں تندرست لوگ کب رہتے ہیں۔ وہاں تو بوڑھے، بچے ، عورتیں، زخمی اور معذور لوگ ہیں۔ لوگ کیا شک نہیں کریں گے؟ آخر جاسوس ہر جگہ موجود ہیں۔‘‘

’’ہاں یہ بات کچھ دل کو لگتی ہے۔‘‘ کرنل کسی گہری سوچ میں تھا۔ ’’مگر میں فی الحال پریس کی نگاہوں میں نہیں آنا چاہتا تھا۔‘‘

’’مگر آپ کے محفوظ رہنے کا طریقہ یہی ہے۔‘‘ احمد شاہ فنجان میں قہوہ انڈیلتے ہوئے بولا۔ کرنل یاکوف نے سگار سلگایا۔

’’آج مدت کے بعد سگار پینے کا صحیح لطف آیا ہے۔‘‘

’’آپ ابھی خطرے سے نکلے نہیں ہیں۔‘‘ احمد شاہ نے یاد دلایا۔

’’کوئی پرواہ نہیں۔ ماہ گل کو تو آپ تک پہنچادیا۔ یہ ایک بڑا بوجھ تھا جس نے مجھے پیس ڈالا تھا۔‘‘

’’لگتا ہے میرا بوجھ کچھ زیادہ ہی بھاری تھا۔ تب ہی راستے میں اس گٹھڑی کو پھینک کر جان چھڑانے لگے ہیں۔‘‘ ماہ گل کے لہجے میں شوخی تھی۔

’’اس بات کا جواب پھر کبھی دوں گا‘‘ کرنل نے مسکرا کر کہا۔

ماہ گل نہا دھوکر ایک گہری اور میٹھی نیند سونا چاہتی تھی۔ سفر کی کلفتوں نے اسے تھکا دیا تھا اور یہ تو محض ماندگی کا وقفہ تھا۔ سفر تو ابھی بڑا طویل تھا۔ نہ جانے آزادی کی منزل تک پہنچنے کے لیے کتنے فاصلے اور مسافتیں طے کرنی تھیں۔

(جاری

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ یاسمین نجمی