2

نیکی کی لذت

آخر کیا ہے مجھے سکون کیوں نہیں آتا؟ عجیب سی بے چینی ہے جس کی وجہ مجھے خود سمجھ میں نہیں آتی۔ بظاہر ہر چیز ٹھیک نظر آتی ہے، لیکن پھر بھی کبھی کبھی ہر چیز سے نفرت سی کیوں محسوس ہوتی ہے؟ یہی باتیں سوچتے ہوئے اس نے گھنٹے گزار دئے تھے۔ آج کا دن بھی بظاہر بہت اچھا گزرا تھا۔ بہت بے فکر سی زندگی تھی، اپنی مرضی سے سونا اور جاگنا۔ موڈ ہوا تو گھر کے کام میں امی کے ساتھ خود دلچسپی لی اور موڈ نہ ہوا تو نہ سہی۔ آج بھی کالج میں سہیلیوں کے ساتھ خوب گپ شپ رہی، واپسی پہ کھانا کھاکر تھوڑا سا آرام کیا اور پھر اپنا محبوب مشغلہ یعنی بچوں سے ہنسنا کھیلنا، ان سے کھیل کود اور باتوں میں مجھے کچھ ہوش نہیں رہتا تھا، اب بھی امی کے آواز دینے پر وقت گزرنے کا احساس ہوا تو ساتھ ہی کل کا ٹیسٹ بھی یاد آگیا۔ کچھ ہی دیر ہوئی تھی پڑھتے ہوئے کہ پھر بوریت کا دورہ پڑگیا اور اس وقت سے اب تک وہ یہی لایعنی باتیں سوچ رہی تھی۔

مجھے اپنی زندگی نہ جانے کیوں رسمی، نامکمل اور بے مقصد نظر آتی ہے۔ کیا وقت کا مصرف صرف پڑھنا لکھنا، کھیلنا کودنا اور لوگوں کے ساتھ گپ شپ کرنا ہے۔ نہیں یہ تو سبھی کرتے ہیں۔ پھر تو میری زندگی میں کوئی خاص سرگرمی ہونی چاہیے، کوئی ایسی بات جو اوروں کے پاس نہ ہو، کوئی ایسا عمل جو دوسرے نہ کرتے ہوں۔

اتنی دیر میں ریشمہ میری سہیلی آگئی، میرا ہاتھ پکڑا اور اٹھا کر چل دی میں نے بہت پوچھا آخر جا کہاں رہی ہو؟ مگر وہ بس یہی کہتی رہی خود دیکھ لینا۔ مگر جگہ اچھی ہی ہوگی۔ میں نے کمیٹی حال میں داخل ہوتے ہی آٹھ دس، لڑکیوں کو باتوں میں مشغول پایا۔ چند ہی لمحہ بعد ایک لڑکی نے کتاب کھولی اور کچھ پڑھنا شروع کیا۔ چند لمحے تو بور گزرے لیکن اس کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا جیسے میرے دل کی باتیں اس پڑھنے والی لڑکی کی زبان سے ادا ہورہی ہوں۔ بالآخر میں جب لوٹی تو ذہن میں سوالات اور الجھنوں کا ہجوم تھا۔ رات کو دیر تک سوچتی اور غور کرتی رہی۔

کافی رات ہوگئی تھی۔ بالآخر نیند اس پر مہربان ہوہی گئی۔ اگلے دن کالج سے واپسی پر اس کی نظر شادی کارڈ پر پڑی، شادی رشتہ داروں میں ہی تھی۔ چلو بوریت دور کرنے کا کوئی تو بہانہ ہوا۔ اب شادی تک کے چار پانچ دن یہی سوچتے گزریں گے کہ کیا پہننا ہے؟ جوتا اور جیولری کی میچنگ وغیرہ وغیرہ۔

شادی کی تقریبات شروع ہوئیں۔ آج مہندی تھی، صدف بھی امی اور بہنوں کے ساتھ تقریب میں جاپہنچی۔ کافی انتظار کے بعد بالآخر مہندی کی رسم شروع ہوئی۔ دلہن کے ہاتھوں پہ مہندی لگائی گئی اور بڑی بوڑھیوں نے آواز ملا کر دلہن کو بابل کی دہلیز سے رخصت کرنے اور آئندہ زندگی میں خوش رہنے کی دعا، گیت کی صورت میں دی۔ بڑے اچھے اور مہذب انداز میں یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی کہ دلہن کی دوستوں اور ہمسائیوں کا ایک ٹولہ بڑے جوش و خروش کے ساتھ آگے بڑھا کہ یہ کیا پینڈو طریقہ شروع کیا ہوا ہے، آپ نے؟ ٹیپ منگوائیں، کیسٹس ہمارے پاس موجود ہیں کچھ ہلا گلا کرتے ہیں اور تھوڑی ہی دیر میں اونچی آواز میں گھر میں موسیقی چل رہی تھی، کچھ دیر تو صرف گانے پر ہی اکتفا کیا گیا، لیکن شاید اس طرح یہ نوجوان لڑکیاں کچھ کمی محسوس کررہی تھیں۔ اس لیے یہ شورمچ گیا کہ ڈانس کے بغیر مزہ نہیں آرہا، کوئی لڑکی آکر ڈانس شروع کرے اور یوں ان میں سے جدید طرز کے لباس میں ایک لڑکی اٹھ کھڑی ہوئی۔

صدف یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی، پہلے تو یہ خیال آیا کہ مجھے کیا؟ جن کے گھر میں یہ سب کچھ ہورہا ہے جب انہی کو کوئی پروا نہیں تو میں کون ہوتی ہوں۔ ویسے بھی شادی بیاہ میں یہ سب کچھ چلتا ہی ہے، لیکن اچانک کالج میں اٹینڈ کیا ہوا آج کا درس قرآن یاد آگیا کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو اسے روکنا آپ کا فرض ہے اور پھر اس کے اندر سے کہیں آواز آئی، اب وقت ہے تمہارے امتحان کا کہ برائی کو دیکھ کر تم بھی ویسے ہی گزرجاتی ہو، یا اپنے فرض کو پہچانتی ہو اور شاید اسی آواز نے کام کردکھایا۔

وہ آگے بڑھی اور ڈانس کرنے والی لڑکی کے سامنے جا کھری ہوئی، اسے روکا اور ٹیپ بھی بند کردیا، اس لڑکی نے بڑے غصے سے اس کی طرف دیکھا، باقی لڑکیاں بھی اس کے ایسا کرنے پر ناک بھوں چڑھانے لگیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ مطمئن تھی۔ کچھ دراز عمر عورتوں نے میری ہاں میں ہاں بھی ملائی اور ستائش بھی کی لیکن مجھے اس کی فکر کم تھی۔

گھر آتے ہوئے صدف سوچ رہی تھی۔ آج میرا دل اتنا پرسکون کیوں ہے؟ یوں محسوس ہورہا ہے جیسے دل سے ایک بھاری بوجھ ہٹ گیا ہو، ہاں جو کام میں نے آج کیا ہے۔ وہی میری زندگی کا صحیح استعمال ہے۔ اب میں نے اپنی زندگی کے مقصد کو پالیا ہے اور وہ دل ہی دل میںایک نئے عہد کو دہراتے ہوئے گھر میں داخل ہوگئی۔ (ماخوذ

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer

تبصرہ کیجیے