4

قصہ دو بیویوں کا

ارمان اور حسرت باتیں کرتے ہوئے اپنے اپنے دفتر جارہے تھے۔ دونوں کا خیال یہ تھا کہ وہ ہمسائے ہی نہیں ہم قسمت بھی ہیں وہ چلتے وقت ایسی باتیں کررہے تھے۔

ارمان کہہ رہا تھا کہ ہم گھر سے ایسے نکلے ہیں جیسے قیدی جیل سے پیرول پر باہر آتے ہیں اور سرشام پھر اس جیل میں ہوتے ہیں۔

حسرت کہہ رہا تھا کہ یار آخر یہ کب تک ہوتا رہے گا۔

اس کا جواب نہ حسرت کے پاس تھا اور نہ ہی ارمان کے پاس۔ دفتر جاتے وقت دونوں کبیدہ خاطر تھے، دونوں کے ذہن ژولیدہ تھے، دونوں اپنے آپ سے بیزار تھے اور تنگ آئے ہوئے تھے۔ حسرت کی بدقسمتی کا نام دیبا تھا اور ارمان کی بدقسمتی کا نام شاہانہ۔ دونوں کا جی چاہتا تھا کہ دفتر سے واپس گھر نہ آیا کریں۔ دونوں کے گھر گویا ان کے لیے عقوبت خانے تھے جنہیں دونوں اپنی اپنی جگہ برسوں سے بھگت رہے تھے۔

ہوتا کیا تھا؟

حسرت سرشام گھر آیا تو دیبا نے دیکھا کہ وہ تھکا ہارا ہے، تھکن کی کوفت اتارنے کے لیے کچھ لیٹنا چاہتا ہے، آرام طلبی کے آثار اس کے چہرے سے نمایاں ہیں۔

حسرت :دیبا ذرا پانی تو پلانا۔

دیبا: میں پانی پلاؤں؟

حسرت: ہاں ذرا جلدی بھئی۔

دیبا: آپ چھ سات میل دور اپنے دفتر تو جاسکتے ہیں لیکن چار قدم چل کر پانی نہیں پی سکتے۔

حسرت: او خدایا!

یہ کہتے ہوئے حسرت کی ایک اور حسرت ، ایک اور پیاس بڑھ گئی وہ صوفے پر ہی دراز ہوگیا، جسم ڈھیلا چھوڑ دیا، آنکھیں موند لیں اور بتی گل کردی۔

حسرت کے بتی گل کرتے ہیں دیبا نے پھر بتی روشن کردی، اور چمک کر کہا:

’’کوئی گنوار بننا تو آپ سے سیکھے، نہ کپڑے بدلے، نہ جوتے اتارے، نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ دیکھا بس دھڑام سے صوفے پر ہی دراز ہوگئے۔ صوفے لیٹنے کے لیے نہیں بیٹھنے کے لیے ہوتے ہیں، لیٹنا ہو تو بستر پر لیٹا جاتا ہے۔ دفتر سے بھی ایسے آئے ہو جیسے کسی اکھاڑے سے آئے ہو اور پیاس سے جان نکلنے والی ہو۔

حسرت کان لپیٹ کر یہ تمام باتیں سنتا رہا کوئی جواب نہیں دیا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر اس نے ایک بات کا بھی جواب دیا تو ایسی دس بیس جلی کٹی اور سننا پڑیں گی، اس پر یہی کڑوا احساس طاری ہوگیا کہ جب جیل میں آگیا ہوں تو جیل کی سختیاں کیوں کر برداشت نہ کروں۔اور یہ بھی آئے دن کی ایک کہانی تھی۔

اگر گھر آتے وقت حسرت، بڑی حسرت کے ساتھ کوئی شئے خرید کر لے آتا تو دیبا رانی تھانیدار بن جاتیں۔

’’ہائے ہائے یہ کیسے پھل لے آئے ہیں، ابھی تک آپ کو پھلوں کی پہچان نہیں آئی ہے۔ پھل والے نے آپ کو ٹھگ لیا ہے یہ تو دو نمبر مال ہے۔‘‘

’’واہ کیا کپڑا لائے ہیں ذوق تو آپ کا بڑا نفیس ہے۔ لگتا ہے کہ اپنی اماں کے لیے لائے تھے انھوں نے لیا نہیں تو میرے سر مڑھ دیا ہے ورنہ میں اتنی خوش قسمت کہاں تھی۔‘‘

’’یہ مٹھائی تو باسی ہے حلوائی سے لی ہوئی تو نہیں لگتی کہیں کوئی نیاز بٹ رہی ہو گی وہیں سے مفت کا مال سمجھ کر لے آئے ہیں۔‘‘

ایسی باتیں سن کر حسرت ایک اور حسرت کی دل گیر تصویر بن جاتا، دل مسوس کر رہ جاتا، اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر خاموش ہوجاتا تو اس پر ایک اور گرہ لگتی۔

’’سرکار آہ تو ایسی بھر رہے ہیں جیسے آپ کو ۱۰۶ ڈگری کا تاپ چڑھا ہوا ہے۔‘‘

یہ سن کر حسرت کو محسوس ہوتا کہ واقعی اس کو تیز بخار چڑھ گیا ہے۔

شاہانہ بھی ایک ایسی ہی ڈگڈگی پر ارمان کو تگنی کا ناچ نچاتی رہتی۔ ایسے لگتا جیسے دونوں نے اپنے اپنے شوہروں کو زچ کرنے اور کولہو کے بیل بنائے رکھنے کا کوئی مشترکہ منصوبہ بنایا تھا کیونکہ مزاجاً دونوں شوہر مار بیویاں تھیں۔ کچھ دور اندیش قسم کی خواتین دونوں سے کہتیں کہ وہ آگ سے کھیل رہی ہیں، اس پر وہ چمک کر دعویٰ کرتیں کہ سپیرے کی طرح انھوں نے سانپ کا زہر زائل کردیا ہے۔

شاہانہ کو جب کوئی چیز لینی ہوتی تو اس کا انداز تکلم اس قسم کا ہوتا:

’’اگر اپنی اس نوکرانی کو جوتی لے دیں تو بڑا کرم ہوگا اور اگر بازار ساتھ لے جائیں تو اس سے بڑا کرم کیا ہوگا۔‘‘

’’اگر اپنی زرخرید باندی کو ذرا ڈاکٹر کے پاس لے چلیں توکیا بات ہے۔‘‘

’’اپنی اس زر خرید باندی کو جہاں گھر سے نہ نکال کر اس پر ایک احسان کیا ہے وہیں اس کا ایک دانت نکلوا کر اس پر ایک اور احسان کردیں۔‘‘

ایک روز شاہانہ نے ارمان سے کہا:

’’آج تو امی آنے والی ہیں کوئی تو ڈھنگ کی چیز کھانے کے لیے لادیں۔‘‘ یہ سنتے ہی شاہانہ کی تمام توقعات کے خلاف ارمان بھڑک گیا اور پھٹ پڑا۔

’’میں اس بڈھی کے لیے کیا لاؤں، جو چیز بھی لاتا ہوں، اس میں کیڑے نکالے بغیر وہ نہیں رہ سکتی۔ ایک پیسٹری کھا کر درجن بھر پیسٹریاں اپنے ساتھ لے جاتی ہے باقی چیزوں کے ساتھ بھی یہی کرتی ہے، تیرے پاؤں ٹوٹے ہوئے نہیں جو کچھ لانا ہے خود جا کر لے آ۔ میں کچھ بھی نہیں لاؤں گا۔‘‘

یہ سن کر شاہانے کی سٹی گم ہوگئی اور منظر نامہ یوں ہوگیا کہ ارمان غصے سے تھر تھر کانپ رہا تھا اور شاہانہ خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی، اس کا شدید ترین خوف یہ تھا کہ کہیں ارمان اس پر پل نہ پڑے اور اس کی ہڈی پسلی کہیں ایک نہ کردے۔ وہ اس خوف سے اس کے سامنے سے سٹک گئی، اسے چین اس وقت آیا جب اس نے دیکھا کہ بپھرا ہوا ارمان گھر سے باہر چلا گیا ہے۔

شاہانہ کے خیال میں یہ ایک ان ہونی تھی جو معلوم نہیں کیسے ہوگئی، ٹھنڈا ارمان گرم کیسے ہوگیا، گونگا ارمان گویا کیسے ہوگیا۔ یہ سب کیسے ہوگیا یہ تو اس کی سمجھ میں نہیں آیا تاہم یہ سمجھ میں آگیا کہ اب سلامتی محتاط رہنے میں ہے۔

دیبا نے بھی اس کو بتایا کہ حسرت کا اندرونی جغرافیہ بدل رہا ہے۔ اگرچہ اس نے ابھی کہا تو کچھ نہیں لیکن اس نے اندازہ لگالیاہے کہ ہنڈیا کے اند کچھ پک رہا ہے۔

دونوں محتاط ہوگئیں اور محتاط ہوکر بھی پولے پولے وہی کچھ کرتی رہیں جو وہ شتر بے مہار ہوکر کرتی آرہی تھیں۔

ایک مرتبہ دیبا کہیں باہر گئی تھی حسر ت گھر میں تھا اس نے دیکھا کہ کمروں کی دیواریں اور چھتیں مکڑیوں کے جالوں سے اٹی پڑی تھیں اور ان کا حلیہ بدنما ہورہا تھا۔

دیبا جب واپس آئی تو دیکھا کہ کمروں کا حلیہ بدلا ہوا ہے مکڑیوں کے جالوں کا کہیں نام و نشان تک نہیں ہے دیواریں اور چھتیں صاف ہوگئی ہیں، البتہ حسرت کا حلیہ حسرتناک ہوگیا ہے جو نہائے بغیر درست نہیں ہوسکتا۔ دیبا، حسرت کی اس کارگزاری پر بہت خوش ہوئی اس نے ہنستے ہوئے کہا:

’’آپ نے وہی کام کیا ہے جو دفتر میں کرتے ہیں۔‘‘

’’ہاں دفتر میں تو اس کام کی تنخواہ ملتی ہے لیکن یہاں بلا اجرت کام کیا ہے۔‘‘

’’نہیں میں پانی گرم کرتی ہوں نہائیں، اور اپنا حلیہ درست کریں۔‘‘

یہ باتیں اس نے بڑے شگفتہ انداز میں کہیں اس لیے حسرت کو بھی بری نہیں لگیں۔ چند مہینے قبل بھی حسرت نے مکڑیوں کے جالے صاف کیے تھے تو دیبا نے بڑے تیکھے انداز میں کہا تھا:

’’ان مکڑیوں نے آپ کا کیا بگاڑا تھا، جو ان کے گھر نیست و نابود کردئے ہیں۔‘‘ اس وقت حسرت یہ سن کر حیران ہوگیا تھی کہ یہ دیبا کیسی عورت ہے۔ اب وہی روکھی دیبا کچھ بدلی ہوئی تھی۔

حسرت نے اندازہ لگایا جیسے ارمان نے اس کو وہ سب بتایا جو کہ اس نے شاہانے کے ساتھ کیا ہے اور ویسے ہی شاہانہ نے دیبا کو بھی بتادیا ہے کہ ارمان نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے جس سے شاہانہ سہم گئی ہے، ڈر گئی ہے اور اس کے ساتھ دیبا بھی ڈر گئی ہے۔ خوف نے دونوں کو چوکنا اور محتاط کردیا لیکن تبدیل نہیں کیا ہے۔

مہینے بھر کی مدت نے حسرت کے قیاسات اور اندازے درست ثابت کردئے۔ دیبا اور شاہانہ پھر سے پر پرزے نکالنے لگیں اور شوہر آزاری کے خو واپس آنے لگی۔ شوہر کو دبو، میاں مٹھو اور موم کی ناک بناکر رکھنے کی خواہش پہلے جیسی ہوگئی یہ ان کی خواہش تھی ضرورت نہیں تھی، ضرورت تو ایک خوش اور مطمئن گھر اور خاندان تھا اور اس کی ضرورت ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھی، اس اعتبار سے ابھی دونوں نابالغ تھیں۔

ستم رسیدہ ارمان اور حسرت آپس میں ایسی ہی باتیں کرتے تھے کہ کیا تمام عورتیں دیبا اور شاہا نہ جیسی چنڈال، ترش،زبان دراز، بدتمیز، خود پرست، نافرمان اور خود غرض ہوتی ہیں۔ اس بات چیت سے انہیں پتہ چلتا کہ تمام بیویاں ایسی نہیں ہوتیں بلکہ وہ اقلیت میں ہیں اور اپنے گھروں کو جہنم بنائے رکھتی ہیں۔ بات چیت میں وہ اس نتیجے پر پہنچتے کہ اگر بیوی کوتاہ قامت ہو تو شوہر شاید ہی دراز قد بیوی کے لیے بے چین ہوتے ہوں، لیکن بیوی اگر زبان دراز، سڑیل اور چنڈال ہو تو شوہر ان سے بیزار ہوکر شیریں زبان، صابر اور شاکر بیوی کے متلاشی ہوجاتے ہیں۔

حسرت اور ارمان کے گھروں میں یہ تو ایک عام بات تھی کہ جیسے ہی ان کے دوست ملنے آتے تو شاہانہ اور دیبا بڑی فن کاری سے ادھر ادھر ہوجاتی تھیں اور دوستوں کی خاطر مدارت کا بوجھ حسرت اور ارمان پر پڑجاتا، جسے وہ اونگے بونگے انداز سے ہی کرتے، انہیں شرمندہ بھی ہونا پڑتا اور بیگمات کی عدم موجودگی کے جواز میں جھوٹ بھی بولنا پڑتا۔ یہی شاہانہ اور دیبا اس وقت مثالی میزبان ہوتیں جب ان کی سہیلیاں ان کے ہاں پدھارتیں۔ حسرت اور ارمان اکثر کہتے تھے کہ کاش ان کے گھروں میں ان کے دوستوں کی ایسی پذیرائی اور آؤ بھگت ہو جیسی کہ ان کے اپنے دوستوں کے ہاں ہوتی ہے۔

بازار سے کوئی سودا زیادہ داموں سے ملتا تو اس پر دیبا اور شاہانہ کی نک چڑھی گرفت یہ ہوتی کہ اس کی وجہ روز افزوں مہنگائی نہیں، دم بدم متغیر قیمتیں نہیں بلکہ حسرت اور ارمان دونوں مورکھ بھوندو ہیں کہ انہیں بھاؤ تاؤ کا فن نہیں آتا۔ اس لیے دکانداروں کو منہ مانگے دام دے آتے ہیں لیکن یہی الزام وہ اپنے اوپر لینے کی روادار نہیں ہوتی تھیں، اگر کوئی چیز مہنگی لے آتیں تو تبرا دکانداروں کو سناتیں کہ وہ ٹھگ ہیں، لالچی ہیں، کمینے ہیں اور لوٹ مار کے عادی ہیں۔ اس دوغلے رویے پر حسرت اور ارمان حیران رہ جاتے۔ ایک روز دیبا نے اخبار میں یہ خبر پڑھی۔

’’خواتین پر تشدد کے خلاف قانون سازی کی جائے گی۔‘‘

یہ خبر پڑھ کر وہ جھوم اٹھی اس کے ذہن میں ایک خدشہ جو غوں غاں کرتا رہتا تھا اس کے ہاتھ پاؤں مفلوج ہوتے نظر آنے لگے۔ دیبا نے سوچا کہ اگر ایسا ہوجائے تو کیا بات ہے۔

دیبا ایک ترنگ میں آکر شاہانہ کے فلیٹ میں گئی۔

شاہانہ، اری شاہانہ سن کیا خبر آئی ہے۔

شاہانے کے فلیٹ میں داخل ہوتے وقت اس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ فلیٹ کا دروازہ تو چوپٹ کھلا ہوا تھا، اور شاہانہ بلانے پر بھی نہ بول رہی تھی۔

شاہانہ … شاہانہ … کہاں ہو؟

دیبا، شاہانہ، شاہانہ کہتی ہوئی جب شاہانہ کے کمرے میں پہنچی تو اس کا وجود ہل گیا۔ شاہانہ اپنے بستر پر بے سدھ پڑی سسکیاں بھر رہی تھی سر کے بال بے ترتیب الجھے ہوئے اور نچے ہوئے تھے، قمیص جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی رخساروں پر تھپڑوں کے نشانات موجود تھے چہرے اور پیشانی پر خون اور منجمد خون نظر آرہا تھا۔ اس کے ساتھ سنگھار میز کا آئینہ ٹوٹا ہوا تھا اس کی کرچیاں فرش پر پھیلی ہوئی تھیں، بستر کی چادر، تکیے الٹ پلٹ پڑے تھے۔ کپڑے کے پردے بھی ٹیڑھے میڑھے ہوئے پڑے تھے۔

پورا کمرہ کباڑ خانہ بنا پڑا تھا۔

’’شاہانہ کیا ہوا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’جو ہونا تھا وہی ہوا ہے۔ اسی نے مارا ہے اور بہت مارا ہے۔‘‘

’’یہ تو بہت برا ہوا ہے۔‘‘ شاہانہ بولی۔

’’نہیں بہت اچھا ہوا ہے۔‘‘ شاہانہ نے جواب دیا۔

دیبا سے نہ رہا گیا ،بولی: ’’تیرا دماغ تو خراب ہوگیا ہے یہ کیسے اچھا ہوا ہے۔‘‘

اس نے خبردار کیا: ’’میرا دماغ درست ہوگیا ہے تیرا بھی دماغ درست ہونے والا ہے۔‘‘

’’حسرت کی کیا مجال کے مجھ پر ہاتھ اٹھائے۔‘‘ سہیلی نے خود پرستی کے انداز میں کہا۔

’’میں بھی اسی غلط فہمی میں ماری گئی ہوں، بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ دیبا !‘‘

اور دیبا صرف اتنا کہہ سکی کہ ’’مارکھا کر تیری تو مت ماری گئی ہے۔‘‘

شاہانہ نے انکار کیا کہ اس کی مت ماری گئی ہے اور ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور کہتی گئی۔ ارمان نے مجھے بہت مارا ہے لیکن بلا وجہ نہیں مارا، بلا جواز نہیں مارا، یہ کام تو اس کو اس سے بہت پہلے کرنا چاہیے تھا، دیر آید درست آید۔

میں نے ارمان کو اپنا شوہر کب سمجھا، میں نے اس کو ہمیشہ پالتو بندر ہی سمجھا۔ ہمیشہ اسے ذلیل کیا، رسوا کیا، کبھی اس کی بات مان کر نہیں دیکھی، الٹا اسے حکم کا بندہ ہی بنائے رکھا۔ ہمیشہ اسی میں کیڑے نکالے، اس کی ہنسی اڑائی، اس کی توہین کی، اس کے پندار کو زخمی کیا۔ اس کی کمائی بے دردی سے اڑائی، اپنے لیے دس جوڑے خرید کر اس کے لیے دو جوڑے خریدے، زیادتیاں میں نے کیں لیکن ظالم اس کو کہا۔ بیوقوفیاں میں نے کیں اور بھوندو اس کو کہا۔ ماں بیٹے، بھائی بہن، اور بھائی بھائی کے درمیان دیواریں میں نے کھڑی کیں اور ان کا معمار اس کو قرار دیا۔ اس نے مجھے عزت دی، میں نے اس کو ذلیل کیا، اس نے مجھے آرام سے رکھا میں ہمیشہ کو تڑپاتی رہی۔ اس نے صبر کے ساتھ مجھے برداشت کیا، میں اس قابل نہیں تھی کہ وہ مجھے برداشت کرتا۔ ایسی باتیں کرنے کے بعد دیبا سے کہا:

دیبا تو میرے گھر سے دفان ہوجا، میں تیری باتوں میں آکر شیر ہوئی، تو ہی ہمیشہ کہتی تھی کہ ہر عورت کے پاس ایک ڈگڈگی ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنے شوہر کو نچاتی رہے۔ ارمان کہہ گیا ہے کہ اب وہ اس گھر میں نہیں آئے گا اگر وہ نہیں آیا تو میرا کیا بنے گا۔ شاہانہ پھر رونے لگی۔

شاہانے نے روتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ناشتہ تیار کرتے وقت وہ نیل پالش اتار رہی تھی، اس کی وجہ سے آملیٹ اور سلائس دونوں خراب ہوگئے اس کے پہلے ہی کڑوے لقمے پر ارمان تھو تھو کرتے ہوئے اندر گیا اور پھر میری طبیعت صاف کردی۔

اس نے بار بار توہین آمیز لہجے میں کہا کہ دیبا تو یہاں سے دفان ہوجا۔

نک چڑھی دیبا کو چاہیے تو یہ تھا کہ شاہانہ کو دو چار سنا کر وہاں سے آناً فاناً چلی جاتی تاہم جب ہو گئی تو شاہانہ کی حالت سنوار گئی، اس کے کمرے کی آرائش اور زیبائش درست کرکے گئی، اس کو ناشتہ بھی کرایا، ڈاکٹر سے دوا بھی لاکر دی۔ دیبا اپنے گھر آکر سوچوں میں گم وہ گئی اس نے اندازہ لگالیا تھا کہ وہ ایک دوراہے پر آچکی ہے اور اس پر دو غسل فرض ہوچکے ہیں:ایک غسل جو اس کا تن صاف کرے۔ دوسرا غسل جو اس کا من صاف کرے۔پہلے غسل کے لیے اس کو صابن کی ضرورت تھی، دوسرے غسل کے لیے اس کو استغفار کی۔

تن اور من کی صفائی کے لیے دونوں کی ضرورت کا احساس شدید سے شدید ہو رہا تھا۔ اب اگر دیبا نے دونوں غسل کرلئے تو پھر وہ شاہانہ ثانی بننے سے محفوظ اور مامون ہوجائے گی۔

ورنہ تو ………؟ خدا جانے۔

(ماخوذ

شیئر کیجیے
Default image
اعجاز احمد فاروقی

تبصرہ کیجیے