3

حضرت ام الفضل لبابۃ الکبریٰؓ

غزوئہ بدر (رمضان المبارک ۲ ؁ہجری) میں قریش کی ذلت آمیز ہزیمت کی خبر مکہ معظمہ پہنچی تو وہاں گھر گھر صفِ ماتم بچھ گئی۔ بدبخت ابولہب کی حالت تو دیکھی نہ جاتی تھی۔ فرطِ الم نے اس کو اتنا نڈھال کردیا کہ چلتے ہوئے قدم لڑکھڑاتے تھے۔ اسی حالت میں وہ لڑائی کے حالات دریافت کرنے کے لیے گھسٹتا گھسٹاتا اپنے بھائی عباس بن عبدالمطلب کے گھر پہنچا جو مشرکین کے ساتھ مسلمانوں سے لڑنے گئے تھے اور لڑائی میں شکست کھانے کے بعد مسلمانوں کے قیدی بن چکے تھے۔ وہ حضرت عباسؓ کے گھر جاکر ان کے غلام ابو رافعؓ کے قریب بیٹھ گیا جو تیر سازی میں مصروف تھے۔ اتنے میں کسی نے کہا ’’وہ ابوسفیان بن حارث (حضورؐ کے عم زاد بھائی اور ابولہب کے بھتیجے جو ابھی مشرف بہ اسلام نہ ہوئے تھے) بدر سے ابھی ابھی واپس آئے ہیں ان سے لڑائی کے حالات معلوم کرنے چاہئیں۔‘‘ ابولہب نے انہیں آواز دی ’’بھتیجے ذرا یہاں میرے پاس تو آؤ۔‘‘ وہ آئے تو ابولہب نے پوچھا:’’برادر زادے! کہو وہاں کیا گزری؟‘‘ ابو سفیان کہنے لگے:

’’واللہ مسلمانوں کے سامنے ہماری بے بسی کا یہ عالم تھا جیسے مردہ غسال کے سامنے بے بس ہوتا ہے۔ انھوں نے جس کو چاہا تہ تیغ کردیا اور جس کو چاہا اسیر بنالیا۔ ایک عجیب نظارہ ہم نے یہ دیکھا کہ ابلق گھوڑوں پر سوار سفید پوش آدمیوں نے مار مار کر ہمارا بھرتا بنادیا۔ معلوم نہیں یہ کون تھے۔‘‘

ابو رافعؓ نے فوراً کہا : ’’وہ فرشتے تھے۔‘‘

یہ سن کر ابولہب بھڑک اٹھا اور ابو رافعؓ کے منہ پر زور سے ایک طمانچہ رسید کردیا۔ابو رافعؓ بھی سنبھل کر اس سے گتھم گتھا ہوگئے لیکن کمزور تھے، ابولہب نے انہیں زمین پر دے مارا اور بے تحاشا پیٹنا شروع کردیا۔ قریب ہی ایک خاتون بیٹھی تھیں وہ اس منظر کی تاب نہ لاسکیں فوراً اٹھیں اور ایک موٹا سا لٹھ لے کر اس زور سے ابولہب کو مارا کہ اس کے سر سے خون کا فوّارہ چھوٹ پڑا۔ پھر کڑک کر بولیں:

’’بے حیا اس کا آقا یہاں موجود نہیں ہے اور تو اس کو کمزور سمجھ کر مارتا ہے۔‘‘ ابولہب کو اس خاتون کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ پڑی اور وہ کان دبا کر وہاں سے چل دیا۔

یہ غیر مند اور بہادر خاتون جنھوں نے ابولہب جیسے دشمنِ اسلام اور دشمنِ خدا کو ایسی رسوائی اور ذلت سے دوچار کیا، حضرت عباسؓ کی اہلیہ (اور ابولہب کی بھاوج) حضرت لبابۃ الکبریٰؓ تھیں۔ بعض روایتوں میں ہے کہ یہ واقعہ چاہِ زمزم کی چار دیواری کے اندر پیش آیا جس کے قریب ہی حضرت عباسؓ کا مکان تھا۔

حضرت لبابہؓ بنتِ حارث جو بالعموم اپنی کنیت ’’ام الفضل‘‘ سے مشہور ہیں، نہایت جلیل القدر صحابیات میں شمار ہوتی ہیں۔ کبریٰ ان کا لقب ہے۔ اس لیے اہلِ سیر نے ان کا نام لبابۃ الکبریٰ بھی لکھا ہے۔ ان کا تعلق بنو ہلال سے تھا۔

حضرت ام الفضل لبابہ رضی اللہ عنہا کی شادی عمِّ رسول حضرت عباس ؓ بن عبدالمطلب سے ہوئی۔ اس نسبت سے وہ حضورؐ کی چچی تھیں۔ ان کی حقیقی بہن حضرت میمونہ (رضی اللہ عنہا) بنتِ حارث کو ام المومنین بننے کا شرف حاصل ہوا۔ اس نسبت سے حضرت ام الفضلؓ حضورؐ کی سالی بھی ہوتی تھیں۔

حضرت ام الفضل ؓ کی ایک اخیافی بہن حضرت اسماءؓ بنتِ عمیس کی شادی حضرت جعفر (طیارؓ) بن ابی طالب (حضورؐ کے عم زاد بھائی) سے ہوئی۔ ایک تیسری بہن سلمیٰ کی شادی حضورؐ کے دوسرے چچا حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب سے ہوئی۔ لوگ حضرت ام الفضل کی والدہ ہند بنتِ عوف پر رشک کرتے تھے کہ سمدھیانے کے لحاظ سے کوئی عورت ان کے ہم پلہ نہیں تھی۔

خواتین میں سب سے پہلے رسولِ کریمﷺ پر ایمان لانے کا شرف حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کو حاصل ہوا۔ ان کے بعد معتبر روایات کی رو سے حضرت ام الفضل لبابہؓ کو اس نعمت عظمیٰ کے حصول کا شرف حاصل ہوا۔ اس لحاظ سے وہ السابقوں الاولون میں نہایت ممتاز درجہ رکھتی ہیں۔ حضرت ام الفضل نے اپنے شوہر حضرت عباسؓ کے (اعلانیہ) قبولِ اسلام کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ یہ ہجرت فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے ہوئی۔

حضرت ام الفضلؓ بڑی بہادر اور غیرت مند خاتون تھیں۔ چنانچہ ایک موقع پر انھوں نے ابو لہب کو لٹھ مار کر اس کا سر کھول دیا۔ (اس کی تفصیل اوپر آچکی ہے) انہیں رسولِ اکرم ﷺ سے بے حد محبت اور عقیدت تھی اور حضورؐ کو بھی اپنی عمہّ محترمہ سے بڑا تعلق خاطر تھا۔ آپ اکثر ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے، اگر دوپہر کا وقت ہوتا تو وہیں آرام فرماتے تھے۔ حضرت ام الفضل ؓ حضورؐ کا سرِ اقدس اپنی گوش میں رکھ کر آپ کے بالوں سے گرد یا تنکے وغیرہ دور کرتیں اور ان میں کنگھی کرتیں۔

حضرت ام الفضلؓ نہایت پرہیز گار اور عبادت گزار تھیں۔ بعض روایتوں میں ہے کہ وہ ہر دوشنبہ اور پنچشنبہ کو بالالتزام روزہ رکھتی تھیں۔ علامہ ابن عبدالبرؒ نے استیعاب میں لکھا ہے کہ حضورؐ فرمایا کرتے تھے کہ ام الفضلؓ، میمونہؓ، سلمیؓ، اور اسماءؓ چاروں مومنہ بہنیں ہیں۔

ایک مرتبہ حضرت ام الفضل ؓ نے خواب میں دیکھا کہ رسول اکرم ﷺ کے جسدِ اقدس کا کوئی حصہ ان کے گھر میں ہے۔ انھوں نے اپنا خواب حضورؐ کے سامنے بیان کیا تو آپؐ نے فرمایا ’’اس کی تعبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ میری لختِ جگر فاطمہؓ کو فرزند عطا کرے گا اور تم اس کو اپنا دودھ پلاؤگی۔‘‘

کچھ عرصے بعد حضرت فاطمہؓ الزہرا کے فرزند حضرت حسینؓ پیدا ہوئے حضرت ام الفضلؓ نے انہیں اپنا دودھ پلایا اور ان کی کفیل بن گئیں۔ اس لیے سارا خاندان نبوت حضرت ام الفضلؓ کی بہت عزت و تکریم کرتا تھا۔ ایک دن حضرت ام الفضلؓ، حضرت حسینؓ کو اپنی گود میں لیے ہوئے حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپؐ نے اپنے پیارے نواسے سے کو ان کی گود سے لے لیا اور پیار کرنے لگے۔ ننھے حسینؓ نے حضورؐ کی گود میں پیشاب کردیا۔ حضرت ام الفضلؓ نے انہیں فوراً حضورؐ کی گود سے لے لیا اور جھڑک کر کہا: ‘‘ارے ننھے یہ تو نے کیا کیا۔ رسول اللہ کی گود میں پیشاب کردیا۔‘‘

رسولِ کریم ﷺ کو ام الفضلؓ کا اتنا جھڑکنا بھی گوارا نہ ہوا اور آپؐ نے فرمایا: ’’ام الفضلؓ تو نے میرے بچے کو یونہی جھڑکا جس سے مجھے تکلیف ہوئی۔‘‘ اس کے بعد آپؐ نے پانی منگواکر لباس مبارک کا پیشاب آلود حصہ دھلوایا۔

حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت ام الفضلؓ کو رحمتِ عالم ﷺ کی ہمرکابی میں حج کا شرف حاصل ہوا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ عرفہ کے دن بعض لوگوں نے خیال کیا کہ حضورؐ روزہ سے ہیں۔ جب حضرت ام الفضلؓ کو ان لوگوں کا یہ خیال معلوم ہوا تو انھوں نے ایک پیالہ دودھ کا حضورؐ کی خدمت میں بھیجا۔ آپؐ نے دودھ پی لیا، اس سے لوگوں کا شک دور ہوگیا۔

حضرت ام الفضلؓ نے حضرت عثمان ذو النورینؓ کے عہدِ خلافت میں اپنے شوہر (حضرت عباسؓ) کے سامنے ہی وفات پائی۔ نمازِ جنازہ حضرت عثمانؓ نے پڑھائی۔

حضرت ام الفضلؓ کے بطن سے حضرت عباسؓ کی سات اولادیں ہوئیں۔ چھ بیٹے فضلؓ، عبداللہؓ، عبیداللہؓ، معبدؓ، قثمؓ، عبدالرحمنؓ اور ایک بیٹی ام حبیبہ۔ اربابِ سیر نے لکھا ہے کہ یہ ساری اولادیں نہایت قابل تھیں۔ بالخصوص حضرت عبداللہؓ اور حضرت عبیداللہؓ نے علم و فضل کے اعتبار سے اتنا بلند مرتبہ حاصل کیا کہ اساطین امت میں شمار ہوئے۔

حضرت ام الفضلؓ سے تیس احادیث مروی ہیں۔ ان کے راویوں میں خیر الامت حضرت عبداللہؓ اور دوسرے فرزندانِ عباسؓ اور حضرت انسؓ بن مالک جیسے جلیل القدر اصحاب شامل ہیں

شیئر کیجیے
Default image
طالب الہاشمی