2

انسانی زندگی کا اہم مسئلہ

آج کے تیز رفتار اور ترقی یافتہ دور میں زندگی ایک دوڑ اور مقابلہ کی صورت اختیار کرگئی ہے۔ معاشرہ کا ہر وہ فرد جسے اس ترقی کی ہوا نے چھو لیا ہے اپنی خواہشات، آرزوؤں اور تمناؤں کی گٹھری سر پر لادے بگ ٹٹ بھاگا چلا جارہا ہے۔ اسے نہیں معلوم کہ منزل کہاں ہے۔ وہ اس نام معلوم منزل کی تلاش میں ایسا گم ہے کہ زندگی کے اس مقام کو بھی بھلا بیٹھا جہاں سے اس نے یہ سفر شروع کیا تھا۔ دولت کی بے جا ہوس، معیار زندگی کو اٹھانے کے شوق اور عیش و آرام کی خواہش نے ایک طرف تو اخلاق و کرادر کو پستی میں پھینک دیا ہے دوسری طرف اسے نت نئے مسائل اور نفسیاتی وجسمانی بیماریوں میں مبتلا کردیا ہے۔ مادی ضروریات نے بنیادی روحانی ضروریات کو فراموش کردیا جو انسانی زندگی کے لیے بڑے خسارہ اور نقصان کا سبب ہے۔ اور اب انسانی زندگی کے اس روحانی خلا نے انسان کے اندرونی سکون اور ذہنی اطمینان کو ایک خواب بنادیا۔

موجودہ دور کا انسان جب جسمانی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے تو اس کے علاج و معالجہ کے لیے ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرتا اور سکون پالیتا ہے مگر روحانی بیماریوں سے چھٹکارے اور ذہنی و قلبی سکون کا راستہ اس پر واضح نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں اب نفسیاتی امراض تیزی سے فروغ پارہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ عالمی سطح پر خود کشی کے واقعات میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ ذہنی تناؤ عام چیز بن گیا ہے اور رشتہ ناطے ایک بحران کا شکار ہیں جہاں خاندانوں میں ٹوٹ پھوٹ، گھریلو نظام میں بکھراؤ اور بے شمار معاشرتی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔

اکثر یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ لوگ جسمانی بیماریوں کا تو ادراک اور علاج کرالیتے ہیں مگر روحانی ضروریات کو پہچان کر اس کی تکمیل کی کوشش نہیں کرتے۔ اور جو لوگ اس ضرورت کا احساس کرلیتے ہیں انہیں نہیں معلوم کہ وہ اپنی اس بنیادی ضرورت کی تکمیل کیسے کریں؟ چنانچہ وہ اس روحانی سکون کی تلاش میں جب نکلتے ہیں تو یا تو کہیں دور دراز کے ایسے مقامات کا رخ کرتے ہیں جہاں انسانی بھیڑ بھاڑ نہ ہو یا پھر آشرموں، تانترکوں، یوگا سینٹروں اور سادھو سنتوں کا سہارا لیتے ہیں کہ روح کے سکون کا انتظام کرسکیں۔

اس سے یہ بات تو واضح طور پر سامنے آجاتی ہے کہ معاشرہ کے اعلیٰ طبقہ نے اس روحانی خلا اور کمی کا احساس تو کرلیا ہے اور اپنی حد تک وہ اسے پر کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اس راستہ کو تلاش نہیں کرپارہے ہیں جس پر چل کر انہیں حقیقی سکون فراہم ہوسکے۔ اس میں ان سے زیادہ قصور ان لوگوں کا ہے جو واقعی سکون و اطمینان کے نسخے رکھتے ہیں مگر اپنی کمزوری اور نااہلی کے سبب اپنے ان نسخوں کی پبلسٹی یا ’’مارکٹنگ‘‘ نہیں کرپارہے ہیں۔ جبکہ صورت حال یہ ہے ان پریشان حال لوگوں کے سامنے جو چیز بھی پیش کی جاتی ہے وہ اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ یہ آج کے دور کی اہم خصوصیت ہے جو اسلام کے نظام رحمت کے لیے بڑا موقع ہے۔

اسلام ایک ایسا نظام ہے جو ہر معاملہ میں عدل و قسط اور درمیان کا موقف پیش کرتا ہے اور یہی وہ فارمولہ ہے جو آج کے ترقی یافتہ انسان کو نہیں معلوم۔ ورنہ وہ ہرگز افراط و تفریط کے قریب نہ جائیے۔

اسلام کی اہم ترین خوبی یہ بھی ہے کہ وہ روحانی سکون کے حصول کے لیے انسان کو انسان کا محتاج اور کسی کو کسی پر منحصر نہیں بناتا بلکہ انسانی رشتہ براہ راست اللہ سے جوڑ دیتا ہے جو سکون قلب اور روحانی ضرورت کی تکمیل کی واحد صورت ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے احباب کو نصیحت کرتے ہوئے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ ’’تم دنیا حاصل کرنے کی فکر کرو اس طرح کہ گویا تمہیں ہمیشہ زندہ رہنا ہے اور آخرت کے حصول کی کوشش کرو اس طرح کہ ابھی مرجاؤ گے۔‘‘ یہ کس قدر متوازن اور حقیقت پر مبنی ہدایت ہے جو آج کے انسان سے پوشیدہ ہوگئی ہے۔ خود اللہ رب العالمین نے سکون قلب کا کتنا شاندار اور کارگر نسخہ اپنے بندوں کے لیے تجویز کردیا ہے کہ ’’الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (لوگو! سن لو دل کا سکون و چین تو بس اللہ کی یاد سے حاصل ہوسکتا ہے۔)

آج انسانی زندگی کا مضبوط و مستحکم رشتہ صرف دنیا سے جڑ کر رہ گیا ہے ضرورت ہے کہ اسے یہ بتایا جائے کہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اتنا ہی مضبوط رشتہ خدا اور آخرت سے جوڑے۔ اور جب تک زندگی کا یہ رشتہ اللہ اور آخرت سے نہیں جڑتا اس وقت تک نہ تو انسانی زندگی کو قرار اور سکون حاصل ہوسکتا اور نہ دنیا سے فتنہ و فساد اور برائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے جو موجودہ دور کے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

مگر اس فکر اور اس نسخہ کے حامل خود اس کی اہمیت اور افادیت سے ناواقف ہیں اور اکثر خود بھی وہی طریقے اختیار کرتے ہیں جو دوسروں کی مجبوری ہیں۔ اب ان لوگوں کے لیے امتحان کا وقت ہے جو اس کی اہمیت و افادیت میں یقین رکھتے اور اس سے فیضاب ہورہے ہیں کہ وہ اس فکر کو بہت آگے بڑھ کر تیز رفتاری اور سلیقہ مندی کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کریں۔

دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل جو خود نت نئے مسائل اور بے شمار چیلنجز کو لے کر پروان چڑھ رہی ہے اس کے ذہن اور فکر کو موجودہ دور کے مسائل سے محفوظ رکھنے کی فکر کریں۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ان کے ذہن میں دنیا و آخرت کی فکر ایک شاندار توازن کے ساتھ رچ بس جائے اور وہ موجودہ معاشرہ کے لیے ایک ماڈل اور نمونہ بن جائے۔ یہ نمونے صرف اور صرف آپ تیار کرسکتی ہیں۔ اور اگر آپ نے ان ماڈلس کی تیاری کی طرف توجہ نہ دی تو ہماری نئی نسل بھی گم کردئہ راہ ہوجائے گی اور دنیا کو روشنی دکھانے والا اور رہنمائی کرنے والا کوئی میسر نہ ہوگا۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی