2

مجرمانہ سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت

اس وقت دنیا بھر میں خواتین کے خلاف جرائم کی تعداد میں تیز رفتار اضافہ ہورہا ہے۔ جو حکومتوں اور سول انتظامیہ کے لیے باعث تشویش ہے۔ خود ہمارے ملک میں یہ اضافہ انتہائی تیز رفتار اور اس کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔ بڑے شہروں میں جرائم کی یہ تعداد ایسی ہے کہ خطرے کا بگل بجاتی نظر آتی ہے۔ جہیز کے سبب ہونے والی اموات، قتل، زنا بالجبر، اغوا اور پھر ان کی خرید وفروخت اہم چیزیں ہیں۔ فیکڑیوں، بنکوں اور تجارتی اداروں اور دفتروں میں ان کا استحصال ، پبلک پلیس اور عوامی مقامات پر ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، تعلیمی اداروں میں ان کی بے حرمتی کے علاوہ دور دراز کے دیہی علاقے بھی اس میدان میں آگے آرہے ہیں اور آئے دن ان دیہی علاقوں سے بھی خواتین کے خلاف جرائم کی رپورٹیں عام ہوگئی ہیں۔

اس کے مختلف اسباب اور وجوہ ہیں جن میں بڑھتی ہوئی اخلاقی گراوٹ، معاشرتی برائیاں، عریانیت و فیشن پرستی اور مغربی تہذیب کے اثرورسوخ کے نتیجے میں خواتین کا نامکمل لباس میں گھومنا وغیرہ خاص اسباب ہیں۔ اور اس سلسلہ میں ملک کے بڑے شہر جنھیں میٹرو سٹیز کہا جاتا ہے کافی آگے ہیں۔ اخبارات و رسائل میں اس سلسلہ کے جو اعداد وشمار شائع ہوتے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں اور بڑے شہروں میں خاص طور پر خواتین کس طرح روز بروز غیر محفوظ ہوتی جارہی ہیں۔

لیکن خواتین کے خلاف جرائم سے ہٹ کر ایک اور پہلو بھی ہمارے سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اب خود خواتین بھی جرائم میں تیزی کے ساتھ ملوث ہورہی ہیں۔

عام خیال تو یہ ہے کہ خواتین جرائم میں کم ملوث ہوتی ہیں مگر مجرمانہ کاررائیوں میں جس تیزی سے خواتین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اس سے یہ اندیشہ لاحق ہوا ہے کہ کہیں یہ عام خیال غلط ثابت نہ ہوجائے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ایک سال کے اندر قتل، اغوا، منشیات کی اسمگلنگ اور شراب کی فروخت سمیت دیگر غیر قانونی کاموں میں ملوث ۱۲۵۲۹۹خواتین کے خلاف مقدمے درج کیے گئے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۰۲ء میں۱۲۵۲۹۹خواتین پر مجرمانہ کاررائیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں جبکہ ۲۰۰۱ء میں ان کی تعداد۱۱۵۱۷۶ تھی۔ ان میں ۳۵۸۷ خواتین پر قتل جیسے سنگین جرم کا الزام ہے جبکہ ۱۷۵۳ خواتین پر اغوا کا اور ۱۷۲۳ کے خلاف منشیات کی غیر قانونی تجارت کا الزام ہے۔

بہر حال شراب کی فروخت کرنے کے معاملہ میں سب سے زیادہ ۱۶۴۴۸ خواتین کے خلاف مقدمے درج کیے گئے ہیں جن میں تمل ناڈو میں ۵۶۷۵۴ خواتین کے خلاف جبکہ گجرات میں ۴۱۷۹۰، کیرالہ میں ۳۵۴، آندھرا پردیش میں ۱۴۰ اور شمال مشرقی ریاستوں میزورم میں ۶۵ اور ناگالینڈ میں ۲۲ خواتین کے خلاف مقدمے درج کئے گئے ہیں۔ اقتصادی جرائم میں ملوث خواتین کی تعداد سب سے کم ہے۔ ملک بھر میں صرف ۶۹ خواتین کے خلاف اقتصادی جرائم مثلاً جعلسازی کے معاملے درج ہیں۔ مگر اس میں بھی اضافہ ہورہا ہے کیونکہ گزشتہ برس یہ تعداد محض ۴۱ تھی۔

قتل جیسے سنگین جرم میں ملوث خواتین کی فہرست میں مہاراشٹر سب سے اوپر ہے جہاں ۵۹۸ خواتین کے خلاف قتل کے معاملے درج ہیں۔ اس کے بعد آندھرا پردیش دوسرے نمبر پر ہے۔ جہاں ۳۶۸ خواتین پر قتل کے مقدمے ہیں جبکہ کرناٹک میں ۳۰۵ خواتین پر، تمل ناڈو میں ۲۶۲، مدھیہ پردیش میں ۲۴۵، اترپردیش میں ۱۹۸، راجستھان میں ۱۸۲ اور مغربی بنگال میں ۱۷۸ خواتین کے خلاف قتل کے مقدمے درج ہیں۔

مرکز کے زیر انتظام سات علاقوں میں ۵۱ خواتین کے خلاف قتل کے معاملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے جن میں دہلی سرفہرست ہے۔ مذکورہ ۷ علاقوں میں سے صرف دہلی میں ہی ۴۳ خواتین پر قتل کے جرم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

اغوا کے معاملوں میں شورش زدہ ریاست آسام سرفہرست ہے جہاں اس سال ۲۵۹ خواتین پر اغوا کرنے کا الزام لگایا گیا ہے جبکہ اترپردیش میں ۲۳۲ اور مغربی بنگال میں ۲۱۸ خواتین کے خلاف اغوا کرنے کا الزام ہے۔ آندھرا پردیش میں ایسی خواتین کی تعداد ۱۵۶ ہے جبکہ بہار میں ۱۳۳ اور مہاراشٹر میں ۱۲۵ ہے۔ منشیات کی غیر قانونی تجارت میں ۱۷۲۳ خواتین کے خلاف مقدمے درج ہیں جن میں سب سے زیادہ ۷۳۵ خواتین تمل ناڈو کی ہیں جبکہ پنجاب کی ۳۲۱ اور مغربی بنگال کی ۹۶ اور دہلی کی ۲۹ خواتین شامل ہیں۔ دھوکہ دہی کے معاملوں میں ۱۷۸۶ خواتین ملوث پائی گئی ہیں جن میں مہاراشٹر سرفہرست ہے۔ جہاں ۳۳۱ خواتین ان معاملوں میں ملوث ہیں۔ اس کے بعد پنجاب کی ۲۹۳، کیرلہ کی ۱۳۱، گجرات میں ۱۱۰ اور پنجاب میں بھی ۱۱۰ خواتین ان معاملوں میں ملوث ہیں۔ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دھوکہ دہی میں ملوث خواتین کی فہرست میں بھی دہلی سرفہرست ہے جہاں ۱۰۴ خواتین ان معاملوں میں ملوث ہیں۔ اس کے بعد چنڈی گڑھ کا نام آتا ہے جہاں صرف چھ خواتین اس کام میں ملوث ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جرائم میں ملوث خواتین کی تعداد کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ مگر یہ انتظامات کیا ہیں اور کیا ان اقدامات سے واقعی اس طرح کے جرائم پر قابو پایا جاسکتا ہے، ایک اہم سوال ہے۔ اس لیے کہ اس سے قبل بھی وقفہ وقفہ سے وزارت داخلہ ریاستی حکومتوں اور انتظامیہ عام نظام اور عدلیہ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہدایات دیتی رہی ہے۔ اور اگر واقعی یہ ہدایات اس سلسلہ کے لیے مفید ہوتیں تو سالانہ اضافہ کا تناسب بہر حال اس طرح نہ بڑھتا جس طرح سامنے آیا ہے۔

حقیقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جرائم کے اسباب کا سنجیدگی سے تجزیہ کرکے اسباب کا پتہ لگایا جائے اور ان اسباب کی جڑ پر وار کیا جائے۔ سماج سے جرائم کا خاتمہ محض قانون سازی اور انتظامی ہدایات ہی سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے افراد سماج کے اندر ذمہ دارانہ سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ سوچ کس طرح پیدا کی جائے حکومتیں اس کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتیں۔

شیئر کیجیے
Default image
۔۔۔۔۔۔

تبصرہ کیجیے