6

رمضان المبارک کا استقبال کیجیے

رمضان کا مہینہ آتے ہی مسلم معاشرہ میں ایک گہما گہمی کی کیفیت دیکھنے میں آتی ہے۔ سروں پر ٹوپیاں اور مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد اچانک بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اندر نیکیاں کمانے اور عبادت کرنے کا شوق بڑھ جاتا ہے اور مسلم معاشرہ کے وہ افراد جو نماز پنج گانہ کے بھی پابند نہیں ہوتے اس مہینہ میں پابندی کرنے لگتے ہیں۔ یہ دراصل ایمان کی کم سے کم علامت اور اس بابرکت مہینہ کا فیض ہے جو گئے گزرے لوگوں کو بھی نیکیوں کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے یہ مہینہ بڑا خاص بنایا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان اس ماہ کے دوران اپنی کیفیت ایمانی کو اس قدر چارج کرلیں کہ اس کی طاقت سال بھر باقی رہے۔ اور جس طرح وہ برائیوں سے بچنے اور نیکیوں کے حصول کی اسپرٹ اس مبارک مہینہ میں جاری رکھتے ہیں اسے سال بھر قائم و دائم رکھ سکیں۔

اس کی اسی اہمیت کے پیش نظر اللہ کے رسول اس ماہ کے لیے خصوصی تیاریاں کیا کرتے تھے اور اپنے احباب کو اس ماہ مبارک کی فضیلت و اہمیت بتا کر ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار کرتے تھے کہ وہ اس ماہ میں عبادت، ذکر و اذکار اور توبہ و استغفار کے عمل کو زیادہ کریں۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے رمضان المبارک کی آمد سے قبل صحابہ کے درمیان خطبہ دیا جس میں اس مہینہ کی اہمیت و فضیلت بیان کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ تم پر ایک ایسا با برکت مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے جو سراپا رحمت و برکت ہے اور اس مہینہ میں اعمال صالحہ کا اجرو ثواب عام دنوں کے مقابلہ بدرجہا زیادہ ہوجاتا ہے اور اس مہینہ میں روزہ رکھنا اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔ پھر آپ نے بتایا کہ اس ماہ میں ایک رات شب قدر ہوتی ہے جس میں عبادت کرنا ہزار راتوں کی عبادت کے برابر ہے۔ اور یہی وہ رات ہے جس میں قرآن مجید لوح محفوظ سے نازل کیا گیا۔ جبکہ رمضان کا مہینہ ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس مہینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآن۔ یعنی رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ اور اسی اہمیت کے سبب اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کو اس بات کے لیے منتخب فرمایا کہ اہل ایمان اس ماہ میں روزہ رکھیں۔

اللہ کے رسول ﷺ نے دو عبادتوں کے بارے میں بتایا ہے کہ جس نے ان دو عبادتوں کو بہترین طریقہ سے انجام دیا اس کے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ایک حج بیت اللہ اور دوسرے ماہ رمضان کے روزے۔ آپ نے فرمایا: مَنْ حَجَّ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہٗ اُمُّہٗ (جو آدمی بیت اللہ کے حج کے لیے آیا اور پھر اس نے کوئی فحش اور شہوانی حرکت نہ کی اور نہ کوئی خدا تعالیٰ کی نافرمانی کا کام کیا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاکر ہوکر لوٹے گا جیسا پاک و صاف وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔) دوسری جگہ رمضان کے روزہ کے بارے میں فرمایا: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَاناً وَّ اِحْتِسَاباً غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَاناً وَّ اِحْتِسَاباً غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَاناً وَّ اِحْتِسَاباً غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔

(جس شخص نے رمضان کے روزہ مکمل ایمانی اسپرٹ اور اپنا احتساب کرتے ہوئے رکھے اس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہوگئے اور جو رمضان میں ایمانی اسپرٹ اور احتساب کے جذبہ سے عبادت میں کھڑا رہا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہوگئے اور جو شخص شب قدر میں پوری ایمانی اسپرٹ اور احتساب نفس کے ساتھ عبادت میں کھڑا رہا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہوگئے۔)

یہ ہے اس ماہ مبارک کی اہمیت اور فضیلت جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کے لیے گناہوں اور عذاب نار سے نجات اور چھٹکارے کا پیغام بن کر آتا ہے۔ اور یہی وجہ تھی کہ اللہ کے رسول اس ماہ مبارک کے استقبال کے لیے بے چین رہتے اور پہلے ہی سے اہتمام و تیاری شروع کردیتے تھے۔

اس مہینے کو اللہ تعالیٰ نے اس بات کے لیے خاص کیا کہ اہل ایمان اس ماہ میں روزہ رکھیں اور گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کمانے کی خصوصی تربیت حاصل کریں۔ چنانچہ اس ماہ میں اللہ کے فضل و کرم سے ایک عجیب روحانی ماحول پیدا ہوجاتا ہے جو عام لوگوں کو بھی نیکیاں کرنے پر اکساتا ہے۔ اللہ کے رسول نے احباب کو آگاہ فرمایا تھا کہ اس مہینہ میں شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ اے خیر کے طلب گارو آگے بڑھو اور اے شر کے خوگرو پیچھے ہٹ جاؤ۔

اس مہینے میں روزہ فرض کیا گیا۔ روزہ وہ عبادت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بتایا ہے کہ اس کا اجر اللہ اور بندہ کے درمیان ہے وہ جس قدر چاہے گا عطا کرے گا۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روزہ کی یہ عبادت اللہ تعالیٰ کے نزدیک کس قدر محبوب اور پسندیدہ ہے۔

روزہ کو اللہ کے رسول ﷺ نے ڈھال بتایا ہے آپ نے فرمایا: ’’اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّۃِ اَحَدِکُمْ مِنْ القِتَالِ‘‘ روزہ تمہارے لیے آگ سے بچنے کی ڈھال ہے جس طرح تم لوگوں کے لیے قتل سے بچنے کی ڈھال ہوتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اس ماہ کو ’’شہر مواساۃ‘‘ یعنی ایک دوسرے کی ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ بھی قرار دیا ہے۔ آپ نے اپنے خطبہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے لوگوں سے کہا تھا کہ اس ماہ میں روزہ دار کو افطار کرانے اور بھوکے کو کھلانا بڑی نیکی ہے۔ افطار کے بارے میں تو آپ نے اس حد تک تاکید فرمائی کہ افطار کراؤ خواہ ایک کھجور یا ایک گلاس پانی ہی کیوں نہ میسر ہو۔ اسی کے ساتھ آپ نے صدقہ و خیرات کی بھی بڑی تاکید فرمائی۔ اور اس ماہ کے صدقہ و خیرات کو افضل قرار دیا۔ اس مہینہ میں صدقہ و خیرات کرنا اور غریبوں کی حاجت روائی کرنے کی طرف آپ نے خاص طور پر متوجہ کیا۔

رمضان کی ساری فضیلت و برکت اور اس کا روزہ کے لیے انتخاب صرف اور صرف اس وجہ سے ہے کہ یہ شہر القرآن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنَ ہُدَیً لِلنَّاسِ وَ بَیِّنَاتٍ مِنَ الْہُدیَ وَالْفُرْقَان۔‘‘ (رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا یہ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت، اس کی واضح نشانی اور حق و باطل کے درمیان فرق کو کھول کھول کر بتا دینے والی ہے۔)

قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے ہدایت نامہ ہے اور اس کی اسی حیثیت کے سبب اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کو اپنے خاص فیوض و برکات کے لیے منتخب فرمایا۔ اس لیے اس ماہ کا ایک خاص تقاضہ یہ بھی ہے کہ قرآن کریم سے اپنی زندگی کے رشتہ کو مضبوطی اور استحکام کے ساتھ جوڑا جائے۔ اللہ کے رسول اس ماہ مبارک میں نماز تراویح کے اندر قرآن مجید کی مکمل تلاوت فرمالیا کرتے تھے اور صحابہ کرام بھی اس کی پیروی فرماتے۔ وہ کیونکہ اہل زبان تھے اس لیے جو پڑھتے وہ سمجھتے اور ٹھیک ٹھیک سمجھتے تھے۔ مگر ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم محض اس کی تلاوت کو کافی سمجھ لیتے ہیں حالانکہ محض تلاوت کے ذریعہ زندگی کے رشتہ کو قرآن سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے سمجھ کر پڑھنے کی مہم نہ چلائیں۔ شہر القرآن سے استفادہ اور اس کے حق کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اسے ترجمہ وتفسیر کے ساتھ پڑھنے کو اپنے اوپر لازم کرلیں۔ تبھی ہدایت کے سوتے ہمارے لیے پھوٹ سکتے ہیں اور زندگی میں حق و باطل کا فرق ہم پر واضح ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو رمضان المبارک کی تمام تر برکتوں اور سعادتوں کے باوجود ہمارا دامن خالی رہ جائے گا۔ اس ماہ مبارک میں جس طرح نیکیوں کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے اور اعمال خیر کے درجات بلند ہوجاتے ہیں وہ اللہ کا خاص فضل وکرم ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کی مثال اس بارش کی سی ہے جو بنجر اور خشک زمین پر سبزہ اگانے کا ذریعہ بن جاتی ہے اور ایک ہی بارش سے زمین لہلہا اٹھتی ہے۔ اسی طرح رمضان المبارک کے آتے ہی ایمان والے دل لہلہا اٹھتے ہیں اور نیکیاں شاندار فصل اگانے لگتی ہیں۔ بارانِ رحمت سے محرومی صرف پتھروں، چٹانوں اور بالکل ہی مردہ زمینوں کے حصہ میں آتی ہے۔ پس جو لوگ رمضان کے اس مہینے میں بھی نیک اعمال سے محروم رہیں ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ زندگیٔ قلب سے بالکل محروم ہوگئے ہیں اور ان میں زرخیزی اور نمو کی کوئی صلاحیت نہیں۔ ان پر خیر کی بارش ذرہ برابر بھی نمی پیدا نہ کرسکے گی جس طرح پتھروں اور چٹانوں پر موسمی بارش کے اثر سے سبزہ نہیں اگ پاتا۔

وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو نیکیوں کے اس موسم بہار سے فیض یاب ہونے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں جمع کرنے کی فکر کرتے ہیں نیز اللہ کے رسولوں کے قول کے مطابق رمضان گزارتے ہیں۔ اسی طرح دنیا کے بدبخت ترین لوگ وہ ہیں جن کے لیے یہ مہینہ بھی عام مہینوں کی طرح آتا اور گزرجاتا ہے۔

اس لیے آئیے اس ماہ مبارک کا پرجوش خیر مقدم کرنے کی تیاری کرتے ہیں اور نیکیاں سمیٹنے کے لیے اپنے دامن کو پھیلاتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
عائشہ صدیقہ

تبصرہ کیجیے