3

صحابیات کی زندگی اور ہمارا طرز عمل

قرن اولیٰ میں جن خواتین نے بھی اسلام قبول کیا انھوں نے اپنے آپ کو پورے طور سے دین اسلام کے لیے وقف کردیا۔ اسلام قبول کرتے ہی ہماری صحابیاتؓ نے قرآن و سنت پر عمل کرنا شروع کردیا۔ انھیں رسول اکرمؐ سے بے حد محبت تھی اور نبی ﷺ جس چیز کا حکم دیتے تھے اسی پر وہ عمل کرتی تھیں اور جس چیز سے روکتے تھے اس کے قریب بھی نہ جاتی تھیں۔ قرآن کریم نے مومنہ عورت کی جو صفات بیان کی ہیں صحابیات ان کا نمونہ تھیں۔ قرآن حکم دیتا اور ہماری صحابیات ان احکامات پر عملی تفسیر بن جاتیں۔

جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی ’’وَلِیَضْرِبْنَ بِخُمْرِہِنَّ عَلَی جُیُوْبِہِنَّ‘‘ تو انھوں نے اس آیت کو سنتے ہی اس پر عمل کیا۔ ہماری صحابیات قائمات اللیل اور صائمات النہار تھیں۔ پنج وقتہ نمازیں نوافل اور تہجد، جمعہ اور دیگر نمازیں بھی پڑھا کرتی تھیں۔

اسی طرح ہماری صحابیاتؓ حسن اخلاق کا پیکر تھیں۔ وہ عفو و درگزر کا بہترین نمونہ تھیں، بیماروں کی خدمت کرنا اور غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی امداد کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھتی تھیں۔ اور اس کام میں وہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتی تھیں۔ جذبۂ ایثار سے ان کے دل لبریز تھے۔ جیسے ہماری صحابیہ حضرت زینبؓ جن کا لقب ام المساکین تھا نہایت دریا دل اور کشادہ دست تھیں۔ فقیروں اور محتاجوں کی امداد کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہتی تھیں اور بھوکوں کو نہایت فیاضی کے ساتھ کھانا کھلاتی تھیں ان ہی صفات کی وجہ سے وہ ام المساکین کے لقب سے مشہور ہوگئیں۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے عہد خلافت میں حضرت زینبؓ کا وظیفہ ۱۲ ہزار درہم مقرر کردیا۔ یہ وظیفہ ملتے ہی انھوں نے اس کو حاجت مندوں، یتیموں، مسکینوں اور اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردیا۔ تین چار مرتبہ اسی طرح ہوا۔ وہ رقم بھیجتے اور حضرت زینبؓ خیرات کرتی جاتی تھیں اور اللہ سے دعائیں کرتیں۔

ہماری ان عظیم صحابیاتؓ نے جنگوں میں بھی زبردست بہادری کا مظاہرہ کیا۔ وہ جنگ میں زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور پانی پلاتی تھیں اور موقع کی نزاکت کو دیکھ کر میدان جنگ میں سینہ سپر ہوکر نکل آتی اور تیر اندازی بھی کرتی تھیں۔ چنانچہ جنگ بدر میں حضرت عائشہؓ ام سلیطؓ، ام سلیمؓ اور ام عمارہؓ نے محسنِ انسانیت ﷺ کو بچانے میں جس مردانہ جوش و شجاعت کا مظاہرہ کیا تاریخ کے اوراق پر جلی حرفوں سے لکھا ہے۔ ام عمارہؓ کی تعریف میں نبی کریمﷺ نے فرمایا: کہ میں نے دائیں بائیں آگے پیچھے جس طرف بھی دیکھا ام عمارہؓ کو اپنی مدافعت میں لڑتے دیکھا۔ یہ تھیں ہماری صحابیاتؓ جن کی زندگیوں کو ہمارے لیے اسوہ بتایا گیا ہے۔

مگر آج جب ہم اپنے کردار پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارا کردارصحابیات کے کردار کے برعکس نظر آتا ہے۔ ہم صحابیات کے اس روشن کردار کو بھول بیٹھے ہیں جس میں ہمارے لیے رہنمائی ہے۔ آج ہم حسین دنیا کی رنگینیوں میں کھو گئے ہیں، نہ ہمارے اندر دین کا کوئی جذبہ ہے اور نہ ہی اچھے اخلاق کی مہک۔ ہمارے کردار کا یہ عالم ہے کہ ہم نہ والدین کے حقوق ادا کرتے ہیں اور نہ ہی غریب، مسکین، محتاج اور رشتہ دار کے حقوق سمجھتے ہیں۔ ہماری دینی غیرت و حمیت جیسے مردہ ہوگئی ہے۔ اور خود غرضی ہمارے اندر رچ بس گئی ہے۔ بے حیائی اور عریانیت کا ہم بھی اسی طرح شکار ہیں جس طرح غیر مسلم خواتین۔ اسلامی اخلاق اور اس کی تہذیب و ثقافت کو چھوڑ کر ہم بھی اسی طرح قاتل مغربی تہذیب کے پیچھے اندھے ہوکر بھاگے جارہے ہیں جس طرح خوف خدا و آخرت سے خالی خواتین۔ اور — اپنی نئی نسل کی ذہنی و فکری تربیت سے ہم بھی اسی طرح غافل ہیں جس طرح دوسری خواتین۔ حالانکہ اسلام کی ماننے والی اور دیگر خواتین کے درمیان بنیادی فرق ہونا چاہیے۔ دنیا کی چمک دمک نے ہمارے ذہن و فکر اور ہماری نظر کو خیرہ کردیا اور ہم اپنے آئیڈیل کو بھول کر ان لوگوں کی پیروی کررہے ہیں جو قوم کو اور دنیا کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں کاش کہ امت کی مائیں اس بات پر غور کریں اور اپنی تہذیب اور اپنے آئیڈیل کی قدرو اہمیت کو پہچانیں۔

شیئر کیجیے
Default image
بازغہ تبسم گیاوی

تبصرہ کیجیے