4

تعلیم نسواں – روشن مستقبل کی ضمانت

اسلام نے علم حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں پر فرض کیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مرد کی طرح عورت کو بھی مختلف ذمہ داریوں کا مکلف بنایا ہے اور اعلیٰ قسم کی ذہنی و فکری صلاحیتیں اسے بھی عطا کی ہیں اور مردوں کی طرح اس کا بھی تزکیہ و ارتقاء مطلوب و مقصود ہے۔ اور ایسا اس لیے بھی ہے کہ ماں کی گود ہی وہ درسگاہ ہے جہاں انسان کے ذہن و فکر اور اس کی شخصیت کی تشکیل ہوتی ہے اور اس کے اثرات پوری زندگی انسان کی شخصیت پر باقی و قائم رہتے ہیں۔

اس اہمیت کے پیش نظر تو خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا انتہائی ضروری ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایک تعلیم یافتہ خاتون ہی زندگی کے تقاضوں، وقت اور زمانہ کے مقتضیات، زندگی اور حیات کے مطالبات اور ملی و ملکی مسائل کو زیادہ اچھی طرح سمجھ کر زمانے سے لڑنے کا عزم و حوصلہ نئی نسل کے اندر پیدا کرسکتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ خاتون ہی ایک اچھی بہو، بہترین بیٹی، وفا شعار بیوی اور کامیاب ماں کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ بچوں کی اچھی تربیت اور ان کی اعلیٰ ذہنی و فکری اٹھان کے لیے ایک تعلیم یافتہ خاتون ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔

جس قوم یا ملت کی خواتین جاہل اور ان پڑھ ہوں اس قوم کے روشن مستقبل کی امید کرنا دن میں خواب دیکھنے کے مانند ہے۔ دوسری طرف جس قوم کی مائیں تعلیم یافتہ اور شعور حیات و مقصد زندگی سے آشنا ہوں وہ قوم زندہ اور ترقی یافتہ قوم بن جاتی ہے۔ مستقبل اس کا ہوتا ہے اور وہ دنیا کی قائد اور حکمراں بن کر ابھرتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح صدیوں قبل امت مسلمہ کی خواتین تعلیم یافتہ ہوئیں تو مشرق و مغرب اور شمال و جنوب اسلام اور مسلمانوں کی جھولی میں آن گرے۔ ان کی زبان، ان کا کلچر ان کا مذہب ان کی روایات اور ان کے علوم و تحقیقات کو دنیا نے ترقی کا راز سمجھ کر اختیار کیا۔ اسی راز کو جان کر کسی شاعر نے نصیحت کی تھی:

اصلاحِ قوم آپ کو منظور ہے اگر

بچوں سے پہلے ماؤں کو تعلیم دیجیے

لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہماری غفلت اور کوتاہی کے نتیجے میں خواتین کی اکثریت جہالت و ناخواندگی کا شکار ہے۔ اور امت مسلمہ اس جہالت اور ناخواندگی کی فہرست میں سب سے نچلے درجہ پر ہے۔ اور جو تعلیم یافتہ اور خواندہ ہیں ان کا حال بھی کچھ مختلف نہیں بلکہ مزید دگر گوں ہے۔ اس لیے کہ ان کی تعلیم ان کی شرم و حیا اور اخلاق و کردار کا جنازہ نکالنے کا ذریعہ بن رہی ہے اور وہ بھی اسی طرح لادینیت اور مغربی جاہلیت کے پیچھے دوڑی جارہی ہیں جس طرح دوسری خواتین۔ یہ صورت حال حد درجہ تکلیف دہ اور خطرناک ہے۔

خواتین ہماری سوسائٹی کا ایک جز ہیں۔ ان کو دینی اور دنیوی تعلیم سے محروم رکھنا ملت و معاشرے کے لیے تباہی اور فتنہ و فساد کا باعث ہے۔ موجودہ حالت میں معاشرے کی تعمیر، اصلاح اور قوم کی فلاح و بہبود کی خدمت صرف اور صرف تعلیم یافتہ خواتین ہی انجام دے سکتی ہے۔ اور وہی امت کی اور اس ملک کی تقدیر بدلنے میں کوئی فعال رول ادا کرسکتی ہے۔ ہمارے ملک اور معاشرہ میں ہر سطح پر برائیوں اور بے حیائی کا طوفان ہے، ہر طرف بے چینی اور فتنہ و فساد نظر آتا ہے۔ جہالت و گندگی اپنی بدترین شکلوں میں ہمارے معاشرے میں رقص کررہے ہیں اور ہم ہیں کہ محض تماشائی بنے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔

سرکاری سطح پر آنے والے اعداد وشمار نے بارہا ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کیا۔ مگر ہم غافل رہے۔ اب تباہی کا طوفان ہمارے دروازہ پر دستک دے رہا ہے۔ ہماری نسلیںبے راہ روی کا شکار ہیں۔ ہمارے نوجوان زندگی کے تقاضوں کو پورا کرنے اور حالات سے لڑنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ معاشرتی اقدار اور خاندانی مسائل پیچیدہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور ایک عجیب و غریب کیفیت سے ہم دوچار ہوئے ہیں تو احساس ہوا کہ خواتین کی تعلیم بھی ضروری اور اہم ہے۔

لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج بھی ضرورت کے اس احساس کے باوجود ہماری خواتین خاص طور پر مسلم خواتین کے سامنے وہ راستہ واضح نہیں ہوپایا جس پر چل کر وہ خود کو تعلیم یافتہ کرسکیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ ملت کی قیادت محض تقریروں کے ذریعہ اس کی اہمیت و افادیت کو سمجھانے میں لگی ہے جبکہ ضرورت اور تقاضہ یہ ہے کہ امت کی خواتین کو تعلیم یافتہ کرنے کے لیے اور عام خواتین کو زیور علم سے آراستہ کرنے کے لیے ایک عملی پروگرام بنایا جائے اور گلی گلی مکاتب اور مدرسہ کھول دئے جائیں۔ ہر گھر تعلیم دینے والا اور علم کو عام کرنے والا گھر بن جائے۔

یہ کام ایسا نہیں جو بڑے بڑے مالی وسائل چاہتا ہوں۔ بڑی بڑی عمارتیں اور ٹیچروں کی بھاری تعداد کا مطالبہ کرتا ہو۔ یہ کام تو ایک صادق اور سچا جذبہ، حوصلہ اور عمل چاہتا ہے۔ جب ہمارے اندر خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے کا جذبہ صادق پیدا ہوجائے گا تو اس وقت ہم زبانی جمع خرچ سے نکل کر عمل کی دنیا میں کود پڑیں گے۔ تب ہم دیکھیں گے کہ ہماری ہر تعلیم یافتہ خاتون اپنے آپ میں ایک مدرسہ، ایک ادارہ اور تعلیم کا ایک مرکز بن گئی ہے۔ ہر گھر کی تعلیم یافتہ عورت اپنے گھر میں بیٹھی درجنوں عورتوں کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر علم کی روشنی میں لا رہی ہے۔ گلی گلی اور شہر شہر ایک ہنگامہ برپا ہے جہالت کو مٹانے اور علم کو پھیلانے کا۔

اس کے لیے کچھ دیوانی مگر عزم و حوصلہ سے سرشار نوجوان عورتوں کی ضرورت ہے جو عمل کے میدان میں اتر کر دنیا کو بتاسکیں کہ خواتین کے درمیان پھیلی ناخواندگی دیواروں پر لکھے نعروں اور اسٹیج سے کی جانے والی تقریروں کے ذریعہ ختم نہیں ہوگی بلکہ عمل کے ذریعہ مٹائی جاسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تو ہم دیکھیں گے جہالت و ناخواندگی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر جانے کے لیے تیار ہے اور اس ملک کی اور ملت کی خواتین ایک نئے شعور حیات سے آشنا ہورہی ہیں۔

کاش کہ یہ فکر ہماری بہنوں کے درمیان پھوٹ پڑتی اور وہ اس جہالت و ناخواندگی کو مٹانے کے لیے میدانِ عمل میں کود پڑتیں کیونکہ اسی سے روشن مستقبل وابستہ ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ پروین