5

رمضان صدقہ و انفاق کا مہینہ

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر زکوٰۃ کو فرض قرار دیا اور صدقہ و انفاق کو فروغ دینے کے لیے راہ خدا میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبیٰ وَ یُرْبِیْ الصَّدَقَاتِ‘ (اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقہ کو فروغ دیتا ہے۔) اسی طرح قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر صدقہ و انفاق کا ذکر کرکے اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ لوگ اللہ کی راہ میں مال خرچ کریں۔ مثالی اہل ایمان کی صفات کے ساتھ اس خوبی کا بھی ذکر ملتا ہے کہ وہ تنگی اور خوشحالی دونوں صورتوں میں مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔

انفاق فی سبیل اللہ ہر صورت میں اہل ایمان سے مطلوب ہے۔ مگر زکوٰۃ کے وجوب کے لیے رمضان کی نشاندہی فرما کر اور اس ماہ میں عبادات کے اجر کو سیکڑوں گنا بڑھا کر گویا اللہ تعالیٰ نے رمضان کو عبادت کا خاص مہینہ قرار دیا اور اسے شہر انفاق بنادیا۔ قانونی طور پر زکوٰۃ کی ادائیگی اسی ماہ میں انجام پاتی ہے۔ اور صدقہ فطر کی ادائیگی کو لازمی بناکر اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ اہل ایمان اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ مال غریبوں اور مسکینوں کی حاجت روائی میں صرف کریں۔ اس ماہ میں افطار کرانے کی فضیلت، صدقہ کا درجہ اور مال خرچ کرنے کے زبردست اجر سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ مومنین اور اہل ایمان اس مہینے میں زبردست فراخ دلی اور جذبہ انفاق کا مظاہرہ کریں اور معاشرہ کے کمزور طبقہ کی اس طرح سے حاجت روائی کریں کہ معاشرہ سے غربت و افلاس کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

ماہ رمضان کے روزہ کی بنیادی اسپرٹ ہی تقویٰ اور غریب پروری کے جذبات کا فروغ ہے۔ تاکہ بندہ بھوکا رہ کر یہ بھی دیکھ سکے کہ ایک غریب اور بھوکا شخص کس طرح کی تکلیف سے دوچار ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان المبارک کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی ہمہ جہت تربیت کا انتظام فرمایا ہے۔ تقویٰ و خدا خوفی کے جذبات کا فروغ، خواہشات نفس پر کنٹرول، اللہ کی رضا کا حصول اور مال و دولت کی محبت کو دل سے نکال پھینکنا اور اور حاجت مندوں اور غریبوں پر خرچ کرنا رمضان کی بنیادی اسپرٹ ہے۔

قرآن کی تمام تر ترغیبات اور صدقہ، انفاق اور ادائیگی زکوٰۃ کے تمام احکامات کے باوجود اگر بندہ اس ماہ میں مال و زر کی محبت میں ڈوبا رہے، غریبوں، حاجت مندوں اور مسکینوں کا خیال نہ کرے تو اس کی ناکامی، نامرادی اور بربادی پر ہر انسان کو افسوس کرنا چاہیے۔

مال کی محبت انتہائی تباہ کن اور مہلک مرض ہے اور اسلام اپنے ماننے والوں کو اس ہلاکت خیز مرض سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔

ایک مرتبہ اللہ کے رسول نے مسجد نبوی میں خطبہ دیا اور فرمایا: ’’اے لوگو! جہنم کی آگ سے بچو خواہ تمہارے پاس کھجور کا آدھا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ صدقہ انسان کی کجی کو درست کرتا ہے، بری موت مرنے سے بچاتا ہے اور بھوکے کا پیٹ بھرتا ہے۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ اسلام رمضان المبارک میں جس طرح انسانی افکار و خیالات اور طرز فکر وعمل کی تطہیر کرتا ہے صدقہ و زکوٰۃ اس کے نفس کی اس تطہیر میں معاون ہوتے ہیں اور حبِّ مال کے سبب جو کجی انسانی فطرت میں پیدا ہوجاتی ہے یہ اسے درست کردیتے ہیں۔

مال ایک فانی اور ختم ہونی والی شئے ہے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی ہی میں اس کا مال ساتھ چھوڑ جاتا ہے اور انسان مفلس رہ جاتا ہے جبکہ زندگی کا خاتمہ ہونے کے ساتھ تو اس کا ساتھ چھوڑنا حقیقت ہے۔ اس بات کو اللہ کے رسول نے درج ذیل احادیث میں واضح کیا ہے۔

٭ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ :

’’تم میں سے ہر شخص سے اس طرح محاسبہ ہوگا کہ خدا اور بندہ کے درمیان کوئی وکالت اور ترجمانی کرنے والا نہ ہوگا۔ وہ اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اس کو عمل کے سوا کوئی اور نظر نہ آئے گا، پھر بائیں طرف دیکھے گا تو ادھر بھی سوائے اپنے اعمال کے کسی اور کو نہ پائے گا۔ پھر وہ سامنے نظر ڈالے گا تو جہنم کو اپنے سامنے پائے گا۔

(جب یہ حقیقت ہے) تو اے لوگو آگ سے بچنے کی فکر کرو اگر ایک کھجور کا آدھا حصہ ہی تمہارے پاس ہو اسی کو دے کر آگ سے بچو۔‘‘ (بخاری مسلم)

٭ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ بندہ کہتا ہے کہ یہ میرامال ہے یہ میرا مال ہے۔

حالانکہ اس کے لیے اس کے مال میں تین حصے ہیں:

جو کھالیا وہ تو ختم ہوگیا، جو پہن لیا وہ بوسیدہ ہوگیا اور جو کچھ خدا کی راہ میں دیا وہی اس نے خدا کے یہاں جمع کیا۔

اس کے سوا جو کچھ ہے وہ اس کا نہیں ہے اسے تو وہ اپنے ورثاء کے لیے چھوڑ جائے گا اور خود خالی ہاتھ جائے گا۔‘‘ (مسلم)

ایک مرتبہ اللہ کے رسولؐ نے خطبہ دیا اور عورتوں کو خاص طور پر مخاطب کرکے صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔ آپ نے فرمایا: ’’اے عورتو! تم لوگ خصوصیت کے ساتھ صدقہ دو، اس لیے کہ قیامت کے دن تمہاری اکثریت جہنم میں ہوگی۔ اس پر ایک عورت نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ایسا کیوں ہوگا۔ تو آپ نے فرمایا: اس لیے کہ تم لوگ لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور شوہروں کی ناشکری کرتی ہو۔‘‘

ہمیں چاہیے کہ ان احادیث کی روشنی میں اپنے جذبات اور احساسات کا جائزہ لیں اور اس رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کی کوشش کریں۔

شیئر کیجیے
Default image
زیبا فاطمہ

تبصرہ کیجیے