2

خس کم جہاں پاک

سارا شہر غمگین نظر آرہا تھا۔ ہر گلی اور چوراہے پر شیخ صاحب کے جواں عمر لڑکے کا ذکر چل رہا تھا جو اچانک موت کے شکنجہ میں آکر زندگی سے محروم ہوگیا تھا۔ بڑی مسجد سے امام صاحب کا اعلان آج صبح سے ہی جاری تھا: ’’ایک افسوسناک اعلان سماعت فرمائیں! کل رات شیخ صاحب کے بڑے صاحبزادے کا انتقال ہوگیا ہے۔ نماز جنازہ بعد نماز عصر بڑی مسجد میں ہوگی۔‘‘

امام صاحب کی آواز سے اتنا غم جھلکتا تھا جیسے ان کا اپنا بیٹا چل بسا ہو۔ اور ایسا کیوں نہ ہو شیخ صاحب مسجد کی کمیٹی کے سب سے معزز اور صاحب اثر رکن تھے۔ شہر کے آخری کونے میں رہنے والا آدمی بھی شیخ صاحب کے احسانوں تلے دبا تھا۔ ایسی کوئی مجلس نہ ہوتی جہاں ملک و ملت کے کسی مسئلہ پربات ہو اور شیخ صاحب موجود نہ ہوں۔ افسران اور سیاسی لیڈران کی آمدورفت شیخ صاحب کے گھر پر ایک عام واقعہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے کافی نوازا تھا۔ پچھلے الیکشن میںانھوں نے ایم پی صاحب کو بڑی فراخ دلی سے چندہ دیا تھا۔ علاقہ کے ایم ایل اے صاحب تو ان کے گھر کے آدمی کی طرح تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ افضال احمد نے تو الیکشن ہی شیخ صاحب کے بل پر لڑا تھا۔ شیخ صاحب بڑے اثر و رسوخ والے آدمی تھے۔ ابھی پچھلے ہفتے کی تو بات ہے کہ کلو کا لڑکا بیمار پڑ گیا تھا۔ جان کے لالے پڑگئے تھے، شیخ صاحب کے ہی کہنے پر شہر کے سرکاری اسپتال میں بھرتی ہوپایا تھا۔

گھر کے باہر تعزیت کرنے والوں کا ازدہام ہے۔ کرسیاں لائین سے پڑی ہیں۔ پردہ نشینوں کے لیے الگ سے جانے کا انتظام ہے۔ اندر سے ہلکی ہلکی رونے کی آوازیں غور کرنے پر سنائی دے رہی ہیں۔ باہری کمرے میں شیخ صاحب بیٹھے ہیں۔ باپ کی محبت اور شفقت کا درد آنکھوں سے ٹپک رہا ہے۔ چاروں طرف معززین شہر بیٹھے ہیں۔ایس پی صاحب بھی بالکل ابھی پہنچے ہیں۔ حالانکہ غیر مسلم ہیں لیکن شیخ صاحب سے تعلق خاطر کا اتنا خیال ہے کہ ڈیوٹی ٹائم سے وقت نکال کر سفید کرتے پاجامے میں یہاںآئے ہیں۔ مقامی ایم ایل اے افضال احمد تو صبح سے ہی یہاں موجود ہیں۔ جنازے میں تاخیر اس لیے رکھی گئی ہے کہ ابھی دو صاحبزادے سعودی عرب سے ظہر کے بعد یہاں پہنچنے والے ہیں۔

شرفائے شہر جمع ہیں۔ بھیڑ کے باوجود ہر ایک شیخ صاحب کو تسلی دینے کے لیے مل رہا ہے۔ کچھ لوگوں کی دوڑ بھاگ اور سرگرمی بتارہی ہے کہ ان کا اس گھر سے تعلق بہت ہی قریبی ہے۔ تھوڑی دیر میں شہر کے پارلیمانی ممبر کا قافلہ بھی آگیا۔

سوگوار ماحول اور نمناک آنکھوں کے ساتھ جنازہ اٹھا۔ محلہ کی مسجد تک پہنچتے پہنچتے آدھا گھنٹہ لگ گیا۔ جب صفیں لگیں تو ایسا محسوس ہوا جیسے سارا شہر موجود ہے۔ کندھا دینے والوں کی کثرت سے جنازہ بہت آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے۔ قبرستان پہنچنے کے بعد جس کو جہاں جگہ ملی کھڑا ہوگیا۔ قبر تیار تھی کچھ لوگ میت کے تذکرے کررہے تھے کچھ لوگ شیخ صاحب کی توصیف میں رطب اللسان تھے۔ اللہ اللہ کرکے میت دفن ہوئی لوگ واپس ہوئے۔ تدفین کے بعد ہفتوں تعزیت کاروں اور تعزیتی خطوط کا سلسلہ جاری تھا۔ اخبارات و رسائل نے بھی اپنے غم کا اظہار کیا۔ کئی دنوں بعد کچھ بدخواہوں نے بتایا کہ شراب کی زیادتی موت کا سبب بن گئی تھی۔

اس حادثہ کے کچھ دن بعد پرانے شہر کے ایک پسماندہ علاقے سے گزرتے ہوئے میں اچانک ٹھہر گیا۔ ایک گھر سے رونے دھونے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ کوئی باہر بھی نہ تھا جس سے سبب معلوم کرلیتا اس لیے میں بغیر پوچھے ہی گزرگیا۔ ظہر کی نماز میں محسوس ہوا کہ نمازیو ںکی تعداد میں ایک صف زیادہ ہے۔ امام صاحب نے دھیمی آواز میں اعلان کیا ’’سنتوں کے بعد نماز جنازہ ہوگی‘‘، لیکن پھر بھی کچھ لوگ گھروں کو واپس ہوگئے کیوں کہ انھیں جلدی تھی۔ کالے اور دبلے پتلے چہرے والے آٹھ دس لوگ باقی بچے تھے۔ حالانکہ یہ لوگ بھی کبھی کبھار والے ہی نمازی تھے لیکن آج ان کے چہروں پر کچھ تو نور دمک رہا تھا۔ سیڑھیاں اترتے ہی اندازہ ہوگیا۔ کلو چپراسی کے جوان سال اکلوتے لڑکے کی بیماری میں موت ہوگئی تھی اور یہ اسی کا جنازہ تھا۔ بڑے اسپتال میں صحیح دیکھ ریکھ کیا ہوتی دوا بھی وقت پر نہیں مل رہی تھی۔ پرائیویٹ اسپتال میں جانے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ وہ تو شیخ صاحب کی سفارش پر سرکاری اسپتال میں بھرتی ہوگئی تھی ورنہ ایک بار تو ڈاکٹروں نے اسے لوٹا دیا تھا کہ اسے فوراً آل انڈیا لے جاؤ اور اس وقت اس کے ہوش اُڑ گئے تھے۔ تبھی تو اس نے شیخ صاحب کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ غربت نے کبھی بھی اس گھرانے کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ جلدی جلدی ایک صف تیار ہوئی۔ مولوی صاحب نے جیسے تیسے نماز جنازہ پوری کی، سائیکل اٹھا ئی اور اپنے کام پر چل دئے۔ باقی بچے دس بارہ لوگوں میں بھی دو تین لوگ راستے میں رہ گئے۔ آٹھ لوگوں نے مل کر جنازے کی تدفین کی۔ قبر تیار کرنے کے جب ارمان قبر والے نے دو سو رپے مانگے تو کلو نے اگلے ہفتے کا وعدہ کرلیا۔ ابھی دینے کے لیے تو قرض بھی نہیں بچا تھا جو کئی لوگوں سے لے کر علاج اور تدفین میں خرچ ہوگیا تھا۔ گھر میں شانتی تھی اور آوازیں بند تھیں۔ نہ مسجد کے مائک سے اعلان ہوا نہ محلے میں کوئی تذکرہ اور نہ تعزیت دار۔ ہاں آج شام ہری راج مہاجن تعزیت کرنے آیا تھا ۔ جو غم سے نڈھال معلوم ہورہا تھا کہہ رہا تھا کلو بھائی فکر مت کرنا، جتنے پیسے کی ضرورت ہو بلا جھجھک کہہ دینا۔ تم جانتے ہو میں تو واپسی کا مطالبہ بھی تم سے نہیں کرتا۔

کلو سر جھکائے سن رہا تھا۔ اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ وہ ارمان کو دو سو روپے کیسے دے گا اس فکر میں پھنسا تھا۔

واپسی میں مسجد کے قریب پان کی دوکان پر کچھ لوگ کھڑے تھے۔ ایک نے کہا ’’یار کلو کا لڑکا مرگیا۔‘‘ تو سامنے والے نے بڑی لاپرواہی سے کہا : ’’تو کونسی کمی آگئی دنیا میں۔ یہاں تو سیکڑوں مرتے ہیں۔‘‘

بالکل صحیح اس کے مرنے سے کیا کمی آجائے گی۔ وہ تو جاہل تھا اور ملک کے بے روزگاری اور غربت سے متعلق اعداد و شمار میں اضافہ کا ذریعہ بھی۔ چلو اچھا ہوا مرگیا۔ خس کم جہاں پاک۔‘

شیئر کیجیے
Default image
عمیر انس

تبصرہ کیجیے