BOOST

کمر درد سے نجات

کمر درد کی شکایتیں اس وقت ہمارے معاشرہ میں عام ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف بڑی عمر کے لوگ ہی اس کا شکار ہیں بلکہ آج کل کے نوجوانوں میں بھی قابل ذکر تعداد اس سے متاثر ہے۔ یہ ایک مستقل بیماری کی شکل بھی اختیار کرسکتی ہے اس لیے اس کا علاج تبھی کرلینا چاہیے جب وہ شروعاتی دور میں ہو ورنہ اس کا خمیازہ بڑی اور مستقل بیماری کی شکل میں بھگتنا پڑسکتا ہے۔ اگر چار پانچ دنوں سے زیادہ آپ کو کمر درد رہتا ہے توآپ کو فوراً ڈاکٹر کی رائے لینی چاہیے اور اسے کسی حال میں بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہاں اگر یوں ہی تھوڑی بہت دیر کے لیے محسوس ہو تو بہت زیادہ قابل اعتنا نہیں۔ البتہ یہ چیز مستقل اور روٹین نہیں بنتی چاہیے۔

کمر درد کے اسباب

٭ اگر اندازِ نشست و برخاست صحیح نہ ہو یا جھک کر چلتے ہوں تو ایسے لوگوں کو بہت زیادہ کمر درد ہوتا ہے۔ کچھ لوگ صحیح طریقے سے نہیں اٹھتے بیٹھتے یا صحیح سے کھڑے نہیں رہتے، جس سے ان کے جسم کی بناوٹ بگڑ جاتی ہے۔ اگر بیٹھنے اور اٹھنے کے صحیح طریقہ پر دھیان دیا جائے تو کمر درد سے نجات پائی جاسکتی ہے۔

جسم کا پوسچر بگڑنے سے ریڑ کی ہڈیوں اور جوڑوں میں بھی تکلیف ہوجاتی ہے۔ اکثر بڑی عمر میں لوگ جھک کر چلنے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ کچھ حد تک ان کی عمر کا تقاضا ہوسکتا ہے۔ لیکن دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے پوسچر کو صحیح رکھنے اور کرنے کی کوشش نہیں کرتے، نتیجہ کے طور پر ان کی کمر جھکتی چلی جاتی ہے۔

٭ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو چیزیں اٹھانے کے لیے صحیح طریقہ سے جھکتے ہوں، کئی لوگ بیٹھ کے قوت سے جھکتے ہیں، جس سے Intervertirul Diskپر اثر ہوتا ہے اور پیٹھ درد کی شکایت ہوجاتی ہے۔

٭ بہت دیر تک ایک ہی جگہ پر یا کار، ہوائی جہاز یا ٹرین وغیرہ میں بیٹھے رہنے سے کمر کے نچلے حصہ میں درد ہوسکتا ہے کیونکہ اس حالت میں پیٹھ پر پورا زور پڑتا ہے اس لیے ہمیشہ بیٹھنے کے صحیح طریقہ پر دھیان دیں۔

٭ صحت بنائے رکھنے کے لیے فٹنیس بہت ضروری ہے۔ لیکن کبھی کبھی زیادہ ورزش کرنے سے بھی پیٹھ میں درد ہوسکتا ہے۔

یاد رکھنے کی باتیں

٭ دو باتوں کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ سیدھے کھڑے رہیں اور سیدھے بیٹھیں۔ جس کرسی پر آپ بیٹھتے ہیں اگر وہ پوری طرح کمر کو سپورٹ نہ کرے تو ایسی کرسی پر بیٹھنا آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

٭ ورزش ضرور کریں، لیکن یہ بھی خیال رکھیں کہ کمر پر زیادہ زور نہ پڑے۔

٭ زمین پر سے چیزوں کو اٹھاتے وقت کمر کے بل جھکنے کے بجائے گھٹنوں کے بل جھکیں۔

٭ اگر آپ آفس میں کام کرتے ہیں تو ہر ایک گھنٹے کے بعد اپنی کرسی سے اٹھ کر تھوڑا چلیں اور کمر کو تناؤ سے آزاد کرانے کی کوشش کریں۔

٭ پرس، بیگ کندھے پر لٹکا کر چلتے وقت سائڈ بدلتے رہیں، جس سے ایک ہی طرف وزن نہ پڑے۔

٭ ذہنی طور پر پرسکون رہنے کی کوشش کریں۔

٭ اپنے جسم کو مکمل آرام دیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ثمینہ انجم

تبصرہ کیجیے