5

حجاب کے نام!

چند مشورے

میں حجاب کی پرانی قاری ہوں اور اس وقت سے ہوں جب سے مائل خیر آبادی مرحوم نکالتے تھے۔ پھر ڈاکٹر ابن فرید صاحب اور ان کی اہلیہ نے نکالا۔ ہر دور کی اہم اور نمایاں خصوصیات ہیں اور بڑا تعمیری رول رہا ہے۔

آپ نے حجاب کو نیا رنگ دیا ہے جو قابل ستائش ہے۔ میرے نزدیک اس کی سب سے نمایاں خوبی اس کی جامعیت ہے کہ آپ نے اس میں بیک وقت بہت سے ضروری موضوعات کو شامل کیا ہے۔

پچھلے دنوں کیریئر کا کالم بھی نظر آیا جو ابھی بند ہے معلوم نہیںکیوں؟ جتنے کالم بھی آپ نے متعین کیے ہیں انہیں بہرحال ہر شمارہ میں مکمل کریں۔ کوئی ایک چیز بھی نظر نہیں آتی تو خلا محسوس ہوتا ہے۔ کہانیوں اور افسانوں کا انتخاب اچھا ہے۔ اس کے لیے آپ کی ٹیم قابل مبارک باد ہے۔

میرا مشورہ ہے کہ آپ ایسے راستے تلاش کریں، جن پر چل کر حجاب اسلامی اپنے قارئین کا تحریری تعاون لے سکے۔ میری مراد یہ ہے کہ عام لوگوں کو لکھنے کی دعوت دیں تاکہ وہ قاری ہی نہ رہیں۔ اس سے ان کا رسالہ سے مضبوط رشتہ قائم ہوگا۔

خالدہ تنویر، مڑگاؤں

]آپ کے مشوروں پر ہم مشکور ہیں، ’’مذاکرہ‘‘ اوراب ’’یادگار واقعہ‘‘ کا سلسلہ اسی لیے شروع کیا گیا ہے کہ قارئین بھی اپنی تحریریں ارسال کریں۔ کالمس کو پُر کرنا ہماری اہم ترجیح ہوتا ہے، شکریہ۔ مدیر[

مضامین پسند آئے

حجاب اسلامی کو جب سے آپ نے جاری کیا ہے تب سے ہی اس کی قاری ہوں۔

ماہ ستمبر ۲۰۰۴ء کا حجاب ملا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حجاب میں روز بہ روز نکھار آتا جارہا ہے۔ مضامین سبھی معیاری تھے بطور خاص آپ کا اداریہ بہت پرجوش تھا۔ بہن مریم جمال کا لیا ہوا انٹرویو اور ڈاکٹر یوسف القرضاوی کا ’’عورت اور اسلام‘‘ بہت پسند آئے۔

آپ سے گزارش ہے کہ حجاب میں اسلامی سوالات پر مبنی ایک کوئز صفحہ ضرور کھولیں تاکہ سبھی قارئین کو خط لکھنے کا موقع مل سکے۔

ترنم بہار، بہرائچ

ایک مشورہ

میں نے اپنے بہو، پوتیوں اور نواسیوں کے لیے آپ کا جاری کردہ رسالہ، حجاب اسلامی گزشتہ ماہ اپریل سے جاری کراویا ہے۔ رسالہ پسندیدہ ہے مضامین اعلیٰ معیاری ہیں نیز ترقی کی راہ پر رواں دواں ہے۔ خدا آپ کی محنت و کاوش کو قبول فرمائے البتہ ایک کہانی ہم نفس کا سلسلہ جو مسلسل شائع ہورہا ہے وہ کئی ایک پہلو سے مجھے ناپسند ہے اس میں جو مکالمے (سوال و جواب) لکھے جارہے ہیں، اور مضمون میں بھی بعض جگہ الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہ سیدھی سادی بچیوں کے لیے مضر اثرات ذہن اور دماغ پر مرتب ہونے کا اندیشہ اور خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایسے معیاری، مہذب ، شائستہ اور باوقار دینی رسالہ میں ایسے مضامین شائع ہونا موزوں نہیں معلوم ہوتا ہے۔ اگرچہ تفریح طبع کے نقطہ نظر سے شائع کیا جارہا ہے۔ اس کے بجائے اخلاقی اور شائستہ نظریہ کی حامل کہانی کا انتخاب فرماکر جس میں دینی و دنیوی دونوں عنصر ہوں وہ شائع فرمائیں تو میرے خیال میں زیادہ مناسب ہوگا۔ یہ میرا ایک مشورہ ہے جس پر آپ کا ادارہ گہرائی اور باریکی و دور اندیشی سے غور کرے۔

بعض رسالوں میں کتابت کی غلطیاں بھی رہی ہیں، نظر ثانی فرمالیاکریںتو مناسب ہوگا۔

عبدالخالق، اندور

]حجاب پسند آیا، الحمدللہ۔ ہماری کوشش ہے کہ حجاب میں صرف معیاری مضامین ہی شائع ہوں، ’’ہم نفس‘‘ کے بارے میں آپ کی رائے لوگوں کی رائے سے مختلف ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ آپ اس سلسلہ کو بہ غور پڑھیں۔ ہم نے کافی غوروخوض کے بعد ہی اسے شروع کیا تھا۔ اس میں افغانی لڑکی کا کردار انتہائی مثالی ہے۔ توجہ دلانے کے لیے شکریہ۔ مدیر[

حجاب پسند آیا

میں آپ لوگوں کی پرانی قاری ہوں۔ مجھے حجاب بہت پسند ہے۔ ہر ماہ بے چینی سے انتظار کرتی ہوں۔ اس رسالہ میں ایک عنوان ہے ’’میں پردہ کیوں کرتی ہوں‘‘ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ اس سے الگ الگ بہنوں کے خیالات سامنے آتے ہیں تو اس مسئلہ پر اور زیادہ اطمینان ہوجاتا ہے اور یہ خیال آتا ہے کہ پردہ سے دور جو خواتین ہیں وہ کس قدر پریشانیوں میں مبتلا رہتی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری تحریر کو شائع کردیں گے۔

فرحین شاہد رضا

حجاب خواتین کی ضرورت

آپ کا تعارف ہمیں عرصۂ دراز ہے۔ جب آپ نے ’’رفیق منزل‘‘ کی ادارت سنبھالی تھی۔ گزشتہ دنوں وطن واپسی کے موقع پر اپنی بھتیجی عزیزہ الفت قانتہ کے ذریعہ یہ اطلاع ملی کہ ’’حجاب‘‘ کی کمان آپ نے سنبھال لی ہے اور حجاب اب اپنی جائے پیدائش رام پور سے منتقل ہوکر دہلی پہنچ کر حجاب اسلامی بن گیا ہے۔ ایک دو شمارے آپ کی ادارت میں نکلتے ہوئے دیکھنے کو ملے۔ بے حد پسند آئے۔

مائل خیر آبادی کے ادارت میں جب حجاب شائع ہوتا تھا، اس کا اپنا ایک منفرد انداز تھا۔ پھر ابن فرید اور ام صہیب صاحبہ نے سنبھالا تو حجاب کا اپنا ایک نمایاں انداز تھا، حجاب خواتین کی ایک ضرورت بن گیا ہے۔ امید قوی ہے کہ آپ کی ادارت میں حجاب اسلامی خوب ترقی کرے گا۔

شبیر احمد ملاَّ، الخبر، سعودی عرب

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء