2

کیسے تیار ہوں صالح مائیں!

موجودہ معاشرہ کی عورت دو حالتوں میں ہے تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ۔ ایک وہ عورت ہے جو تعلیم اور نام نہاد ترقی کی راہ پراتنی آگے چلی گئی ہے جہاں سے تباہی کی حدیں شروع ہوتی ہیں مثلاً خاندانی نظام درہم برہم ہوگیا، ماڈرنزم کے معنی عریانت بن گئے اور بچوں کی پیدائش اور تربیت کو ترقی کی راہ کا روڑا تصور کیا جانے لگا اور ان کی زندگی ’’بابر بہ عیش کوش کے عالم دوبارہ نیست‘‘ کے مانند بن گئی۔

دوسری طرف غیر تعلیم یافتہ عورت ہے جو زندگی کے بنیادی حقوق تک سے محروم ہے۔ مثلاً نہ تو اسے تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے ، نہ نکاح اور شادی بیاہ میں اس کی مرضی جانی جاتی ہے، نہ بیچاری کو وراثت میں حق دیا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس کے اپنے بچوں کے معاملے میں بھی اس کی رائے کو قابل اعتنا تصور نہیں کیا جاتا اور نہ ہی گھر کے دیگر معاملات میں اس سے صلاح و مشورہ کیا جاتا ہے۔ اس کی حیثیت محض ایک ملکیت کی سی ہوگئی ہے کہ جس طرح چاہا استعمال کیا۔

مسلم عورت کا حال بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں۔ البتہ مسلمان عورت کے ساتھ دو باتیں خاص ہیں (۱) مسلمان عورت عالمی سطح پر مغربی تہذیب کا خاص ٹارگیٹ بنی ہوئی ہے۔ مثلاً مغرب نے میڈیاکے ذریعہ وہ تمام کام کیے جس سے مسلمان عورت اور مغربی عورت دونوں میں کسی بھی قسم کا فرق نہ رہے ہاں چاہے ان کا نام عائشہ اور ساجدہ ہی کیوں نہ ہو۔ انھوں نے اپنے اس ماڈرنزم کو مسلم معاشرہ میں فروغ دینے کے لیے مسلم ممالک میں اپنی عورتوں کو منصوبہ بند طریقہ سے بھیج کر چلت پھرت کرائی اور بے حیائی کو عام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم دنیا میں خاص حیثیت رکھنے والے ممالک تک بالکل بدل کر رہ گئے۔ افغانستان جیسا ملک جو اپنی قدیم افغانی روایات اور رسم و رواج کی پابندی کے لیے ابھی تک مشہور تھا اور جس کے امیر ملک شاہ امان اللہ خان کو صرف اس لیے تختِ شاہی سے اٹھا پھینکا گیا کہ اس نے اپنی بیگم کو بغیر نقاب کے باہر جانے دیا تھا اور جہاں پردہ غلو کی حد تک تھا وہاں کی عورتیںبھی آج مقابلہ حسن میں حصہ لے رہی ہیں۔ زہرا داؤد اور ودا صمدزئی اس کی مثال ہیں۔

(۲) دوسری طرف مسلم عورت کی جہالت اور اس کے پچھڑے پن وغیرہ کو صحیح قرار دینے کے لیے دین کا سہارا لیا گیا اور نام نہاد علماء نے اس کے لیے بعض حدیثوں کی غلط ترجمانی کی اور بعض ضعیف احادیث کو عام کیا۔ مثال کے طور پر جمعہ کے خطبہ میں کہیں کہیں پڑھا جاتا ہے النساؤ حبالۃ الشیطان یعنی عورت شیطان کی رسی ہے۔ یہ تو عین یہودیوں اور عیسائیوں کا نظریہ ہے جو وہ عورت کے لیے رکھتے ہیں۔ اور بعض احادیث کو تو ڑ مروڑ کر پیش کیا گیامثال کے طور پر حضرت فاطمہ ؓ کی طرف منسوب کرکے یہ غلط ترجمانی کی جاتی ہے۔

شریف عورت وہ ہے جو گھر سے صرف دو بار ہی باہر نکلتی ہے (۱) باپ کے گھر سے شوہر کے گھر کی طرف اور (۲) شوہر کے گھر سے قبرستان کی طرف۔

اس ذہنیت کے نتیجہ میں عورت پر ہر اچھائی اور علم کے دروازے بند کردئے گئے اس کی تعلیم غیر ضروری ٹھہری کہ عورت کا گھر سے نکلنا خواہ تعلیم کے لیے ہی ہو ٹھیک نہیں ہے۔ اس کی تعلیم کا کام اس کے باپ شوہر اور بھائی انجام دیں اور ہمارے مرد حضرات نے یہ کام کیا نہیں کیونکہ نہ تو ان کے پاس علم تھا اور نہ ہی وہ اپنی عورتوں کی تعلیم وتربیت کے لیے اپنے وقت کو ان کے لیے قربان کرسکے۔

عورتوں کا جو واحد ذریعہ تھا جمعہ کے خطبے، دینی اجتماعات، وعظ و نصیحت کی محفلیں وہاں پر عورتوں کا جانا ناجائز ٹھہرا، انھیں منع کیا گیا اور یہ سب دین کے نام پر کیا گیا، جب کہ اللہ کے رسول کے زمانے میں عورتوں کی تعلیم و تربیت کی کیا حالت تھی ہم سب اس سے بخوبی واقف ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ کا اسی پردے میں رہ کر درس و تدریس کا کام کرنا اسی پردہ میں رہ کر ام عمارہ کا فداکارانہ ڈھنگ سے حضور کی حفاظت کرنا، حضرت عائشہؓ اور ام سلیمؓ کا جنگ میں زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا، پانی پلانا وغیرہ ہمارے سامنے ہے۔

جب ہم عورتیں جاہل اور غیر مہذب ہوگئیں تو پھر یہ تو فطری نتیجہ تھا کہ جاہل، پس ماندہ اور غیر مہذب عورت اپنی ہی جیسی نسل پیدا کرتی اور پھر ہماری نسلیں در نسلیں جہالت اور پس ماندگی کے اندھیروں میں کھوتی چلی گئیں۔

سوال یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب نسلیں آئیں تو کہاں سے آئیں اور پھر کہاں سے لائی جائیں اچھی مائیں جو نسلوں کی بہترین تعمیر کرسکیں؟ ایک طرف باشعور اور تعلیم یافتہ طبقہ ہے جو دین کے نام پر قائم بے جا حدود اور سماجی بندھنوں کو توڑنے کی جرأت نہیں کرپاتا دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو تمام حدود و قیود کو چھوڑ کر شتر بے لگام کی طرح بھاگا چلا جارہا ہے۔ اور حقیقت میں دونوں کے راستے تباہی کی طرف جاتے ہیں۔ اس لیے کہ افراط و تفریط کا راستہ اسی طرف جاتا ہے۔ تعمیر اور فلاح کا راستہ تو ان دونوں کے درمیان سے ہوکر گزرتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ماؤں کے ہاتھوں میں ہی قوموں کی تقدیر اور ان کا مستقبل ہوتا ہے اور انہی کے تیار کیے ہوئے افراد سے قوم بنتی ہے۔ مائیں اچھی تو قوم اچھی اور مائیں بری تو قوم تباہ۔

نبی اکرمﷺ نے فلاح آخرت کے لیے صحابیات کو بے چین اور بے قرار کردیا تھا۔ مشہور واقعہ ہے مدینہ کی خواتین نے حضرت اسما بنت یزیدؓ کو اپنا نمائندہ بناکر حضورؐ کے پاس بھیجا۔ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ جس طرح مرد آپ پر ایمان لائے ہیں اسی طرح ہم بھی آپ پر ایمان لائی ہیں لیکن مرد تو ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں وہ جہاد کرتے ہیں، جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں، نمازِ جنازہ کا ثواب حاصل کرتے ہیں اور ہم ہیں کہ ان کا بوجھ کمر پر لادے لادے پھرتی ہیں۔ یا رسول اللہ مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں۔ اللہ کے رسولؐ نے نمائندہ عورت کی تعریف کی پھر فرمایا: اے اسماؓ جاؤ مدینہ کی عورتوں سے کہہ دو کہ اگر تم اپنی اولاد کو تعلیم و تربیت دے کر امومت صالحہ (اچھی ماں) کا فرض انجام دے دو تو یہی تمہارا جہاد ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کی راہ میں پہلا قدم اٹھانے والی ایک عورت ہی تو تھی کہ جب محمد ﷺ نبوت سے سرفراز ہوکر غار حرا سے آئے، بیوی کو سب کچھ بتایا تو اس خدا پرست خاتون نے برجستہ اقرار کیا کہ بے شک آپ اسی کام کے لائق تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی عظیم ذمہ داری سے سرفراز فرمائے یہ ام المومنین حضرت خدیجہؓ ہیں جو سب سے پہلے اسلام لائیں اور اسلام کی راہ میں اپنی ہر چیز کی قربانی دے کر ایک درخشاں مثال قائم کی۔

حمایتِ رسول میں اپنے پہلے شوہر ابی حالہ کے بیٹے حالہؓ کے اندر فدایانہ جذبہ کس نے پروان چڑھایا کہ وہ حمایت رسول میں کافروں کی تلواروں کے سامنے ڈھال بن گئے۔

حضرت ام کلثومؓ، رقیہؓ، فاطمہؓ ، حضرت زینبؓ حضور کی پیاری بیٹیاں جن سے اچھی بچیاں نہ تو آج تک دیکھی گئیں اور نہ آئندہ دیکھی جاسکتی ہیں، آخر ان بچیوں کو عظیم خاتون کس نے بنایا تھا۔ کیا حضرت ہاجرہ ؓ کی تربیت کو بھلایا جاسکتا ہے جنھوں نے بیٹے اسماعیلؑ کے اندر باپ کی اطاعت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا۔ کیا تاریخ اسلام حضرت صفیہؓ جیسی بہادر خاتون کو بھلا سکتی ہے جنھوں نے حضرت زبیرؓ کی بہترین تربیت کرکے انتہائی جری اور نڈر بنادیا۔ اور پھر اس عورت کی شجاعت کا کیا کہنا جس نے عالمِ کفر میں قتل کیے گئے عزیز ترین بھائی کے غم میں وہ دردناک مرثیے کہے کہ لوگ غش کھاکر گر پڑتے اور روتے روتے ہچکیاں بندھ جاتیں اور جن کے مرثیوں سے عمر بن خطاب جیسے پتھر دل پگھل کر رہ گئے اور حضرت عائشہؓ جیسی سنجیدہ مزاج خاتون رو پڑیں۔ مگر جب یہ عورت مسلمان ہوکر حضرت خنساءؓ بنی تو اپنے نو نہالوں کو اسلام پر قربان کرنے کے لیے تیار کرنے لگی جنگ قادسیہ کے میدان میں اپنے چاروں کڑیل جوان بیٹوں کو لے کر شریک ہوئیں گھمسان کی لڑائی میں انھوں نے اپنے بیٹوں کو جنگ میں فصیح و بلیغ اشعار سنائے اور یکے بعد دیگرے چاروں شہید ہوگئے۔ اس پر انھوں نے فرمایا: ’’وہ کامیاب ہوگئے اللہ کا شکر ہے۔‘‘ قربان جائیے ایسی ماں پر!

غور کیجیے کہ ایک نوجوان بیٹا تلوار لیے مدینہ سے نکل کر میدان جہاد میں بھاگا جارہا تھا۔ ماں نے دیکھا تو پکارا ’’بیٹے جلدی جا تجھے دیر ہوگئی‘‘ حضرت عائشہؓ نے جو اس نوجوان کو دیکھا تو فرمایا سعدؓ کے بدن پر ذرہ نہیں ہے اور کلائی تو بالکل ننگی ہے۔ اتفاق کی بات جنگ میں دشمنِ کا تیر اس کو لگا اور وہ شہید ہوگیا۔ ماں کو معلوم ہوا تو پکار اٹھی ’’میرا بیٹا کامیاب ہوگیا۔‘‘خالدؓ بن ولید، سعدؓ بن وقاص، عبیدہؓ بن جراح اور ان جیسے سیکڑوں نمونے ہمیں ملتے ہیں جن کو ان کی ماؤں نے ہی تو ڈھالا تھا۔

حضرت عمربن عبدالعزیزؒ، صلاح الدین ایوبیؒ، امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ، عبدالقادر جیلانیؒ، محمد بن قاسمؒ، طارق بن زیادؒ، قتیبہؒ بن مسلم، سید قطب شہیدؒ، حسن البناء شہیدؒ، بدیع الزماں نورسیؒ، سید احمد شہیدؒ، اسماعیل شہیدؒ، علامہ اقبالؒ، سرسید احمد خاں، ٹیپو سلطان، مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ، محمد علی جوہر اور ان کے بھائی وہ نام ہیں جنھیں اسلامی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔

ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطابؓ گشت کررہے تھے کہ ایک گھر سے ماں بیٹی کی آواز سنی۔ ماں بیٹی سے پانی ملانے کو بار بار کہہ رہی تھی مگر بیٹی اللہ کے ہر حال میں دیکھنے کی بات کہہ کر پانی ملانے سے انکار کررہی تھی۔ حضرت عمرؓ نے فوراً دونوں کو بلایا اور اپنے بیٹے حضرت عاصمؓ کا نکاح اس صالح لڑکی سے کردیا۔ اس لڑکی سے ایک بیٹی ام عاصم پیدا ہوئی یہی عمرؓ کی پوتی حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی ماں تھیں۔ عمر بن عبدالعزیزؒ کا کردار خاندان بنو امیہ میں بالکل الگ تھا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خلیفہ بنتے ہی آپ نے بنو امیہ کے ذریعہ زبردستی قبضہ کی ہوئی زمینیں اور جائدادیں ان کے حق داروں کو واپس کردیں۔ آپ اپنے خاندان سے بہت کم ملتے۔ خاندان کے لوگوں نے شکایت کی آپ مغرور ہوگئے ہیں۔ حضرت عمرؒ نے فرمایا پہلے میں گھر کا ایک لڑکا تھا تم سب بن پوچھے دندناتے آجاتے، میرا فرش روندتے اور جو جی میں آتا کرتے تھے۔ لیکن خلیفہ ہونے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمہارے مزاج کی اصلاح کروں۔ دیکھو غرور تو صرف خدا کو ہی زیب دیتا ہے میں خدا سے کیوں کر لڑسکتا ہوں۔ یہ سن کر سبھی لوگ ایک دوسرے کا منھ دیکھنے لگے۔ اتنے میں گھر کی ایک بوڑھی بزرگ عورت نے کہا:’’میں نے لاکھ منع کیا کہ عمر بن خطاب کے خاندان کی لڑکی اپنے گھر میں نہ لاؤ مگر کسی نے میری ایک نہ سنی لو اب وہ سب دیکھو جو دیکھ نہیں سکتے۔‘‘

یہ انتہائی عبرتناک واقعہ ہے۔ بوڑھی تجربہ کار عورت کا اندازہ درست نکلا کہ ام صالحہ اگر اس گھر میں آئے گی تو اس سے جو بھی اولاد پیدا ہوگئی وہ ایسی ہی متقی اور پرہیزگار ہوگی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں آپ کا تعلق عبدالملک، ولید اور سلیمان جیسے شان و شوکت والے حکمرانوں سے رہا وہیں عمر فاروقؓ کے تربیت یافتہ نیک نسل کا اثر ان کی زندگی پر غالب رہا جس نے اسلامی تاریخ میں ایک اور روشن باب کا اضافہ کیا۔

شیخ عبدالقادر جیلانیؒ جب ۵ برس کے ہوئے تو ان کی امی جان نے حافظ صاحب کے پاس قرآن مجید پڑھنے بھیجا۔ کچھ دنوں بعد حافظ صاحب ان کے گھر آئے اور بولے کہ میں اس بچے کو کیا پڑھاؤں یہ تو خود مجھ کو پڑھاتا ہے۔ اس میں کیا راز ہے، اگر میں کہتا ہوں ذالک الکتاب لا ریب فیہ تو بچہ کہتا ہے ہدی للمتقین بچہ میرے پیچھے چلنے کے بجائے آگے آگے چلتا ہے۔ آپ کی ماں بولیں حقیقت یہ ہے کہ مجھ کو ۱۸ پارے حفظ ہیں میں ہمیشہ تہجد کے بعد ان کی تلاوت کرنے کے بعد اس کو دودھ پلاتی تھی وہی قرآن اس کو حفظ ہوگیا ہوگا۔

اسی نیک ماں کے فرزند علم کے لیے بغداد جاتے وقت ماں کی نصیحت ’’ہر حال میں سچ بولنا’’ پر عمل کرتے ہوئے کس طرح ڈاکوؤں اور ان کے سردار کی زندگی بدل دیتے ہیں یہ ہم سب جانتے ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں نے اپنے بچپن میں گھر کے ایک ملازم کو طمانچہ مار دیا ماں کو معلوم ہوا تو اس قدر خفا ہوگئیں کہ گھر سے نکال دیا۔ وہ ڈر سے اپنی خالہ کے گھر چلے گئے۔ ۵، ۶ دن بعد خالہ کو پتہ چلا تو بھانجے کو لے کر بہن کے پاس سفارش لے کر آئیں کہ معاف کردیں اور گھر میں رکھ لیں مگر اس نیک ماں نے سختی سے کہہ دیا کہ جب تک یہ ملازم سے معافی نہیں مانگے گا نہ میں معاف کروں گی اور نہ گھر میں رکھوں گی۔ آخر سرسید نے معافی مانگی۔ ان کی ماں کی اسی تربیت کا یہ اثر پڑا کہ عمر بھر اپنے کسی ماتحت پر سختی نہیں کی بلکہ ہر طرح سے دلجوئی کرتے رہے۔

ایک روایت میں ہے کہ بچپن میں حضرت حسن و حسینؓ لڑ پڑے۔ پھر ماں کے پاس شکایت کرتے ہوئے انصاف کرانے آئے۔ حضرت فاطمہؓ نے فرمایا: ’’میں یہ نہیں جانتی کہ زیادتی تم دونوں میں سے کس نے کی ہے۔ البتہ یہ جانتی ہوں کہ اللہ پاک لڑائی جھگڑے کو پسند نہیں کرتا۔ اس لیے وہ تم دونوں سے ناراض ہوگا۔‘‘ یہ سن کر دونوں نے کہا آج آپ ہمیں معاف کردیں آئندہ ہم کبھی نہ لڑیں گے۔ ماں نے کہا اپنے خدا سے معافی مانگو وضو کرو، جائے نماز پر کھڑے ہوجاؤ۔ دونوں بچے اللہ کے حضور کھڑے ہوکر معافی مانگنے لگے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جتنی بھی عظیم شخصیات پیدا ہوئیں ان کا بنیادی ذریعہ اور بنیادی سبب ان خواتین کی عظمت ہے جن کی گودوں میں وہ پلے اور پروان چڑھے۔ انہی کی تعلیم و تربیت نے ان شخصیات کو عظیم بنایا۔ ان تمام مثالوں کو پڑھ کر یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ اسلام نے عورتوں کو یہ حقوق اور یہ اختیارات اسی لیے دئے ہیں کہ وہ اچھی ماں اور نیک ماں کا منصب سنبھال کر امت کے لیے افراد سازی اور انسان سازی کی خدمت انجام دیں۔ دنیا کے دانشوروں نے کہا ’’بچے کی پہلی یونیورسٹی ماں کی گود ہے۔‘‘ اور اللہ کے رسول کی پسندیدہ چیز دو تھیں ایک خوشبو اور دوسرے عورت۔ یہ دونوں جہاں رہتی ہیں ساری فضا کو معطر رکھتی ہیں۔ رسول کی نظر میں یہ مقام اس لیے نہیں کہ عورت نے بچے پیدا کردئے بلکہ اس لیے ہے کہ وہ اولاد کی راعیہ ہے اور اپنی گود سے اسلام کے نمونہ ڈھال ڈھال کر قوم کو دینے والی ہے۔

افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ قرآن وحدیث کی تعلیمات کو چھوڑ کر اچھی نسل بنانے کے لیے سارا زور لڑکوں پر لگادیا گیا اور نصف انسانیت (عورت) کو فراموش کردیا گیا اگر بچیوں کی تعلیم و تربیت صحابہ و صحابیات کے طریقہ پر نہیں ہوگی تو پھر سوچئے کہ آخر کار وہ انقلاب کہاں سے اور کیسے آئے گا جس کا خواب ہم آنکھوں میں لیے ہوئے ہیں۔ ہاں ہمارے دشمن نے اپنی شیطانی عقل سے ہمارے صالح گھروں کو تباہ کرکے ضرور رکھ دیا تاکہ صالح سماج کی جڑ ہی کٹ جائے آئیے ہم اپنے عظیم منصب کو سنبھالیں اور سوچیں کہ ہمیں اپنی نسل کی کس طریقہ پر تربیت کرنی ہے کہ وہ انقلاب کی پیغامبر اور روشنی کا مینار بن کر دنیا کے سامنے آئے۔ (جاری

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

تبصرہ کیجیے