5

بجھے ہوئے چراغ

مجھے گھر سے آفس آتے ہوئے روزانہ اس جگہ سے گزرنا ہوتا ہے۔ بس سے اتر کر پیدل چلتا ہوں، کیونکہ بس مجھے آفس سے چند سو گز پیچھے اتار دیتی ہے۔ جب میں بس سے اتر کر تیزی سے آفس کی طرف بڑھتا ہوں۔ میں چونکہ اکثر گھر سے لیٹ ہوجاتا ہوں لہٰذا قدرتاً جلدی میں ہوتا ہوں۔ میری اس تیزی کو سڑک پر ٹریفک کا شور، ہر قسم کی گاڑیوں اور موٹروں کا غل غپاڑہ، لوگوں کا ہجوم اور ہوٹل سے آتی ہوئی تیز ریکارڈنگ بھی کم نہیں ہونے دیتی۔ لیکن جب میں سڑک پار کرکے آگے بڑھتا ہوں تو غلیظ اور لنگڑے فقیر کی صدا ضرور رخنہ ڈالتی ہے۔ اور لمحہ بھر کے لیے میں رکتا ہوں۔ اور فٹ پاتھ کے اس کونے پر نظر ڈالتا ہوں جہاں وہ کھڑے ہوتے اور ہر آنے جانے والے کو اپنی بے نور آنکھوں سے تکا کرتے تھے۔ لیکن اب وہ جگہ خالی تھی۔ وہ چلے گئے تھے۔ کہاں؟ یہ میں نہیں جانتا — شاید کوئی بھی نہیں جانتا۔
شاید دو یا تین سال پہلے کی بات ہے۔ جب میں نے اس چوڑی اور گہما گہمی والی سڑک کے کنارے بنے ایک بڑے آفس میں کام شروع کیا تھا۔ میں صبح آٹھ بجے سے شام کے اندھیرا ہونے تک کام کرتا۔ بس سے اتر کر جب آفس کی طرف بڑھتا تو فٹ پاتھ کے اس کونے میں ایک عورت اور ایک مرد خاموش کھڑے ہوتے۔ وہ اس قدر کونے میں کھڑے ہوتے کہ کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہ ہوتا۔ چنانچہ میں بھی کئی روز تک ان کو نہ دیکھ سکا تھا۔
معمر مرد سر پر ایک ٹوپی پہنے رہتا۔ لمبا سفید کرتا اور سرمئی رنگ کا دھاری دار تہبند ہوتا اور ہاتھ میں ایک لاٹھی ہوتی۔ وہ نابینا تھا۔ اس کے ساتھ والی عورت بھی سفید قمیص اور موٹے لٹھے کی شلوار پہنے ہوتی۔ اس کے سینے اور سر پر سفید دوپٹہ ہوتا جو کہ نہایت احتیاط سے وہ لپیٹے ہوتی۔ اس کا رنگ سانولا تھا۔ اور آنکھیں بڑی بڑی تھیں۔ عمر کے لحاظ سے اگر وہ نوجوان نہ تھی تو بہت بوڑھی بھی نہ تھی۔ پچیس چھبیس کے لگ بھگ تھی۔ وہ دونوں بالکل خاموش کھڑے رہتے۔ جیسے کہ کسی کا انتظار کررہے ہوں۔ ان کے ہاتھوں میں چند ایک پتلی پتلی کتابیں ضرور ہوتیں۔ میں روزانہ ان کو دیکھتا اور سوچتا ہوا نکل جاتا کہ یہ کون ہیں اور اس طرح کیوں کھڑے ہوتے ہیں۔
ایک روز جب کہ میں ان کے پاس سے گزر رہا تھا۔ میں نے ایک شخص کو انھیں کچھ دیتے ہوئے دیکھا۔ میں حیرت میں رہ گیا جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ یہ بھکاری ہیں۔ کیونکہ وہ کسی طرح بھکاری نہیں معلوم ہورہے تھے۔ نہ لباس سے اور نہ ہی شکل و صورت سے بلکہ کسی اچھے خاصے گھرانے سے تعلق رکھنے والے دکھائی دیتے تھے۔ اس انکشاف کے بعد میں نے سوچا کہ میں معلوم کروں گا آخر ان لوگوں کی یہ حالت کیسے ہوئی۔ یقینا یہ پیشہ ور بھکاری نہیں ہیں۔ اب جب میں ان کے پاس سے گزرتا تو چاہتا کہ کچھ دوں۔ لیکن نہ جانے کیوں میرا ہاتھ جیب تک جاکر رک جاتا۔ میری ہمت نہ پڑتی کہ ایک دو روپے میں ان کے ہاتھ پر رکھوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ اگر میں نے یہ حرکت کردی تو گویا ان کی توہین ہوجائے گی اور یہ ایک بڑا جرم ہوگا۔ نہ معلوم مجھ میں یہ ہچکچاہٹ کیوں پیدا ہوگئی تھی۔
آخر ایک روز میں نے یہ ہچکچاہٹ توڑ ہی دی۔ پاس سے گزرتے ہوئے میں نے دس کا نوٹ جیب سے نکالا اور مرد کے ہاتھوں پر رکھ دیا اس نے کاغذ کے ٹکڑے کو ہاتھ سے ٹٹولا اور عورت کے ہاتھ میں دیتا ہوا بولا۔
’’سخی کو نو روپئے واپس کردو نیلم۔‘‘
نیلم! میں چونک گیا۔ یقینا یہ کسی اونچے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ نیلم نے اپنے دوپٹے کا پلّو کھولا اور اس میں سے پیسے نکال کر گننے لگی۔ وہ کم تھے یہی کوئی پانچ چھ روپے ہوں گے۔
’’میرے پاس تو کل چھ روپے ہیں شرفو بابا! تم اپنے پاس دیکھو۔‘‘
نیلم نے مرد کو مخاطب کیا۔
’’نہیں ہیں تو رہنے دو۔‘‘ میں نے بولنے کا موقع نکالا۔
’’نہیں نہیں بابوجی پیسے لیتے جائیے۔‘‘ مرد جلدی سے بولا اور اپنی اندر باہر کی جیبیں ٹٹولنے لگا۔ لیکن ان سے بھی صرف دو ہی روپے برآمد ہوئے۔
’’رہنے دیجیے بڑے صاحب، کیا حرج ہے رکھ لیجیے۔‘‘ میں نے پھر کہا۔ دراصل میں ان سے کچھ بات کرنا چاہتا تھا۔
’’نہیں نہیں آپ پیسے لے لیجیے۔‘‘ وہ بولا، پھر نیلم کی طرف مخاطب ہوا۔
’’نیلم اگر نہیں ہیں تو نوٹ واپس دے دو۔‘‘ نیلم نے نوٹ میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے لینے سے انکار کردیا۔ ادھر مرد کو انکار، آخر میں نے کہا۔
’’بڑے صاحب کوئی بات نہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو میں باقی کے پیسے شام کو لے لوں گا۔ یہ چار قدم پر میرا آفس ہے۔ شام کو لوٹتے ہوئے آپ سے باقی ماندہ پیسے لیتا جاؤں گا۔ اس پر شرفو چپ تو ہوگیا لیکن معلوم ہوتا تھا کہ اس کو یہ بھی منظور نہیں۔ نیلم نے مجھے ایک بار غور سے دیکھا جیسے پہچان رہی ہو۔ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں پھر یہ روپیہ واپس نہ کردیں اس لیے میں نے تیزی سے قدم بڑھادیے۔ اور آفس پہنچ گیا۔
دن بھر میں سوچتا رہا کہ آیا شام کو ان سے پیسے لینے جاؤں یا نہیں۔ اگر جاتا ہوں تو یہ چیز خود میرے لیے کتنی گری ہوئی ہے۔ اور اگر نہیں جاتا ہوں تو ان کے حالات معلوم کرنے کا جو ایک موقع ہے وہ نکلا جاتا ہے۔ لیکن پھر سوچا کہ حالات معلوم کرنے کا کوئی اور بھی موقع نکل سکتا ہے۔ چنانچہ یہی سوچ کر میں شام کو قصداً اس طرف سے نہیں گزرا اور راستہ کترا کر چلا گیا۔
کوئی تین یا چار روز بعد جبکہ میں قطعاً اپنے خیالوں میں غرق تھا کہ ایک نسوانی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ پلٹ کر دیکھا تو نیلم کھڑی تھی۔ اور اس سے چند گز کے فاصلہ پر شرفو اپنی جگہ کھڑا تھا۔
’’بابوجی یہ آپ کے پیسے۔‘‘ نیلم نے نو روپے میری طرف بڑھادیے۔ ’’اس دن شام کو آپ آئے نہیں پیسے لینے۔‘‘
’’ہاں بابوجی ہم نے آپ کا بڑی دیر تک انتظار کیا مگر آپ نہیں آئے۔‘‘ شرفو بھی اب دو قدم آگے بڑھ آیا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ نیلم نے اس کو بتا دیا تھا کہ میں جارہا ہوں۔
’’پیسے کیسے بھئی، میرے کوئی پیسے نہیں ہیں۔‘‘ میں نے چاہا کہ ان کو جھٹلادوں محض پیسے نہ لینے کے لیے۔ ’’شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے کوئی اور ہوگا۔‘‘
’’نہیں میں آپ کو اچھی طرح پہچان گئی ہوں۔ آپ وہی ہیں جنھوں نے ہمیں دس کا نوٹ دیا تھا۔ اور آپ برابر کے آفس میں کام کرتے ہیں نا؟‘‘ نیلم بڑے یقین کے ساتھ بولی۔ اب میرے لیے کوئی چارہ کار نہ تھا، چنانچہ میں بولا۔
’’اوہ ہاں یاد آیا۔ ہاں بھئی میں اس شام کو نہ آسکا، لیکن آپ یہ رکھ لیجیے نا، کیا حرج ہے۔‘‘
’’نہیں یہ زیبا نہیں۔‘‘ نیلم بولی۔ لیکن میرے بہت زور دینے پر انھوں نے وہ پیسے رکھ لیے۔
’’آپ کا بہت بہت شکریہ بابوجی‘‘ اب کہ شرفو مجھ سے مخاطب ہوا۔
’’نہیں اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں۔ لیکن آپ کو یہاں اور اس طرح کھڑا دیکھ کر …… ‘‘ میں نے بات کو آگے بڑھایا۔
’’حیرت ہوئی ہوگی۔‘‘ شرفو اپنی جگہ واپس جاتے ہوئے بولا۔
’’نہیں حیرت تو ایسی نہیں۔ ہاں البتہ افسوس ضرور ہوا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’افسوس!‘‘ شرفو ایک تلخ مسکراہٹ اپنے لبوں پر لے آیا۔ ’’ہاں ہر ایک کو ہمیں دیکھ کر افسوس ہوتا ہے اور پھر رحم آتا ہے۔ افسوس ہوتا ہے‘‘ شرفو نے ایسے لہجہ میں یہ بات کہی، جس میں طنز اور تلخی ملی جلی تھی۔
’’معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگ بہت دکھی ہیں۔ زمانے نے بہت ستایا ہے۔‘‘ میں نے ان کی دکھتی رگ کو گویا چھیڑدیا۔ لمحہ بھر کے لیے شرفو خاموش ہوگیا۔ اور نیلم کا سر اور بھی جھک گیا۔
’’ایک بات کہوں۔‘‘ میں شرفو سے مخاطب ہوا۔ کیوںکہ مجھے آفس کو دیر ہورہی تھی۔
’’ضرور فرمائیے۔‘‘
’’آپ یقینا کسی اچھے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ سب زمانے کی گردش کے سوا کچھ نہیں۔ اگر ناگوار نہ ہو تو کچھ اپنے حالات بتائیے۔ میں بیحد مشتاق ہوں۔‘‘ میں نے اپنے مقصد پر آتے ہوئے کہا۔
’’آپ کی رگوں میں بھی کوئی شریف خون ہے اور سینہ میں ایک ہمدرد دل۔ لیکن یہاں —‘‘ وہ خاموش ہوگیا۔
’’نہیں نہیں یہاں نہیں۔ میں چھٹی والے روز آپ کے مکان پر آؤں گا۔‘‘ میں بولا۔
’’مکان‘‘ بڑی دیر بعد نیلم نے سر اٹھایا۔ ’’مکان کہاں ایک کچی جھونپڑی ہے لالو کھیت میں۔‘‘
’’خیر خیر اس کو چھوڑئیے میں ضرور آؤں گا۔‘‘
’’تو ہم انتظار کریں گے‘‘ نیلم نے کہا اور میں نے ان سے جھونپڑی کا پتہ سمجھا اور اتوار والے روز کا وعدہ کرکے آفس کی راہ لی۔
اتوار کو میں کوئی دس بجے کے قریب تلاش کرتا کرتا ان کی جھونپڑی پر پہنچا۔ یہ ایک کچی جھونپڑی تھی، چاردیواری ٹاٹ کی اور چھت کھپریل کی تھی۔ زمین کچی لیکن ہموار، سامان مٹی کا اور بہت ہی کم، لیکن جتنا بھی تھا بڑی صفائی اور نفاست کے ساتھ اس چھوٹی سی جگہ میں رکھا ہوا تھا۔ جھونپڑی میں اس بلا کی صفائی ستھرائی تھی کہ میں نے اپنے ہاں کے اکثر بڑے بڑے گھروں میں بھی نہ دیکھی تھی۔ جب میں پہنچا تو باہر چارپائی پر شرفو بیٹھا ایک بہت ہی خستہ حالت کا حقہ پی رہا تھا۔ میں نے اس کے پاس جاکر سلام کیا۔ آواز پہچان کر وہ کھڑا ہوگیا۔
’’آگئے آپ، خدا کا شکر ہے۔ میں تو سمجھا کہ کہیں آپ بھول نہ گئے ہوں۔‘‘ وہ میری طرف بڑھا۔ اور جلدی میں ایک پتھر سے ٹھوکر کھائی۔ میں نے فوراً آگے برھ کر سنبھال لیا۔
’’بھولتا کون، چلئے اندر چلئے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ہاں اندر چلئے، نیلم ذرا پانی کی صراحی بھرنے گئی ہے۔ آتی ہوگی۔ آج صبح بہت بھیڑ تھی نل پر۔ اس لیے صبح ہی صبح نہ گئی۔‘‘
’’خیر کوئی بات نہیں۔‘‘ میں نے کہا ۔ جھونپڑی کے ایک کونے میں کوئی دو گز لمبی چٹائی بچھی ہوئی تھی، میں وہیں پر بیٹھ گیا۔
’’پہلے ناشتہ کرلیجیے، چائے تو میرا خیال ہے ٹھنڈی بھی ہوگئی ہوگی۔‘‘ شرفو مجھ سے مخاطب ہوا۔
’’نہیں نہیں یہ تکلیف کیسی۔‘‘ میں نے کہا۔ میں سکتہ میں آگیا کہ یا خدا اس حالت میں بھی اس شخص کی کیا کیفیت ہے۔ اور اس کا دل کتنا صاف اور سچا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ بھکاری ہے، دنیا اس کو کچھ دے، یہ نا ممکن ہے بلکہ دنیا کو اس سے مانگنا چاہیے۔
’’نہیں نہیں، اگر آپ نہیں پئیں گے تو نیلم ناراض ہوگی۔ اس نے آپ کے لیے خاص طور پر بنائی تھی۔‘‘ شرفو بضد ہوا۔ آخر کو میں نے شرفو کا دل رکھنے کے لیے چائے کے پیالے اٹھا لیے اور ایک ان کو دیا۔ ایک خود لے لیا۔ چائے واقعی ٹھنڈی ہوچکی تھی، لیکن پھر بھی میں پینے لگا۔
’’آپ کہاں کے رہنے والے ہیں؟‘‘ میں نے شرفو سے بات چھیڑی۔ وہ میرا مطلب سمجھ گیا اور کہنے لگا۔
’’جہاں کے آپ ہیں۔ وہی ہمارا وطن ہے۔ وہی ہمارے باپ دادا کی زمین تھی۔ اور وہیں ان کی قبریں ہیں۔ قسمت کو یہ منظور نہ تھا کہ ہماری بھی مٹی وہیں کی ہوتی۔‘‘ اس نے ایک آہ اور بھری۔

’’لیکن آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ میں کہاں کا ہوں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’آپ دہلی کے ہیں نا؟‘‘ اس نے گویا بڑے وثوق سے کہا۔

’’ہاں لیکن آپ نے کیسے جانا؟‘‘

’’میاں اگر ہم دیکھ نہیں سکتے تو کیا ہوا۔ ہمارا دل تو نابینا نہیں۔ انسان کی بات چیت اور برتاؤ ہی بتادیا کرتا ہے کہ وہ کس مٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ ہماری چشم بینا نہیں تو کیا، چشم دل تو ہے۔‘‘

’’خیر تو آپ بتا رہے تھے—‘‘ میں نے داستان پھر سے جوڑی۔

’’ہاں میاں! تو میں کہہ رہا تھا کہ ہم بھی اسی مٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو سات بار اجڑی اور سات بار بسی۔ خیر تو میں وہاں کے ایک اچھے خاصے گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں جو سیدوں کا خاندان کہلاتا ہے۔ لیکن اس سے کیا ہوتاہے کہ ہم سید ہیں یا شیخ یا کچھ بھی نہیں۔ اور اب تو میں اس عمر میں تھا کہ جہاں پہنچ کر آدمی خود بخود بڑا تسلیم کرلیا جاتا ہے۔ اور پھر میرے ارد گرد تو ایک بڑا خاندان تھا۔ میری بیوی، لڑکے لڑکیاں اور پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں، غرض ایک اچھا خاصہ کنبہ تھا۔ مگر قسمت کی کیا معلوم کہ دلی کا سہاگ آٹھویں بار لٹا۔ کاروبار ختم ہوا، جائداد گئی، خاندان تہہِ تیغ ہوا۔ کوئی بھی اس آندھی کے ہاتھوں نہ بچ سکا۔ وطن چھوٹا اور آخر دیار غربت میں ہوا کھینچ لائی۔ بلکہ دیکھو تو وہ بھی راس نہ آیا۔ بقول فانیؔ

فانیؔ ہم تو جیتے جی وہ میت ہیں بے گور و کفن

غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا

سب ختم ہوگئے بس میں اور نیلم رہ گئے۔ سو میرا کیا چراغِ سحری ہوں آج مرا کل دوسرا دن۔ وہ رک گئے۔ میں بھی خاموش رہا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ انھوں نے جان بوجھ کر اس قصہ کو بہت مختصر کردیا ہے۔ ورنہ یہ تو وہ داستان ہے کہ کتابوں کی کتابیں تصنیف ہوجائیں اور ختم نہ ہو۔ انھوں نے اپنی امارت کا کوئی واقعہ بیان نہ کیا۔ لیکن میں سمجھ گیا تھا۔ میں خاموش رہا۔ میں نے بھی دبی ہوئی راکھ کو نہ کریدنا چاہا۔ کیا فائدہ جو چنگاریاں شرر نہ بن سکیں ان کو راکھ تلے ہی دبی رہنے دو۔ سوکھے زخموں کو کھرچنے سے حاصل؟

’’مجھے کوئی افسوس نہیں، لیکن ایک بات کا ضرور ہے۔ یا تو نیلم مرجاتی یا پھر اس کا شوہر زندہ رہتا۔ بیچاری نے صرف پانچ سال کا سکھ اٹھایا۔ سہاگ کے پانچ دن اور پھر بیوگی کا یہ داغ اور وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ اف لڑکی—‘‘ بڑے افسردہ سے بولے۔

’’کیا کوئی بچہ وغیرہ بھی تھا؟‘‘

’’ہاں صرف ایک لیکن وہ بھی —‘‘ وہ آہٹ پاکر خاموش ہوگئے۔ نیلم آگئی تھی۔ اس نے مجھے دیکھا اور خوشی کی لہر اس کے چہرے پر آگئی۔ لیکن وہ پھر فوراً ہی افسردہ ہوگئی۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس نے شرفو کی آخری بات سن لی تھی۔

بہر حال نیلم نے بھی میرے آنے کا شکریہ ادا کیا۔ میں نے گفتگو وہیں ختم کردی۔ اور بڑی مشکل سے ان دونوں باپ بیٹی کو اس بات پر راضی کیا کہ میں ان کو ماہانہ کچھ نہ کچھ امداد دے دیا کروں گا۔ لیکن پھر بھی انھوں نے گھر میں بیٹھنا پسند نہ کیا۔ اور کہا کہ آئندہ سے کچھ کھلونے یا ماچس اور سگریٹ وغیرہ لے کر بیچا کریں گے۔ نیلم جھونپڑی پر اکیلی نہ رہ سکتی تھی اور ویسے بھی شرفو کو ایک سہارا چاہیے تھا۔ لہٰذا طے یہ ہوا کہ وہ دونوں ساتھ ہی کچھ نہ کچھ بیچا کریں گے۔ اور اس کے بعد میں چلا آیا۔

دن مہینوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ چند ماہ گزرگئے۔ میں برابر ان کو امداد دیتا رہا اور وہ دونوں برابر کچھ نہ کچھ بیچتے رہے اور اپنا پیٹ بھرتے رہے۔ ایک مرتبہ میں نے محسوس کیا کہ نیلم خاص طور پر کچھ پریشان سی رہتی ہے۔ میں نے ایک دن اس کی جھونپڑی پر جاکر پوچھا بھی، لیکن وہ کچھ نہ بتلا سکی۔

چند ہی روز بعد میں نے دیکھا کہ کوئی شخص کھڑا نیلم سے کچھ خرید رہا ہے اور کافی بحث مباحثہ کررہا ہے۔ میں جلدی میں تھا اپنے راستہ چلاگیا۔ اسی روز مجھے دفتر کے کام کے سلسلہ میں آٹھ روز کے لیے باہر جانا پڑا۔ واپس آکر دیکھتا ہوں کہ نیلم اور شرفو کئی دن تک نظر نہ آئے میں بھی ان کی جھونپڑی نہ جاسکا۔ کچھ روز اور گزر گئے۔ آخر ایک روز میں نے سوچا کہ کل جاکر ضرور معلوم کروں گا آخر کیا بات ہے۔

جب شام کو میں دفتر سے نکلا تو کافی دیر ہوچکی تھی۔ اندھیرا چھا گیا تھا اور سڑکوں کے قمقمے روشن ہوچکے تھے۔ میں بسوں کے نمبر دیکھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک کسی سے ٹکر ہوگئی۔ مڑکر دیکھا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ شرفو اور نیلم کھڑے تھے۔

’’ارے آپ لوگ کہاں تھے۔‘‘ میں نے کہا دونوں فوراً میری آواز پہچان گئے۔ اچانک میری نظر نیلم کی آنکھوں پر پڑی وہاں پٹی بندھی ہوئی تھی۔

’’یہ کیا نیلم؟‘‘ آنکھوں پر پٹی کیسی؟‘‘ میں اور زیادہ حیرت میں ہوا۔

’’اس کی بھی آنکھیں اس دنیا کو دیکھتے دیکھتے تنگ آگئی تھیں۔ لہٰذا اس نے بھی بند کرلیں، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔‘‘

’’کیوں، کیسے‘‘ تم نے خود اپنے آنکھوں کے دئیے بجھا دیئے کیا۔ میں بالکل ہی حیرت میں غرق تھا۔

’’ہاں۔ اس نے خود اپنے روشن دئیوں کو بجھا دیا۔ کیوںکہ ان دیوں کا تیل اب ختم ہوچکا تھا۔ پھول کی باس لوٹ لی گئی تھی۔ اور اس کو پیروں تلے مسل دیا گیا ہے۔ گلچیں نے ایک بے سہارا اور اکیلے پھول کو سونگھ کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔‘‘ شرفو کے منہ سے مرتی ہوئی سی آواز نکل رہی تھی۔

’’کیا‘‘ مجھے محسوس ہوا کہ جیسے ایک تیز گولی میرے پاس سے سنسناتی ہوئی نکل گئی ہے۔ اور میں چکرا گیا ہوں مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بڑی بڑی بلڈنگیں، چمکیلی دوڑتی ہوئی موٹر کاریں، سرخ و سفید چہرے، زرق برق لباس یہ سب مجھے ہوا میں ذروں کی طرح اڑتے نظر آئے۔

حضرت محمد ﷺ نے کامیاب زندگی کے اصولوں کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’میرے رب نے مجھے ۹ باتوں کا حکم دیا ہے:

۱- چھپی اور کھلی ہر جگہ اللہ سے ڈرتا ہوں۔

۲- جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں۔

۳- جو مجھے محروم کرے میں اسے عطا کروں۔

۴- جو مجھ پر ظلم کرے میں اسے معاف کروں۔

۵- میں دیکھو ںتو عبرت کی نگاہ سے دیکھوں۔

۶- ناداری اور مالداری میں میانہ روی اختیار کروں۔

۷- میری خاموشی فکر کے لیے ہو اور میری گویائی ذکر کے لیے ہو۔

۸- خوشی اور ناراضگی ہر حال میں اللہ سے ڈرتا رہوں۔

۹- نیکی کا حکم دوں اور بدی سے روکوں۔

مرسلہ: سلمیٰ نسرین آکولہ

۱- زندگی کے داوا کو جدوجہد میں بدلو تو کامیابی ضرور ملے گی۔

۲- اپنے رتبہ اور حیثیت کے مطابق زندگی بسر کرنے والے کبھی محتاج نہیں ہوتے۔

۳- زندگی کی بلندیاں ایک پیڑ کی طرح ہیں جسے ہر وقت آندھیوں اور طوفانوں کا ڈر ہوتا ہے۔

۴- زندگی میں گزری ہوئی صبح کی شام نہیں ہوتی۔

۵- خود غرض اور لالچ کبھی عزت نہیں پاتے ہیں۔

۶- زندگی میں اگر چاہتے ہو کہ تمہارا نام باقی رہے تو اولاد کو اچھے اخلاق سکھاؤ۔

مرسلہ: محمد فہیم انور

شیئر کیجیے
Default image
یسٰین معصوم

تبصرہ کیجیے