2

رات میں کتے کی آمد

رات کے غالباً آٹھ بجے تھے۔ اردو میں خبریں ہورہی تھیں میں ساتھ کے کمرے میں نہایت محویت کے عالم میں اپنے کپڑے استری کررہی تھی۔ امی بستر پر بیٹھی کوئی ضروری خط لکھ رہی تھیں۔ باقی سب بچے بھی اپنے کمروں میں اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے۔ حسین میاں پوری قوت سے اپنے سیاہ بوٹوں کی پالش کررہے تھے۔ منے میاں اپنے بستہ کی بکھری چیزیں جمع کررہے تھے۔ انجم اپنی الماری میں منہ دئیے بظاہر لاپرواہی سے گنگنانے میں مصروف تھیں۔

میں نے قمیص کی آستین پھیلائیں اور ان پر استری پھیرنی شروع ہی کی تھی کہ دھڑ سے دروازہ کھلا اور منا بدحواس شور مچاتا ہوا اندر داخل ہوا۔ اور لپک کر امی کے پلنگ پر چڑھ گیا۔ میں نے گھبرا کر پلٹ کر دیکھا تو استری میرے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جاگری۔ دروازے میں ایک سیاہ بھیانک صورت والا کتا کھڑا ہانپ رہا تھا۔ میں نے گھبرا کر میز پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن میز سمیت زمین پر آپڑی۔ ’’یا اللہ‘‘ میں نے جلدی سے آنکھیں بند کرلیں۔ ’’لو بھئی آگیا چل چلاؤ کا وقت۔ اب کمبخت کا لا کتا زندہ تھوڑا ہی چھوڑے گا۔ میں زمین پر بے حس و حرکت پڑی مسلسل پڑھ رہی تھی۔جل تو جلال تو صاحب کمال تو آئی بلا کو ٹال تو۔‘‘ اس سے آگے بھول چکی تھی۔ پھر یہ سوچ کر کہ کہیں فرشتۂ اجل یہ نہ سمجھ لے کہ میں اسے بلا کہہ رہی ہوں اور ناراض ہو بیٹھے۔ کلمہ پڑھنے کے متعلق سوچ ہی رہی تھی کہ امی نے میز میرے اوپر سے اٹھائی اور مجھے دوبارہ زندگی بخش دی۔ میں نے جلدی سے اٹھ کر خدا کا شکر ادا کیا۔ کتا کمرے سے باہر جاچکا تھا۔ منے میاں اب تک پلنگ میں دبکے بیٹھے تھے۔ امی نے چلا کر کہا ’’ذار دیکھ باہر جاکر کہیں کتا برتن نہ ناپاک کردے لیکن اب بھلا ایسے نازک موقعے پر کون ایسا زندگی سے عاجز بیٹھا تھا جو باہر نکلتا۔ لیکن امی کی ڈانٹ کے خوف سے میں آہستہ آہستہ دوسرے کمرے میں پہنچی۔ عجیب نقشہ تھا یہاں کا۔ انجم الماری کے خانے میں گھسی بیٹھی تھی اور وہ تمام چلغوزے جو وہ الماری میں منہ دیئے کھارہی تھیں اب زمین پر کسمپرسی کے عالم میں بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے جلدی سے مٹھی بھرلی۔ اور انہیں کھینچ کر باہر نکالا۔ مسلم صاحب سجدے میں پڑے تھے۔ ’’ارے حسین کہاں ہے؟‘‘ میں نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا۔ مسلم نے لرزتے ہوئے کہا ’’کہیں کتا نہ اٹھا کر لے گیا ہو؟‘‘

’’ہشت!‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے مسکرانے کی کوشش کی ’’حسین‘‘ میں نے آواز دی۔

’’میں یہاں ہوں‘‘ ایک مہین سی آواز آئی۔ تھوڑی سی تلاش کے بعد جو میں نے پلنگ پر سے لحاف اٹھایا تو وہاں حسین صاحب بوٹ برش اور پالش کی ڈبیہ سمیت اوندھے لیٹے تھے۔ ’’ارے!‘‘ میں نے کافی تسلیاں دینے کے بعد اٹھایا کہ کتا جاچکا ہے۔ امی کی آواز پھر آئی ’’اب تک گئے کیوں نہیں باہر اگر کتا باورچی خانہ میں گھس جائے تو۔‘‘ ہم سب چاروناچار ہاتھوں میں تختیاں جوتے اور لکڑیاں سنبھالے ڈرتے ڈرتے باہر نکلے۔ پہلے خوب ہشت ہشت کیا پھر اسے ڈھونڈنے کی کوشش شروع کردی۔ لیکن کتا غالباً جاچکا تھا۔ مسلم نے لکڑی کونے میں رکھتے ہوئے کہا۔ وہ کتا شاید جن تھا، ہیں نا؟ بھیس بدل کر آیا تھا۔ ورنہ بھلا کہاں جاسکتا ہے۔ سارے دروازے تو بند ہیں۔‘‘

حسین جھٹ بولے ’’اور بھیا اس نے تو بس میری ٹانگ پکڑلی تھی بڑی مشکل سے چھڑائی میں نے۔‘‘

’’کہاں سے پکڑی تھی دکھانا تو ذرا؟‘‘ انجم نے پوچھا۔

’’یہاں سے‘‘ حسین میاں اپنی پنڈلی دکھاتے ہوئے بولے۔

’’جھوٹے کہیں کے، یہاں تو کوئی نشان بھی نہیں ہے۔‘‘

’’تو اس نے کاٹا تھوڑا ہی تھا بس پکڑنے ہی لگا تھا۔‘‘

’’جھوٹے ہو بالکل، ابھی وہ دروازے ہی میں تھا تو تم اپنے بستر میں گھس گئے تھے۔‘‘

’’ٹھیک ہے لیکن اگر وہ آجاتا میرے پاس تو میری ٹانگ ضرور پکڑ لیتا۔‘‘

میں نے کہا ’’یہ کتا ضرور پاگل تھا تم نے دیکھا نہیں اس کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا اور اس کی آنکھیں اف اللہ‘‘

’’پاگل خانے سے بھاگ آیا ہوگا، ہیں نہ آپا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’شاید‘‘ میں نے بے خیالی میں کہا۔

’’لیکن وہ تو آہستہ آہستہ آرہا تھا بھیا‘‘ حسین میاں مسلم سے مخاطب ہوئے۔ مسلم جلدی سے بولا ’’بھئی چپ رہو۔ کہیں وہ کوئی بھوت نہ ہو۔ پتہ ہے کالے کتوں میں عموماً بھوتوں کی روحیں ہوتی ہیں جو چمٹ جاتی ہیں۔‘‘

’’رہنے دو!‘‘ انجم بولی ’’وہ تو مجھے کوئی جادوگر لگ رہا تھا جو کتے کی شکل میں آیا ہے۔ ضرور کسی چیز کا پتہ لگانا ہوگا۔ اس کی آنکھیں بالکل انسانوں جیسی تھیں۔ اور پھر وہ منہ سے کچھ اس قسم کی آوازیں نکال رہا تھا۔ جیسے منتر پڑھ رہا ہو۔‘‘

’’تم نے کبھی منتر پڑھتے سنا ہے؟‘‘

’’نہیںتو ، ویسے لگ رہا تھا جیسے کچھ عجیب سی چیز پڑھ رہا ہو۔‘‘

’’توبہ اللہ‘‘ مجھے ہنسی آگئی۔‘‘ چلو کام کرو اپنا اپنا۔

ایک ذرا کتا کیا آیا قیامت آگئی۔ غریب کتے میں جن، بھوت، جادوگر سب آموجود ہوئے۔ کتا نہ ہوا معجون مرکب ہوگیا۔ کتے کا آنا بس افسانہ بن گیا اور میں پھر سے استری کرنے لگی۔

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ یاسمین

تبصرہ کیجیے