5

ہمایوں بھائی

جمیل، شاکر، عظیم اور واجد آگرہ کے ایک ہی محلے میں رہتے تھے، ایک ہی اسکول میں نویں جماعت میں پڑھتے تھے اور جگری دوست تھے۔ چاروں کو تاریخی عمارتیں دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ اس مرتبہ جب دسہرہ کی چھٹیاں شروع ہوئیں تو انھوں نے پھر دہلی کا پروگرام بنایا۔ یہاں وہ لوگ ہمایوں کا مقبرہ اور پرانا قلعہ دیکھنے کا پروگرام بناکر آئے تھے۔ وہ ہمایوں کے مقبرے تک پہنچ گئے۔ ٹکٹ خریدے اور اندر پہنچ گئے۔ سرخ ریتیلے پتھر اور سفید سنگ مرمر سے بنا ہوا ہمایوں کا شاندار مقبرہ انکی نگاہوں کے سامنے تھا۔مقبرے میں داخل ہونے سے پہلے باہر ہی ایک نیلے بورڈ پر مقبرے کے بارے میں جو معلومات لکھی تھیں، چاروں دوست انہیں پڑھنے لگے۔ یہ مقبرہ ہمایوں کی بیگم، حاجی بیگم،نے بنوایا تھا۔ ایران کے مرزا غیاث نے اس کا نقشہ بنایا تھا۔۱۵۶۴ء میں مقبرہ بننا شروع ہواتھا اور نو سال میں مکمل ہوا تھا۔ مغل خاندان کے بہت سے لوگوں کی قبریں یہاں ہیں۔ ہمایوں کے بارے میں ان چاروں دوستوں نے اپنی ہسٹری کی کتاب میں پڑھ رکھا تھا کہ وہ بہت اچھا آدمی تھا، پڑھنے لکھنے کا اسے بہت شوق تھا۔ اس کی نماز کبھی قضا نہیں ہوتی تھی، چتوڑ کی رانی کرن وتی نے اسے راکھی بھیج کر بھائی بنایا تھا اور ہمایوں نے ایک بھائی کا فرض نبھایا تھا۔ مقبرہ دیکھ کر وہ چاروں باہر نکلے اور پرانے قلعہ کے لیے چل دئیے، جو وہاں سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ ابھی وہ لوگ دس قدم ہی چلے ہوں گے کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک لڑکی دوڑتی ہوئی اسی طرف چلی آرہی ہے۔ لڑکی کی عمر اٹھارہ انیس برس رہی ہوگی۔ اس کے پیچھے دو ہٹے کٹے آدمی بھی دوڑے آرہے تھے، چاروں دوست اپنی جگہ پر ٹھہر گئے۔ لڑکی چلائی ’’بچاؤ، بچاؤ‘‘ چاروں دوست سمجھ گئے کہ وہ دونوں غنڈے لڑکی کو پریشان کررہے ہیں۔ ’’کیوں بے، یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ شاکر ان دونوں کو گھورتے ہوئے کڑک کر بولا۔ ’’ابے اے لڑکو، بھاگ جاؤ تم لوگ یہاں سے‘‘ ان میں سے ایک آدمی دھمکی بھرے لہجے میں بولا۔ ’’تمہاری تو ایسی کی تیسی‘‘ جمیل بولا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ کنارے ہی پتھروں کا ڈھیر تھا۔ پتھر شاید سڑک بنانے کے لیے وہاں لائے گئے تھے۔ چاروں دوستوں نے جھپٹ کر پتھر اٹھا اٹھا کر ان دونوں غنڈوں کو نشانہ بنالیا۔ دونوں غنڈے بوکھلا گئے اور پیچھے ہٹے۔ لڑکوں کے ہاتھ اور تیزی سے چلنے لگے۔ کئی پتھر ان دونوں غنڈوں کے جسموں پر بھی لگے۔ گھبرا کر دونوں غنڈے بھاگ گئے۔ ’’بھیا تم لوگ بہت بہادر ہو، اپنے سے دوگنی عمر اور طاقت ور غنڈوں کو مار بھگایا۔‘‘ لڑکی نے کہا۔ ’’اب ایک احسان اور کردو، مجھے میرے گھر پہنچادو۔ میں نظام الدین ایسٹ میں رہتی ہوں۔‘‘ ’’احسان کیسا آپا۔‘‘ جمیل بولا ’’چلیے ہم پہنچادیتے ہیں۔‘‘ لڑکی کا نام کرونا تھا۔ پندرہ منٹ کے بعد وہ لوگ کرونا کی کوٹھی کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ سارا قصہ سن کر کرونا کی ممی نے چاروں دوستوں کا شکریہ ادا کیا اور چاروں کے سر پر ہاتھ پھیر کر آشیرواد دیا۔ پھر ان لوگوں کے منع کرنے پربھی کرونا اور اس کی ممی نے زبردستی ان لوگوں کو کھانا کھلایا۔ پھر کرونا نے ان چاروں کے گھر کے پتے لے لیے۔

چلتے وقت کرونا نے بھی ان چاروں کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولی ’’تم لوگ ہمایوں کا مقبرہ دیکھنے آئے تھے، اور ایک بہن کو غنڈوں سے بچالیا۔ میں کرن وتی تو نہیں ہوں مگر تم سب میرے ہمایوں بھائی ہو، رکشا بندھن پر میں تم سب کو راکھی بھیجوں گی۔

شیئر کیجیے
Default image
اقبال انصاری

تبصرہ کیجیے